دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Khazanay Kay Ambaar | خزانے کے انبار

Maal Ke Bare Me Sawal

book_icon
خزانے کے انبار

مال کے بارے میں سُوال

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  دُنیا کی ہر آسائش میں آزمائش ہے،  قِیامت کے دن اِن آسائشوں   (راحتوں )   اورکَشائشوں   (یعنی فَراخِیوں )   کے مُتَعَلِّق سُوال ہونا ہے ۔  جس کو دُنیا میں جتنی زِیادہ نعمتیں اور وسائِل حاصل ہوں گے،  اُس کو آخِرت میں اُسی قدَر مسائل بھی درپیش ہوں گے،  جب بروزِ محشَر دُنیَوی مال واَسباب کے بارے میں سُوالات  ہوں گے،  مال کے غلَط اِستِعمال پر اللہ عَزَّوَجَلَّ عِتاب فرمائے گا تو غفلت شِعار مالدار کے سامنے یہ حقیقت کُھل کر آ جائے گی کہ’’ مجھ جیسادُنیا کا امیر آخِرت کافقیر ہے۔ ‘‘  جیساکہ حضرتِ سیِّدُناابوذَر غِفاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  کا بَیان ہے کہ سردارِ مَکَّۂ مُکَرَّمَہ،  سلطانِ مَدِیْنَۂ مُنَوَّرہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اِرشاد فرمایا:  ‘’ زیادہ مال و الے قِیامت کے دن کم ثواب والے ہوں گے،  مگر جسے اللہ عَزَّوَجَلَّ مال دے اور وہ اُسے دائیں بائیں اور آگے پیچھے دے اور اس میں نیک عمل کرے۔ ’‘   (صَحیح بُخاری ج۴ ص۲۳۱حدیث۶۴۴۳)  

نِعمتوں کے بارے میں پوچھ گچھ ہو گی

پارہ 30 سُوْرَۃُ التَّکاَثُر  کی آخِری آیَت میں اِرشادِ ربِّ اکبرعَزَّوَجَلَّ ہے: 
ثُمَّ لَتُسْــٴَـلُنَّ یَوْمَىٕذٍ عَنِ النَّعِیْمِ۠  (۸) 
ترجَمَۂ کنزالایمان :  پھر بے شک ضَرور اُس دن تم سے نعمتوں کی پُر سِش ہو گی۔ 

دوزخ کے کَنارینِعمتوں کے مُتَعلِّق سُوالات

مُفسِّرِ شَہیر، حکیم ُالا ُمَّت مفتی احمد یارخان  عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ المنّان نے ’’ تفسیرِ نورُ العِرفان ‘‘ میں اِس آیَتِ مبارَکہ کے تحت قدرے تفصیل کے ساتھ کلام فرمایا ہے، اِس میں سے بعض باتیں عرض کرنے کی کوشش کرتا ہوں :  ‘’ میدانِ حشْر یا دوزخ کے کَنارے پر تم سے فِرِشتے یا خود رب تعالیٰ نعمتوں کے مُتَعَلِّق سُوال فرمائے گا اور یہ سُوال ہر نعمت کے مُتَعَلِّق ہوگا،  جسمانی یا رُوحانی ،  ضَرورت کی ہو یا عیش وراحت کی،  حتّٰی کہ ٹھنڈے پانی،    دَرَخت کے سائے، راحت کی نیند کا بھی۔  مفتی صاحب مزید فرماتے ہیں : بعدِ موت تین وقت اور تین جگہ حساب ہو گا،   (۱)   قَبْر میں ایمان کا  (۲)  حَشر میں ایمان واعمال کا   (۳)   دوزخ کے کَنارے نِعمتوں کے شُکر کا۔ بِغیر استِحقاق جو عطا ہو وہ نعمت ہے،  رب کا ہر عَطِیّہ نعمت ہے خواہ جسمانی ہو یا روحانی اِس کی دوقسمیں ہیں   (۱)   کسبی   (۲)   وَہبی ۔ کَسبی یعنی وہ نعمتیں جو ہماری کمائی سے ملیں ،  جیسے دولت ،  سلطنت وغیرہ ۔ وَہبی یعنی وہ نعمتیں جو محض رب کی عطا سے ہوں ،  جیسے ہمارے اَعضاء ،  چاند ،  سورج وغیرہ ۔  کسبی   (یعنی اپنی کوششوں سے حاصل کئے ہوئے مال یا ہُنر ایسی)   نعمت کے مُتَعَلِّق تین سُوال ہوں گے،    (۱)   کہاں سے حاصل کیں ؟  (۲)   کہاں خَرچ کیں ؟  (۳)   ان کاکیا شکریہ ادا کیا ؟  وَہبی   (یعنی بغیر ہماری کوشش کے ملی ہوئی)   نعمتوں کے مُتَعَلِّق آخِری دو سُوال ہوں گے  (یعنی کہاں خرچ کیں ؟ان کا کیاشکریہ ادا کیا؟ )  ۔  تفسیرِخازِن، تفسیرِعزیزی،  تفسیرِ روحُ الْبَیان وغیرہ میں ہے کہ مذکورہ آیَتِ کریمہ میں ’’ اَلنَّعِیْم‘‘  سے نبیِّ کریم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَالتَّسْلِیْم کی ذات والا صِفات مُراد ہے،  ہم سے حُضورِ اَکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بارے میں سُوال ہوگا کہ تم نے اِن کی اِطاعت کی یا نہیں ؟  کیونکہ حُضورِ پُرنور،  شافِعِ یومُ النُّشور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تو تمام نعمتوں کی اَصل ہیں ،  آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مَحَبَّت جس دل کو روشن کر دے،   اُس کے لئے تمام نعمتیں رَحمتیں ہیں اور بدقسمتی سے جس کے دل میں رَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مَحَبَّت نہ ہو اُس کے لئے سب نعمتیں زَحمتیں  ہیں ،  دولت ِ عُثمانی رَحمت تھی،  دولتِ ابوجَہل زَحمت۔  ‘‘ 
صَدقہ پیارے کی حیاء کا کہ نہ لے مجھ سے حساب
بخش بے پوچھے لَجائے کو لَجانا کیا ہے   (حدائقِ بخشش شریف)   
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

قِیامت میں مالداروں کے حساب کی لرزہ خیز کیفیت

  حلال مال جمع کرنابے شک گناہ نہیں ، نیز دولتمندی کی وجہ سے کسی مالدار کوگنہگار کہنا روا نہیں۔  اگر100 فیصدی حلال مال کے سبب کوئی مالدار بنا اور اللہ و رسول  عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی فرماں برداری کرتے ہوئے اُس نے اپنا مال خَرچ کیا تو گنہگار کُجا ثوابِ دارین کا حقدار ہے۔ لہٰذا مال کمانا ہی ہے تو صرف وصرف حلال طریقے پر کمانا چاہئے ۔  مگر صِرف بقدر ضَرورت کمانے ہی میں عافِیَّت ہے،  کیوں کہ حلال مال کا حساب ہو گا اوربروزِ قِیامت حساب کی کسی میں تاب نہ ہوگی ۔  حُجَّۃُ الْاِسلام حضرتِ سیِّدُنا امام محمد بن محمدبن محمدغزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی  اِحیاءُ الْعُلُوم کی تیسری جلد میں نَقل کرتے ہیں :  ’’ قِیامت کے دن ایک شخص کو لایا جائے گا جس نے حرام مال کمایا اور حرام جگہ پرخَرچ کیا،  کہا جائے گا: اسے جہنَّم کی طرف لے جاؤ اور ایک دوسرے شخص کو لایا جائے گا جس نے حلال طریقے سے مال کمایا اور حرام جگہ پر خَرچ کیا،   کہا جائے گا: اسے بھی جہنَّم میں لے جاؤ،  پھر ایک تیسرے شخص کو لایا جائے گا جس نے حرام ذرائِع سے مال جَمع کرکے حلال  جگہ پرخَرچ کیا،  کہا جائے گاـ :  اسے بھی جہنَّم میں لے جاؤ پھر  (چوتھے)   ایک اور شخص کو لایا جائے گا جس نے حلال ذرائِع سے کما کر حلال جگہ پر خَرچ کیا،  اُس سے کہا جائے گا:  ٹھہر جاؤ!  ممکِن ہے تم نے طلبِ مال میں کسی فرض میں کوتاہی کی ہو،  وقت پر نَماز نہ پڑھی ہو،  اور اس کے رُکوع وسُجُود اور وُضو میں کوئی کوتاہی کی ہو!  وہ کہے گا:   یَا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ! میں نے حلال طریقے پر کمایا اور جائز مَقام پرخَرچ کیا، اور تیرے فرائض میں سے کوئی فَرض بھی ضائِع  نہیں کیا۔ کہا جائے گا: ممکن ہے تو نے اس مال میں تکبُّرسے کام لیا ہو ،  سُواری یا لباس کے ذَرِیعے دوسروں پرفَخْرظاہِر کیا ہو!  وہ عَرض کرے گا:  اے میرے رب!  میں نے   تکبُّر بھی نہیں کیا اورفَخْرکا اظہار بھی نہیں کیا ۔ کہا جائے گا: ممکن ہے تو نے کسی کا حق دبایا ہو جس کی ادائیگی کا میں نے حکم دیا ہے کہ اپنے رشتے داروں ، یتیموں ،  مسکینوں اور مسافِروں کو ان کا حق دو!  وہ کہے گا: اے میرے رب! میں نے ایسا نہیں کیا، میں نے حلال طریقے پر کمایا اور جائز مقام پرخَرچ کیااور تیرے کسی فَرض کوترک نہیں کیا،  تکبُّر وغُرُور بھی نہیں کیا اور کسی کا حق بھی ضائِع نہیں کیا ، تُو نے جسے دینے کا حکم دیا   (میں نے اُسے دیا)   ۔  
پھر وہ سب لوگ آئیں گے اور اس سے جھگڑا کریں گے،  وہ کہیں گے:  یَا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ !  تُو نے اسے مال عطا کیا اور مال داربنایااور اسے حکم دیا کہ وہ ہمیں دے اور ہماری مدد کرے۔  اب اگر اس نے ان کو دیا ہوگا، اور فرائض میں کوتاہی بھی نہیں کی ہوگی،  تکبُّر اور فخر بھی نہیں کیا ہوگا پھر بھی کہا جائے گا رُک جا! میں نے تجھے جو بھی نعمت عنایت کی تھی،    خواہ وہ کھانا تھا، پانی تھا یا کوئی سی بھی لذّت ، ان سب کا شکر ادا کر، اِسی طرح سُوال پر سُوال ہوتا رہےگا۔ ‘‘   (اِحیاءُالعُلوم ج۳ ص۳۳۱ دارصادربیروت)  

سُوال اُس سے ہو گاجس نے حلال کمایا ہو گا

یہ روایت نقل کرنے کے بعد سیِّدُنا امام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَلِی نے جو کچھ فرمایا ہے اُس کو اپنے انداز میں عرض کرنے کی سعی کرتا ہوں : میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بتایئے!   اِن سُوالات کے جوابات دینے کے لیے کون تیار ہوگا؟ سُوالات اُس آدَمی سے ہوں گے جس نے حلال طریقے پر کمایا ہو گا نیزتمام حُقُوق اور فرائض بھی کما حَقُّہٗ  (مکمَّل طور پر)   ادا کیے ہوں گے۔  جب ایسے شخص سے یہ حِساب ہوگا تو ہم جیسے لوگوں کا کیا حال ہوگا جو دُنیوی فِتنوں ، شُبہوں ،  نفسانی خواہشوں، آرائشوں اور زینتوں میں ڈوبے ہوئے ہیں !  ان سُوالات ہی کے خوف کے باعث اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے نیک بندے دُنیا اور اس کے مال ومَتاع سے آلُودہ ہونے سے ڈرتے ہیں ، وہ فَقَط ضَرورت کے مطابِق مختصر سے مالِ دُنیا پرقَناعت کرتے ہیں اوراپنے مال سے طرح طرح کے اچّھے کام کرتے ہیں ۔ حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام محمدبن محمدبن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَلِی نیک بندوں کے کثرتِ مال سے بچنے کی کیفیت بیان کرنے کے بعد عام مسلمانوں کو  ’’ نیکی کی دعوت ‘‘  دیتے ہوئے فرماتے ہیں : آپ کو اُن نیک لوگوں کے طریقے کو اختیار کرنا چاہئے،  اگر اس بات کوآپ اِس لئے تسلیم نہیں کرتے کہ آپ اپنے خیال میں پرہیزگار اور نہایت ہی محتاط ہیں اورصرف حلال   مال کماتے ہیں اور کمانے سے مقصود بھی محتاجی اورسُوال سے بچنا اور راہِ خدا میں خَرچ کرنا ہے اورآپ کا ذِہن یہ بنا ہوا ہے کہ میں اپنا حلال مال نہ توگناہوں میں صَرف کرتا ہوں نہ ہی اِس سے فُضُول خَرچی کرتا ہوں نیز مال کی وجہ سے میر ا دل اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے پسندیدہ راستے سے بھی نہیں بدلتا اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ میرے کسی ظاہِر اور پوشیدہ عمل سے ناراض بھی نہیں ہے،  اگرچِہ ایسا ہونا ناممکِن ہے۔  باِلفَرض ایسا ہو تب بھی آپ کو چاہئے کہ صِرف ضَرورت کے مطابِق مال پرہی راضی رہیں اور مال داروں سے علیٰحِدگی اختیار کریں ، اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگاکہ جب ان مالداروں کو قِیامت میں حساب کیلئے روکا جائے گا توآپ پہلے ہی قافلے کے ساتھ سرورِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے پیچھے پیچھے آگے بڑھ جائیں گے اورآپ کو حساب و کتاب اورسُوالات کے لیے نہیں روکاجائے گا کیونکہ حساب کے بعد نَجات ہوگی یا سختی۔  ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ نبیِّ اکرم،  نُورِ مُجَسَّم، شاہِ بنی آدم ،  نبیِّ مُحتَشَم، شافِعِ اُمَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا :  ’’ فُقَراء مُہاجِرین ، مالدار مُہاجِرین سے پانچ سو سال پہلے جنَّت میں جائیں گے۔ ‘‘  (تِرمِذیحدیث ۲۳۵۸)       (ماخوذاً اِحیاء العُلوم ج۳ ص۳۳۲)  
مجھ کو دنیا کی دولت نہ زَر چاہئے
شاہِ کوثر کی میٹھی نظر چاہئے
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دُنیَوِی نعمتوں اور راحتوں سے مالا مال لوگوں کومال کے اِستِعمال کے وقْت خبردار رہنا چاہئے کہ اِس کے غَلَط اِستِعمال کا اَنجام اُخرَوِی وبال ہے،  یونہی مال ودولت کی بے جا  مَحَبَّت گناہوں پر اُ کساتی،  دربدر پِھراتی،  لُوٹ مار کرواتی حتّٰی کہ لاشیں گِرواتی ہے اور جب یہ دولت کسی مُحبِّ مال کے ہاتھ سے نکلنے پر آتی ہے تو بے حد ستاتی اور خُوب تڑپاتی اور رُلاتی ہے، لہٰذا ہمارے بُزُرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ المُبِین مال ودولت کے مُعامَلے میں نِہایَت ہی مُحتاط تھے۔  چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا ابو الدَّرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرتِ سیِّدُنا سَلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو ایک مکتوب روانہ فرمایا جس میں تھا:  اے میرے بھائی!  دُنیا سے اِتنا کچھ جمْع نہ کرو کہ حقِّ شکْر ادا نہ کر سکو،  میں نے اَنبیاء کے تاجْدار،   شَہَنْشاہِ اَبرار، دو۲ عالَم کے مالِک ومختار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو فرماتے سنا ہے کہ بروزِ قِیامت ایک ایسے مال دار شخص کو لایا جائے گا  جس نے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی فرماں برداری میں زندَگی بَسَر کی ہو گی،  پُلْ صراط پار کرتے ہوئے اُس کا مال اس کے سامنے ہوگا،  جب وہ لڑکھڑانے لگے گا تو اُس کا مال کہے گا:   ’’چلتے جاؤ!    کیونکہ تم نے مجھ سے مُتَعَلِّق اللہ تَعَالٰی  کا حق ادا کردیا ہے۔  ‘‘  پھر ایک اور مال دار کو لایا جائے گا، جس نے دُنیا میں اپنے مال میں سے اللہ تَعَالٰی کا حق ادا نہیں کیا ہو گا،  اُس کا مال اُس کے دونوں کندھوں کے درمیان ہو گا،  وہ شخص جب پُلْ صِراط پر لڑکھڑائے گا تو اُس کا مال اُس سے کہے گا :   تُو برباد ہو!  تُو نے  مجھ سے اللہ تَعَالٰی کا حق کیوں ادا نہیں کیا؟  پس وہ اسی طرح ہلاکت وبربادی کو پکارتا رہے گا۔   (تاریخ دِمَشق لابن عَساکِر ج۴۷ص۱۵۳دارالفکربیروت)  
تیری طاقت، تیرا فن،  عُہدہ تِرا کچھ نہ کام آئے گا سَرمایہ تِرا
دبدبہ دُنیا ہی میں رہ جائے گا زور تیرا خاک میں مل جائے گا
              جیتنے دنیا سکندر تھا چلا     جب گیا دنیا سے خالی ہاتھ تھا   (وسائل بخشش ص ۳۷۵،  ۳۷۶)  
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بیان کردہ رِوایت میں عِبرت ہے اُن صاحِبانِ ثَروَت وحیثیت کے لئے جو فرض ہونے کے باوُجُود زکوٰۃ دینے سے کتراتے،  اپنی دولت  کوگناہوں کے کاموں میں گَنواتے،  بھلائی کے کاموں میں خَرچ کرنے سے جی چُراتے اور محتاجوں کی مددسے جان چُھڑاتے ہیں ۔  غور فرمالیجئے کہ آج خوش حال کردینے والا مال بروزِ قِیامت وبال کی صورت اِختِیار کرگیا تو ہمارا کیا بنے گا؟   کاش! ہمارے دلوں سے دُنیا ومالِ دُنیا کی بے جا مَحَبَّت نکل جائے اور ہماری قَبْر وآخِرت بہتر ہو جائے۔  
مِرے دل سے دُنیا کی اُلفت مِٹا دے مجھے اپنا عاشِق بنا یاالٰہی! 
تُو اپنی وِلایَت کی خیرات دے دے مِرے غوث کا واسِطہ یاالٰہی! 

مَدَنی اِنْعامات میں اَسلاف کی یاد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  بَیان کردہ رِوایتِ مُبارَکہ سے یہ بھی پتا چلا کہ اپنے اِسلامی بھائیوں کو مکتو بات کے ذَریعے نیکی کی دعوت پیش کرناصَحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی سنَّتِ کریمہ ہے۔   اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  ! تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالَمگیر غیرسیاسی تحریک دعوتِ اسلامی دیگر مَدَنی خوبیوں کی حامِل ہونے کے ساتھ ساتھ اَسلافِ کِرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کی یاد بھی تازہ کرتی ہے جیسا کہ نیکی کی دعوت پر مُشتَمِل مدَنی مکتوبات روانہ کرنا۔  اِس کی ترغیب دلاتے ہوئے دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی طرف سے پیش کردہ 72 مَدَنی اِنعامات میں سے مدَنی اِنعام نمبر 57 ہے: } ’’ کیا آپ نے اِس ہفتے کم ازکم ایک اسلامی بھائی کو مکتوب روانہ فرمایا ؟  ‘‘   (مکتوب میں مَدنی اِنعامات اور مدَنی قافِلے کی ترغیب دلائیں )  {آپ سے بھی مدَنی التِجا ہے کہ’’  دعوتِ اسلامی ‘‘ کے مدنی ماحول سے تادمِ حیات مُنسَلِک رہئے،   ’’ مَدَنی اِنعامات‘‘  کے مطابِق عمَل کی کوشِش کیجئے،   اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ  بُزُرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ المُبِین کے فُیُوضات اور دُنیا وآخِرت کی کثیر برکات حاصِل ہوں گی اورکثرتِ دولت کی ہَوَس کے بجائے نیکیوں کی کثرت کی حِرص بڑھے گی۔ 
دے جذبہ ‘’ مَدَنی اِنْعامات’‘  کا تُو کرَم ہو دعوتِ اسلامی پر یہ
کرَم بہرِ شہِ کرب و بَلا ہو شریک اِس میں ہر اِک چھوٹا بڑا ہو  (وسائل بخشش ص۹۱)  
اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

دَھن کمانے کی دُھن

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! آج ہمارے مُعاشَرے میں اَکثر لوگوں کے ذِہنوں پردولتوں اور خزانوں کے اَنبار جمْع کرنے کی دُھن سُوار ہے اور اِس راہِ پُرخار میں خواہ کتنی ہی تکالیف سے دوچار ہونا پڑے،   پرواہ نہیں ،  بس!  ہر وقْت دولتِ دُنیا جمع کرنے کی حِرص ہے،  اگر کبھی آخِرت کی بھلائی کے لئے نیکیوں کی دولت اکٹھّی کرنے کی طرف   تَوَجُّہ دلائی بھی جائے تو مُلازَمَت یا کاروباری مصروفِیَّت وغیرہ کے بہانے آڑے آجاتے ہیں ،  بال بچوں کا دُنیوی مستقبِل سنوارنے کی کوشِشوں میں اپنا اُخرَوی مستقبِل بھول جاتے ہیں ،  اَولاد کی دُنیوی پڑھائی پھر اُن کی شادی کی فِکْر کسی اور طرف ذِہن جانے ہی نہیں دیتی۔  اَولاد کے دُنیَوِی مستقبِل کی بہتری کے لئے ہمارے بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ المُبِین کا کیسا مَدَنی ذِہن تھا!  یہ بھی مُلاحَظہ فرمائیے چُنانچِہ

عُمَر بن عبدُ العزیزکی مَدَنی سوچ

   دعوتِ اسلامی کے اِشاعَتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ415 صَفْحات پر مشتمل کتاب ‘’ ضِیائے صَدَقات’‘  صفْحہ83 پرہے کہ حضرتِ سیِّدُنا مَسْلَمَہ بن عَبدُ الْمَلِک عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْمَلِک حضرتِ سیِّدُنا عُمَربن عبدُ العزیز رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی ظاہِری حیات کے آخِری لمحات میں حاضِر ہوئے اور کہا: اے اَمیرُ المؤمنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ!  آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی بے مِثال زندَگی گزار کر دُنیا سے تشریف لے جارہے ہیں ،   آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے 13بچّے ہیں لیکن وِراثت میں اُن کے لئے کوئی مال و اسباب نہیں چھوڑا! یہ سن کرحضرتِ سیِّدُنا عمرَبن عبد العزیز رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اِرشاد فرمایا:  میں نے اپنی اَولاد کا حق روکا نہیں اور دوسروں کا اِن کو دیا نہیں اور میری اَولاد کی دو حالَتیں ہیں اگر وہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی اِطاعت کریں گے تو وہ اُن کو کِفایَت فرمائے گا کیونکہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  نیک لوگوں کوکِفایَت فرماتا ہے اور اگر میری اولاد نافرمان ہوئی تو مجھے اِس بات کی پرواہ نہیں کہ میرے بعدمالی  اعتبار سے اُن کی زندَگی کیسے گزرے گی۔    (اِحیاءُ الْعُلوم ج۳ص۲۸۸ )  
اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی اُن پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدقے ہماری بے حساب مَغْفِرَت ہو۔  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  یہاں یہ یاد رہے کہ اگر کسی کے پاس مال ہے تو اسے یہی حکم ہے کہ  صَدَقہ کرنے کے بجائے اولاد کی ضَرورت کے لئے رکھ چھوڑے ۔  
مِرے غوث کا وسیلہ، رہے شاد سب قبیلہ
   اِنہیں خُلد میں بسانا،   مَدَنی مدینے والے   (وسائلِ بخشش ص۱۶۰)  
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

آزمائش میں کامیابی کی صورت

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  بِلاحاجت دُنیوِی مال ودولت جمع کرنے کا جذبہ قابلِ تعریف نہیں اور جسے اللہ  عَزَّوَجَلَّ نے بکثرت دُنیوی دولت عنایت فرمائی ہو اُس کیلئے کامیابی کی صورت یِہی ہے کہ وہ اُس کو اللہ و رسول  عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت کے مطابِق خَرچ کر کے نیکیوں کی دولت میں اِضافہ کرے چُنانچِہ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 417 صفْحات پر مُشتمِل مُنْفَرِد کتاب  ’’ لُبابُ ا  لاِحیاء‘‘  صَفْحَہ258 پر ہے:  حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ رُوحُ اللہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اِ رشاد فرمایا:  ‘‘ دُنیا کو آقا نہ بناؤ ورنہ وہ تمہیں غلام بنا لے گی،   اپنا مال اُس ذات  کے پاس جمع کرو جس کے پاس سے ضائِع نہیں ہوتا کیونکہ جس کے پاس دُنیا کا خزانہ ہو اُسے  (چوری ہو نے یا چِھن جانے وغیرہ کی )   آفت کا ڈر ہوتا ہے، لیکن  (صدقہ وخیرات کر کے)   اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے پاس اپنا مال جمع کرانے والے کو کسی قسم کا خطرہ نہیں ہوتا۔  ‘‘     ( لُبابُ الاِحیاءُ  (عربی)  ص۲۳۱ماخوذاً  دارالبیروتی دمشق)  
تِرے غم میں کاش عطّارؔ، رہے ہر گھڑی گرِفتار
غمِ مال سے بچانا،  مَدَنی مدینے والے
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن