30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خود کُشی کرنے والے کی نمازِ جنازہ بھی ادا کی جائیگی اور اُسکو ایصالِ ثواب کرنا بھی جائز ہے ، چُنانچِہ دُرِّ مختار میں ہے : ’’جس نے خودکشی کی ، چاہے جان بوجھ کر ہی کیوں نہ کی ہو ، اُسے غسل دیاجائیگا اور اُس پرنَمازِ (جنازہ ) بھی پڑھی جائیگی اسی پر فتویٰ ہے ۔ ‘‘( درمختار ج۳ ص ۱۲۷ دارالمعرفۃ بیروت ) نیزاُس شخص کیلئے دعائے مغفرت کرنا بھی بِا لکل جائز ہے ۔
یاد رہے کہ اب بھی مسلمانوں کے مقابلہ میں کُفّار میں خودکُشی کا رُجحان (رُجْ ۔ حان )کئی گُنا زائد ہے ۔ حتّٰی کہ اس فِعل میں مدد کیلئے ان کے یہاں باقا عِد ہ تنظیمیں قائم ہیں !میری ناقِص معلومات کے مطابِق ان کے یہاں ایسی میوزیکل غزلیں بھی ہیں جو احمق کافِروں کو خودکُشی پربَراَنگیختہ کر کے جہنَّم میں چَھلانگ لگو ا دیتی ہیں ! یہ لوگ دُنیوی معاملات میں لاکھ ترقّی کر لیں مگر یقین مانیں سب کے سب کفّار بے وقوفوں کے سردار ہیں ، خدا کی قسم! عقلمند وُہی ہیں جن کی عقل نے دامنِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تھام کر خُدائے اَحکَمُ الْحَا کِمِین جَلَّ جَلاَلُہٗکی بارگاہِ عالی میں سرِ نیاز جھکا دیا ۔
دامنِ مصطَفٰے سے جو لپٹا یگانہ ہو گیا
جس کے حُضور ہو گئے اُس کا زمانہ ہو گیا
از روئے قراٰن کفّار بے عقلے ہیں
میں نے جو سارے کفّار کو بے عقلے قرار دے دیا یہ محض اپنی طرف سے نہیں کہا، سنو! پارہ 9سورۃُ الْاَنفال، آیت 22 میں ارشاد ہوتا ہے :
اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ(۲۲)
ترجَمۂ کنزالایمان : بے شک سب جانوروں میں بدتراللہ کے نزدیک وہ ہیں جو بہرے گونگے ہیں جن کو عقل نہیں ۔
مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنّان فرماتے ہیں : یہ آیت بنی عبدُا لدَّار بن قُصَیّکیمُتَعَلِّق اتری جو کہتے تھے کہ جو کچھ حضور لائے ۔ ہم اس سے (گونگے ) بہرے اندھے ہیں ۔ اِس سے معلوم ہوا کہ جو نبی سے فائدہ نہ اٹھائے وہ جانوروں سے بد تر ہے ۔ دیکھو نوحعَلَیْہِ السَّلَام کو حکم تھا کہ کشتی میں جانوروں کوسُوار کر لو مگر کافر کو نہ بٹھانا ۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ جس زَبان، آنکھ، کان عقل سے حضور کی معرِفت نصیب نہ ہووہ(زبان) گونگی ، اندھی ، بہری ہے اور وہ عقل’’ بے عقلی ‘‘ہے ۔ سارے بنی عبدُ ا لدَّار جنگ اُحُد میں مارے گئے ۔ ان میں صرف دو شخص ایمان لائے ، مُصعَب بن عُمیر اورسُوَیْبِط بن حَرمَلہ ۔ (نورالعرفان ص ۲۸۵)
خود کُشی کا اَہمّ سبب مایوسی
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!خود کُشی کا سب سے اہم سبب ذِہنی دباؤ یعنی ٹینشن اور مایوسی یعنیDEPRESSION ہے جس کی وجہ سے آدمی کا دماغ مَفلوج ہو جاتااور مَدَنی ذِہن نہ ہو نے کی صورت میں وہ شیطان کے بہکاوے میں آکر سمجھ بیٹھتا ہے کہ ٹینشن اور مایوسی سے میری جان چھوٹ جائے گی اور مجھے سُکون حاصِل ہو گااور یوں خودکُشیکرکے اپنے لئے خوفناک بے سُکونی کا سامان کر گزرتا ہے ۔
سرکارِ نامدار یہی آرزو ہے کہ
غم میں تمہارے کاش! رہوں بے قرار میں
وُضواور رَوزہ کے حیرت انگیز فوائِد
ذِہنی دباؤ یعنی ٹینشن اور مایوسی کا ایک رُوحانی علاج وُضو اور روزہ بھی ہے ، اب تو کُفّار بھی اِس حقیقت کو تسلیم کرنے لگے ہیں ۔ چُنانچِہ ایک کافِر ڈاکٹر نے اپنے مقالے میں یہ حیرت انگیز انکِشاف کیا کہ میں نے ڈِپریشن یعنی مایوسی کے چند مریضوں کے روزانہ پانچ بار منہ دُھلائے کچھ عرصے بعد ان کی بیماری کم ہو گئی ۔ پھر ایسے ہی مریضوں کے دوسرے گروپ سے روزانہ پانچ بار ہاتھ ، منہ دھلوائے تو مرض میں بَہُت اِفاقہ ہو گیا ۔ یِہی ڈاکٹر اپنے مقالے کے آخِر میں اعتِراف کرتا ہے ، مسلما نو ں میں مایوسی کا مرض کم پایا جاتا ہے کیوں کہ وہ دن میں کئی مرتبہ ہاتھ منہ اور پاؤں دھوتے (یعنی وُضو کرتے ) ہیں ۔ ‘‘ایک اِنگریز ماہِرِ نفسیات سِگمنڈ فرائیڈ( SIGMEND FRIDE )نے روزوں کے فوائد کا اعتِراف کرتے ہوئے یہ بیان دیا ہے : ’’روزے سے جسمانی کھچاؤ ، ذِہنی ڈِپریشن اور نفسیاتی اَمراض کا خاتِمہ ہوتا ہے ۔ ‘‘
عمامہ باندھنا مایوسی کا عِلاج ہے
سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مبارَک سنّتعِمامہ شریف باندھنا بھی ذِہنی دباؤ سے نَجات پانے اوراپنے اندرحِلم و قُوّ تِ برداشت بڑھا نے کا بہترین
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع