30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سفید کے علاوہ کسی رنگ کی رطوبت دیکھنے کے متعلق احادیث:
بعض اوقات حیض کے شروع میں یا آخر میں جو رطوبت آتی ہے وہ خون کی طرح سرخ رنگ کی نہیں ہوتی بلکہ پیلے، گدلے یا مٹیالے وغیرہ رنگ کی ہوتی ہے ۔ اس طرح کی رطوبتوں کے متعلق شرعی حکم یہ ہےکہ حیض کے دنوں میں خالص سفید رنگ کے علاوہ اگر کسی رنگ کی رطوبت آئے تو وہ حیض کے حکم میں شمار ہوگی ۔ جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث اس بارے میں مروی ہے ۔ چنانچہ صحیح بخاری ، موطا امام محمد اور اس کے علاوہ کئی کتب میں ہے : والنظم للموطا ” كان النساء يبعثن إلى عائشة بالدرجة فيها الكرسف فيه الصفرة من الحيض فتقول: لا تعجلن حتى ترين القصة البيضاء “ترجمہ: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس خواتین ڈبیہ میں کرسف(یعنی وہ روئی جو عورتیں مخصوص ایام میں استعمال کرتی ہیں) رکھ کر بھیجتیں جس میں زردی ہوتی ، اس پر ام المؤمنین فرماتیں: ”جلدی نہ کرو یہاں تک کہ تم چونے کی طرح سفیدی نہ دیکھ لو۔“(موطأ امام محمد مع التعلیق الممجد ، جلد1، صفحہ 338، دار القلم، دمشق)
اس حدیث میں ” القصة البيضاء “ کا لفظ استعمال ہوا ہے ، اس کی وضاحت وتشریح کرتے ہوئے حضرت علامہ مولانا مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں :”القصہ کے معنی چونے کے بھی ہیں اور روئی کے بھی۔ پہلی تقدیر پر معنی وہ ہوئے جو ہم نے لکھے ہیں یعنی چونے کے مثل سپیدی دیکھے، دوسری تقدیر پر معنی یہ ہوئے کہ روئی کو سفید دیکھے۔ اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ روئی پرکوئی رنگ نہ دیکھے، دوسرے یہ کہ روئی سوکھی پائے۔ اس لئے کہ سفید رطوبت سے بھی بھیگنے کے بعد روئی پر دھبے پڑ جاتے ہیں ۔ یہ حدیث احناف کی مستدل(دلیل) ہے کہ ایام حیض میں جس رنگ کا بھی خون آئے وہ حیض ہے۔ سرخ ، کالا ، زرد، مٹیلا، گدلا ، سبز۔ کسی بھی رنگ کا خون دس دن کے اندر اندر آئے تو حیض ہے ۔ “ (نزہۃ القاری، 1/809، فرید بک سٹال ، لاہور)
اسی مفہوم کی روایات حضرت عَمره رضی اللہ عنہا سے بھی مروی ہیں ۔ چنانچہ حضرت فاطمہ بنت محمد بیان کرتی ہیں کہ قریش کی ایک خاتون نے حضرت عمرہ کے پاس روئی کا ایک ٹکڑا بھیجا ، جس میں زرد رنگ کی رطوبت تھی۔ یہ بھیج کر انہوں نے حضرت عَمره رضی اللہ عنہا سے سوال کیا: ” هل ترى اذا لم تر المرأة من الحيضة الا هذا ان قد طهرت “ترجمہ: آپ کیا فرماتی ہیں اس بارے میں کہ عورت اگر اپنے حیض میں صرف اس طرح کی رطوبت دیکھ رہی ہے تو کیا وہ پاک ہو چکی ہے ؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا: ” لا، حتى ترى البياض خالصا “ترجمہ: نہیں، یہاں تک کہ وہ خالص سفیدی دیکھ لے۔
(سنن الدارمی، 1/ 632، دار المغنی ، المملكۃ العربيۃ السعوديۃ)
اس حدیث میں جو ”خالص سفیدی دیکھنے “کی بات کی گئی ہے تو اس کےوہی دو مفہوم ہو سکتے ہیں جوحضرت علامہ مولانا مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ نے حدیثِ عائشہ رضی اللہ عنہا کی تشریح میں بیان کیے : یعنی (1)روئی کو خالص سفید پائے بایں معنی کہ اس پر کسی قسم کی رطوبت نہ دیکھے یا(2) روئی پر خالص سفید رطوبت دیکھے تو دونوں صورتوں میں یہ حیض ختم ہونے کی علامت ہے۔
ایک اور روایت میں آتا ہے کہ حضرت عَمره رضی اللہ عنہا عورتوں کو فرمایا کرتی تھیں:” اذا احداكن ادخلت الكرسفة فخرجت متغيرة، فلا تصلين حتى لا ترى شيئا “ترجمہ: جب تم میں سے کوئی کرسف(یعنی وہ روئی جو عورتیں مخصوص ایام میں استعمال کرتی ہیں) رکھے اور وہ متغیر ہو کر نکلے (یعنی اس کے رنگ میں کچھ تغیر و تبدیلی آچکی ہو ) تو وہ ہر گز نماز نہ پڑھے یہاں تک کہ ( یہ حالت ہو جائے کہ وہ اس پر ) کچھ بھی نہ دیکھے۔ (مصنف ابن ابی شيبہ، 1/ 90، مطبوعہ ریاض)
”کچھ بھی نہ دیکھے“ کا ظاہری مفہوم تویہی ہے کہ روئی پر کوئی کسی قسم کی رطوبت نہیں لگی، اس اعتبار سے یہ حیض ختم ہونے کی ایک علامت کا بیان ہے۔اورچونکہ سفید رنگ کی رطوبت دیکھنا بھی کچھ نہ دیکھنے کے حکم میں ہی ہوتا ہے ، جیسا کہ اوپر والی احادیث سے ثابت ہوتا ہے، لہذا وہ بھی اسی حکم میں شامل ہے اوران روایات میں کوئی تضاد یا مخالفت نہیں ہے۔
نمازیں شروع کرنے کے بعد دوبارہ داغ لگنے کے متعلق حدیث:
بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ حیض کا خون رکنے پر عورت غسل کر کے نمازیں شروع کر دیتی ہے ، لیکن کبھی دوبارہ خون یا پیلے رنگ کی رطوبت آجاتی ہے یا داغ لگ جاتا تو ایسی صورت میں اگر( یہ رطوبت جاری رہے )اور دس دن مکمل نہ ہوئے ہوں تو دوبارہ نمازوں سے رک جانے کا حکم ہوتا ہے۔ اس کے متعلق حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت آئی ہے ۔ چنانچہ حضرت فاطمہ بنت منذر بیان کرتی ہیں کہ ہم حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہما کی پرورش و تربیت میں ہوتی تھیں کہ ہم میں سے کوئی جب پاک ہو جاتی تو وہ نماز پڑھنا شروع کر دیتی ۔ پھر کبھی پیلے رنگ کی رطوبت دوبارہ آجاتی تو پھر جب حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے اس بارے میں پوچھا جاتا ، تو آپ فرماتیں : ” اعتزلن الصلاة ما رأيتن ذلك، حتى لا ترين إلا البياض خالصا “ترجمہ: تم جب تک یہ (زرد رطوبت)دیکھو اس وقت تک نماز سے جدا رہو یہاں تک کہ تم نہ دیکھو مگر خالص سفیدی۔ (خالص سفیدی دیکھنے کا مفہوم پہلے والی احادیث کے تحت بیان ہو چکا ہے۔) (1) (مصنف ابن ابی شيبہ، 1/ 90، مطبوعہ ریاض)
حاملہ خاتون کوخون آئے تو اس کے متعلق روایات :
بعض اوقات عورت کو حمل کی حالت میں خون آجاتا ہے تو ایسی صورت میں حکم یہ ہوتا ہے کہ حمل کی حالت میں جو خون آئے وہ حیض میں شمار نہیں کیا جاتا بلکہ اسے استحاضہ (بیماری کا خون ) شمار کیا جائے گا۔ اس کے متعلق کئی روایات مروی ہوئی ہیں چنانچہ حاملہ عورت کو جب خون آئے تو اس عورت کے بارے میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:” لا يمنعها ذلك من الصلاة “ترجمہ: حاملہ عورت کو خون آنا اسے نماز سے نہیں روکتا۔ (مصنف ابن ابی شيبہ، 2/ 26،مطبوعہ ریاض)
(سنن الدارمی، 1/ 660، دار المغنی ، المملكۃ العربيۃ السعوديۃ)
یونہی ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ” إن الحبلى لا تحيض فإذا رأت الدم، فلتغتسل، ولتصلي “ترجمہ: حاملہ عورت کو حیض نہیں آتا ۔ پس اگر وہ خون دیکھے تو غسل کرے اور نماز پڑھے۔ (2)
(سنن الدارمی، 1/ 663، دار المغنی ، المملكۃ العربيۃ السعوديۃ)
اس کے علاوہ حضرت ابن عباس اور حضرت علی رضی اللہ عنهم سے مروی ہے :” ان الله تعالى رفع الحيض عن الحبلى وجعل الدم رزقا للولد “ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے حاملہ عورت سے حیض کو اٹھا لیا اور خون کو بچے کا رزق بنا دیا۔
(عمدة القاری،3/ 292، دار إحياء التراث العربی، بيروت)
استحاضہ کے متعلق احادیث و روایات اور ان کی تشریح:
روٹین کے مطابق عموماً ہر عورت کو مہینے کے کچھ دن خون آتا ہے اور بقیہ دن خون نہیں آتا۔ اور عموما خون آنے کا دورانیہ تین دن سے دس دن کے درمیان ہوتا ہے۔لیکن کبھی کبھار خون دس دن مکمل ہونے پر بھی نہیں رکتا یا دس دن سے پہلے رک تو جاتا ہے لیکن پھر پندرہ دن کا وقفہ ملنے سے پہلے ہی دوبارہ شروع ہو جاتا ہے یا وقفے وقفے سے سارا مہینا ہی داغ لگتا رہتا ہے ۔ایسی صورت میں یہ سارے دن حیض کے نہیں ہوتے بلکہ کچھ حیض کے ہوتے ہیں اور بقیہ اضافی دن استحاضہ کہلاتے ہیں ، جن میں نماز و روزہ وغیرہ منع نہیں ہوتا ۔ روٹین سے ہٹ کر اس طرح خون آنے کے طبی طورپر مختلف اسباب ہو سکتے ہیں ، یہ کسی بیماری کی وجہ سے بھی ہوسکتا ہے یا اورکوئی وجہ بھی ہو سکتی ہے۔ حدیث پاک میں اس کے مختلف اسباب کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے ۔ چنانچہ سنن دار قطنی، سنن کبری للبیہقی اور المستدرک للحاکم میں ہے کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے استحاضہ کے خون کے متعلق ارشاد فرمایا: ” انما هو داء عرض او ركضة من الشيطان او عرق انقطع “ترجمہ: یہ ایک بیماری ہے جو عارض ہوگئی ، یا شیطان کی چوکھ / ضرب ہے (جس کے اثر سے یہ خون نکلنا شروع ہوگیا ہے)یا یہ کوئی رگ ہے جوکھل گئی ہے ۔ ( سنن دارقطنی، 1/ 403، مؤسسۃ الرسالۃ، بيروت)
اس حدیث پاک میں تین چیزیں بیان فرمائی گئی ہیں کہ استحاضہ کا خون یا تو کسی بیماری کی وجہ سے آتا ہے یا یہ شیطان کی چوکھ / ضرب کا اثر ہوتا ہے یا رحم کے قریب کی کوئی رگ کھل جانے کی وجہ سے جاری ہوجاتا ہے ، لہذا اس خون کے احکام حیض و نفاس جیسے نہیں ہوں گے۔ حدیث پاک میں جو دوسری چیز فرمائی گئی کہ استحاضہ ” شیطان کی چوکھ / ضرب “ کا اثر ہے تو اس کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت علامہ مولانا مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں :” یعنی یہ خون کی زیادتی شیطان کے اثرات سے ہے کہ اس نے تیرے رحم کی رگ میں انگلی ماری جس سے یہ بیماری پیداہوگئی۔معلوم ہوا کہ جیسے انسان کی مار سے بیماریاں پیداہوجاتی ہیں،سرپھٹ جاتے ہیں،ایسے ہی شیطان کے اثر سے بعض بیماریاں پیداہوجاتی ہیں،قرآن کریم فرماتا ہے: ﴿ یَتَخَبَّطُهُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّؕ- ﴾ ترجمہ کنز العرفان: جسے آسیب نے چھو کرپاگل بنادیا ہو۔(البقره،آيت:275) معلوم ہوا کہ شیطان انسان کو چھوکردیوانہ کردیتاہے،فرماتا ہے: ﴿ وَ مَاۤ اَنْسٰىنِیْهُ اِلَّا الشَّیْطٰنُ ﴾ ترجمہ کنز العرفان: اور مجھے شیطان ہی نے اس کا ذکر کرنا بھلادیا۔(الکھف،آيت:63) معلوم ہوا کہ شیطان کے اثر سے نسیان و بھول کا مرض پیدا ہوجاتا ہےیا مطلب یہ ہے کہ یہ وہم کہ مجھ پرنمازفرض نہ رہی،یااستحاضہ نمازسے روکتاہے یہ شیطان کی طرف سے ہےیاحیض ونفاس کا خلط ہوجانا اس میں فرق نہ کرسکناشیطان کی طرف سے ہے۔“
(مراۃ المناجیح، جلد1، صفحہ357، مطبوعہ نعیمی کتب خانہ)
استحاضہ کے متعلق مختلف احادیث میں مختلف احکام بیان ہونے کی وجوہات:
اس سے آگے جو چند احادیث استحاضہ کے متعلق آ رہی ہیں ان کو پڑھنے سے پہلے بطور تمہید یہ بات جان لیں کہ استحاضہ والی خواتین کے متعلق احادیث مختلف طرح سے آئی ہیں ۔ بعض خواتین کو حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے یہ حکم دیا کہ وہ حیض کے دنوں کے بعد ایک غسل کر لیا کریں اور پھر ہر نماز کےو قت وضو کر لیا کریں ، بعض کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ ہر نماز کے وقت غسل کر کے نماز پڑھ لیا کریں اور بعض کو حکم دیا کہ وہ دن میں تین بار غسل کیا کریں یعنی ظہر و عصر ایک غسل سے اور مغرب و عشاء دوسرے غسل سے اور فجر تیسرے غسل سے پڑھا کریں۔ یہ احکام بظاہر ایک دوسرےسے مختلف ہیں ، لیکن حقیقتاً یہ مختلف قسم کے حکم استحاضہ والی خواتین کی کیفیات و حالات مختلف ہونے کی وجہ سے دیے گئے تھے۔ لہذا ہم آگے جو احادیث بیان کریں گے ، تو ساتھ اس کی وضاحت کریں گے کہ حدیث میں بیان کردہ حکم کس صورت سے متعلق تھا ؟ تاکہ ہر حدیث اور ہر حکم کا محمل(موقع ومحل) واضح ہو جائے اور احادیث میں ظاہری طور پر دکھائی دینے والے اختلاف کی وجہ سامنے آجائے ۔
وہ مستحاضہ جس کو حیض کی عادت معلوم ہو ، اس کے متعلق روایات :
شرعی طور پر ہر عورت کو اپنے حیض کی عادت یاد رکھنی چاہیے کیونکہ روٹین سے ہٹ کر استحاضہ کا خون آنا شروع ہوجائے تو ایسی صورت میں پچھلی عادت کو دیکھ کر حکم بیان کیا جاتا ہے۔ اور عادت معلوم ہونے یا نہ معلوم ہونے کے اعتبار سے حکم میں فرق پڑجاتا ہے۔
چنانچہ اگر استحاضہ والی خاتون کو اپنی عادت کے دن معلوم ہوں تو ایسی خاتون کے متعلق حدیث پاک میں یہ حکم بیان فرمایا گیا کہ وہ اپنی حیض کی عادت کے دنوں کو نوٹ کر لے او رپھر ان دنوں میں نمازیں نہ پڑھا کرے اور جب عادت کے دن پورے ہو جائیں تو غسل کر کے نمازیں شروع کر دے۔ اس کے بعد ہر نماز کے وقت غسل کی حاجت نہیں بلکہ وضو کر کے نماز پڑھتی رہے اگرچہ خون جاری بھی ہو ۔ چنانچہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضور علیہ الصلاۃ و السلام کے زمانے میں ایک خاتون کو خون بہت زیادہ آتا تھا توحضرت ام سلمہ نے ان کے بارے میں رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے مسئلہ پوچھا تو آپ علیہ الصلوٰۃ و السلام نے ارشاد فرمایا:” لتنظر عدة الليالي والايام التي كانت تحيضهن من الشهر قبل ان يصيبها الذي اصابها، فلتترك الصلاة قدر ذلك من الشهر، فاذا خلفت ذلك فلتغتسل، ثم لتستثفر بثوب، ثم لتصل فيه “ترجمہ:اس خاتون کو یہ بیماری لگنے سے پہلے مہینے کی جن راتوں اور دنوں میں حیض آیا کرتا تھا ، وہ ان راتوں اور دنوں کی تعداد نوٹ کرے ، پھر مہینے میں اتنے دن نماز چھوڑ دے پھرجب یہ دن گزرجائیں تو غسل کرے اور کپڑے کا لنگوٹ باندھے پھراس میں نمازپڑھتی رہے۔ (سنن ابی داؤد، 1/ 71، مکتبۃ عصریہ ، بیروت)
اسی طرح کا معاملہ حضرت فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا کا بھی تھا اور ان کو بھی حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے یہی حکم ارشاد فرمایا ۔ چنانچہ سنن ابن ماجہ، شرح مشکل الآثار ، مسند احمد اور مصنف ابن ابی شیبہ وغیرہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت فاطمہ بنت ابی حبیش نے نبی اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ مجھے استحاضہ کا خون آتا ہے اور میں پاک نہیں ہو پاتی ، تو کیا میں نمازیں چھوڑدوں؟ تو حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام نے ارشاد فرمایا( النظم لابن ماجۃ ): ” لا، إنما ذلك عرق وليس بالحيضة، اجتنبي الصلاة أيام محيضك، ثم اغتسلي، وتوضئي لكل صلاة، وإن قطر الدم على الحصير “ترجمہ: نہیں (نمازیں نہ چھوڑو)، یہ تو رگ(کا خون) ہے ، یہ حیض نہیں ہے ۔ تم اپنے حیض کے دنوں میں نماز نہ پڑھو، پھر غسل کرو او رہر نماز کے لئے وضو کر (کے نماز پڑھ)لیا کرو اگرچہ خون کے قطرے چٹائی پر گرتے ہوں۔ (سنن ابن ماجہ، 1/ 204، دار احياء الكتب العربيۃ)
ان احادیث میں جو حکم بیان فرمایا گیا یہ استحاضہ والی ان خواتین کے متعلق ہے جن کو اپنے حیض کی عادت کے دن معلوم ہوں ۔ جیسا کہ امام طحاوی علیہ الرحمۃ اس طرح کی اور کئی احادیث نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:” ففيما ذكرنا عن عائشة رضي الله عنها في امر فاطمة ابنة ابي حبيش ان رسول الله صلى الله عليه وسلم إنما أمرها بترك الصلاة في ايام الحيضة نفسها وذلك دليل على انها قد كانت تعرف ايامها بغير امر منه اياها ان تعتبرها بلون دمها “ترجمہ: ہم نے حضرت فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا کے معاملے میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے جو احادیث روایت کی ہیں ، اس میں یہ بات ہے کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا کو خاص حیض کے دنوں میں نمازیں چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ان کو اپنےحیض کے دن یاد تھے ، نیز حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے ان کو خون کے رنگ کا اعتبار کرنے کا حکم نہیں دیا۔( یعنی یہ نہیں فرمایا کہ خون کا رنگ دیکھ کر حیض ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کر لیں۔)
(شرح مشكل الآثار،7/ 159، مؤسسۃ الرسالۃ)
ان احادیث اور ان کی شرح سے جہاں استحاضہ والی خاتون کا حکم معلوم ہوا ، وہیں یہ بھی معلوم ہوا کہ عورت کو جب خون مسلسل جاری رہے اور رُکتا نہ ہو تو اب وہ خون کا رنگ یاکیفیت دیکھ کر اس کے حیض ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ نہیں کرے گی بلکہ خون جاری ہونے سے پہلے حیض کی عادت کے جو دن تھے ان کا ہی اعتبار کرے گی اوراس اعتبار سے ہی حیض اور استحاضہ کے دن متعین کرے گی ۔
اوپر پہلی حدیث میں استحاضہ والی عورت کو لنگوٹ باندھنے کا جو حکم دیا گیا تو اس کی وضاحت کرتے ہوئے حکیم الامت حضرت علامہ مولانامفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : ” مستحاضہ کولنگوٹ باندھنے کا حکم استحبابی اوراحتیاطی ہے تاکہ خون سے مصلے اورکپڑے گندے نہ ہوں وجوبی نہیں،اگربغیرلنگوٹ کسی اورذریعہ سے یہ مقصدحاصل ہوجائے تو وہ کرے اوراگرکسی طرح خون رکتا نہ ہوتونمازپڑھتی رہے اگرچہ خون مصلے پرٹپکتارہےجیساکہ دوسری روایات میں ہے۔ “ (مراۃ المناجیح، 1/355، نعیمی کتب خانہ)
وہ مستحاضہ جس کو حیض کی عادت معلوم نہ ہو ، اس کے متعلق روایات:
حضرت ام حبیبہ بنت جحش (زوجہ عبد الرحمن بن عوف) رضی اللہ عنہما کو استحاضہ کا عارضہ لاحق تھا اور ان کو حضور نبی اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی طرف سے یہ حکم دیا گیا کہ وہ ہر نماز کے وقت غسل کر کے نماز ادا کیا کریں ۔ چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کو سات سال استحاضہ رہا۔ انہوں نے رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے اس بارے میں پوچھا ” فامرها ان تغتسل، فقال: «هذا عرق » فكانت تغتسل لكل صلاة “ترجمہ: تو حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے انہیں حکم دیا کہ وہ غسل کریں ۔ اور فرمایا: یہ رگ (کا خون)ہے۔ اس کے بعد وہ ہر نماز کے لئے غسل کیا کرتی تھیں۔ (صحیح بخاری، کتاب الحیض، 1/ 73، دار طوق النجاۃ)
شرح معانی الآثار میں اس روایت کے الفاظ یہ ہیں :” لتنظر قدر قروئها التي تحيض لها فلتترك الصلاة ثم لتنظر ما بعد ذلك فلتغتسل عند كل صلاة وتصلي “ترجمہ: اس عورت کو چاہیے کہ جتنی مقدار میں اس کو حیض آتا تھا وہ نوٹ کر لے اور (اتنےدن) نماز چھوڑ دے پھر اس کے بعددیکھے اور اس میں ہر نماز کے وقت غسل کر کے نماز پڑھ لیا کرے۔ (شرح معانی الآثار،1/98، عالم الکتب)
ہر استحاضہ والی خاتون کو یہ حکم نہیں ہوتا ، کہ وہ ہر نماز کے وقت غسل کرے جیسا کہ پہلے گزرا کہ حضرت فاطمہ بنت ابی حبیش کو رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ہر نماز کے وقت غسل کا حکم نہیں دیا تھا لیکن اگر استحاضہ والی خاتون کو اپنی حیض کی عادت کسی طرح بھی معلوم نہ ہوسکے اور خون مسلسل جاری ہو تو پھر ہر نماز کے وقت غسل کا حکم ہوتا ہے، ایسی عورت کو متحیرہ کہتے ہیں۔اور جن احادیث میں استحاضہ والی خاتون کو ہر نماز کے وقت غسل کا حکم دیا گیا وہ اس صورت پر محمول ہیں۔
اس حدیث سے جو یہ معلوم ہوا کہ حضرت ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا ہر نماز کے وقت غسل کیا کرتی تھیں ، تو ان کی صورت کیا تھی اور ان کو ایسا حکم کیوں تھا؟ اس کے متعلق علماء و شارحین فرماتے ہیں کہ یا تو ان کی بھی یہی صورت تھی کہ ان کو عادت کے ایام معلوم نہ تھے ، اس وجہ سے آپ کو یہ حکم دیا گیا تھا یا پھر ان کو بیماری کے علاج کے طور پر حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ایسا کرنے کا حکم دیا تھا ، لہذا آپ بطور علاج ایسا کیا کرتی تھیں۔ یہ وضاحت امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ نے شرح معانی الآثار میں بیان فرمائی ہے۔ (شرح معانی الآثار،1/105، عالم الکتب)
فائدہ: یہاں سے معلوم ہوا کہ کبھی شرعی حکم ایسا بھی ہوتاہے کہ جس پر عمل کرنا بہت مشکل ہوتا ہے ، لیکن جو عمل جتنا مشکل ہوتاہے اس کا ثواب بھی اتنا ہی زیادہ ہوتا ہے اور یہ اللہ تعالی کی طرف سے آزمائش ہوتی ہے ۔ایسی صورت میں مشکل ہونے کی وجہ سے حکم سے رو گردانی نہیں کرنی چاہیے ، بلکہ اس پر عمل کرنا چاہیےاور اس کو آزمائش سمجھنا چاہیے۔ ایسے موقع پر اپنے سامنے ان اسلاف کا عمل رکھنا چاہیے جو ایسی آزمائش کے وقت بھی شریعت کے حکم پر عمل کرتے رہے ۔ جیسا کہ صحابیہ حضرت ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا کا ہر نماز کے وقت غسل کرنے والا عمل ہمارے لئے اعلیٰ مثال ہے ۔ اسی طرح ایک اور خاتون کو حضرت علی اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم نے ہر نماز کے وقت غسل کا حکم دیا۔ اس کے متعلق جب حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا گیا کہ کوفہ کی زمین ٹھنڈی ہے اور اس عورت کے لئے ہر نماز کے وقت غسل کرنا باعث مشقت ہوگا۔ تو فرمایا: ” لو شاء الله لابتلاها بما هو اشد منه “ترجمہ: اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو اسے ، اس سے بھی زیادہ سخت آزمائش میں مبتلا فرما دے۔ (شرح معانی الآثار،1/99، عالم الکتب)
وہ روایات جن میں مستحاضہ کو دن میں تین بار غسل کرنے کا حکم ہوا:
استحاضہ والی بعض خواتین کو حضور نبی اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے یہ حکم بیان فرمایا کہ وہ دن میں تین مرتبہ غسل کیا کریں یعنی یوں کہ ظہر کو لیٹ کر کے آخری وقت میں اور عصر کو اول وقت میں پڑھے اور ان دونوں کے لئے ایک غسل کر لے یونہی مغرب کو لیٹ اور عشاء کو اول وقت میں پڑھے اور ان دونوں کے لئے ایک غسل کر لے اور فجر کے لئے الگ غسل کر لیا کرے ۔ چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ” استحيضت امرأة على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فأمرت أن تعجل العصر وتؤخر الظهر وتغتسل لهما غسلا، وأن تؤخر المغرب وتعجل العشاء وتغتسل لهما غسلا، وتغتسل لصلاة الصبح غسلا “ترجمہ: ایک عورت رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے زمانے میں استحاضہ کی بیماری میں مبتلا ہوگئی تو اس کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ عصر کو جلدی (یعنی عصر کے اول وقت میں )اور ظہر کو لیٹ کر کے(یعنی وقت ظہر کے آخر میں ) پڑھے اور ان دونوں نمازوں کے لئے ایک غسل کر لیا کرے۔یونہی مغرب کو لیٹ اور عشاء کو جلدی پڑھے اور ان دونوں کے لئے ایک غسل کر لیا کرے اور نماز فجر کے لئے ایک الگ غسل کر لیا کرے۔
(سنن ابی داؤد، 1/ 79، مکتبۃ عصریہ ، بیروت)
اسی طرح کاحکم حضرت سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا کو بھی دیا گیا ۔ چنانچہ سنن ابی داؤد، شرح معانی الآثار وغیرہ میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا کو استحاضہ کا عارضہ ہوا تو وہ حضور کی بارگاہ میں حاضر ہوئیں تو نبی اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے انہیں ہر نماز غسل کر کے پڑھنے کا حکم دیا ، پھر جب انہیں اس طرح کرنا مشکل ہوا تو حضور نے انہیں حکم دیا : ” ان تجمع الظهر والعصر في غسل واحد والمغرب والعشاء في غسل واحد وتغتسل للصبح “ترجمہ: وہ ظہر اور عصر کو یوں جمع کر لے کہ ان دونوں کے لئے ایک غسل کرے اور مغرب اور عشاء کو یوں جمع کر لے کہ ان دونوں کے لئے ایک غسل کر لےاور فجر کی نماز کے لئے الگ سے ایک غسل کر لے۔
(شرح معانی الآثار،1/ 101، عالم الکتب)
ان احادیث میں استحاضہ والی خاتون کو دن میں تین بار غسل کرنے کا حکم دیا گیا ، اس کی تاویل اور وجہ ہمارے احناف کے نزدیک یہ ہے کہ یہ ایسی استحاضہ والی خاتون تھیں ، جن کو اپنے حیض کی عادت والے دن معلوم نہ تھے ، البتہ یہ معلوم تھا کہ ان کا حیض ان تین وقتوں میں سے کسی ایک وقت میں ختم ہوا کرتاتھا اس لئے اس عورت کو ہر نماز کے وقت غسل کے بجائے فقط ان تین اوقات میں غسل کا حکم دیا گیا چنانچہ امام سرخسی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں :” وتاويله عندنا انها تذكرت ان خروجها من الحيض كان يكون في آخر هذه الاوقات “ترجمہ: ہمارے نزدیک اس کی تاویل یہ ہے کہ اس خاتون کو یہ یاد تھا کہ اس کا حیض سے باہر آنے کا وقت ان تین اوقات کے آخر میں ہوا کرتا تھا۔
(المبسوط للسرخسی،3/ 194، دار الفکر)
اسی طرح کی تاویل امام طحاوی علیہ الرحمۃ نے شرح معانی الآثار کے اس مقام پر لکھی ہے۔
(شرح معانی الآثار،1/ 105، عالم الکتب)
مستحاضہ سے ازدواجی تعلقات قائم کرنے کے متعلق احادیث:
حیض و نفاس کی حالت میں تو بیوی سے ازدواجی تعلقات قائم کرنا حرام ہوتا ہے ، لیکن جس کواستحاضہ کا خون آ رہاہو اس سے ازدواجی تعلقات قائم کرنا منع نہیں ہوتا ۔ جیسا کہ حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے استحاضہ والی خاتون کے بارے میں ارشاد فرمایا: ” فان هو غلبها في الصلاة فلا تقطع الصلاة وان قطر وياتيها زوجها وتصوم “ترجمہ: اگر نماز میں خون اس پر غالب ہو (یعنی بہت زیادہ آئے) تو وہ نماز نہ توڑے اگرچہ خون کے قطرے ٹپکیں اور اس کا شوہر اس سے قربت اختیار کر سکتا ہے اور یہ عورت روزہ بھی رکھے گی۔
( سنن دارقطنی، 1/ 406، مؤسسۃ الرسالۃ، بيروت)
حضرت ام حبیبہ اور حضرت حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہما کے بارے میں روایات ہیں کہ ان کو استحاضہ کا عارضہ تھا اور اس حالت میں ان کے شوہر ان سے ازدواجی تعلقات قائم کیا کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد، 1/ 83، مکتبۃ عصریہ ، بیروت)
حیض کی حالت میں لازم ہونے والے احکام سے متعلق روایات
حیض کی حالت میں خاتون کو بعض ایسے کاموں سے ممانعت ہوجاتی ہے جو وہ عام دنوں میں کر سکتی ہے۔ایسے امور سے متعلق احادیث و روایات درج ذیل ہیں۔
حیض میں قرآن پڑھنے کے متعلق احادیث:
حیض و نفاس کی حالت میں عورت کے لئے قرآن پاک پڑھنا جائز نہیں ہے ،نہ دیکھ کے اور نہ زبانی۔ احادیث میں اس کی ممانعت فرمائی گئی ہے ۔ چنانچہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ” لا تقرأ الحائض، ولا الجنب شيئا من القرآن “ترجمہ: حیض والی عورت اور جنبی قرآن میں سے کچھ بھی نہ پڑھے۔ (3) (سنن الترمذی،1/ 236، مصطفى البابی الحلبی،مصر)
اسی طرح حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ” لا يقرء الحائض ولا الجنب ولا النفساء القرآن “ترجمہ: حیض والی ، جنبی اور نفاس والی عورتیں قرآن نہ پڑھیں۔
( سنن دارقطنی، 1/ 218، مؤسسۃ الرسالۃ، بيروت)
صحابی رسول حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے بھی اس کی ممانعت مروی ہے ۔ چنانچہ مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” لا تقرء الحائض القرآن “ترجمہ: حیض والی عورت قرآن نہ پڑھے۔
(مصنف ابن ابی شيبہ، 1/ 98، مطبوعہ ریاض)
حیض میں قرآن چھونے کے متعلق احادیث:
حیض و نفاس یا اس کے علاوہ ناپاکی کی حالت میں قرآن پاک کو چھونے کی شریعت میں اجازت نہیں ہے ۔ اللہ پاک قرآن کریم میں فرماتا ہے: ﴿ لَّا یَمَسُّهٗۤ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَؕ(۷۹) ﴾ ترجمہ کنز الایمان: اسے نہ چھوئیں مگر باوضو۔ (سورۂ واقعہ، آیت: 79)
اس کے متعلق کئی احادیث بھی مروی ہوئی ہیں ۔ چنانچہ سنن دار قطنی ، المعجم الکبیر میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ” لا يمس القرآن إلا طاهر “ترجمہ: قرآن کو نہ چھوئے مگر وہی جو پاک ہو۔ ( سنن دارقطنی، 1/ 219، مؤسسۃ الرسالۃ، بيروت)(المعجم الكبير ،12/ 313، مطبوعہ القاهرة)
یونہی سنن کبری للبیہقی، سنن دارمی، صحیح ابن حبان ، المستدرک للحاکم وغیرہ میں کہ حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اہلِ یمن کو جو احکام لکھ کر بھیجے اس میں یہ بھی تھا :” ولا يمس القرآن إلا طاهر “ترجمہ: اورقرآن کو نہ چھوئے مگر وہی جو پاک ہو۔
امام بیہقی علیہ الرحمۃ مزید لکھتے ہیں :” ويذكر عن ابن عمر أنه كره للحائض مس المصحف “ترجمہ: اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے یہ ذکر کیا جاتا ہے کہ آپ حائضہ کے لئے قرآن چھونا مکروہ قرار دیتے تھے۔
(السنن الكبرى للبيهقی، 1/ 461، دار الكتب العلميہ، بيروت)
حالت حیض میں مسجد کے اندر داخل ہونے کے متعلق احادیث:
حیض و نفاس والی عورت کے لئے یہ بھی حکم ہوتا ہے کہ وہ اس حالت میں مسجد کے اندر داخل نہ ہو۔ ایسی حالت میں مسجد کے اندر جانا گناہ ہے۔ اس سلسلے میں مروی ہونے والی بعض احادیث درج ذیل ہیں:
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم مسجد کے صحن میں داخل ہوئے اور بلند آواز سے ارشاد فرمایا: ” ان المسجد لا يحل لجنب، ولا لحائض “ترجمہ: بے شک مسجد جنبی اور حیض والی کے لئے حلال نہیں ہے۔ (سنن ابن ماجہ، 1/ 212، دار احياء الكتب العربيۃ)
سنن ابی داؤد ، صحیح ابن خزیمہ اور سنن کبری للبیھقی وغیرہ میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ” اني لا أحل المسجد لحائض ولا جنب “ترجمہ: بے شک میں مسجد کو حیض والی عورت اور جنبی کے لئے حلال نہیں کرتا ۔ (سنن ابی داؤد، 1/ 60، مکتبہ عصریہ ، بیروت)
اس حدیث پاک سے ایک تو حیض والی عورت اور جنبی شخص کے لئے مسجد میں داخل ہونےکا حکم معلوم ہوا اور دوسری بات اس حدیث کے الفاظ سے یہ بھی معلوم ہوئی کہ حضور نبی اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو اللہ تعالیٰ نے کسی چیز کو حلال یا حرام کردینے کا اختیار دیا ہے ، جبھی تو آپ نے یہ فرمایا :” إني لا أحل المسجد “ بے شک میں مسجد کو حلال نہیں کرتا الخ۔ اور یقینا یہ بات وہی کہہ سکتا ہے جسے کسی چیز کے حلال کرنےیا نہ کرنے کا اختیار ملا ہو۔
حالت حیض میں طواف کے متعلق حدیث:
حیض و نفاس والی عورت کو اس حالت میں خانہ کعبہ کا طواف کرنا بھی شرعا ممنوع و حرام ہے اور احادیث میں اس سے منع فرمایا گیا ہے چنانچہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ” ان النفساء والحائض تغتسل، وتحرم، وتقضي المناسك كلها، غير ان لا تطوف بالبيت حتى تطهر “ترجمہ: نفاس والی عورتیں اور حیض والی، غسل کر کے احرام باندھیں اور حج کے تمام مناسک ادا کریں مگر یہ کہ پاک ہونے تک وہ خانہ کعبہ کا طواف نہ کریں ۔ (سنن الترمذی،3/ 273، مصطفى البابی الحلبی،مصر)
حیض کی حالت میں صحبت سے ممانعت کے متعلق احادیث:
حیض و نفاس کی حالت میں میاں بیوی کا باہم ازدواجی تعلقات قائم کرنا (ہمبستری کرنا) بھی حرام ہے ۔ قرآن پاک میں بھی اس کی ممانعت بیان ہوئی ہے جیسا کہ اس باب کے شروع میں آیت مبارکہ اور اس کی تفسیر بیان ہوئی ۔ اس کے علاوہ احادیث میں بھی اس کی ممانعت فرمائی گئی ہے چنانچہ صحیح مسلم میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں :یہودیوں میں جب عورت حائضہ ہوتی تو نہ اس کے ساتھ کھاتے اور نہ انہیں گھروں میں ساتھ رکھتے حضورانور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے صحابہ نے یہ مسئلہ حضورسے پوچھاتو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری ﴿ وَ یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ الْمَحِیْضِؕ ﴾الخ حضورانور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:” اصنعوا كل شيء الا النكاح “ترجمہ: تم صحبت کے سوا سب کچھ کرسکتے ہو۔
(صحيح مسلم، 1/ 246، دار إحياء التراث العربی، بیروت)
اسی حدیث کے ترمذی شریف میں جو الفاظ ہیں وہ اس طرح ہیں :” فأمرهم رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يؤاكلوهن ويشاربوهن وأن يكونوا معهن في البيوت، وأن يفعلوا كل شيء ما خلا النكاح “ترجمہ: تو رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے صحابہ کو حکم دیا کہ وہ(حیض کی حالت میں ) عورتوں کے ساتھ کھائیں پئیں، گھروں میں ان کے ساتھ رہیں ، اور یہ کہ وہ صحبت کے علاوہ سب کچھ کر سکتے ہیں۔ (سنن الترمذی،5/ 214، مصطفى البابی الحلبی،مصر)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حیض کی حالت میں بیوی کے ساتھ مل بیٹھ کر کھانا پینا،اٹھنا بیٹھنا وغیرہ کاموں میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ہاں اس حالت میں ہمبستری کرنا حرام اور سخت حرام ہے اور اس کے بارے میں حدیث میں سخت وعید بھی بیان ہوئی ہے چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:” من اتى كاهنا فصدقه بما يقول او اتى امرأته حائضا او اتى امرأته في دبرها فقد برئ مما انزل على محمد “ترجمہ:جو کسی کاہن کے پاس جائے اور اس کی بات کی تصدیق کرے یا کوئی اپنی بیوی سے حیض کی حالت میں یا پچھلے مقام میں صحبت کرے تو وہ اس سے بری ہوگیا جو محمد ( صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ) پر نازل ہوا۔ (سنن ابی داؤد، 4/15، مکتبہ عصریہ ، بیروت)
بعض روایتوں کے مطابق اس حدیث کے الفاظ میں”بری “ ہونے کی جگہ ” کفر “ کا لفظ بھی آیا ہےاور اس کی شرح میں مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ لکھتے ہیں :” یعنی یہ تینوں شخص قرآن وحدیث کے منکرہوکر کافرہوگئے۔خیال رہے کہ یہاں سے شرعی کفر ہی مراد ہے اسلام کا مقابل۔اوران سے وہ لو گ مراد ہیں جو عورت سے دبر میں،یابحالت حیض صحبت کوجائزسمجھ کر صحبت کریں،اورکاہن نجومی کوعالم الغیب جان کراس سے فال کھلوائیں،یاغیبی خبریں پوچھیں۔اوراگر گناہ سمجھ کر یہ کام کریں تو فسق ہے،کفر نہیں۔یایہاں کفر سے مرادلغوی معنی ہیں ناشکری۔“
(مراۃ المناجیح، جلد1، صفحہ351، مطبوعہ نعیمی کتب خانہ)
حیض کی حالت میں ناف کے نیچے گھٹنے تک کے حصے سے لذت حاصل کرنے کے متعلق روایات:
حیض و نفاس کی حالت میں جس طرح بیوی سے صحبت کرنا حرام ہے اسی طرح ناف سے لے کر گھٹنے تک کے حصے سے لذت حاصل کرنا بھی جائز نہیں ہے۔نہ اس حصے کو چھونا جائز ہے اور نہ شہوت کے ساتھ دیکھنا ۔ہاں ناف سے اوپر والے حصے کو چھونا وغیرہ جائز ہے، البتہ اگر کوئی اس سے بھی بچے تو یہ زیادہ بہتر ہے جیسا کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے پوچھا : مجھے میری بیوی سے بحالت حیض کیا کام حلال ہے؟ فرمایا : ”لك ما فوق الإزار “ترجمہ: تیرے لئے حلال ہے وہ جو تہبند سے اوپر ہو۔اور ایک روایت میں اس کے ساتھ یہ بھی ہے : ” والتعفف عن ذلك أفضل “ترجمہ: اوراس بات سے بھی باز رہنا یہ زیادہ بہتر ہے۔ (سنن ابی داؤد، 1/ 55، مکتبہ عصریہ ، بیروت)
اس طرح کی حدیث حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہوئی ہے چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس کچھ لوگ آئے اور پوچھا: ایک مرد اپنی عورت کے ساتھ حیض کی حالت میں کیا کام کر سکتا ہے؟فرمایا: ” سألتموني عن شيء ما سألني عنه أحد منذ سألت عنه رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: «له منها ما فوق الإزار ،من التقبيل والضم، ولا يطلع على ما تحته » “ترجمہ: تم نے مجھ سے ایک ایسی بات پوچھی ہے کہ جب سے یہ بات میں نے رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے پوچھی ہے اس کے بعد (تمہارے علاوہ ) کسی اور نے نہیں پوچھی۔ پھر فرمایا: ”تہبندسے اوپرجو ہے وہ اس کے لئے حلال ہے یعنی بوسہ دینا ، ساتھ لگانا ، جبکہ وہ اس سے نیچے والے حصے پر مطلع نہ ہو(یعنی وہ اس کو ظاہر نہ کرےاور اس سے نفع نہ اٹھائے)“ (شرح معانی الآثار،3/ 37، عالم الکتب)
اورسنن کبری للبیہقی میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ والی حدیث کے الفاظ کچھ یوں ہیں :” واما الحائض فما فوق الإزار وليس له ما تحته “ترجمہ: بہر حال جہاں تک حیض والی عورت کا معاملہ ہے تو جو تہبند سے اوپر ہے وہ مرد کے لئے حلال ہے اور جو اس کے نیچے ہے وہ مرد کے لئے حلال نہیں ۔ (السنن الكبرى للبيهقی، 1/ 467،دار الكتب العلميۃ، بيروت)
ان احادیث میں جو یہ فرمایا گیا کہ ” تہبند سے اوپر جو ہے وہ حلال ہے۔“ تو اس سے ناف کے مقام سے اوپر والا حصہ مراد ہے او رجو یہ فرمایا گیا کہ ”اس سے نیچے والا حصہ حلال نہیں ۔“ تو اس سے مراد ناف سے نیچے گھٹنے تک کا حصہ ہے ( جس میں گھٹنا بھی شامل ہے )جیسا کہ امام ابن ہمام رحمۃُ اللہ علیہ یہ لکھتے ہیں : ” اما الاستمتاع بها بغير الجماع فمذهب أبي حنيفة وأبي يوسف والشافعي ومالك يحرم عليه ما بين السرة والركبة وهو المراد بما تحت الازار ، “ترجمہ: حائضہ عورت سے ہمبستری کے علاوہ نفع اٹھانے کے متعلق امام اعظم ابو حنیفہ ، امام ابو یوسف ، امام شافعی او رامام مالک رضی اللہ عنہم کا مذہب یہ ہے کہ ناف سے لے کر گھٹنے کے درمیان جو حصہ ہے یہ مرد پر حرام ہے۔ اور حدیث میں یہ جو لفظ آیا کہ ” جو تہبند سے نیچے ہو“ اس سے مراد بھی یہی حصہ ہے۔(فتح القدير،1/ 166، دار الفکر، بیروت)
حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ یہ اوپر مذکور ابو داؤد شریف والی حديث كی شرح میں لکھتے ہیں :” حائضہ عورت جب کہ پائجامہ یاتہبندمضبوطی سے باندھے ہوتواس کے ساتھ لپٹنا اور اس سے بوس و کنار درست ہے لیکن بچنا بہتر،خصوصًا اس جوان کوجوایسی حالت میں اپنے نفس پر قابو نہ رکھتا ہو۔ خیال رہے کہ حضورانور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا یہ عمل شریف خودکرنا بیان جواز کے لیے ہے،حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کبھی غیرمستحب بلکہ مکروہ کاموں پرعمل فرما کرجوازثابت کرتے تھے، یہ تبلیغ کی قسم تھی ،حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو اس پربھی ثواب ملتا تھا۔ “
(مراۃ المناجیح، 1/352، مطبوعہ نعیمی کتب خانہ)
حیض کی وجہ سے چھوٹنے والی نماز اور روزوں کی قضا کے متعلق احادیث :
حیض و نفاس کی حالت میں عورت کی جو نمازیں چھوٹ جائیں شرعی طور پر ان کی قضا کرنا لازم نہیں، البتہ رمضان کے روزے اگر اس وجہ سے چھوٹ جائیں تو ان روزوں کی قضا کرنے کا حکم ہے چنانچہ حضرت معاذہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا:حیض والی عورت کے بارے میں ایسا کیوں ہے کہ وہ روزے تو قضا کرتی ہے لیکن نماز قضا نہیں کرتی ؟تو فرمایا: ” كان يصيبنا ذلك، فنؤمر بقضاء الصوم، ولا نؤمر بقضاء الصلاة “ ترجمہ: ہمیں یہ عارضہ (حیض)لاحق ہوا کرتا تھا تو ہمیں روزے قضا کرنے کا حکم دیا جاتا تھا اور نمازیں قضا کرنے کا حکم نہیں دیا جاتا تھا۔ (صحيح مسلم، 1/ 265، دار احياء التراث العربی، بیروت)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے فرمان اور جواب کی وضاحت کرتےہوئے اس حدیث پاک کی شرح میں حضرت مفتی احمد یا ر خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ لکھتے ہیں :”سبحان اللہ ! کیسا ایمان افروز جواب ہے کہ مجھے عقلی حکمتوں سے غرض نہیں ہم تو حکم کے تابع ہیں، چونکہ حضور انور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے روزے کی قضا کا حکم دیا نماز کی قضا کا نہیں اس لیے یہ فرق ہوگیا،ہمیں عقلی حکمتوں سے کیا غرض؟ بیمار طبیب کے نسخے پینے کی کوشش کرتا ہے دواؤں کے اوزان سوچنے میں وقت ضائع نہیں کرتا۔فقہاء فرماتے ہیں کہ روزے کی قضا میں ندرت ہے کہ سال میں سات آٹھ روزے قضاء کرنے پڑتے ہیں اس لیے اس میں دشواری نہیں اور قضائے نماز میں کثرت ہے کہ ہر مہینہ سات آٹھ دن کی فی دن پانچ نمازیں قضاءکرنی پڑتیں یعنی چالیس بلکہ بعض کو پچاس نمازیں اس میں بہت دشواری ہوتی اس لیے نمازوں کی قضا نہیں روزوں کی ہے۔ “
(مراۃ المناجیح، 3/176، مطبوعہ نعیمی کتب خانہ)
حیض کی طرح نفاس کی حالت میں جو نمازیں چھوٹیں ان کی بھی قضا لازم نہیں جیسا کہ اس کے متعلق حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ :” لا يأمرها النبي صلى الله عليه وسلم بقضاء صلاة النفاس “ترجمہ: رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم عورت کو نفاس والی نماز قضا کرنے کا حکم نہیں دیا کرتے تھے۔ (سنن ابی داؤد، 1/ 83، مکتبہ عصریہ ، بیروت)
حیض کے بعد غسل کرنے سے پہلے کی حالت کے متعلق روایت:
حیض کا خون رکتے ہی کیا حیض کا حکم ختم ہو جاتا ہے یا غسل کرنے تک باقی رہتا ہے؟ اس کے متعلق کنز العمال میں ہے کہ حضرت عمر بن خطاب اور حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہما نے حیض والی عورت کے متعلق ارشاد فرمایا : ” اذا انقطع دمها هي حائض ما لم تغتسل “ترجمہ: جب اس کا خون رک جائے تو جب تک وہ غسل نہ کرلے وہ حیض کے حکم میں ہے ۔ (كنز العمال بحوالہ دارقطنی و مسند ابی حنیفۃ،9/ 623، مؤسسۃ الرسالۃ)
اس حکم کی تائید اس مرفوع حدیث پاک سے بھی ہوتی ہے جو آگے آئے گی جس میں حضور علیہ الصّلوٰۃُوالسّلام نے خون رکنے کے بعد اور غسل کرنے سے پہلے صحبت کرلینے پر کفارہ بیان فرمایا ہے، جواس بات کی دلیل ہے کہ اس حالت میں عورت حیض کے حکم میں ہی ہوتی ہے۔واضح رہے کہ یہ حکم اس وقت ہے جب عورت کا حیض دس دن رات مکمل ہونے سے پہلے ہی ختم ہوگیا ہو کہ ایسی صورت میں جب تک وہ غسل نہ کرلے یا جب تک اس پر ایک نماز کا وقت نہ گزر جائے وہ حیض کے حکم میں ہی ہوتی ہے۔(اس مسئلے کی مزید تفصیل بھی ہے جو آگے کتاب کے متعلقہ مقام پر دیکھی جا سکتی ہے۔)
حیض کی حالت میں سجدہ تلاوت واجب نہ ہونے کے متعلق روایت:
حیض کی حالت میں عورت نے نماز تو ادا نہیں کرنی ہوتی لیکن اگر وہ سجدے والی آیت سنے تو کیا اس پر سجدہ واجب ہوگا یا نہیں ؟ اس کا حکم ہمیں روایت سے ملتا ہے چنانچہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا کہ حیض والی عورت اگر سجدہ تلاوت والی آیت سنے تو کیا حکم ہے؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا: ” لا تسجد لأنها صلاة “ترجمہ: یہ عورت سجدہ نہ کرے کیونکہ سجدہ تلاوت بھی نماز ہی ہے۔ (سنن الدارمی، 1/ 682، دار المغنی ، المملكۃ العربیۃ السعودیۃ)
یعنی جس طرح حیض والی عورت نے نماز ادا نہیں کرنی ہوتی اسی طرح وہ سجدہ تلاوت بھی نہیں کر ے گی۔واضح رہے کہ حیض کی حالت میں آیت سجدہ سننے سے سجدہ واجب ہی نہیں ہوتا ، لہذا نہ اب کرے گی اور نہ بعد میں کرنا واجب ہے۔
(1): اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر خون رکنے پر عورت نے غسل کر کے نمازیں شروع کر دیں اور پھر دوبارہ خون یا پیلے رنگ کا پانی آیا تو وہ دوبارہ نمازوں سے رک جائے گی۔ لیکن یہ اسی وقت ہے کہ جب حیض کو شروع ہوئے ابھی دس دن مکمل نہیں ہوئے تھے ورنہ اگر دس دن مکمل ہونے کے بعد دوبارہ خون آئے تو اب عورت نمازوں سے نہیں رکے گی ، کیونکہ اب اس خون کا استحاضہ ہونا واضح ہے۔اور حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالی عنہا سے جو یہ بات مروی ہے کہ:”كنا لا نعد الكدرة، والصفرة بعد الطهر شيئا “ترجمہ: ہم طہر کے بعد گدلی اور پیلی رطوبت کو کچھ نہیں جانتی تھیں۔( سنن ابی داؤد ، 1/ 83) تو اس بات کا مفہوم بھی یہی کہ دس دن مکمل ہونے کے بعد اگر پیلے یا گدلے رنگ کی رطوبت آتی تو ہم اسے حیض شمار نہ کیا کرتیں۔ اس روایت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ عادت کے دنوں میں یا دس دن کے اندر ہی اس طرح کی رطوبت آئے تو اسے کچھ نہ شمار کیا جائے ۔ جیسا کہ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا والی حدیث نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں :” وهذا اولى مما روي عن أم عطية، .... ولان عائشة أعلم بذلك من ام عطية،وقد يحتمل ان يكون مرادها بذلك: اذا زادت على اكثر الحيض “ترجمہ: یہ بات (جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کی حدیث سے ثابت ہے کہ سفید ی کے علاوہ دیگر رنگ کی رطوبت حیض میں شمار ہوگی، یہ ) بہتر ہے اس سے جو حضرت ام عطیہ سے مروی ہوئی کیونکہ حضرت عائشہ حضرت ام عطیہ سے زیادہ علم رکھتی ہیں۔ نیز یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت ام عطیہ کی مراد اس بات سے یہ ہو کہ جب یہ(گدلے اور پیلے رنگ کی ) رطوبت دس دن سے بڑھ جائے (تو پھر ہم اسے کچھ شمار نہ کرتی تھیں۔اس مفہوم کے اعتبار سے دونوں روایات میں تطبیق ہو جائے گی)(معرفۃ السنن والآثار، 2/ 154) نیز مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں :”حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنھا کی حدیث ہے : وہ فرماتی ہیں کہ ہم طہر کے بعد گدلی اور پیلی رطوبت کو کچھ نہیں جانتی تھیں۔ اس سے ظاہر ہے کہ طہر کے قبل یعنی عادت کے دنوں میں اسے وہ حیض جانتی تھیں“ (نزہۃ القاری، 1/810)
(2): واضح رہے کہ اس روایت میں جو غسل کا فرمایا یہ فرض یا واجب نہیں بلکہ مستحب ہے کیونکہ حاملہ کو آنے والا خون حیض نہیں ہوتا بلکہ استحاضہ ہوتا ہے لہذا اس سے غسل فرض نہیں ہو گا۔(ماخوذ از عمدة القاری، 3/ 292)
(3): یہ حدیث نقل کرنے کے بعد حضرت علامہ مولانا شریف الحق امجدی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :” اس کے راوی اسمعیل بن عیاش ضعیف ہیں۔اس حدیث کے ہم معنی حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے بھی دار قطنی نے اور ابن عدی نے کامل میں روایت کی ہے۔ اس کے بھی ایک راوی محمد بن فضل ضعیف ہیں ، مگر دو طریقوں سے مروی ہے اس لئے حسن ہوگئی۔“(نزہۃ القاری، 1/792، فرید بک سٹال)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع