دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Khawateen Ke Itikaf Ke Masail | خواتین کے اعتکاف کے مسائل

book_icon
خواتین کے اعتکاف کے مسائل
            
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّين أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

درودِپاک کی فضیلت

اللہ تعالی نے حضرت موسیٰ کلیم اللہ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام پر وحی نازل فرمائی: اے موسیٰ!کیا تم چاہتے ہو کہ میں تم سے اس سے زیادہ قریب ہو جاؤں جتنا تمہارا کلام تمہاری زبان سے،تمہارے دل کے خیالات تمہارے دل سے،تمہاری روح تمہارے بدن سے اور تمہاری بصارت کا نور تمہاری آنکھوں سے قریب ہے؟انہوں نے عرض کی:جی ہاں اے میرے رب عزوجل ! اللہ جل شانہ نے ارشاد فرمایا:تو پھر محمدِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود پڑھا کرو۔(1) صَلُّوْا عَلَى الْحَبِيبِ صَلَّى اللهُ عَلٰى مُحَمَّد

اعتکاف کی اہمیت ، ثواب اور مقاصد وغیرہ

اعتکاف ماہِ رمضان المبارک کی اہم ترین عبادت ہے،اس کے ذریعے انسان اللہ تعالیٰ کا انتہائی قرب حاصل کرسکتا ہے،اس مناسبت سے یہاں چند چیزیں بیان کی جا رہی ہیں،جس سے اس کی اہمیت خوب واضح ہو گی۔

اعتکاف قدیم عبادت

اعتکاف ایسی عبادت ہے،جوپچھلی امتوں میں بھی موجود تھی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہے:( وَ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ اَنْ طَهِّرَا بَیْتِیَ لِلطَّآىٕفِیْنَ وَ الْعٰكِفِیْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ ) ترجمہ:اور ہم نے ابراہیم و اسماعیل کو تاکید فرمائی کہ میرا گھر طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لئے خوب پاک صاف رکھو۔(2)

اعتکاف سنتِ نبوی

اعتکاف پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت بھی ہے،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پورے مہینے کا بھی اعتکاف فرمایا(3) اور رمضان المبارک کے آخری دس دن کا تو بہت زیادہ اہتمام تھا،یہاں تک کہ ایک دفعہ کسی خاص عذر کی وجہ سے رمضان المبارک کا اعتکاف نہ کر سکے،تو شوال کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرمایا۔(4)ایک مرتبہ سفر کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اعتکاف رہ گیا،تو اگلے سال رمضان شریف میں بیس دن کا اعتکاف فرمایا۔(5)

اعتکاف ثواب کا خزانہ اور ذریعہ نجات

اعتکاف بہت بڑے ثواب کا خزانہ ہے۔چنانچہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:جس نے رمضان میں دس دنوں کا اعتکاف کیا ، تو گویا اس نے دو حج اور دو عمرے کیے۔(6) مزید ایک حدیث میں ہے:اعتکاف کرنے والا گناہوں سے رُکا رہتا ہے اور اسے اتنی ہی نیکیاں عطا کی جاتی ہیں،جتنی نیک عمل کرنے والے کو ملتی ہیں۔(7) یعنی اعتکاف سے باہر بندہ جو نیکیاں کرتا تھا،جیسے مریض کی عیادت کے لئے جانا وغیرہ،تو اگرچہ اعتکاف کی وجہ سے انہیں انجام نہیں دے پائے گا،لیکن اس کے باوجود وہ نیکیاں اس کے نامہ اعمال میں لکھی جاتی رہیں گی ۔ یونہی اعتکاف ذریعہ نجات بھی ہے۔چنانچہ پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جو شخص اللہ رب العزت کی رضا کے لئے ایک دن اعتکاف کرتا ہے،تو اللہ تعالی اُس کے اور دوزخ کے درمیان تین خندقوں کا فاصلہ کردیتا ہے،ہر خندق مشرق سے مغرب کے درمیانی فاصلے سے زیادہ لمبی ہے۔(8)مزید ایک اور حدیث میں ہے: جس شخص نے ایمان کےساتھ ثواب حاصل کرنے کی نیَّت سے اعتِکاف کیا اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے۔(9)

اعتکاف کے فوائد و مقاصد

اعتکاف کا بہت بڑا مقصد اور فائدہ تو گناہوں سے دوری اور عبادت میں مشغولی ہے،جیسا کہ حدیثِ پاک میں بھی اس جانب اشارہ کیا گیا ہے۔(10)لہٰذا معتکف یہ ذہن میں رکھے کہ اعتکاف کا سب سے بنیادی مقصد اپنے آپ کو عبادت ِالٰہی ، نوافل ، تلاوت ، ذکر ، درود اور مجاہدہ و مراقبہ میں مشغول رکھنا اور یاد ِالٰہی سے غافل کرنے والے ہر عمل سے خود کو دور کرلینا ہے ، جسے قرآنی الفاظ میں یوں کہہ سکتے ہیں :( وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَ تَبَتَّلْ اِلَیْهِ تَبْتِیْلًا )ترجمہ :اور اپنے رب کا نام یاد کرو اور سب سے ٹوٹ کر اُسی کے بنے رہو۔(11)گویا اعتکاف میں انسان تمام مخلوق سے بطورِ خاص قلبی اور حتی الامکان ظاہری تعلق ختم کر کے اپنے خالق ومالک سے رابطہ جوڑ لے۔ اس سارے عمل کا نتیجہ یہ ہو کہ معتکف کے دل میں محبتِ الٰہی پیدا ہو،تلاوتِ قرآن کی حلاوت نصیب ہو، فکرِ آخرت بیدار ہو،نمازوں کا شوق بڑھے ،فضول گوئی کی جگہ خاموشی آجائے اور خاموشی سے زیادہ تلاوت و ذکر و درود وسلام کی کثرت معمول بن جائے ، ضروری دینی علم حاصل ہو ، عبادت کا مستقل شوق پیدا ہو اور دل گناہوں سے بیزار ہوجائے۔

اعتکاف اور روحانیت

اعتکاف روحانیت کا خزانہ اورباطن میں انقلاب برپا کرنے والی عبادت ہے۔ زمانہِ اعتکاف میں خدا سے قلبی وروحانی تعلق جوڑنا بہت آسان ہے۔ دورانِ اعتکاف تہجد ، اِشراق ، چاشت، اَوَّابین ، صلوٰۃ التوبہ ، نوافلِ وضو ، تحیۃ المسجد ، تراویح ، مراقبہ ، تلاوت ، تسبیحات اور مسنون اوراد و وَظائف میں مشغول رہنے ،نیز صبح و شام کی مسنون دعائیں مانگنے کی سعادت ،قلب و روح کی صفائی میں نہایت مُؤثِّر ہے۔ رات کا سجود و قیام ، دن کی حالتِ صیام ، نمازوں کے بعد تلاوت کا اہتمام ، اکثر اوقات میں تسبیح و درود کا اِلتزام ، گِریہ نیم شبی اور آہِ سحر گاہی کی دولت اِن دنوں میں بآسانی حاصل ہوجاتی ہے۔ اعتکاف حقیقت میں خلوت (گوشہ نشینی)کی ایک صورت ہے ، اسی خلوت کے لیے بزرگانِ دین نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ جنگلوں ، پہاڑوں اور ویرانوں میں گزارا۔ یہ خلوت بذاتِ خود مقصود نہیں ، لیکن بہت سے فوائد اِسی خلوت پر مدار رکھتے ہیں۔ ہمارے کثرتِ کار اور افراتفری کے زمانے میں عمومی طور پر طویل خلوت نہیں ملتی ، لیکن اعتکاف کی صورت میں یہ نعمت کچھ دنوں کے لیے نصیب ہوجاتی ہےاور اِس طرح عبادت و تلاوت و ذکرو درود اور اُمُورِ آخرت کی فکر کے لیے تنہائی میسر آتی ہے ،نیز گناہوں سے دور رہنے کا موقع ملتا ہے۔ معتکِف لوگوں کی طرف سے پہنچنے والی برائی ، بداخلاقی اور لڑائی جھگڑے سے بچا رہتا ہے اور لوگ اس کے شر سے محفوظ رہتے ہیں ، یوں معتکف حقوق العباد ضائع کرنے سے بچ جاتا ہے۔ عبادت میں خشوع ، یکسوئی اور ” توجُّہ الی اللہ “ نہایت مفید اورعبادت کے بنیادی مطلوب آداب میں سے ہیں ، اعتکاف کی صورت میں جو خلوت نصیب ہوتی ہے اُس میں کامل توجہ اور مکمل اِنہماک والے آداب بجا لانا آسان ہوتاہے ، مزید برآں ، اعتکاف میں عام زندگی کی جلوتوں سے زیادہ عبادت کا وقت ملتا ہے اور یہ مسلسل محنت ، عبادت پر اِستقامت کا ذریعہ بنتی ہے۔

مُعتکِف اور بارگاہِ خداوندی

حضرت عطاء خراسانی علیہ رحمۃ اللہ الباقی فرماتے ہیں: اعتکاف کرنے والے کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے اپنے آپ کو اللہ تعالی کی بارگاہ میں لا کر کھڑا دیا ہو اور کہے کہ اے میرے مالک عزوجل!میں اس وقت تک یہاں سے نہیں ہٹوں گا،جب تک تو مجھے بخش نہیں دیتا۔(12)مزید فرماتے ہیں: اعتکاف کرنے والے کی مثال احرام باندھنے والے کی طرح ہے جس نے اپنے آپ کو رحمٰن عزوجل کی بارگاہ میں پیش کر دیا ہو اور کہے:بخدا!میں یہاں سے نہیں ہٹوں گا،جب تک تو مجھ پر رحم نہیں فرمائے گا۔(13)

خلاصہ کلام

الغرض اعتکاف بے شمار خوبیوں اور فوائد کا جامع ہے،مسلمان کے لئے تو محض اتنی بات ہی کافی ہے کہ رمضان المبارک کے آخری عشرے کا اعتکاف پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے،یہ تصور ہی ذوق افزا ہے کہ میں تاجدارِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیاری سنت ادا کر رہا /رہی ہوں ۔لہذا ممکنہ صورت میں ہر برس ہی ورنہ زندگی میں کم از کم ایک بار تو رمضان المبارک کے آخری عشرے کا اعتکاف کر ہی لینا چاہیے۔
1۔ (حلیۃ الاولیاء،ج6،ص32،دار الکتاب العربی،بیروت) 2۔ (پارہ1،سورۃ البقرہ:125) 3۔ (مشکوٰۃ،ج1، ص644،حدیث2086،المکتب الاسلامی،بیروت) 4۔ (بخاری،ج3،ص51،حدیث2041،دار طوق النجاۃ) 5۔ (مسند احمد،ج35،ص199،حدیث21277،مؤسسۃ الرسالہ) 6۔ ( شعب الایمان ،ج5،ص436، حدیث : 3680،مکتبۃ الرشد) 7۔ (سننِ ابنِ ماجہ،ج1،ص567،حدیث:1781،دار احیاء الکتب) 8۔ ( شعب الایمان،ج5،ص435، حدیث :3679،مکتبۃ الرشد) 9۔ (جامع صغیر مع التیسیر،ج2،ص401،مکتبۃ الامام الشافعی) 10۔( ابن ماجہ ،ج1،ص567، حدیث : 1781 ،دار احیاء الکتب) 11۔ ( پارہ29 ،سورۃ المزمل : 08 ) 12۔ (بدائع الصنائع،ج2،ص108،دار الکتب العلمیہ) 13۔ (تفسیرِ درِ منثور،ج1،ص486،دار الفکر،بیروت)

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن