حضرتِ عبدُا للہ ابنِ عُمَر رضی اللہُ عنہما فرماتے ہیں کہ سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اِرشاد فرمایا : “ کوئی شخص نہ اُلٹے ہاتھ سے کھانا کھائے نہ پئے کہ اُلٹے ہاتھ سے کھانا پینا شیطان کاطریقہ ہے ۔ “ (مسلم ، ص1117 ، حدیث : 2174)
حضرتِ ابوہُریرہ رضی اللہُ عنہ سے رِوایَت ہے کہ تاجدارِ مدینہ ، قرارِ قَلْب وسینہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اِرشاد فرمایا : “ تم میں سے ہر ایک سِیدھے ہاتھ سے کھائے اور سِیدھے ہاتھ سےپئے اور سِیدھے ہاتھ سے لے اور سیدھے ہاتھ سے دے کیونکہ شیطان اُلٹے ہاتھ سے کھاتا اوراُلٹے ہاتھ سے پیتا اُلٹے ہاتھ سے دیتا اور اُلٹے ہاتھ سے لیتا ہے ۔ “
(ابن ماجہ ، 4 / 12 ، حدیث : 3266)
پیارے پیارے اسلامی بھائیو! اَفسوس !آج کل ہم دُنیا کے چکّر میں اِس قَدَر گِھرچُکے ہیں کہ محبوبِ باری صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی پیاری پیاری سُنَّتوں کی طرف ہماری توجُّہ ہی نہیں رَہتی۔ یاد رکھئے! حدیثِ مبارَک میں ہے کہ آدَمی کی رَگوں میں شیطان خُون کے ساتھ تَیرتا ہے۔ (مسلم ، ص1197 ، حدیث : 2174) ظاہِر ہے کہ یہ ہمیں سُنَّتوں کی طَرف کہاں جانے دے گا؟ اگر چِہ سِیدھے ہاتھ سے ہی کھانا کھاتے ہیں لیکن پھر بھی اُلٹے ہاتھ سے کچھ دانے پھانک ہی لئے جاتے ہیں ، کھاتے ہوئے چُونکہ سیدھا ہاتھ آلُودہ ہوتا ہے لہٰذا پانی اُلٹے ہی ہاتھ سے پی ڈالتے ہیں ، چائے پیتے وَقت کپ سیدھے ہاتھ میں اور رِکابی اُلٹے ہاتھ میں لئے چائے پیتے ہیں ، کسی کو پانی پلاتے وَقت جگ سِیدھے ہاتھ میں ہو تا ہے جبکہ گلاس اُلٹے میں اور اُلٹے ہاتھ سے گِلاس دوسروں کودیتے ہیں ۔ “ حیاتِ مُحَدِّثِ اعظم “ ص 374پر ہے ، مُحَدِّثِ اعظم پاکستان حضرت مولانا محمد سردار احمد قادری چشتی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں : لینے اور دینے میں دائیں(یعنی سیدھے)ہاتھ کو استِعمال کرو ، یہ عادت ایسی پختہ ہو جائے کہ کل قِیامت میں نامۂ اعمال پیش ہو تو اِسی عادت کے مُوافِق دایاں (یعنی سیدھا)ہاتھ آگے بڑھ جائے تب تو کام بن جائے گا۔
پیارے اِسلامی بھائیو ! ہوش کیجئے اور دیکھئے ہمارے پیارے پیارے آقا مکّے مدینے والے مصطَفٰے صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو اُلٹے ہاتھ سے کھانا پینا کِس قَدَر نا پسند ہے ۔ چُنانچِہ
حضرتِ سلمہ بِن اَکْوَعْ رضی اللہُ عنہ سے مَروی ہے کہ ایک آدَمی نے اللہ کے محبوب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے سامنے اُلٹے ہاتھ سے کھانا کھایا تو آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا : “ سِیدھے ہاتھ سے کھاؤ۔ “ اُس نے کہا : میں سِیدھے ہاتھ سے نہیں کھا سکتا ۔ (غیب جاننے والے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سمجھ گئے کہ یہ تکبُّر سے بول رہا ہے چُنانچِہ)آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا : “ لَااسْتَطَعْتَ یعنی تجھے اِسْتِطاعَت نہ ہو ! “ (مطلب یہ کہ تیرا سیدھا ہاتھ کبھی نہ اُٹھے) اُس نے تَکبُّر کی وَجہ سے سِیدھے ہاتھ سے کھانا کھانے سے اِنکار کیا تھالہٰذاپھر اُس کا سِیدھا ہاتھ کبھی مُنہ کی طرف نہ اُٹھ سکا۔ (یعنی اِس کا سِیدھا ہاتھ بیکار ہوگیا) (مسلم ، ص1118 ، حدیث : 2021)
وہ زَباں جس کو سب کُن کی کنجی کہیں اُس کی نافذ حُکومت پہ لاکھوں سلام
(حدائقِ بخشش ، ص 302)
پیارے پیارے اسلامی بھائیو! سرکارِ نامدار صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی زَبانِ صداقت نشان کی یہ شان ہے کہ جو کچھ فرماتے وہ ہو جاتا ۔ آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کارُتبہ تو بَہُت عظیم ہے ، غلاموں کا حال مُلاحَظہ ہو ، چُنانچِہ ایک عورت مشہور صحابی حضرت سَعْد بن ابی وقاص رضی اللہُ عنہ کو جھانکا کرتی تھی ، آپ رضی اللہُ عنہ نے بارہا اُس کو مَنْع کیا مگر وہ بازنہ آئی۔ ایک دن اُس نے جب حسبِ معمول جھانکا توآپ رضی اللہُ عنہ کی زَبانِ کرامت نشان سے یہ الفاظ نکلے : شَاہَ وَ جْھُکِ یعنی “ تیراچہرہ بگڑ جائے ۔ “ پس اُسی وقت اُس کا چہرہ گُدّی کی طرف پھر گیا۔ (جامعِ کراماتِ اولیاء ، 1 / 112)
محفوظ شہا رکھنا سدا بے ادبوں سے اور مجھ سے بھی سر زد نہ کبھی بے ادَبی ہو
حضرت سعد بن ابی وَقاص رضی اللہُ عنہ کی زَبانِ قَبولیّت نشان کی یہ تاثیر دراصل مہرِ مُنیر ، محبوبِ ربِّ قدیر صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی دعا کا ثمر ہ تھا ۔ جیسا کہ جامِعِ ترمذی وغیرہ میں ہے : پیارے پیارے مصطَفٰے صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے بارگاہِ ربُّ العُلی میں دُعا کی : اَللّٰھُمَّ اِسْتَجِبْ سَعدًا اِذَا دَعَا کَ یعنی “ یااللہ! جب بھی سعد تجھ سے دُعا کرے تو قَبول فرما لیا کر ۔ “ (ترمذی ، 5 / 418 ، حدیث : 3772) مُحدِّثینِ کِرام رحمۃُ اللہِ علیہم فرماتے ہیں : “ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہُ عنہ جب بھی دُعا کرتے قَبول ہو جاتی۔ “ (جامعِ کراماتِ اولیاء ، 1 / 139)
اِجابَت کا سہرا عنایت کا جوڑا دُلہن بن کے نکلی دعائے محمد
اِجابَت نے جھک کر گلے سے لگایا بڑھی ناز سے جب دعائے محمد
پیارے پیارے اسلامی بھائیو! صَحابہ کرام علیہم الرضوان کی بھی بڑی شان ہے ، غلامانِ صَحابہ یعنی اولیا رحمۃُ اللہِ علیہم بھی بڑی عظمتوں کے مالِک ہوتے ہیں ۔ چُنانچِہ
زبردست عالم و مُحدِّث حضرتِ عبداللہ بن وَہب رحمۃُ اللہِ علیہ ایک لاکھ حدیثوں کے حافِظ تھے ، مِصر کے حاکم عُبّاد بن محمد نے انہیں قاضی بنانا چاہا تو عُہدۂ قَضا سے بچنے کیلئے کہیں رُوپوش ہو گئے ۔ ایک حاسِد “ صباحی “ نے جھوٹی چُغلی کھاتے ہوئے حاکم سے کہا : “ عبداللہ بن وَہب نے خود مجھ سے قاضی بننے کی حِرص ظاہِر کی تھی مگر اب آپ کی قصداً نافرمانی کرتے ہوئے غائب ہو گئے ہیں۔ “ حاکم نے غصّہ میں آ کر آپ رحمۃُ اللہِ علیہ کے مکانِ عالی شان کو منہدم (مُنْ۔ ہَ۔ دِمْ)کروا دیا ۔ حضرتِ عبداللہ بن وَہب رحمۃُ اللہِ علیہ نے جلال میں آکر بارگاہِ ربِّ ذُوالجلال میں عرض کر دی : یا الٰہی! “ صباحی “ کو اندھا کر دے۔ چُنانچِہ آٹھویں دن وہ “ صَباحی “ اندھا ہو گیا ۔ حضرت عبدُاللہ بن وَہب رحمۃُ اللہِ علیہ پر خوفِ خدا کا غَلَبہ رَہتا تھا ۔ ایک بار ذِکر ِقیامت سُن کر دَہشت طاری ہو گئی اور بے ہوش ہو گئے ۔ ہوش میں آنے کے بعد صِرف چند روز زندہ رہے اوراِس دَوران کچھ بھی نہ بولے۔ 197 ھ میں وفات پائی۔ (تذکرۃُ الحفّاظ ، 1 / 223)اﷲ پاک کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔
اَولیاء کا جو کوئی ہو بے ادَب نازل اُس پہ ہوتا ہے قہر و غضب
یاربِّ مصطَفٰے! ہمیں اپنے پیارے حبیب شاہِ خیرُ الْاَنام صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ، صَحابہ کرام علیہم الرضوان اور اولیائے عِظام رحمۃُ اللہِ علیہم کا سچّا ادَب نصیب فرما ، ان کی بے ادَبی اور ان کے بے اَدَبوں کے شر سے سدا محفوظ رکھ اور اپنے پیارے حبیب کا سچّا دیوانہ بنا۔ اٰمین بِجاہِ خاتَمِْالنَّبِیّیْن صلی اللہ علیه واٰلهٖ وسلّم
یاربّ میں ترے خوف سے روتا رہوں ہر دم دیوانہ شَہَنشاہِ مدینہ کا بنا دے
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب صَلَّی اللهُ علٰی مُحَمَّد
پیارے پیارے اسلامی بھائیو! اَلحمدُ لِلّٰہ! دعوتِ اسلامی کے دینی ماحول میں بُزرگوں کا بَہُت ادَب کیا جاتا ہے ، بلکہ سچّی بات یہ ہے کہ اللہ ربُّ العزّت کی عنایت سے دعوتِ اسلامی فیضانِ اَولیاء ہی کی بدولت چل رہی ہے۔ چُنانچِہ عاشِقانِ رسول کا ایک مَدَنی قافِلہ سنُّتوں کی بَہاریں لُٹا تا ہوا ایک مقام “ انوار شریف “ وارِد ہوا ، وہاں سے ہاتھوں ہاتھ چار اسلامی بھائی تین دن کیلئے مَدَنی قافِلے میں سفر کیلئے عاشِقانِ رسول کے ساتھ شریک ہوئے ، ان چاروں میں “ انوار شریف “ کے صاحِبِ مزار بُزرگ رحمۃُ اللہِ علیہ کے خانوادے کے ایک فرزند بھی تھے۔ مَدَنی قافِلہ نیکی کی دعوت کی دھومیں مچاتا ہواایک دوسرے علاقے میں پہنچا ۔ جب انوار شریف والوں کے تین دن مکمَّل ہو گئے تو صاحِبِ مزار رحمۃُ اللہِ علیہ کے رِشتے دار نے کہا : میں تو واپَس نہیں جاؤں گا کیوں کہ آج رات میں نے اپنے “ حضرت “ رحمۃُ اللہِ علیہ کو خواب میں دیکھا ، فرما رہے تھے : “ بیٹا! پلٹ کر گھر نہ جانا مَدَنی قافِلے والوں کے ساتھ مزید آگے سفر جاری رکھنا۔ “ صاحِبِ مزار رحمۃُ اللہِ علیہ کی انفِرادی کوشِش کایہ واقِعہ سُن کر مَدَنی قافِلے میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ، سب کے حوصلوں کو مدینے کے12چاند لگ گئے اور انوار شریف سے آئے ہوئے چاروں اِسلامی بھائی ہاتھوں ہاتھ مَدَنی قافِلے میں مزید آگے سفر پر چل پڑے۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب صَلَّی اللهُ علٰی مُحَمَّد
دیتے ہیں فیض عام اَولیائے کرام لوٹنے سب چلیں قافِلے میں چلو
اولیا کا کرم تم پہ ہو لاجَرَم مل کے سب چل پڑیں قافِلے میں چلو
پیارے پیارے اسلامی بھائیو! کسی ولیُّ اللہ کا بعدِ وفات خواب میں رہنمائی کرنا کوئی اَچَنبے کی با ت نہیں ، اللہ کے نیک بندے بعطائے ربُّ العُلیٰ بَہُت کچھ کر سکتے ہیں چُنانچِہ خواجہ امیر خرد کرمانی رحمۃُ اللہِ علیہ لکھتے ہیں : سلطانُ المشائِخ حضرت محبوب الٰہی نِظامُ الدّین اولیا رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں کہ غِیاث پور کے قِیام سے پہلے میں ایک کوس ( یعنی تقریباً تین کلو میڑ دُور) کیلو کھری کی مسجِد میں نَماز ِجُمُعہ پڑھنے جایا کرتا تھا ۔ ایک بار اسی طرح نَمازِ جُمعہ کیلئے پیدل جارہا تھا گرم ہوائیں چل رہی تھیں اور میں روزے سے تھا ، مجھے چکّر آنے لگے اور میں ایک دُکان پر بیٹھ گیا۔ میرے دل میں خیال گزرا کہ اگر میرے پاس سُواری ہوتی تو سَہولت رہتی ۔ بعد میں شیخ سعدی کا یہ شعر میری زبان پر آیا :
مَا قَدَمْ اَزسَرْ کُنیْمْ دَرْ طَلَبِ دوْسْتَاں رَاہْ بَجَائے بُرْدْ ھَر کہ بَاَ قْدَامْ رَفْتْ
(ہم دوستوں کی طلب میں سرکوپاؤں بناکرچلتے ہیں ، کیونکہ جوکوئی اس راہ میں قدموں سے چلتاہے وہ آگے نہیں بڑھ پاتا)
میں نے دل میں آنے والے سُواری کے خیال سے توبہ کی۔ اس واقِعہ کو تین روز گزر ے تھے کہ “ خلیفہ مَلِک یارپراں “ میرے لئے ایک گھوڑی لے کر آئے اورکہنے لگے : میں مسلسل تین راتوں سے خواب میں دیکھ رہا ہوں کہ میرے شیخ مجھ سے فرما رہے ہیں : “ فُلاں صاحِب کو گھوڑی دے آؤ۔ “ لہٰذا گھوڑی حاضِر ہے قَبول فرما لیجئے۔ میں نے کہا : بے شک آپ کے شیخ نے آپ سے فرمایاہوگا لیکن جب تک میرے شیخ مجھ سے نہیں فرمائیں گے میں یہ گھوڑی نہیں لوں گا۔ اُسی رات میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے پیرو مرشِد حضرتِ شیخ فریدُ الدّین گنجِ شکر رحمۃُ اللہِ علیہ مجھ سے فرماتے ہیں کہ مَلِک یار پراں کی دل جوئی کے لئے وہ گھوڑی قَبول کر لو۔ دوسرے روز وہ گھوڑی لے کر آیا تو میں نے اسے عطِیّہ خداوندی سمجھتے ہوئے قَبول کر لیا۔ ( سیرالاولیاء ، ص246)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب صَلَّی اللهُ علٰی مُحَمَّد
ایک برتن میں جب ایک ہی طرح کا کھانا ہو ، تو اپنی طرف سے کھانا سُنَّت ہے۔ چُنانچِہ حضرتِ عُمَر بن ابی سَلَمَہ رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں کہ میں بچَّہ تھا اور تاجدارِ مدینہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی پَروَرِش میں تھا۔ (یہ اُمُّ المؤمنین حضرتِ بی بی اُمِّ سلمہ رضی اللہُ عنہا کے وہ فَرزَند تھے جو سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے نکاح ميں آنے سے پہلے سابِقہ شوہر سے تھے)کھاتے وقت برتن میں ہر طَرف ہاتھ ڈال دیتا ۔ تاجدارِ مدینہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اِرشاد فرمایا : “ بِسْمِ اللہ پڑھو اور سِیدھے ہاتھ سے کھاؤ اور برتن کی اُس جانِب سے کھاؤ جو تمہارے قریب ہے۔ “ (بخاری ، 3 / 521 ، حدیث : 5376)
حضرت عبدُا للہ ابن عبّاس رضی اللہُ عنہما سے رِوایت ہے : رسولِ عظیم ، نبیِ کریم ، رء ُوفٌ رَّحیم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اِرشاد فرمایا : “ بے شک بَرَکت کھانے کے درمِیانی حصّہ میں اُترتی ہے پس تم کَناروں سے کھانا کھاؤ اور در مِیان سے نہ کھاؤ۔ “ (ترمذی ، 3 / 316 ، حدیث : 1812)
آپ کہیں بیچ سے تو کھانا نہیں کھاتے!
پیارے پیارے اسلامی بھائیو! غور فرمائيے کہ اس سُنَّت پر آپ عمل کرتے ہیں یا نہیں؟ میرا بارہا کامُشاہَدہ ہے کہ باعمل نظر آنے والوں کی بھی اکثریت اِس سُنَّت پر عمل کرنے سے محروم ہے!جس کو دیکھو وہ کھانے کی رکابی یا سالن کے برتن وغیرہ کے بیچ ہی سے آغاز کرتا ہے ، نہ جانے کیوں؟کہیں ایسا تو نہیں کہ بَرَ کت سے محروم کرنے کیلئے شيطان ہاتھ پکڑ کر بیچ میں ڈال دیتا ہو!حقیقت یہی ہے کہ شیطان اس بات کی کوشِش میں لگا رہتا ہے کہ مسلمان بھلائیوں سے محروم ر ہیں ۔ حضر تِ مفتی احمد یار خان رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں : “ کھانے کے برتن کے بیچ میں اللہ پاک کی رَحمت نازِل ہوتی ہے ، بیچ سے کھانا حرص کی علامت ہے ، حَریص رَحمتِ الٰہی سے محروم ہے۔ “ اِس حدیثِ مبارَک سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے کھانے کے وَقت بھی رَحمتِ باری کانُزول ہو تا ہے خاص کر جب کہ سنّت کی نیّت سے کھایا جائے۔ (مراٰۃ المناجیح ، 6 / 33-34)
دوسروں کو شرمندگی سے بچائیے
حضرت عبدُاللہ ابنِ عُمَر رضی اللہُ عنہما سے رِوایت ہے کہ نبیوں کے سلطان صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ بَرَکت نشان ہے : “ جب دستَرخوان لگے تو ہر شخص اپنے قریب سے کھائے اور اپنے ساتھ کھانے والوں کے آگے سے نہ کھائے اور رِکابی کے درمِیان سے نہ کھائے کیونکہ بَرَکت اُسی طرف سے آتی ہے اور کوئی بھی دستَرخوان اُٹھائے جانے سے پہلے نہ اُٹھے اور نہ ہی اپنا ہاتھ روکے جب تک سب لوگ اپنا ہاتھ نہ روک لیں اگرچِہ سَیر ہو چکا ہو اور لوگوں کے ساتھ لگا رہے کیونکہ اسکا رُک جانا باقی لوگوں کی شرمندَگی کا باعِث ہوگا اور وہ اپنا ہاتھ روک لیں گے حالانکہ شاید انہیں ابھی اور کھانے کی حاجَت ہو۔ ( شعب الایمان ، 5 / 83 ، حدیث : 5864 )
بیچ میں برکت کی وضاحت
حکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں ، برتن کے کَناروں سے اپنے اپنے آگے سے کھاؤ ، بیچ میں سے مت کھاؤ کہ برتن کے بیچ میں بَرَکت اُترتی ہے وہاں سے کَناروں تک پہنچتی ہے۔ اگر تم نے بیچ میں سے کھانا شُروع کر دیا تو کہیں ایسا نہ ہو کہ وہاں بَرَکت آنا بند ہو جائے ۔ غرضیکہ بَرَکت اُترنے کی جگہ اور ہے اور بَرَکت لینے کی جگہ کچھ اور۔ (مرآۃ المناجیح ، 6 / 63)
کھانے کی پانچ سُنّتیں
پیارے پیارے اسلامی بھائیو! پیش کردہ حدیثِ مُبارَک میں کھانے کی پانچ سُنّتیں بَیان کی گئی ہیں : (1(اپنے آگے سے کھائے ( (2کوئی ساتھ کھا رہا ہو اُس کے آگے سے نہ کھائے ( (3رِکابی کے درمِیان سے نہ کھائے ( (4 پہلے دسترخوان اُٹھا یا جائے اِس کے بعد کھانے والے اٹھیں۔ (افسوس !آج کل عُمُوماً الٹا انداز ہے یعنی پہلے کھانے والے اُٹھتے ہیں اِسکے بعد دسترخوان اُٹھایا جاتا ہے) ( (5دوسرے بھی کھانے میں شامل ہوں تو اُس وقت تک ہاتھ نہ روکے جب تک سارے فارِغ نہ ہو جائیں۔ افسوس! کہ کھانے کی بَیان کردہ ان سُنَّتوں پر عمل کرنے والے اب نظر ہی نہیں آتے۔ سنَّتیں سیکھنے اور عوامُ النّاس کی موجودگی میں سنَّتوں پرعمل کی جھجک اُڑانے کیلئے دعوتِ اِسلامی کے سُنَّتوں کی تربیَّت کے مَدَنی قافِلوں میں سفر کیجئے اور وہاں ان سُنَّتوں کی باقاعِدہ مَشق کیجئے۔ اِن شا ءَ اللہ الکریم مَدَنی قافِلوں میں سفر کی بَرَکت سے سُنّتوں پر عمل کرنا بَہُت آسان ہوجائے گا۔
ڈراؤنے خوابوں سے نجات
مَدَنی قافِلوں کی بَرَکتوں کے تو کیا کہنے! ایک اسلامی بھائی کو بے حد ڈراؤنے خواب آیا کرتے تھے۔ اُنہوں نے عاشِقان رسول کے ساتھ دعوتِ اسلامی کے سنُّتوں کی تربیَّت کے 30دن کے مَدَنی قافِلے میں سفر کی سعادَت حاصِل کی۔ اَلحمدُ لِلّٰہ! مَدَنی قافلے کی بَرَکت سے ڈراؤنے خواب آنے بند ہو گئے ، اُنہیں خواب میں میٹھے مدینے کی زیارت ہوئی اور اب خوابوں میں کبھی اپنے آپ کو نَماز میں مشغول پاتے ہیں تو کبھی تلاوت میں۔
خواب میں ڈر لگےبوجھ دل پر لگے خوب جلوے مِلیں قافِلے میں چلو
ہوں گی حل مشکلیں قافِلے میں چلو پاؤ گے راحتیں قافِلے میں چلو
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب صَلَّی اللهُ علٰی مُحَمَّد
پیارے پیارے اسلامی بھائیو! یا مُتَکَبِّرُ 21بار اوّل آخِر ایک بار دُرُود شریف سوتے وقت پڑھ لیں گے تو اِن شا ءَ اللہ الکریم ڈراؤنے خواب نہیں آ ئیں گے۔