30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سیاہ کرتے ہوئے بسرہو رہے تھے ۔ میری اصلاح کا سبب یوں بناکہ ایک دن میری ملاقات مبلغ دعوت اسلامی سے ہوگئی، انہوں نے شفقت فرمائی اور مجھے نیکی کی دعوت دیتے ہوئے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی ترغیب دلائی ، نجانے ان کی زبان میں ایسی کیا تاثیر تھی کہ میں نے شرکت کی ہامی بھرلی۔ ان اسلامی بھائی نے ہاتھوں ہاتھ مجھے اپنے ساتھ لیا اورہفتہ وار اجتماع کی بہاریں لوٹنے کے لیے روانہ ہوگئے، تھوڑی ہی دیر میں ہم اجتماع گاہ پہنچ گئے، جب ہم اجتماہ گاہ میں داخل ہوئے تومیں یہ دیکھ کر بہت خوش ہوا کہ ہرطرف ایک پُرکیف سماں تھا، زندگی میں پہلی بار ایسا پیارا ماحول دیکھ کر مجھے ایک دِلی سکون ملا۔ مختلف علاقوں سے آئے ہوئے عاشقانِ رسول سنّتوں بھرے اجتماع کی برکتیں لوٹنے میں مشغول تھے۔ میں بھی ان کے قریب جاکر بیٹھ گیا اور پرسوز بیان سننے میں محوہوگیا، اصلاحی بیان سن کردل پر چھایا غفلت کا اندھیرا دور ہونے لگا، گناہوں سے بچنے اوررب عَزَّوَجَلَّ کی رحمتوں کا حقدار بننے کا مدنی ذہن بن گیا، مزید اجتماعی ذکر کی پرکیف صداؤں نے میرے بے قرار دل کو ایک سکون بخشا، اس کے بعد تمام حاضرین نے جھوم جھوم کر پیارے آقاصَلَّی اللہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں درود وسلام کا نذرانہ پیش کیا، آخر میں رقت انگیزدعا ہوئی، حاضرین نے اشکبار آنکھوں سے بارگاہِ الٰہی سے توبہ طلب کی، میں بھی ان خوش نصیبوں کے ساتھ دعا میں شامل ہوگیا، ندامت وشرمندگی کے ساتھ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی بارگا ہ میں مغفرت کی بھیک طلب کرنے لگا۔ اَ لْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس سنّتوں بھرے اجتماع کی ایسی برکتیں ملیں کہ میں نے عصیاں بھری زندگی کو خیرباد کہہ دیااور منکر نکیر کے سوالات کے جوابات میں کامیابی پانے ، اپنی اندھیری قبر کو محبو ب کریمصَلَّی اللہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمْ کے نورانی جلوؤں سے روشن کرنے، حشر کے میدان میں ذلت ورسوائی سے بچنے اور جنت میں بے حساب داخلہ پانے کے عظیم جذبے کے تحت دعوت اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول سے وابستہ ہوگیا۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی مُحَمَّد
(6) بھائی جان کی انفرادی کوشش
صوبۂ پنجاب (پاکستان) ٹیکسلا کینٹ گن فیکٹری کے ملازم اسلامی بھائی کے مکتوب کا خلاصہ ہے کہ مجھے دعوتِ اسلامی کا مہکا مہکا مدنی ماحول کچھ اس طرح میسر آیا کہ میرے بڑے بھائی جو پاکستان آرمی میں ہیں ۔ جب ان کی پوسٹنگ کوہاٹ (صوبہ خیبرپختونخوا) میں ہو ئی تو خوش قسمتی سے وہاں ان کی ملاقات دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول سے منسلک اسلامی بھائی سے ہو گئی جن کی انفرادی کوشش اور لب ولہجہ کی مٹھاس نے بھائی جان کو سنّتوں بھری زندگی سے آشنا کر دیا۔ چنانچہ بھائی جا ن دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہو کر مدنی رنگ میں رنگ گئے۔ جب وہ چھٹیاں گزارنے گھر آئے تو ان کے سرپر سبز عمامے کا تاج تھا، جس وقت گئے تھے کلین شیو تھے مگر اب داڑھی شریف چہرے پر سجی ہوئی تھی اور ان کے لب و لہجے، طور طریقے اور گفتار و کردار میں ایک نمایاں تبدیلی نظر آرہی تھی۔ بھائی جان میں آنے والی یہ مثبت تبدیلیاں سبھی کے لئے باعثِ فرحت تھیں ، جب ان سے اس مدَنی بہار کا سبب پوچھا گیا تو کہنے لگے : یہ سب ایک باعمل سنّتوں کے پیکر اسلامی بھائی کی شفقت کی برکت ہے جوآج میں سنّتوں سے مزین نظرآرہاہوں اور غفلت بھری زندگی کوخیرباد کہہ چکا ہوں۔ دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول کی برکت سے بڑے بھائی جان جہاں خود فکر ِآخرت سے سرشار تھے وہیں نیکی کی دعوت کے عظیم جذبے سے بھی مالامال تھے، اسی مقدس جذبے کے تحت انہوں نے گھروالوں کو قبر وآخرت کی تیاری کا مدنی ذہن دیناشروع کردیا ، ان کی انفرادی کوشش کا گھروالوں پر تو کوئی زیادہ اثر نہ پڑا مگر میں ان کی نیکی کی دعوت کی برکت سے اپنے اندر کافی تبدیلی محسوس کرنے لگامیں نے نمازوں کی پابندی شروع کردی ، چہرہ سنّتِ رسول سے سجالیا۔ بھائی کی چھٹیاں ختم ہوگئیں اور وہ واپس ڈیوٹی پر چلے گئے، ان کے جانے کے بعد شیطان مجھ پر حملہ آور ہوا اور مجھے راہ ہدایت سے بھٹکادیا، میں دوبارہ گناہوں کی غلاظت میں جاپڑا ۔ فلمیں ڈرامیں دیکھنا شروع کردیے ، نمازوں میں سستی ہونے لگی ، برے دوستوں کے چکر میں آکر معاذاللہ داڑھی شریف مُنڈوا ڈالی اور یوں پھر گناہوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا۔ بھائی جان جب دوبارہ چھٹیوں پر گھر آئے تو میری یہ حالت دیکھ کر اس قدر افسردہ ہوئے کہ ان کی آنکھوں سے اشک رواں ہوگئے، انہوں نے اشکبار آنکھوں سے مجھے سمجھایا، بدعملی پر ندامت کا احساس دلایا، بھائی جان کی اشکبار آنکھیں دیکھ کر میں شرم سے پانی پانی ہوگیا۔ بالآخر میں نے پختہ عہد کرلیا کہ اب میری گردن تو کٹ سکتی ہے مگر داڑھی شریف کبھی نہیں منڈواؤں گا۔ میرے جذبات کومزید گرمانے کے لیے بھائی جان نے مجھے شیخِ طریقت، امیر ِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے پُرتاثیر بیان کی ایک کیسٹ بنام ’’ٹی وی کی تباہ کاریاں ‘‘ سننے کو دی۔ جب میں نے یہ پرسوز بیان سنا تو میرے دل میں ایک ہلچل برپا ہوگئی اور بے ساختہ میرے آنکھوں سے سیل اشک رواں ہوگئے ، میں نے ہاتھوں ہاتھ اپنے سابقہ گناہوں سے توبہ کی اور سنّتوں بھری زندگی گزارنے کے لیے دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ گیا، سنّتوں بھرے مدنی ماحول کی فضائیں کیا ملی میرے اندر نیکی کی دعوت کا جذبہ موجزن ہوگیایوں میں لوگوں کی اصلاح کے ساتھ اپنی اصلاح کی بھی کوشش کرنے لگا چنانچہ میں اپنی اصلاح کی کوشش کے لئے شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے عطا کردہ ’’مدنی انعامات‘‘ پر عمل اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کے لئے ’’مدنی قافلوں ‘‘ میں سفر کرنا اپنا معمول بنالیا۔ ساتھ ہی گھر والوں پر بھی انفرادی کوشش جاری رکھی جس کا اثریہ ہوا کہ اب ہمارا سارا گھرانہ دعوتِ اسلامی کے پاکیزہ مدَنی ماحول سے وابستہ ہو چکا ہے۔ اَ لْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ تادمِ تحریر مجلسِ مکتوبات و تعویذاتِ عطاریہ کی ڈویژن مشاورت کے ذمہ دار کی حیثیت سے اپنی خدمت سرانجام دے رہا ہوں۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
)7) ماڈرن نوجوان کیسے سُدھرا؟
بابُ المدینہ (کراچی) کے علاقے اورنگی ٹاؤ ن کے مقیم اسلامی بھائی کے بیان کا لُبِّ لُباب ہے ۔ دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول سے وابستگی سے قبل میں ایک ماڈرن لڑکا تھا، نت نئے فیشن اپنانا میرا محبوب مشغلہ تھا ۔ میں اکیلا ہی نہیں بلکہ ہمارا سارا گھرانہ فیشن پرستی کا شکار اور حُبِّ دنیا میں گرفتار تھا۔ مجھے راہِ سنّت پر گامزن ہونے کی سعادت یوں نصیب ہوئی کہ ایک دن علاقے کے اسلامی بھائی سے میری ملاقات ہو گئی، سنتوں کے سانچے میں ڈھلے ان اسلامی بھائی نے سلام و مصافحے کے بعد اپنائیت بھرے انداز میں قبر و حشر کی تیاری کا ذہن دیا اور قریب ہی مسجد میں لگنے والے مدرسۃ المدینہ (برائے بالغان) میں تجوید و قرأت کے ساتھ قراٰنِ پاک پڑھنے کی ترغیب دلائی، ان کی میٹھی گفتگو اور حسنِ اخلاق سے متأثر ہو کر میں نے شرکت کی ہامی بھرلی اورتجوید و قرأت کے مطابق قراٰنِ مجید کی تعلیم حاصل کرنے لئے مدرسۃالمدینہ (برائے بالغان) میں پابندی کے ساتھ شرکت کرنے لگا۔ اَ لْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس کی برکت سے نہ صرف صحیح مخارج اور دُرُست تلفظ کے ساتھ قراٰنِ پاک سیکھنے کی سعادت نصیب ہونے لگی بلکہ عاشقانِ رسول کی صحبت کی بدولت فکر آخرت کی دولت سے سرشار ہوگیا، گناہوں سے بچنے کے ساتھ ساتھ نمازوں کا بھی اہتمام کرنے لگا،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع