دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Khazanay Kay Ambaar | خزانے کے انبار

Maal Jama Karne Na Karne Ki Suraten

book_icon
خزانے کے انبار

مال جَمْعْ کرنے نہ کرنے کی صورَتیں

      میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  مال جمع کرنے نہ کرنے کی صورتوں کے متعلّق بارگاہِ رضویت میں ہونے والے ’’ سُوال وجواب‘‘  کے مختلف اِقتباسات پیش کرتا ہوں ،  اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ کی معلومات میں بے حد اِضافہ ہوگا: سُوال: ایک شخص جو اَہل و عِیال  (یعنی بال بچّے)   رکھتا ہے اپنی ماہانہ یا سالانہ آمدنی سے بِلا اِفراط وتَفرِیط  (یعنی بِغیر کمی وزِیادَتی کے)   اپنے بال بچّوں پرخَرچ کر کے بقایا خدا کی راہ میں دیتا ہے آئِند ہ کو اَہل وعِیال  کے واسِطے کچھ نہیں رکھتا ، دوسرا اپنی آمدنی سے بچّوں پرایک حصّہ خَرچ کرکے دوسرا حصّہ خیرات کرتا اور تیسرا حصّہ آئندہ انکی ضَرورتوں میں کام آنے کی غَرَض سے رکھ چھوڑنے کو اچّھا جانتا ہے، ان دونوں میں افضل کون ہے؟ 
الجواب: حُسنِ نیّت   ( یعنی اچّھی نیّت )   سے دونوں صورَتیں مَحمود  (بَہُت خوب)   ہیں ،  اور بَاِختِلافِ اَحوال   (یعنی حالات مختلِف ہونے کی وجہ سے )   ہر ایک   (کبھی)   افضل ،  کبھی واجِب،  وَلہٰذا اس بارے میں احادیث بھی مختلف آئیں اور سَلَفِ صالِح   (یعنی بزرگانِ دین )   کا عمل بھی مختلِف رہا۔  
اَقُول ُوَبِاللّٰہِ التَّوْفِیق  (اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی توفیق سے میں کہتا ہوں )  اس میں قَولِ مُوْجَزْ و جَامِع   (یعنی مختصر وجامِع قول)   اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ یہ ہے کہ آدَمی دو  قسم   (کے)   ہیں :   (۱)    مُنْفَرِد کہ تنہا ہو اور  (۲)   مُعِیْلکہ عِیال  (یعنی بال بچّے وغیرہ)   رکھتا ہو،  سُوال اگر چِہ مُعِیْلسی مُتَعلِّق ہے مگر ہرمُعِیْل اپنے حقِّ نفس   (یعنی خود اپنے بارے)   میں مُنْفَرِد اور اس پر اپنے نفس  (یعنی اپنی ذات)   کے لحاظ سے وُہی اَحکام ہیں جو مُنْفَرِد پر ہیں لہٰذا دونوں کے اَحکام سے بَحث درکار۔  {1}وہ اَہلِ اِنْقِطَاع وَ تَبَتُّل اِلَی اللّٰہ اَصْحابِ تَجْرِیْد وَتَفْرِیْد   (یعنی ایسے لوگ جنہوں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی خاطِر دنیا سے کَنارہ کَشی اختیار کر لی ہو اور ان پر اہل وعِیال کی ذمّے داری نہ ہو یا انکے اہل و عِیال ہی نہ ہوں )   جنھوں نے اپنے رب سے کچھ   (مال)  نہ رکھنے کا عَہد باندھا   (وعدہ کیا )  ان پر اپنے عَہْد کے سبب تَرکِ اِدّ ِخار   (یعنی مال جمع نہ کرنا )  لازِم ہوتا ہے اگرکچھ بچارکھیں  تونَقْضِ عَہْد  (یعنی وعدہ خِلافی)   ہے اور بعدِ عہد پھر جَمع کرنا ضَرور ضُعفِ یقین سے نَاشِیٔ   (یعنی یقین کی کمزوری کی وجہ سے ہے )   یا اُس کامُوْہِمْ   ( یعنی وہم ڈالنے والا )   ہوگا،  ایسے   (حَضرات )     اگر کچھ بھی ذَخیرہ کریں مستِحقِ عِقاب  ( یعنی سزاکے حق دار)   ہوں ۔  
{2}فَقر و توکُّل ظاہِر کرکے صَدَقات لینے والا اگر یہ حالت مُستَمِر   (مُسْ۔ ت َ۔ مِرْ یعنی برقرار)   رکھنا چاہے تو اُن صَدَقات میں سے کچھ جمع کر رکھنااُسے ناجائز ہوگا کہ یہ دھوکا ہوگا اور اب جوصَدَقہ لے گا حرام و خبیث ہوگا۔  
{3}جسے اپنی حالت معلوم ہو کہ حاجت سے زائد جو کچھ بچا کررکھتا ہے نَفس اُسے طُغیان وعِصیان   (یعنی سرکشی ونافرمانی)   پر حامِل ہوتا  (یعنی اُبھارتا )   ،  یاکسی مَعصِیَت   (یعنی نافرمانی)   کی عادت پڑی ہے اُس میں خَرچ کرتا ہے تو اُس پرمَعصِیَت سے بچنا فرض ہے اور جب اُس کایِہی طریقہ مُعَیَّن  (م ُ۔ عَیْ۔ یَنْ یعنی مُقرَّر)  ہو کہ باقی مال اپنے پاس نہ رکھے تو اِس حالت میں اس پر حاجت سے زائد سب آمَدَنی کو مَصارِفِ خَیر   (یعنی بھلا ئی کے کاموں )   میں صَرف کر دینا لازِم ہوگا۔  
{4} جو ایسا بے صَبرا ہوکہ اگر اُسے فاقہ پہنچے تو مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّ رب عَزَّوَجَلَّ کی شکایت کرنے لگے اگر چِہ صِرف دل میں ،  نہ زَبان سے،  یا طُرُقِ ناجائزہ   (یعنی ناجائز طریقوں )   مِثلِ سَرِقہ   (سَ ۔ رِ۔ قَہ یعنی چوری)   یا بھیک وغیرہ کا مرتکِب ہو،  اس پر لازِم ہے کہ حاجت کے قَدَرجَمع رکھے،  اگر پیشہ وَر ہے کہ َروزکارَوزکھاتا ہے،  تو ایک دن کا، اور ملازِم ہے کہ ماہوار ملتا ہے یا  مکانوں دکانوں کے کرائے پر بسر ہے کہ  (کرایہ)   مہینہ پیچھے آتا ہے،  تو ایک مہینے کا اور زمیندار ہے کہ فصل  (چھ ماہ)   یا سال پر پاتا ہے تو چھ مہینے یا سال بھر کااور اصل ذَرِیعۂ مَعاش مَثَلاً آلاتِ حرفَت   ( یعنی کام کے اَوزار)  یا دکان مکان دیہات بَقَدرِ کِفایت کا باقی رکھنا تو مُطلَقاً اس پر لازِم ہے۔  
{5}جو عالمِ دین مُفتِیِٔ شَرع یا مُدافِعِ بِدع   (بد مذ ہبیت کوروکنے والا)   ہو اور بیتُ المال سے رِزق نہیں پاتا،  جیسا   (کہ اب)  یہاں ہے، اور وہاں اس کا غیر  (یعنی کوئی دوسرا)   ان مَناصبِ دِینیہ   (یعنی دینی مَنصَبوں )   پرقِیام نہ کرسکے کہ اِفتا   ( فتویٰ دینے)  یا دَفعِ بِدعات میں اپنے اَوقات کا صَرف کرنا اس پر فرضِ عَین ہو اور وہ مال و جائداد رکھتا ہے جس کے باعث اُسے غَنا  (مالی طور پر مضبوطی )  اور ان فرائضِ دِینیہ کے لیے فارِغُ البالی ہے   (یعنی روزگار وغیرہ سے بے فکری ہے)   کہ اگر   (سارا ہی مال)  خَرچ کر دے مُحتاجِ کَسب   (یعنی کام کاج کرنے کا محتاج )  ہو اور ان اُمُور  (یعنی ان دینی فریضوں کی ادائیگی)   میں خَلَل پڑے،  اس پر بھی اَصل ذَرِیعے کا اِبقا   (یعنی باقی رکھنا)  اور آمَدَنی کا بَقَدرِ مذکور جَمع رکھنا واجِب ہے ۔  
{6}اگر وہاں اور بھی عالِم یہ کام کرسکتے ہوں تو اِبقاء وجمعِ مذکور  (حسبِ ضَروت مال جمع کرنا اور مال کے ذرائِع باقی رکھنا)   اگر چِہ واجِب نہیں مگر اَہَم و مُؤَکَّدْ  (سخت تاکید کیا ہوا)  بیشک ہے کہ علمِ دین و حمایتِ دین کے لیے فَراغ بال   ( یعنی خوشحالی)   ،  کَسبِ مال  ( یعنی مال کمانے)   میں اِشتِغال  ( یعنی مشغول ہونے)   سے لاکھوں درجے افضل ہے مَعہٰذا   (یعنی اسی کے ساتھ )    ایک سے دو اور دوسے چاربھلے ہوتے ہیں ، ایک   (عالم)  کی نظر کبھی خطا کرے تو دوسرے   (عُلَماء)   اُسے صَو اب   (یعنی صحیح بات)   کی طرف پھیر دیں گے،  ایک   (عالم)  کو مرض وغیرہ کے باعث کچھ عُذر پیش آئے تو جب اور  (عُلماء)   موجود ہیں کام بند نہ رہے گا لہٰذا  تَعَدُّدِ عُلَمائے دین   (علمائے دین کی کثرت)   کی طرف ضَرور حاجت ہے۔ 
{7} عالم نہیں مگر طلبِ علمِ دین میں مشغول ہے اورکَسب میں اِشتِغال  ( مال کمانے میں مشغول ہونا )   اُس   (یعنی علمِ دین کی طلب)  سے مانِع   (یعنی روکنے والا)   ہوگا تو اس پر بھی اُسی طرح اِبقاء و جمع مَسطُور آکد واَہَم ہے۔    (یعنی اس کے لئے بھی حسبِ ضَرورت مال جمع کرنا اور مال کے ذارئِع کو باقی رکھنابَہُت اَہَم وضَروری ہے )   
{8}تین صورَتوں میں جَمع مَنع ہُوئی،  دومیں واجِب ،  دو میں  مُؤَکَّدْ   (یعنی تاکیدی اور )  جو ان آٹھ  (قِسموں )   سے خارِج ہو،  وہ اپنی حالت پر نظر کرے اگر جَمع نہ رکھنے میں اس کاقَلب پریشان ہو،  تو جُّہ بَعبادت و ذِکرِ الہٰی میں خَلَل پڑے تو بمعنیٔ مذکوربَقَدرِ حاجت جَمع رکھنا ہی افضل ہے اور اکثر لوگ اِسی قسم کے ہیں ۔  
{9}اگرجَمع رکھنے میں اس کا دل مُتَفَرِّق  (یعنی مُنتَشِر)   اور مال کے حفِظ  (یعنی حفاظت)   یا اس کی طرف مَیلان  (جُھکاؤ)   سے مُتَعلِّق ہوتوجمع نہ رکھنا ہی افضل ہے کہ اَصل مقصود ذِکرِ الہٰی کے لیے فَراغ بال  (فارِغ ہونا)   ہے جو اُس میں مُخِل  ( خلل ڈالنے والا)   ہو وُہی ممنوع  ہے۔ 
{10}جواصحاب نُفُوسِ مُطْمَئِنَّہ  (یعنی اہلِ اطمینان)   ہوں ،   (کہ)  نہ عَدَمِ مال  (مال نہ  ہونے )   سے اُن کا دل پریشان  (ہو)   نہ وُجُودِ مال   (یعنی مال ہونے )   سے اُن کی نظر   (پریشان ہو )    ،  وہ مُختار ہیں   ( یعنی با اختیار ہیں کہ چاہیں تو بقیہ مال صَدَقہ وخیرات کر دیں یا اپنے پاس ہی رکھیں )   ۔ 
{11}حاجت سے زیادہ کا مَصارِفِ خیر  (یعنی اچّھی جگہوں )   میں صَرف   (خَرچ)   کردینا اور جَمع نہ رکھنا صورتِ سِوُم میں تو واجب تھا باقی جُملہ صُوَر  (یعنی دیگر تمام صورَتوں )   میں ضَرور مطلوب  (یعنی پسندیدہ)  ، اور جوڑ کر  (یعنی جمع)  رکھنا اس کے حق میں ناپسند ومَعیوب کہ مُنْفَرِد کو اس کا جوڑنا طولِ اَمَلَ   (یعنی لمبی اُمّید )   یا حُبِّ دُنیا  (یعنی دنیا کی مَحَبَّت )   ہی سے ناشِی  (یعنی پیدا )  ہوگا۔   (مطلب یہ کہ مال جمع کرنا لمبی اُمّید یا دُنیا سے  مَحَبَّت ہی کی وجہ سے ہوگا اور یہ دونوں صورتیں اچّھی نہیں ہیں )  

دُنْیا کا مُسافِر

فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہے:  ’’دُنیا میں یُوں رہ گویا تُو مسافر بلکہ راہ چلتا ہے اور اپنے آپ کو قبر میں سمجھ کر صبح کرے تو دل میں یہ خیال نہ لاکہ شام ہوگی اور شام ہوتو یہ نہ سمجھ کہ صبح ہوگی۔ ‘‘   (سُنَنِ تِرمِذی ج۴ ص۱۴۹ حدیث۲۳۴۰ دارالفکربیروت)  

تمہیں شرم نہیں آتی

سلطانِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ایک موقع پرارشاد فرمایا: یَا اَیُّہَا النَّاسُ اَمَا تَسْتَحْیُوْنَ اے لوگو! کیا تمہیں شرم نہیں آتی ؟ حاضِرین نے عَرض کی:  یا رسولَ اللہ! کس بات سے؟  فرمایا: جَمع کرتے ہو جونہ کھاؤ گے اور عمارت بناتے ہوتو جس میں نہ رہو گے اور وہ آرزُوئیں باندھتے ہو جن تک نہ پہنچو گے اس سے شرماتے  نہیں ۔    (اَلْمُعْجَمُ الْکبِیر لِلطّبَرانی ج۲۵ص۱۷۲حدیث۴۲۱  داراحیاء التراث العربی بیروت)   

جب کوئی لقمہ لیتا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

حضرتِ سیِّدُنا اُسامہ بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے ایک مہینے کے وعدے پر ایک کنیز سَو دینار کو خریدی،  رَسُولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: کیا اُسامہ سے تعجُّب نہیں کرتے جس نے ایک مہینے کے وَعدے پر  (کنیز)   خریدی، بیشک اُسامہ کی امّید لمبی ہے ، قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! میں توجب آنکھ کھولتا ہوں یہ گُمان ہوتا ہے کہ پلک جھپکنے سے پہلے موت آجائیگی اور جب پِیالہ منہ تک لے جاتا ہوں کبھی یہ گمان نہیں کرتا کہ اس کے رکھنے تک زندہ رہوں گا اور جب کوئی لقمہ لیتا ہوں گمان ہوتاہے کہ اسے حَلق سے اُتارنے نہ پاؤں گا کہ موت اُسے گلے میں روک دے گی،  قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے بیشک جس بات کا تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے ضَرور آنے والی ہے تم تھکا  نہ سکو گے۔   (اَلتَّرغِیب وَالتَّرہِیب ج۴ ص۱۰۸ حدیث۵۱۲۷ دارالفکربیروت)  
یہ سب  ( تو)   مُنْفَرِدکا بیان   (ہے )  رہا عِیا ل دار  (تو)  ظاہِر ہے کہ وُہ اپنے نَفس کے حق میں ‘’ مُنْفَرِد’‘ ہے،  تو خوداپنی ذات کے لیے اُسے اُنہِیں اَحکام کا لحاظ چاہئے اورعِیال کی نظر سے اُس کی صورَتیں اور ہیں ان کابیان کریں ۔ 
{12}عِیال کی کَفالَت شَرع نے اِس پرفَرض کی،  وہ ان کو تَوَکُّل و تَبَتُّل  (دنیا سے کَنارہ کشی )   وَ صَبْرْعَلَی الْفاقَہ   (یعنی اوربھوک پیاس سے صَبر)   پر مجبور نہیں کرسکتا،  اپنی جان کو  جتنا چاہے کُسے   (یعنی آزمائش میں ڈالے )   مگر اُن  (یعنی بال بچّوں )   کو خالی چھوڑنا اس پر حرام ہے ۔  
{13}وہ جس کی عِیال میں صورت چہارُم کی طرح بے صبرا ہو اور بے شک بَہُت عوام ایسے نکلیں گے تو اس کے لحاظ سے تو اس پر دوہرا وُجُوب ہوگا کہ قَدَرِ حاجت جَمع رکھے ۔ 
{14}ہاں جس کی سب عِیال  (یعنی بال بچّے)   صابِر ومُتَوَ کِّل ہوں اُسے رَوا   (جائز )  ہوگا کہ سب   (مال)  راہِ خدا میں خَرچ کردے۔      (فتاوٰی رضویہ ج۱۰ ص۳۱۱تا۳۲۷ مختصرا)  
  میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  بیان کو اِختِتام کی طرف لاتے ہوئے سنّت کی فضیلت اور چند سنّتیں اور آداب بیان کرنے کی سعادَت حاصِل کرتا ہوں ۔  تاجدارِ رسالت ،   شَہَنْشاہِ نُبُوَّت،  مصطَفٰے جانِ رَحمت، شَمعِ بزمِ ہدایت ، نَوشَۂ بزمِ جنّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ جنّت نشان ہے:  جس نے میری سنّت سے  مَحَبَّت کی اُس نے مجھ سے مَحَبَّت کی اور جس نے مجھ سے مَحَبَّت کی وہ   جنّت  میں میرے ساتھ ہو گا ۔     (اِبنِ عَساکِر ج۹ ص۳۴۳)  
سینہ تری سنّت کا مدینہ بنے آقا
جنّت میں پڑوسی مجھے تم اپنا بنانا
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

’’ انگوٹھی کے اَہم اَحکام‘‘ کے ستَّرہ حُرُوف کی نسبت

سے انگوٹھی کے 17 مَدَنی پھول

٭مرد کو سونے کی انگوٹھی پہننا حرام ہے۔  سلطانِ دو جہان،  رَحمتِ عالَمیان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے سونے کی انگوٹھی پہننے سے مَنع فرمایا ۔            (بُخاری ج ۴ ص۶۷حدیث۵۸۶۳)  
٭  (نابالِغ)  لڑکے کو سونے کا زَیور پہنانا حرام ہے اور جس نے پہنایا وہ گنہگار ہوگا۔    (دُرِّمُختارو رَدُّالْمُحتار ج۹ ص۵۹۸ )   ٭لوہے کی انگوٹھی جَہنَّمیوں کا زیور ہے۔   (ترمذی ج۳ص۳۰۵ حدیث۱۷۹۲)    ٭مرد کیلئے وُہی انگوٹھی جائز ہے جومَردوں کی انگوٹھی کی طرح ہو یعنی ایک نگینے کی ہو اور اگر اس میں   (ایک سے زیادہ یا)   کئی نگینے ہوں تو اگرچِہ وہ چاندی ہی کی ہو،  مرد کے لیے ناجا ئز ہے۔   (رَدُّالْمُحتار ج۹ص۵۹۷)   ٭ اسی طرح مردوں کے لیے ایک سے زیادہ  (جائز والی)   انگوٹھی پہننا یا  (ایک یا زیادہ)   چھلّے پہننا بھی ناجائز ہے کہ یہ        ( چھلّا)   انگوٹھی نہیں ۔  عورَتیں چَھلّے پہن سکتی ہیں ۔   (بہار شریعت حصّہ ۱۶ص۷۱)    ٭چاندی کی ایک انگوٹھی ایک نگ کی کہ وزن میں ساڑھے چار ماشے  (یعنی چار گرام 374 ملی گرام)   سے کم ہو، پہننا جائز ہے اگر چِہ بے حاجتِ مُہر،   (مگر)   اس کا تَرک  ( یعنی جس کو اِسٹامپ کی ضَرورت نہ ہو اُس کا نہ پہننا)   افضل ہے اور مُہر کی غَرَض سے خالی جواز نہیں   (یعنی جن کو انگوٹھی سے اِسٹامپ لگانی ہواُن کے لئے صِرف جائز ہی نہیں )  بلکہ سنّت ہے ، ہاں تکبُّر یا زنانہ پن کا سنِگار  (یعنی لیڈیز اسٹائل کی ٹِیپ ٹاپ)   یا اور کوئی غَرَضِ مذموم  (یعنی قابلِ مذمّت مطلب ومَفاد)   نیّت میں ہو تو ایک انگوٹھی  (ہی)  کیااِس نیّت سے   (تو)  اچّھے کپڑے پہننے بھی جائز نہیں ۔   (فتاوٰی رضویہ ج۲۲  ص۱۴۱)   ٭ عیدَین میں مرد کے لئے چاندی کی جائز والی انگوٹھی پہننا مُستحب ہے۔   (بہارِ شریعت  ج ۱ص ۷۷۹ ، ۷۸۰ بتصرف مکتبۃ المدینہ باب ا لمدینہ کراچی)  ٭انگوٹھی اُنھیں کے لیے سنّت ہے جن کو مُہر کرنے  (یعنی اِسٹامپ STAMP   لگانے)   کی حاجت ہوتی ہے،  جیسے سلطان و قاضی اور عُلَما جو فتوے پر  (انگوٹھی سے)  مُہرکرتے    (یعنی اِسٹامپ لگاتے)  ہیں ،  ان کے علاوہ دوسروں کے لیے جِن کو مُہر کرنے کی حاجت نہ ہو سنّت نہیں البتّہ پہننا جائز ہے۔    (فتاوٰی عالمگیریج۵ ص۳۳۵)    فِی زمانہ انگوٹھی سے مُہر کرنے کا عُرف نہیں رہا، بلکہ اس کام کے لئے’’ اِسٹام’‘  بنوائی جاتی ہے۔  لہٰذا جن کو مُہر نہ لگانی ہواُن قاضی وغیرہ کے لئے بھی انگوٹھی پہننا سنّت نہ رہا٭مرد کو چاہیے کہ انگوٹھی کا نگینہ ہتھیلی کی طرف رکھے اور عورت نگینہ ہاتھ کی پُشت کی طرف رکھے۔    (الہدایۃ ج۴ ص۳۶۷)  ٭ چاندی کا چَھلّا خاص لباسِ زَنان   (یعنی عورتوں کا پہناوا)   ہے مَردوں کو مکروہ۔   (یعنی ناجائز وگناہ ہے)    (فتاوٰی رضویہ ج۲۲ ص۱۳۰)  ٭عورت سونے چاندی کی جتنی چاہے انگوٹھیاں اور چھلّے پہن سکتی ہے ، اِس میں وزن اور نگینے کی تعدادکی کوئی قید نہیں ٭لوہے کی انگوٹھی پر چاندی کا خَول چڑھا دیا کہ لوہا بالکل نہ دکھائی دیتا ہو،  اس انگوٹھی کے پہننے کی مُمانَعَت نہیں ۔   ( عالمگیری ج۵ص۳۳۵)   ٭ دونوں میں سے کسی بھی ایک ہاتھ میں انگوٹھی پہن سکتے ہیں اورسب سے چھوٹی انگلی میں پہنی جائے۔   ( رَدُّالْمُحتارج۹ص۵۹۶، بہار شریعت حصّہ ۱۶ص۷۰)  ٭ مَنّت کا یا دَم کیا ہوا دھات   (METAL)   کاکڑابھی مرد کو پہننا ناجائز وگناہ ہے۔ ٭ مدینۂ منوَّرہ زادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً یااجمیر شریف کے چَھلّے اور اسٹیل کی انگوٹھی بھی جائز نہیں ۔ ٭بواسیر وغیرہ کے لئے دم کئے ہوئے چاندی کے چَھلّے بھی مَردوں کے لئے جائز نہیں ٭ اگر آپ نے دھات کاکڑایا دھات کاچھلّا ،  ناجائز انگوٹھی، یا دھات کی زنجیر   (CHAIN)    پہنی ہے توابھی ابھی اُتار کر توبہ کرلیجئے۔  ہزاروں سنّتیں سیکھنے کے لئے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ دو کُتُب   (۱)   312 صَفحات پرمشتمل کتاب بہارِ شریعت حصّہ 16 اور  (۲)   120 صَفحات کی کتاب  ’’سنَّتیں اور آداب‘‘  ہدِیَّۃً حاصِل کیجئے اور پڑھئے۔  سنَّتوں کی تربیّت کا ایک بہترین ذَرِیعہ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی قافِلوں میں عاشِقانِ رسول کے ساتھ سنّتوں بھرا سفر بھی ہے۔ 
لوٹنے رَحمتیں قافلے میں چلو سیکھنے سنّتیں قافلے میں چلو
ہوں گی حل مشکلیں قافلے میں چلو ختم ہوں شامتیں قافِلے میں چلو
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{۷۸۶}۶ {۹۲}

رسالہ پڑھ کر دوسرے کو دے دیجئے

شادی غمی کی تقریبات، اجتماعات، اعراس اور جلوسِ میلاد و غیرہ میں مکتبۃ المدینہ کے شائع کردہ رسائل اور مدنی پھولوں پر مشتمل پمفلٹ تقسیم کرکے ثواب کمائیے ،  گاہکوں کو بہ نیتِ ثواب تحفے میں دینے کیلئے اپنی دکانوں پر بھی رسائل رکھنے کا معمول بنائیے ،  اخبار فروشوں یا بچوں کے ذریعے اپنے محلے کے گھر گھر میں ماہانہ کم از کم ایک عدد سنتوں بھرا رسالہ یا مدنی پھولوں کا پمفلٹ پہنچاکر نیکی کی دعوت کی دھومیں مچائیے اور خوب ثواب کمائیے۔ 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن