30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
برتن چاٹنے کی حکمتیں
حضر تِ مفتی احمد یار خان رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ”برتن چاٹنے میں کھانے کا ادب ہے، اِس کو بربادی سے بچانا ہے، برتن یوں ہی چھوڑ دینے سے اِس پر مکھیاں بھنبھناتی ہیں، برتن میں لگے ہوئے کھانے کے اَجزا مَعاذَ اللہ نالیوں، گندگیوں میں پھینک دیئے جاتے ہیں، جس سے اُس کی سخْت بے اَدَبی ہوتی ہے ۔ اگر ایک وقت میں ہر فرد چند دانے بھی برتن میں چھوڑ کر ضائِع کر دے تو روزانہ کئی من کھانا برباد ہو گا ۔ غرضیکہ برتن چاٹنے میں کئی حکمتیں ہیں۔“
(مراٰۃ الماجیح، 6/38 ملخصاً)
ایمان افروز ارشاد!
سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: ”پیالہ چاٹ لینا مجھے اِس سے زیادہ محبوب ہے کہ پیالہ بھر کھانا تصدق کروں۔“(یعنی چاٹنے میں چونکہ اِنکسار ہے لہٰذا اِس کا ثواب اُس صدقے کے ثواب سے زيادہ ہے) (کنز العمال، 15/111، حدیث: 40821)
مدنی آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: ” جو رِکابی اور اپنی اُنگلیاں چاٹے اللہ پاک دُنیا و آخرت میں اُس کا پیٹ بھرے۔“(یعنی دُنیا میں فقر و فاقہ سے بچے،قیامت کی بھوک سے محفوظ رہے،دوزخ سے پناہ دیا جائے کہ دوزخ میں کسی کا پیٹ نہ بھرے گا) (معجم کبیر، 18/261، حدیث: 653)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب صَلَّی اللهُ علٰی مُحَمَّد
ایک غُلام آزاد کرنے کا ثواب
حضرت امام محمد غزالی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ” جو کھانے کا برتن ، چاٹے اور دھو کر اس کا پانی پی لے اُس کو ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب ملتا ہے۔“ (احیاء العلوم، 2/7)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع