دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Khoni Ki Toba | خونی کی توبہ

book_icon
خونی کی توبہ

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! گزشتہ مدنی بہار میں  ایک ایسے گھر کا تذکرہ ہوا جو لڑائی جھگڑے کی آماجگاہ بن چکا تھا، جس کے سبب مذکورہ نوجوان بے سکونی کا شکار ہوا اور پھر شیطان کے بہکاوے میں  آکر عارضی سکون کی تلاش میں  گناہوں  کا شکار ہوگیا، بدقسمتی سے آج اچھے اخلاق وکردار مفقود ہوتے جارہے ہیں ، برداشت کی قوت نہ ہونے کے برابر ہے، گھرمیں  رہنے والے چند افراد بھی     آپس کی مختلف رنجشوں  میں  مبتلا نظر آتے ہیں  ، اس کی ایک بڑی وجہ ایک دوسرے کے حقوق سے نابلد ہونا بھی ہے ۔ اگر ہم چاہتے ہیں  کہ ہمارا گھر امن کا گہوارہ بن جائے، ہمیں لڑائی جھگڑے سے چھٹکارا مل جائے تو پھر ہمیں  بدخلقی سے اپنا دامن بچانا اور نرمی اختیار کرنی ہوگی۔ خلاف مزاج بات پر بگڑنے کے بجائے صبروتحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ اخلاق وکردار کو سنوارنے کا اہم ترین ذریعہ دعوت اسلامی کا مشکبار مدنی ماحول بھی ہے جیسا کہ آپ نے مدنی بہار میں  ملاحظہ کیا کہ جب مذکورہ نوجوان کو عاشقان رسول کا قرب ملا تو انہیں  ڈھیروں  ڈھیر برکتیں  ملنے لگیں ، ان کا اندازِ زندگی بدل گیا اور اچھے اخلاق وکردار کی خوشبوؤں  سے ان کا ظاہر وباطن معطر ومعنبر ہوگیا ۔ مزید انفرادی کوشش کی برکت سے گھر امن وسلامتی کا گلشن بن گیا ۔ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کا مطبوعہ رسالہ ’’ناچاقیوں  کا علاج‘‘ کے صَفْحَہ 22 تا 23 پر گھرکو امن کا گہوراہ بنانے کے لیے ایک بہت ہی پیارا مدنی پھول موجود ہے کہ نَجاست کو نَجاست سے نہیں ، پانی سے پاک کیا جاتا ہے لہٰذا اگر کوئی آپ کے ساتھ نادانی بھرا سلوک کرے تب بھی آپ اس کے ساتھ مَحَبَّت بھر اسلوک کرنے کی کوشِش فرمائیے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے مُثْبَت  نتائج دیکھ کر آپ کا کلیجہ ضَرور ٹھنڈا ہو گا۔ وَاللہِ الْمُجیب! عَزَّوَجَلَّ وہ لوگ بڑے خوش نصیب ہیں  جو اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کے بجائے ظلم کرنے والے کو مُعاف کردیتے اور بُرائی کو بھلائی سے ٹا لتے ہیں۔ بُرائی کو بھلائی سے ٹالنے کی ترغیب کے ضمن میں  پارہ 24سورۂ حٓمٰ اَلسَّجْدہکی 34 ویں  آیتِ کریمہ میں ارشاد ہے :

اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَكَ وَ بَیْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ(۳۴)

ترجَمۂ کنزالایمان :  اے سننے والے ! برائی کو بھلائی سے ٹال جبھی وہ کہ تجھ میں  اور اس میں  دشمنی تھی ایسا ہوجائے گا جیسا کہ گہرا دو ست۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب !          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

(4) راہِ ہدایت نصیب ہو گئی

            سعید آباد (کراچی) کے علاقے مواچھ گوٹھ کے مقیم اسلامی بھائی کا بیان الفاظ کی کمی بیشی کے ساتھ کچھ یوں  ہے کہ دعوتِ اسلامی کے پاکیزہ مدنی ماحول سے وابستگی سے قبل میں بھی آج کل کے عام نوجوانوں  کی طرح بننے سنورنے کا شائق تھا، فکر آخرت کا دور دور تک نام ونشان نہ تھا ، بس دنیا کی حیات کو ہی سب کچھ سمجھ بیٹھا تھا شاید یہی وجہ تھی کہ نیکیوں  سے کوسوں  دور اور مختلف گناہوں  میں  مَخْمور اپنی زیست کے قیمتی لمحات برباد کررہاتھا، نمازیں  چھوڑدینا، گانے باجے سننا اور فلمیں  ڈرامیں  دیکھنا میرا معمولِ زندگی بن چکا تھا۔ الغرض  دل و دماغ پر غفلت کے پردے پڑے ہوئے تھے ۔ مَعَاذَاللہ داڑھی منڈوا کر دوستوں  کے جھرمٹ میں  جانا اپنے لیے باعثِ اِفتخار سمجھتاتھا۔ اسی طرح زندگی بسر ہورہی  تھی مگر مجھے اپنی انمول سانسوں  کے ضِیاع کا کوئی احساس نہ تھا ۔میرے راہ سنّت پر گامزن ہونے کا سبب کچھ یوں  بنا ہمارے علاقے میں  دعوت اسلامی سے وابستہ اسلامی بھائی رہتے تھے جونیکی کی دعوت دے کر لوگوں  کو ہفتہ وار سنّتوں  بھرے اجتماع میں  لے جاتے تھے۔ بارہا مجھے بھی سمجھاتے اور ساتھ چلنے کا کہتے، اُن کی پیاربھری دعوت کی بدولت مجھے بھی اجتماع میں  جانے کی سعادت نصیب ہوتی مگر میں  پرسوز بیان، رقت انگیز دعا سے برکتیں  پانے کے بجائے باہر گھوم پھر کر اپنا وقت ضائع کرتا اور علم وعمل کے دریا کے پاس جانے کے باوجود نفس وشیطان کے بہکاوے میں  آکر سیراب ہونے سے محروم رہتا اور پیاسا لوٹ آتا۔ ہفتہ وار اجتماع میں  میری ان بے اعتنائیوں  کا سلسلہ چلتا رہا۔ آخرکار میری قسمت کا ستارہ چمک اُٹھا خوش قسمتی سے ایک بار امیراہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا انقلابی کیسٹ  بیان ’’کالے بچھو‘‘سننے کی سعادت مل گئی جس میں  داڑھی منڈوانے والے کا عبرت ناک واقعہ اور وعیدیں  سن کر آنکھوں  پر بندھی غفلت کی پٹی کھل گئی، خوفِ خدا سے میرا دل دہل گیا، داڑھی منڈوانے کے فعل حرام پر میرا ضمیر مجھے ملامت کرنے لگالہٰذامیں  نے ہاتھوں  ہاتھ جہنم میں  لے جانے والے اس قبیح عمل سے توبہ کی اور داڑھی شریف سے چہرہ منور کرنے کا عزم کرلیا۔ کرم بالائے کرم یہ کہ امیرِ اہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کا ایک اور انقلابی بیان ’’گانوں  کے 35کفریہ     اشعار‘‘سننے کاموقع ملا جس میں  آپ نے بڑے ہی احسن اندازمیں  ایمان کی اہمیت بیان فرماتے ہوئے امت کی خیرخواہی کے جذبے کے تحت گانوں  کے کفریہ اشعار کی نشاندھی فرمائی تاکہ مسلمان گانے باجوں  سے بچ کر حمد باری تعالیٰ اور نعتِ رسولِ مقبول ، منقبتِ اولیا سننے سنانے والے بن جائیں  ۔ جب میں  نے ایمان کو تباہ کرنے والے گانوں  کے اشعار کے بارے میں  سنا توخوف خدا سے میرا کلیجہ کانپ اُٹھا، دل سے گانے سننے کا شوق کافور ہوتا ہوا محسوس ہونے لگا اور میں  ایمان کی سلامتی کی مدنی فکر سے سرشار ہوگیا۔پرسوز کیسٹ بیانات کی برکت سے میں  نے زندگی کی بقیہ سانسوں  کوغنیمت جانتے ہوئے بارگاہ الٰہی سے مغفرت کی بھیک طلب کی اور گناہوں  بھری زندگی سے ناطہ توڑ کر دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول سے وابستہ ہوگیا ، سنّتوں  کے عامل اسلامی بھائیوں  کا قرب کیا ملا دل سنّت رسول کی محبت سے روشن ہوگیا ، فیشن پرستی کا خُمار کافور ہوگیا۔اللہ والوں  کی نسبت کی اہمیت کا علم ہوا تو فوراً دامنِ عطار سے وابستہ ہوکر سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ عطاریہ میں  داخل ہوگیا، نیکی کی دعوت دینا اور علاقے میں  ہونے والے کیسٹ بیانات کے اجتماعات میں  شرکت کرنا اپنا معمول بنالیا جوں  جوں  پرسوز بیانات سنتا گیا میرے علم وعمل میں  اضافہ ہوتا گیا۔ تادم تحریر عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ میں  30روزہ اجتماعی اعتکاف میں  شریک ہوں  اور ملفوظاتِ امیرِ اہلسنّت سے خوب خوب فیض یاب ہورہاہوں۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ  امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کو دارزیِ عمر بالخیر عطا فرمائے، ان کا فیضان عام فرمائے۔ اٰمین

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب !               صَلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی مُحَمَّد

(5( فکرِ آخرت سے معمور بیان

            بابُ المدینہ (کراچی) کے علاقے ملیر کھوکھرا پار کے مقیم اسلامی بھائی کی زندگی میں  آنے والے مدنی انقلاب کا تذکرہ الفاظ کی کمی بیشی کے ساتھ کچھ یوں  ہے :  بدقسمتی سے میں  اچھے ماحول سے محروم اوربُرے لوگوں  کی صحبت کا شکار نوجوان تھا ، صحبت بد کی وجہ سے نیکی کے جذبے سے دل عاری اور گناہوں  بھرے معاملات میں  مُنْہَمک رہنے کا عادی تھا ۔ یہی وجہ تھی کہ حُبِّ خدا و عشقِ مصطفیٰ کی لذت سے ناآشنا تھا، قبر وآخرت کی تیاری کا کوئی مدنی ذہن نہ تھا۔ فلم بینی کا ایسا عِفْریت سرپر سوار تھا کہ گھنٹو ں فلم کے بے ہودہ مناظر دیکھ کر اپنا نامۂ اعمال گناہوں  سے آلودہ کرتا۔ جب بھی سنیما گھر پر کوئی نئی فلم ریلیز ہوتی میں  بہت خوش ہوتا اور اپنے شوق کے ہاتھوں  مجبور ہوکر دیکھنے پہنچ جاتا، الغرض اپنا مال اوروقت خوب برباد کرتا اسی طرح زندگی کے شب وروز نامۂ اعمال

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن