دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Khud Kushi ka Ilaj | خود کشی کا علاج تخریج شدہ

book_icon
خود کشی کا علاج تخریج شدہ

            مصیبت پر صَبْر کو آسان بنانے کا ایک عمل یہ بھی ہے کہ اس طرح اپنا ذِہن بنایاجائے کہ یہ مصیبت قلیلُ الْمدّت ، عارِضی اور ہلکی ہوکر جلد ختم ہوجا نے والی ہے مگر صَبْر کی صورت میں ملنے والا اجر وثواب کبھی خَتم نہ ہو گا ۔ لہٰذا  صَبْر ہی میں بھلائی ہے ۔ ایک بُزُرگ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’مصیبت جب نازِ ل ہوتی ہے تو بڑی ہوتی ہے پھر آہِستہ آہِستہ چھوٹی ہوتی جاتی ہے ‘‘اس کا واقِعی بَہُت سوں کو تجرِبہ ہوگامَثَلاً جب کوئی ٹَینشن آتی ہے تو انسان دم بخودرَہ جاتا اور نیند اُڑ جاتی ہے ! پھر آہِستہ آہِستہ عادی ہو جاتا ہے ۔ اِس کو اِس مثال سے  سمجھنے کی کوشِش کیجئے مَثَلاً کوئی مزے سے  T.V.پر بیہودہ ڈرامہ دیکھ رہا ہو کہ یکایک اُس کی آنکھوں کے دونوں چَراغ گُل ہوجائیں ، یقینا وہ رو رو کر آسمان سر پر اُٹھا لیگا جبکہ جو پہلے سے  نابینا ہو تا ہے وہ ہنسی مذاق سب کچھ کر رہا ہوتا ہے ۔ کیوں ؟ اِس لئے کہ اِس کیلئے نابینا ہونا پُرانی بات ہوچکی ہے ! اِس سے  زِیادہ واضِح مثال جس سے  سب کو واسِطہ پڑتا ہے وہ یہ ہے کہ گھر میں میّت(مَیْ ۔ یِتْ) ہو جائے تو رونا دھونا مچ جاتا ہے اور پھر دھیرے دھیر ے سب غم غَلَط ہو جاتے اور خوشیوں ، دھماچوکڑیوں نیز شادیو ں کا سلسلہ از سرِ نو شروع ہوجاتا ہے  ۔

عمر بھر کون کسے  یاد کرتا ہے !

وقت کے ساتھ خیالات بدل جاتے ہیں

اگر یُوں کرتا تو یُوں ہوتا !

       حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہبیان کرتے ہیں کہ ‘‘سرکارِ مدینۂ منوّ رہ، سردارِ مکَّۂ مکرَّمہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’طاقت ور مومن کمزور مو من سے  بہتراور اللّٰہعَزَّوَجَلَّ   کو زِیادہ محبوب ہے اور دونوں میں بھلائی ہے ، جو کام تمہیں نفع دے اس کی حِرص کرو ، اللّٰہعَزَّوَجَلَّ   کی مدد چاہو اور تھک کر نہ بیٹھواور اگر تمہیں کوئی نقصان پہنچ جائے تو یہ مت کہو کہ ’’ اگر میں اِس طرح کرتا تو یہ ہو جاتا ‘‘ بلکہ یوں کہو  قَدَّ رَ اللّٰہُ وَمَا شَاءَ فَعَلَ یعنی اللہ  تعالٰی نے یہ ہی مقدر کیا تھا اور اس نے جو چاہا کیا ‘‘کیونکہ لَو (یعنی اگر مگر) کا لَفظ شیطان کا کام شروع کر دیتا ہے ۔  ( صَحِیح مُسلِم  ص ۱۴۳۲حدیث ۲۶۶۴ دار ابنِ حزم بیروت)

        مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنّان حدیثِ پاک کے الفاظ ’’ اگر تمہیں نقصان پہنچ جائے تو یہ مت کہو کہ اگر میں اس طرح کرتا تو یوں ہو جاتا‘‘ کے تحت فرماتے ہیں  : کیونکہ یہ کہنے میں دل کو رنج بھی بَہُت ہوتا ہے رب تعالیٰ بھی ناراض ہوتا ہے ۔  اگر(مَثَلاً کہنا) میں اپنا مال فُلاں وَقت فروخت کر دیتا تو بڑا نفع ہوتا مگر میں نے غلطی کی کہ اب فروخت کیا، ہائے ! بڑی غلطی کی(اس طرح کی باتیں کرنا) یہ بُرا ہے ۔  لیکن دینی مُعامَلات میں ایسی گفتگو اچّھی ۔  یہاں دُنیوی نقصانات مُراد ہیں  ۔ اور یہ الفاظ ’’اگر مگرکا لفظ شیطان کاکام شروع کر دیتاہے ‘‘کے تحت فرماتے ہیں  : اس اگر مگر سے  انسان کا بھروسہ رب تعالیٰ پر نہیں رہتا اپنے پر یا اسباب پر ہو جاتا ہے ۔  خیال رہے کہ یہاں دنیا کے اگر مگر کا ذکر ہے دینی کاموں میں اگر مگر افسوس و نَدامت اچّھی چیز ہے اگر میں اتنی زندگی اللہ  (عَزَّوَجَلَّ ) کی اطاعت میں گزار تا تو مُتَّقِی ہو جاتا مگر میں نے گناہوں میں گزاری ہائے افسوس!یہ(یعنی اس طرح کا) اگر مگر عبادت ہے (نیز کہنا) اگر میں حُضُورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے زمانہ ٔپاک میں ہوتا تو حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے قدموں پر دل و جان قربان کر دیتا مگر میں اتنے عرصہ بعد پیدا ہوا ہائے افسوس! یہ (دیوانگی بھری بات بھی)عباد ت ہے اعلیٰ حضرت قُدِّسَ سِرُّہٗ نے فرمایا ۔   ؎

جو ہم بھی واں ہوتے خاکِ گلش لپٹ کے قدموں سے  لیتے اُترن

            مگر کریں کیا نصیب میں تویہ نامُرادی کے دن لکھے تھے (مراٰۃ ج۷ ص ۱۱۳)

ایسا کیوں ہوا؟

            حضرتِ سیِّدُنا عبد اللہ  بن مسعود رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہفرمایا کرتے ، میں اپنی زَبان پر اَنگارہ رکھنے کو اِس سے  بہتر سمجھتا ہوں کہ میں کسی(دُنیوی) چیز کے بارے میں یہ کہوں کہ’’ ایسا کیوں ہوا؟‘‘

اے مقدّر کی رُوٹھی ہواؤ سنو! حالِ دل پر نہ یوں مسکراؤ سنو

آندھیو !گردِشو تم بھی آؤسنو! مصطَفیٰ میرے حامی و غمخوار ہیں

انتِہائی نازُک مُعامَلہ

       تنگدستی ، بیماری، پریشانی اور فوتگی کے مواقِع پر صدمے یا اِشتِعال (غصّے ) کے سبب بعض لوگ نَعُوذُ بِ اللّٰہ عَزَّوَجَلّکلماتِ کفر بک دیتے ہیں  ۔ یاد رکھئے ! اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ پر اعتِراض کرنا اُس کو ظالِم یا ضَرورتمند یا  محتاج یا عاجِز سمجھنا یا کہنا یہ سب کُفْرِیّات ہیں اوریہ بھی یا درہے ، کہ بِلااِکراہِ شَرعی ہوش و حواس کے عالَم میں صَریح کُفر بکنے والا اور ہاں میں ہاں ملانے والا بلکہ تائید میں سر ہِلانے والا بھی کافِر ہوجاتاہے  ۔ شادی شُدہ تھا تواُس کانِکاح ٹوٹ جاتا ، کسی کا مُرید تھا تو بَیعَت خَتم ہوجاتی

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن