سُوال: بچپن سے ہى بچوں کو اپنى خواہشات پورى کرنے کى عادت ہوتى ہے اور اس طرح وہ لالچ مىں پڑ جاتے ہىں آپ کىا فرماتے ہىں بچوں کی لالچ کى عادت کىسے دور ہو؟ (سائل: فىصل حسن، خلىج)
جواب: ماں باپ کو بچوں کی نفسیات سمجھ کر اس کے مطابق چلنا چاہیےنیز ان کی اچھی تربیت کرنی چاہیے، ان کی ہر خواہش کو پورا نہ کریں بلکہ ان کی جو خواہش پوری کرنا مناسب ہو وہ خواہش پوری کردی جائے ورنہ ان کی عادت خراب ہوجائے گی اور یہ آپ کو تنگ کرتے رہیں گے، بچوں کی تربیت کے حوالے سےمکتبۃ المدینہ کی ایک نہایت ہی شاندار کتاب ”تربىتِ اولاد“ کا مطالعہ کیجئے، اِنْ شَآءَ اللہ بے حد فائدہ ہوگا۔
سُوال: اگر کوئى داڑھى رکھے تو گھر والے کہتے ہىں: ”داڑھى نہ رکھو ابھى عمر ہى کىاہے تم بوڑھے لگو گے“ اىساکہنا کىسا ؟
جواب: ایسا کہنا بالکل غلط ہے، داڑھى رکھنےسے روکنا گناہ ہےکیونکہ داڑھى رکھنا واجب ہے۔ داڑھى رکھنے میں عمر کى کوئى قىد نہىں، جب بندہ بالغ ہوجائے اور اس کی داڑھى آجائے تو واجب ہے کہ اس کو نہ کاٹے بلکہ رکھ لےنیز ىہ کہنا ”ابھی عمر ہى کىا ہے؟ بعد میں رکھ لینا یا بڑے ہوکر رکھ لینا“یہ ایک فضول بات ہے، ضروری نہیں کہ موت بوڑھے شخص کو ہی آئے کئی نوجوان بھی روزانہ مرتے ہیں۔ بھلائی کے کاموں سے روکنا مسلمانوں کا شیوہ نہیں یہ تو کافروں کا کام ہے جیساکہ ولىد بن مغىرہ بھی لوگوں کو بھلائی سےروکتا تھا اس لىے اللہ پاک نے قرآنِ کریم میں اس کى ىہ خامى اور عىب بىان فرماىا ہے : مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ ( ) ترجمَۂ کنز الایمان: بھلائى سے بڑا روکنے والا ۔
سُوال: ایک بچہ ہے اسے جب ٹیبلىٹ دیتے ہیں تو روتا ہے اور جب اس کو قرآنِ پاک دىں تو خوش ہوجاتا ہے یہ ارشاد فرمایئے کہ ىہ تربىت اس کے والدین نے کی ہے یا اللہ پاک کى طرف سے اس بچے کو یہ نعمت حاصل ہے؟
جواب: یہ بظاہر قدرتی معاملہ بھی ہوسکتا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ قرآنِ پاک کی خوبصورتی اور اس کے حجم کو دیکھ کر بچہ اس کی طرف لپک رہا ہو، بہر حال یہ اچھی بات ہے، ایک چھوٹے بچے کو بہت پہلے میں نے ایک ائیر پورٹ پردیکھا تھا وہ چھوٹا کمپیوٹر کندھے پہ لٹکا کر مٹک مٹک کر چل رہا تھا۔ایک وہ بھی بچہ تھا، اس کا یہ حال تھا اور ایک یہ بچہ ہے مَاشَآءَ اللہ۔
سُوال: کیا خلفائے راشدىن کے ناموں کے سا تھ” ىا“ کا لفظ لگاسکتے ہىں؟
جواب: بالکل لگا سکتے ہىں اس میں کوئى حرج نہىں ہے۔( )
سُوال: جن لوگوں کى شادى الگ الگ خاندانوں مىں ہوتى ہے، جب ان کى اولاد ہوتى ہے تو والد صاحب ىہ کہتے ہىں کہ اپنى بىٹى کى شادى اپنے خاندان مىں کروں گا، ماں کہتى ہے کہ مىں اپنے خاندان مىں اپنى بچى کى شادى کروں گى ، بچی اگر ماں کے خاندان کوترجیح دے کر شادی کرلے تو باپ کہتا ہے کہ مىرى بىٹى غلط ہے، مىرى بىٹى مىرى بات نہىں مانتى ہے اب ایسی صورت میں بیٹی اور اس کے والدین کو کیا کرنا چاہیے؟
جواب: واقعى ىہ بڑا پىچىدہ معاملہ ہے، والد صاحب کو اس معاملے مىں اپنے فىصلے پر نظر ِثانى کرنی چاہیے کىونکہ بىٹى کا جھکاؤ عام طور پر ماں کى طرف زیادہ ہوتاہے، اگر بىٹى نے ماں کا فىصلہ مان لىا تو باپ کى بات غیر وزنی ہوجائے گى اور اس طرح باپ کو صدمہ ہوگا، پھر ہوسکتا ہے کہ آپس مىں جھگڑا ہو، گناہوں کے دروازے کھلیں، اسى لىے جو بھى معاملہ کریں خوب سوچ سمجھ کر اور حکمتِ عملی کے ساتھ کریں یعنی والدین اگر آپس میں اس حوالے سے مشورہ کرلىں تو اچھا ہے، نیز شرىعت کی رو سےاپنی برادرى مىں شادى کرنے مىں کوئى حرج نہىں ہے۔ بىٹى کو بھی چاہىے کہ خوب صبر سے کام لےاور حکمتِ عملى کے ساتھ اس معاملے کو ڈىل کرے، اگر اىسى صورت ہو کہ دونوں طرف بىٹى کو رشتہ منظور ہو تو پھر پرچیاں ڈال کرقُرعہ اندازى کرلى جائے، اور پھر اس کے مطابق عمل کرلیاجائے، مقصد یہ ہے کہ لڑائى جھگڑے سے مکمل گریز کیا جائے، کیونکہ لڑائى ہوگى تو گھر تباہ ہوسکتا ہے۔
سُوال: چھوٹے اوربڑے گناہ کون کون سے ہوتے ہىں اور ان مىں کیا فرق ہے؟
جواب: گناہ دو طرح کے ہیں: (1)کبیرہ گناہ جىسے شراب پىنا، چورى کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا اور کسی چھوٹے گناہ کو ہلکا جاننا ،(2) کتابوں میں کبیرہ گناہوں کی مختلف تعداد بیان کی گئی ہے مثلاً 76، 200، 800 وغیرہ، بہر حال گناہ چھوٹا ہو یا بڑا تمام گناہوں سے ہی ہر حال میں بچنا چاہیے،ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ یہ نافرمانی کس کی ہے؟ اگر اللہ پاک کسى چھوٹے سے گناہ پر بھى ناراض ہوگىا اورہم عذاب میں گرفتار ہوگئے تو کیسے برداشت کریں گے؟ جہنم کا سب سے ہلکا عذاب ىہ ہوگا کہ آگ کى جوتىاں پہنائى جائىں گى جس کى تپش سے دماغ اس طرح کھولتاہوگا جىسے پتىلى کھولتى ہے۔ ( ) ذرا سوچئے ہمیں معمولی سر کا درد ہوجائے تو ہماری کىا کىفىت ہوتى ہے؟ تو جس کا دماغ پتىلى کى طرح کھولتا ہوگا،اس کی کىا حالت ہوگى؟ جس غیر مسلم پر عذاب ہورہا ہوگا اس کو اگر کہا جائے کہ دنیا کی ساری دولت اور سارے خزانے تجھے دے دئیے جائیں تو کیا ان آگ کی جوتیوں سے نجات حاصل کرنے کے لئے وہ سارا مال اس کے فدئیے میں دے دے گا؟ تو وہ کہے گا ہاں دے دوں گا ۔( ) ذرا غور کیجئے کہ سب سے ہلکے عذاب کی یہ کیفیت ہے تو بڑا عذاب کیسا ہوگا؟ اللہ کرے کہ ہمیں کسی بھی قسم کا کوئی بھی عذاب نہ ہو، بلکہ ہمیں جہنم سے ایسی آزادی مل جائے کہ ہم لمحہ بھر کے لئے بھی جہنم میں نہ جائیں، بلکہ جنت مىں پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم کے پڑوس مىں پہنچ جائىں اور اپنے آقا کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم کے پڑوس مىں ہی رہىں۔
سُوال: جو لوگ بھىک مانگتے ہىں کىا ان کو بھىک دىنی چاہىے؟
جواب: روڈوں پر، بازاروں میں اور بالخصوص رمضان المبارک میں جو بھکاری گھوم رہے ہوتے ہىں، یہ عام طور پر پیشہ ور بھکاری ہوتے ہیں، ان کو بھىک نہىں دىنى چاہىے، ایسے لوگوں کو بھیک دىنا گویا اس کام میں ان کی مدد کرنا ہے اور اس سے ان کى عادت مزىد خراب ہوجاتى ہے، فتاوىٰ رضوىہ شرىف مىں ہے کہ جو پروفىشنل بھکارى ہو یعنی بھىک مانگنا جس کا پىشہ ہو، اس کو بھیک دىنا جائز نہىں ہے، ( ) کىونکہ ایسے شخص کودىنا اس کے گناہوں پر مدد کرنا ہے کہ ایسا شخص پھر روزی کمانے کے جائز ذرائع اختیار نہیں کرے گا، انہی کاموں میں پڑا رہے گااور ایسے لوگ عام طور پر ماہر ہوتے ہیں ان کو معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح مانگنا ہے، کون سے الفاظ استعمال کرنے ہیں، کیا کیا بہانے بنانے ہیں، نیز ان کے پاس اىکسرے، رپورٹىں اور دواؤں کى لسٹیں ہوتى ہیں کہ ىہ دوا چاہىے وہ دوا چاہیے، جبکہ جو واقعی مستحق ہوگا اس سے صحیح طرح بات بھی نہیں کی جائے گی یعنی اس کی آواز لڑکھڑائے گی اور بڑی مشکل سے اس کے منہ سے آواز نکلے گی۔
پچھلے دنوں سوشل مىڈىا پر اىک کلپ وائرل ہوا تھااس ویڈیو کلپ میں یہ دکھایا گیا تھا کہ ایک شخص بیٹھا ہوا ہے اور اس کی حالت بالکل بھکاریوں والی ہے، اس کو کوئی وہاں سے اٹھانا چاہ رہا تھا لیکن وہ کہہ رہا تھا کہ میں چل نہیں سکتا اس شخص نے بھی کافی اصرار کیا کہ یہاں سے چلے جا لیکن وہ نہ مانا اور مختلف حیلے بہانے کرنے لگا آخر میں اس شخص نے اسے کوئی زور دار دھمکی دی تو اب وہ وہاں سے اٹھا اور تیزی سے کسی جانب چلا گیا، حالانکہ وہ بھکاری کہہ رہا تھا کہ میں چل پھر نہیں سکتا! تو عام طو پر جو پیشہ ور بھکاری ہوتے ہیں یہ لوگوں کو دھوکا دے رہے ہوتے ہیں، لہٰذا ایسے لوگوں کو بھیک دینا گویا ان کی اس کام پر حوصلہ افزائی کرنا ہے لہٰذا ایسے لوگوں کو کچھ بھی نہ دیا جائے ، بلکہ سفید پوش رشتہ داروں کی مدد کرنی چاہیے، اسی طرح جو ناراض رشتہ دار ہوں ان کی مالى مدد کر نی چاہیے کہ یہ زىادہ ثواب کا باعث ہے۔لہٰذا جس طرح ہوسکے اپنے ان رشتہ داروں کی مدد کیجئے جن کی مالی حالت ٹھیک نہیں یا جن کا بہت مشکل سے گزر بسر ہوتا ہے۔
سُوال: بعض لوگوں میں دوسروں کی مدد کرنے کا جذبہ تو موجودہوتا ہے لیکن کىسے فىصلہ کریں کہ کون واقعی مستحق ہے اور کون نہیں ہے لیکن پھر بھی مستحق ہونے کی ایکٹنگ کررہا ہے، بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہوں نے اچھے کپڑے پہنے ہوتے ہیں اور انگرىزى مىں بات بھی کررہے ہوتے ہیں کہتے ہیں: ”مىرى فىملى ساتھ ہے، مىرا پرس چورى ہوگىا ہے میری مدد کیجئے“ اور یہ لوگ دس بىس روپے نہىں مانگتے بلکہ زیادہ ہی مانگتے ہیں اىسے موقع پرکیا کیا جائے ؟
جواب:واقعی ایسے لوگ بہت چالاک ہوتے ہىں، کئى سال پرانى بات ہے ایک شخص ہمارے پاس آیااور اس طرح کہنے لگا کہ میں بہت پریشان ہوں ، میرے ساتھ یہ مسئلہ ہے وہ مسئلہ ہے ، میری مدد کرو میں ایک کیس میں پھنسا ہوا ہوں، اسی حوالے سے کراچی آیا ہوا ہوں، مجھے واپس لاہور جانا ہے اور میرے پاس واپسی کا کرایہ بھی نہیں ہے لہٰذا میری مدد کیجئے، اس شخص نے ایسا انداز اختیار کیا کہ پتھر کو بھی یقین آجائے کہ یہ واقعی مستحق ہے ، پھر ہم نے اس سے کہا کہ کتنے پیسے چاہئیں اس نے کوئی رقم بتائی ہم نے کہا بھائی یہ تو بہت زیادہ ہے تو اس نے کہا چلو پھر اتنا دے دو، یعنی وہ سودے بازی پر اتر آیا کہ اتنے پیسے دے دو اُتنے پیسے دے دو، اس کی حرکتوں سے ہمیں یقین ہوگیا کہ یہ شخص جھوٹ بول رہا ہے، لہٰذا اس کو کچھ بھی نہ دیا جائے لہٰذا ہم نے اسے ایسے ہی لوٹادیا! یہ ایک مثال نہیں ہے اس طرح کی کئی مثالیں ہیں کہ ایسے لوگ طرح طرح کے حیلے بہانے کرکے بھیک مانگتے ہیں اور بندہ دیکھ کر بات کرتےہیں یعنی جو جس طرح گِھر جائے اس کو گھیر لیتے ہیں۔ ہمیں اس طرح کے جو لوگ بھی ملے ان کے ساتھ ہم نے یہ بھی کیا کہ ان سے کہا:چلیں ٹھیک ہے ہم آپ کی مدد کرتے ہیں چنانچہ ہم نے اپنے کسی اسلامی بھائی سے کہا کہ اس کو ٹرین کا ٹکٹ دلا دو اب وہ کہاں سے کسی اور شہر جائے گا وہ ہے ہی کراچی کا، اسی طرح کوئی کہتا ہے بھوک لگ رہی ہے پیسے دے دو تاکہ میں کھانا کھالوں تو ہم اپنےساتھ والے کو کہتے ہیں بھائی اس کو ہوٹل لے جا کر کھانا کھلادو، اب وہ کھانا کہاں سے کھائے گا اسی طرح کہہ کر تو وہ دو بار پہلے ہی کھا چکا ہے۔ اسی طرح کراچی میں ایک شخص میرے پاس آیا وہ بظاہر مال دار لگ رہا تھا، کہنے لگا میری رہائش UK میں ہے کچھ دنوں کے لئے ایک ضروری کام کے سلسلے میں حیدر آباد میں رکا ہوا ہوں،اب یہاں سے مجھے حیدر آباد جانا ہے وہاں سے UK جاؤں گا ، ابھی میرے پاس حیدر آباد جانے کے لئے بھی کرایہ نہیں ہے، لہٰذا آپ میری مدد کریں، اس سے ہم نے کہا اپنا پاسپورٹ دکھایئے تو کہنے لگا وہ تو حیدر آباد میں ہی ہے، ہم نے اس سے کہا لے کر آجایئے گا پھر بات کریں گے۔
ان میں بعض جو بہت زیادہ جری اور بے باک ہوتے ہیں وہ کہتے ہیں:” ہم کو سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم نے بھىجا ہے اور انہوں فرمایا ہے کہ الىاس قادرى ہمارا عاشق ہے اس کے پاس چلے جاؤ وہ تمہاری مدد کرے گا لہٰذا میں آپ کے پاس آیا ہوں مجھے اتنے اتنے پیسے چاہئیں!“ ایسوں سے میری گزارش ہے کہ آپ کا رابطہ آقا کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم سے اس قدر مضبوط ہے تو آقا کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم سے عرض کردیجئے کہ الیاس قادری کو آپ حکم فرمادیں ، جب آقا کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم مجھے حکم فرمادیں گے تو میں تمہیں پىسوں سے نہلا دوں گا! اسی طرح حضور غوثِ پاک رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے حوالے سے بھی لوگ آ کر بیان کرتے ہیں ۔ جس طرح فلموں میں ایکٹرز رورہے ہوتے ہیں اسی طرح یہ لوگ بھی مسکینوں والی صورت بناکر بظاہر رو رہے ہوتے ہیں ، یہ تمام باتیں میں نے اپنے تجربے سے بتائی ہیں۔
سُوال:بہت سے چھوٹے چھوٹے بچے جو معذور ہوتے ہیں ان کو بھی دیکھا گیا ہے کہ وہ بھی سڑکوں پر یا کسی سگنل پر بھیک مانگ رہے ہوتے ہیں کیا ان کو بھیک دینی چاہیے؟
جواب: یہ بچے واقعی قابلِ رحم ہیں لیکن ایک پورا مافیا ہے جو بچوں کو اغوا کرتا ہے، ان کو سخت سے سخت اذیتیں دیتا ہے ، ان کو اس طرح بجلی کے جھٹکے دیتا ہے جس سے یہ بچے اپنے والدین اور گھر کا ایڈریس بھول جاتے ہیں، ایسے بچوں سے یہی لوگ بھیک منگواتے ہیں اور ان پر نظر رکھتے ہیں اور جب کوئی نہیں ہوتا تو ان کے پاس آکر پیسے لے جاتے ہیں، ان بچوں کو صحیح سے کھانا بھی نہیں دیتے، اتنا دیتے ہیں جس سے یہ لوگ زندہ رہ سکیں، یقیناً ایسے لوگ بڑے ظالم ہیں۔
(اس موقع پر نگرانِ شوریٰ نے فرمایا:) بعض گاڑی والوں نے تو باقاعدہ اپنے پاس باکس میں ریزگاریاں خاص اسی مقصد کے لئے رکھی ہوتی ہیں کہ ان کو معلوم ہے فلاں فلاں مقام یا سگنل پر مخصوص بھکاری کھڑے ہوں گے جو ہر وقت اسی سگنل پر ہوتے ہیں ہمیں ان کو دینا ہے، حالانکہ اس طرح جو لوگ دیتے ہیں ان کو اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ ہم ان پیشہ ور بھکاریوں کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں حالانکہ ایسے لوگوں کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے، تاکہ ہمارا معاشرہ اس بری آفت سے پاک ہو، ہمارے جو اسلامی بھائی دعوتِ اسلامی ویلفیئر کا کام کررہے ہیں وہ ہمیں آکر بتاتے ہیں کہ ہم نے ایسے ایسے گھروں میں راشن پہنچائے ہیں جن کے گھروں کے دروازے اور چھتیں تک نہیں ہیں، ایسے لوگ پھر بھی کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے، کسی سے مانگتے نہیں، کسی کے پاس جاکر سوال نہیں کرتے، آپ بھی ایسے لوگوں کی مدد کریں جو واقعی مدد کے مستحق ہیں ، ڈھونڈیں گے تو ایسے لوگ ضرور مل جائیں گے۔
سُوال: اگر کسى شوہر کا انتقال ہوجائے یا وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے اور بیوی کی دوسرى جگہ شادى ہوجائے تو کىا پہلے والے سسر سے اس بیوی کاپردہ ہوگا؟(نگرانِ شورىٰ کا سُوال)
جواب:لڑکى اگرچہ بىوہ ہوئی ہو یا مطلقہ ہو حرمتِ مصاہرت ختم نہىں ہوتی، حرمتِ مصاہَرت کا حکم باقى رہےگا۔ البتہ اولیٰ یہ ہے کہ عورت اب بھی اپنے پہلے شوہر کے باپ سے پردہ کرے( ) ۔ ( )
کیا بار بارکی جانے والی غلطی اللہ پاک معاف فرمادیتا ہے؟
سُوال: اگر انسان بار بار کوئی غلطى کرے اور شرمندگى سے اللہ پاک کى بارگاہ مىں معافى مانگے تو کىا اللہ پاک اس کى معافى کو قبول فرماتا ہے؟ (نگرانِ شورىٰ کا سُوال)
جواب: اللہ پاک کى رحمت بہت بڑى ہے اگر کوئی شخص بتقاضائے بشریت 100 بار گناہ کرے اور سچے دل سے رب کریم کی بارگاہ میں حاضر ہوکر معافى مانگے تو اللہ پاک اس کو معاف فرمادیتا ہےاور اگر اس نے توبہ سچی نہ کی توىہ توبہ ہى نہىں ہے بلکہ ىہ تو مَعَاذَ اللّٰہ مذاق کرنا ہے ۔( )