دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Khazanay Kay Ambaar | خزانے کے انبار

Afaat Se Nijat Ka Zariya

book_icon
خزانے کے انبار

آفات سے نَجات کا ذَرِیْعہ

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ابھی آپ نے مُلاحَظہ فرمایا کہ خالقِ کائنات،  اللہُ رَبُّ الْاَرْضِ وَالسَّمٰوٰت عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں صدَقہ و خیرات کرنا  بے حد فائدے کا سودا ہے اور اس سے مال محفوظ ہو جاتا ہے۔  یقینا صَدَقہ و خیرات آفات سے نَجات کا ذَرِیعہ ہے،  لہٰذا ہر ایک کو چاہئے اپنے مال سے حسبِ توفیق و وُسعَت صدَقہ وخیرات کرنے کی سعادت حاصل کرتے رہئے،  اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ بَہُت ساری آفتوں اور مصیبتوں سے حِفاظَت ہوگی۔  چُنانچِہ دعوتِ اسلامی کے اِشاعَتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کا مطبوعہ رِسالہ ’’ راہِ خدا میں خَرچ کرنے کے فضائِل‘‘  میں اعلیٰ حضرت،  امام اہلِ سنّت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ایک رِوایت نقْل کرتے  ہیں :   ’’ اَلصَّدَقَۃُ تَمْنَعُ سَبْعِیْنَ نَوْعًا مِّنْ اَنْوَاعِ الْبَلاءِ اَھْوَنُہَا الْجُذَامُ  وَالْبَرَصُ یعنی صدَقہ70    قسم کی بلاؤں کو روکتا ہے جن میں آسان تر بلا بدن بگڑنا  (کوڑھ)   اور سفید داغ ہیں   (تاریخ بغداد ج۸ ص۲۰۴دار الکتب العلمیۃ بیروت)   

لُقمے کے بد لے لُقمہ

      سُبْحٰنَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! صدَقہ واقِعی بلاؤں کو دفْع کرتا ہے ۔ اِس ضِمْن میں ایک ایمان افروزحِکایت سماعت فرمائیے چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا امام عبد اللہ بن اَسعَد یافِعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِی   ’’ رَوْضُ الرِّیَاحِیْن‘‘ میں نقْل فرماتے ہیں :  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی رضا کیلئے ایک عورت نے کسی محتاج  (یعنی مسکین)   کوکھانا دیااور پھر اپنے شوہر کو کھانا پہنچانے کھیت کی طرف چل پڑی،  اُس کے ساتھ اُس کا بچّہ بھی تھا،  راستے میں ایک دَرِندے  (یعنی پھاڑ کھانے والے جانور)   نے بچّے پر حملہ کر دیا،   وہ دَرِندہ بچّے کو نگلنا ہی چاہتا تھا کہ ناگہاں   (یعنی اچانک)   غیب سے ایک ہاتھ ظاہِرہوا جس نے اُس دَرِندے کو ایک زوردارضَرب لگائی اوربچّے کو چُھڑا لیا،  پھر غیب سے آواز آئی:  ’’ اے نیک بخت!  اپنے بچّے کو سلامَتی کے ساتھ لے جا!  ہم نے لُقمے کے بدلے تجھے لُقمہ عطا کر دیا۔  ‘‘    (یعنی تُو نے غریب کو کھانے کا لُقمہ کِھلایا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تیرے بچّے کو دَرِندے کا لُقمہ بننے سے بچا لیا) ۔     (رَوْضُ الرَّیاحِین ص ۲۷۴ )   اللہ عَزّ   َوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدْقے  ہماری بے حساب مَغْفِرَت ہو۔  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
رہِ حق میں سبھی دولت لُٹا دوں
                   خدا !  ایسا مجھے جذبہ عطا ہو   (وسائل بخشش ص۹۱)  
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  جسے مالِ دُنیا ملنے کے ساتھ ساتھ راہِ خدا عَزَّوَجَلَّ میں خرْچ کرنے کا جذبہ بھی مل گیا وہ توسعادت مند ٹھہرا لیکن جو غفلَت میں ڈالنے والی دُنیوی آسایشوں میں مُنہمِک رہا اورنفسانی خواہِشات کی پَیروی کی،  اُس نے گویا شیطان کی غلامی اِختِیار کی جیسا کہ حُجَّۃُ الْاِسلام حضرتِ سیِّدُنا امام محمد بن محمدبن محمدغزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَلِی اِحیا ءُالْعُلُوم میں نَقل کرتے ہیں :  جب سب سے پہلے دِرہَم و دِینارتیار ہوئے تو شیطان نے اُن کو اُٹھا کر اپنی پیشانی پر رکھا پھر اُن کو چُوما اور بولا :  جس نے تم سیمَحَبَّت کی حقیقت میں وہ میرا غلام ہے۔    (اِحیاءُ الْعُلوم ج ۳ص۲۸۸)  

......وہ ذلیل خوار ہو

میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو! ہمارے بُزُرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ المُبِین دُنیوِی مال ودولت  اور اِس کی فکْر سے آزاد اور تَوَکُّل وقناعت کی دولت سے مالا مال تھے،  دُنیَوی مستقبِل سے بڑھ کراُخروی مستقبِل کی فکْر میں مَگن رہنے والے سعادت مند تھے،  وہ اِس حقیقت سے اچّھی طرح واقِف تھے کہ دولت کی مَحَبَّت باعث رُسوائی وذِلّت ہے،  جیسا کہ مشہور ومقبول وَلیُّ اللّٰہ حضرتِ سیِّدُنا شیخ شِبْلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَلِی کا ارشادِ حقیقت بنیاد ہے:  جس نے دولتِ دُنیا کے ساتھ پیار کیا وہ ذلیل وخوارہوا۔   (رَوْضُ الرَّیاحِین ص۱۳۹ دارالکتب العلمیۃ بیروت)               
 مِرا دل پاک ہو سرکار دُنیا کی مَحَبَّت سے
مجھے ہو جائے نفرت کاش!  آقا مال ودولت سے   (وسائل بخشش ص۱۳۳)  

مَحَبّتِ مال ودولت کی تباہ کاریاں

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  واقِعی مال ودولت کی مَحَبَّت انسان کو خواری وذلّت کے عمیق  (یعنی گہرے)   گڑھے میں دھکیل دیتی ہے، اگرچِہ بعض اَوقات انسان دُنیا میں تھوڑی بہت عزّت وشہرت حاصل کر بھی لیتا ہے مگر اکثر اُخروی تباہی وبربادی اُس کا مقدَّر بن جاتی ہے۔  دولت کے نشے میں مست رہنے والوں کے لئے حضرتِ سیِّدُناشیخ شِبْلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَلِی کے بیان کردہ اِرشاد میں عبرت ہی عبرت ہے۔  مال ودولت کی مَحَبَّت میں اندھا ہونے والا اَنجامِ آخِرت سے بالکل غافِل ہوکر اَحکامِ شریعت کو پسِ پُشت ڈال دیتا ہے پھر اُسے حکْمِ خدا عَزَّوَجَلَّ کی پرواہ رہتی ہے، نہ ہی ارشادِ مصطَفیٰ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا پاس۔  یقینا فکْرِ مال ودولت فکْرِ آخِرت سے غفلت میں ڈالتی اوربے شمار گناہوں کا سبب بنتی ہے جن میں سے چند یہ ہیں :  ترکِ زکوٰۃ وعُشْر،  سُود ورِشوت کا لین دَین،  بُخل کی نُحُوست،  قطْعِ رِحمی  (یعنی رشتے داری توڑنا)  ،  جھوٹ اور ناحق دوسروں کا مال دبا لیناوغیرہ۔ 

مال کی دِینی ودُنیَوِی آفات

دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ853 صفْحات پر مشتمل کتاب  ’’جہنَّم میں لے جانے والے اعمال‘‘  جلد1 صَفْحَہ565 تا 567 پر شیخُ الاسلام،    شہابُ الدِّین امام احمد بن حَجَر مکّی شافِعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی  نے مال ودولت کی آفات تفصیلاً بیان فرمائی ہیں ،  اُن میں سے چندکا ذِکر کرتا ہوں :  

دِینی آفات

مال ودولت کی کثرت انسان کو گناہوں پر اُبھارتی اور پہلے مُباح  (یعنی جائز)   لذّات کی طرف لے جاتی ہے حتّٰی کہ وہ اُن کا اِس قدَر عادی ہو جاتا ہے کہ اُس کے لئے  اُنہیں چھوڑنا انتہائی مشکِل ہوجاتا ہے یہاں تک کہ اگر وہ حلال کمائی کے ذریعے اُنہیں حاصل نہ کرسکے تو بسا اوقات حرام کام کرنے لگتا ہے،  کیونکہ جس کے پاس مال کثرت سے ہو،  اُسے لوگوں سے میل جول اور تعلُّقات بڑھانے کی بھی زیادہ ضَرورت ہوتی ہے اور جو اِس چیز میں مبتَلا ہو جائے وہ عُمُوماً لوگوں سے مُنَافَقَت سے پیش آئے گا اور اُنہیں راضی یا ناراض کرنے کے مُعامَلے میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی کا مُرتکِب ہو گا تو اِس کے نتیجے میں وہ عداوت،  کینہ،  حسد،   ریاکاری، تکبُّر،  جھوٹ،  غیبت،  چغلی وغیرہ کا باعث بننے والے دیگر کئی بڑے بڑے گناہوں میں مبتَلاہو جائے گا۔  

دُنیَوِی آفات

مال داروں کو لاحِق ہونے والی دُنیوی آفات میں خوف و غم،  پریشانی،  مَصائب کا سامنا،   اَمارت  (یعنی مالداری)   برقرار رکھنے کے لئے ہر دم مال کمانا اور اُس کی حفاظت کرنا وغیرہ دیگر کئی آفات شامل ہیں ۔  
امام ابن حجرعلیہ رَحمَۃُ اللّٰہِ الاکبرفرماتے ہیں : مال نہ تو مطلقاً خیر  (یعنی بھلائی کی چیز)   ہے نہ ہی مَحض شَر    (یعنی بُرائی کی شے)    مال بعض اوقات قابلِ تعریف ہوتا ہے اور کبھی قابلِ مذمّت۔ لہٰذا جس نے کِفایت   (ضَرورت)    سے زیادہ حصہ حاصل کیا گویا خود کو ہلاکت پر پیش کیا، کیونکہ طبیعتیں ہدایت سے روکنے والی ہیں اورشَہوات وخواہِشات کی طرف مائل رہتی ہیں اور مال ان میں آلے کا کام دیتا ہے۔  تو ایسی صورت میں ضَرورت سے زائد مال میں سخت خطرات ہیں ۔ مزید آگے چل کر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے حدیثِ پاک نقل کی ہے کہ شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار،  حبیبِ پروردگار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اِرشاد فرمایا:   ’’دِرہَم ودینارکاغلام ہلاک ہو۔  ‘‘     (سُنَنِ اِبن ماجہ ج۴  ص۴۴۱حدیث۴۱۳۶دارالمعرفۃ بیروت)   
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  کاش!  ہم پر اللہ  عَزَّوَجَلَّ کی خُصوصی رَحمت کا نُزُول ہو کہ ہم دولتِ دُنیا سے پیار کرنے اور اِسی سوچ بِچار میں گُم رہنے کے بجائے اُخرَوی سعادتوں کی طرف دھیان دینے والے بن جائیں اور یہ اِستِغاثہ  (یعنی فریاد)   ہمارے حق میں دَرَجۂ قَبولیّت کا شرَف پا لے: 
قلیل روزی پہ دو قناعَت فُضُول گوئی سے دیدو نفرت
دُرود پڑھنے کی بس ہو عادت نبیِّ رَحمت،  شفیعِ اُمّت    (وسائلِ بخشش ص۱۰۶)  
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! آپ سے مَدَنی اِلتِجا ہے کہ دعوتِ اسلامی کا مَدَنی ماحول اپنا لیجئے کہ یہ ماحول خزانوں کا اَنبار اِکٹھّے کرنے کے بجائے اَبدی سعادَتوں کا حقدار بننے کا ذِہن دیتا ہے، لہٰذا اگر آپ سُدھرنا چاہتے ہیں تو دل سے دُنیا کی بے جا مَحَبَّت نکالنے،  رِضائے الٰہی عَزَّوَجَلَّ حاصل کرنے کی تڑپ قلب میں ڈالنے،  سینہ سنّتِ مصطَفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا مدینہ بنانے، مال ودولت کو صحیح مَصرَف  (یعنی خرچ کی دُرُست جگہ)  میں اِستِعمال کرنے کاعلْم پانے اور دل کو فکرِ آخِرت کی آماجگاہ بنانے کیلئے تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیرسیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے ہر دم وابَستہ رہئے،  مَدَنی اِنعامات کے مطابِق زندگی گزارئیے اورسُنَّتوں کی تربیّت کے مَدَنی قافِلوں  کے مسافِر بنتے رہئے،  اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ دونوں جہاں میں بیڑا پار ہوگا۔ آپ کی ترغیب و تَحریص کیلئے ایک مَدَنی بہار پیش کی جاتی ہے چُنانچِہ

ویڈیوسینڑختم کردیا

لانڈھی  (باب المدینہ، کراچی)  کے مقیم اسلامی بھائی کے بیان کاخلاصہ ہے:  ہمارے علاقے میں ایک مبلّغِ دعوتِ اسلامی نیکی کی دعوت کو عام کرنے کے عظیم جذبے کے تحت بڑی مستقل مزاجی سے چوک درس دیا کرتے تھے۔  ایک مرتبہ اس چوک درس میں ایک  ویڈیوسینٹروالے کو بھی شرکت کی سعادت حاصل ہوگئی ۔  جب مبلغ دعوتِ اسلامی  نے فیضانِ سنّت کا درس شروع کیاتوخوفِ خدا عَزَّ  وَجَلَّ اور عشقِ مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے بھرپور، فکرِعاقِبت سے معمور الفاظ تاثیرکا تیربن کر  ’’ ویڈیو سینڑ والے ‘‘  کے دل میں پیوست ہوگئے،  بعدِ درس جب اسلامی بھائیوں نے اُن پراِنفِرادی کوشِش کرتے ہوئے دعوت اسلامی کے ہفتہ وارسُنَّتوں بھرے اجتِماع کی دعوت پیش کی تو فوراََراضی ہوگئے ۔ اور شرکت بھی کی جس کی بَرَکت سے اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ ان میں تبدیلی آنے لگی ،  کچھ ہی عرصے میں انہوں نے ویڈیوسینڑ ختم کردیا اور دھاگے کا کاروبار شروع کرکے حلال روزی کی طلب میں مشغول ہو گئے ۔  
مالِ دنیا ہے دونوں جہاں میں وبال،  آپ دولت کی کثرت کا چھوڑیں خیال
قبر میں کام آئے گاہر گز نہ مال،  حشر میں ذَرّے ذَرّے کا ہو گا سُوال
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن