دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Khamosh Shehzada | خاموش شہزادہ

Khamoshi Ki Barkat Se Deedar e Mustafa

book_icon
خاموش شہزادہ

{1} خاموشی کی بَرَکت سے دیدارِمصطَفٰے

ایک اسلامی بہن کی تحریر کا لُبِّ لُباب ہے:  دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی طرف سے جاری کردہ خاموشی کی اَھَمِّیَّت پر مبنی سنّتوں بھرے بیان  کی کیسٹ سُن کر میں نے زَبان کے قفلِ مدینہ کی ترکیب شروع کی یعنی خاموشی کی عادت ڈالنے کا سلسلہ کیا ،    تین ہی د ن میں مجھے اندازہ ہوگیا کہ پہلے میں کس قَدَر فالتو باتیں کیاکرتی تھی!  اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ خاموشی کی بَرَکت سے مجھے اچّھے اچّھے خواب نظر آنے  لگے ،   فُضُول گوئی سے بچنے کی کوشش کے تیسرے دن میں نے مکتبۃُ المدینہ کی جاری کردہ سنّتوں بھرے بیان کی ایک مزید آڈیوکیسٹ بنام  ’’اِطاعت کسے کہتے ہیں ‘‘   سُنی۔  رات جب سوئی تو اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کیسٹ میں بیان کردہ ایک واقِعہ مجھے خواب میں دکھائی دینے لگا!  ’’جنگ کا نقشہ تھا،   سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  دشمن کی جاسوسی  کے لیے حضرتِ سیِّدُنا حذُیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو  روانہ کرتے ہیں ،   وہ کُفّار کے  خَیموں کے پاس پہنچتے ہیں تو انہیں کُفّار کے سردار حضرت ابوسُفیان   (جو ابھی تک مسلمان نہیں ہوئے تھے)  کھڑے ہوئے نظر آتے ہیں ،  موقع غنیمت جانتے ہوئے سیِّدُناحُذَیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کما ن پر تیر چڑھالیتے ہیں کہ انہیں سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا حکم یاد آتا ہے  (جس کا مفہوم ہے: کوئی چھیڑ چھاڑ مت کرنا)  چُنانچِہ اپنے مَدَنی امیر کی اطاعت کرتے ہوئے تیر چلانے سے باز رہتے ہیں ،   پھر حاضِر ہوکر تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمتِ بابَرَکت میں کارکردگی پیش کرتے ہیں۔   اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ   مجھے اس خواب میں سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اوردوصَحابۂ کِرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی خوب واضِح طور پر زِیارت نصیب ہوئی ،   باقی سب مناظِر دُھندلے نظر آرہے تھے۔  ‘‘ مزید لکھا ہے:  اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ!  صرف تین دن کی فُضُول گوئی سے بچنے کی کوشِش سے مجھ پر آقائے دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا بَہُت بڑا کرم ہوگیا ،   بس میری تمنّاہے کہ کبھی بھی میری زَبان سے کوئی فالتو لفظ نہ نکلے۔  آپ دعا کیجئے کہ میں اپنی اس کوشِش میں کامیاب ہوجاؤں ۔   
خصوصاً اسلامی بہنوں کواس خوش نصیب اسلامی بہن پر کافی رشک آرہا ہوگا۔   کسی اسلامی بہن کا خاموشی اختیار کرناواقِعی بَہُت بڑی بات ہے کیوں کہ مَردوں کے مقابلے میں عُمُوماً عورَتیں زیادہ بولتی ہیں ۔  
 اللہ  زَباں  کا  ہو  عطا  قفلِ  مدینہ
میں کاش ! زباں پر لوں لگا قفلِ مدینہ (وسائلِ بخشِش ص۶۶) 
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

{2} عَلاقے میں مَدَنی ماحول بنانے میں خاموشی کاکردار

ایک اسلامی بھائی نے سگِ مدینہ عُفِیَ عَنْہُ  کو جو مکتوب بھیجا اُس کا لُبِّ لُباب ہے کہ ’’دعوتِ اسلامی‘‘  کے سنّتوں بھرے اجتِماع میں خاموشی کے مُتَعَلِّق سنّتوں بھرا بیان  سننے سے پہلے میں مَدَنی ماحول سے وابستہ ہونے کے باوُجُود میں بَہُت فُضُول گو تھا ،   دُرُودشریف کی کوئی خاص کثرت نہ تھی۔ جب سے چُپ رہنے کی کوشِش شُروع کی ہے،   روزانہ ایک ہزار دُرُودشریف پڑھنا نصیب ہورہاہے ۔   ورنہ میرا انمول وَقت اِدھر اُدھر کی فُضول بَحثوں میں برباد ہو جاتا تھا۔ بارہ دن میں پڑھے ہوئے 12 ہزار دُرُود شریف کا ثواب آپ کوتُحفتاً پیش (یعنی ایصالِ ثواب)  کرتاہوں ۔   مزید عرض ہے کہ میرے باتُونی مزاج کے باعث ہونے والی کَجْ بَحثی  (یعنی الٹی سیدھی باتوں ) کی نُحُوست سے ہمارے ذَیلی حلقے میں دعوتِ اسلامی کے مَدَنی کام کو بھی نقصان پہنچ جاتاتھا۔  پچھلے دنوں ہمارے حلقے میں آپس کا اختِلاف نمٹانے کے لیے مَدَنی مشورہ ہوا،   حیرت بالائے حیرت کہ میری خاموشی کے سبب اَلْحَمْدُلِلّٰہ سارا جھگڑا بَآسانی خَتْم ہو گیا۔   ہمارے  ’’ نگرانِ پاک‘‘ نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے مجھ سے بے تکلُّفی میں کچھ اس طرح فرمایا :    ’’ مجھے بَہُت ڈرلگ رہا تھا کہ شاید آپ بحث شُروع کریں گے اور بات کا بتنگڑ بن جائے گا لیکن آپ کے خاموشی اپنانے کی نعمت نے ہمیں راحت بخشی۔  ‘‘ دراصل بات یہ ہے کہ اِس سے قَبل مجھ نالائق کی فُضُول بحث اوربک بک کی عادتِ بد کے سبب  ’’ مَدَنی مشورے‘‘  وغیرہ کا ماحول خَراب ہوجایا کرتا تھا۔  

مَدَنی کاموں کیلئے مَدَنی ہتھیار

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  دیکھا آپ نے؟  فُضُول باتوں سے بچنا مَدَنی کاموں کیلئے کس قدر مفیدہے۔   لہٰذا جو سنّتوں کا مبلِّغ ہے اُسے تو ہر حال میں سنجیدہ اورکم گو ہونا چاہیے۔   جو بَڑ بَڑیا،  باتُونی ،   دوسروں کی بات کاٹنے والا،   بار بار بیچ میں بول پڑنے والا ،   بات بات پر بحث و تکرار کرنے اور ’’ بال کی کھال‘‘  اُتارنے والا ہو اُس کی وَجہ سے دین کے کام کو نقصان پہنچنے کا سَخت اندیشہ رہتا ہے،   کیوں کہ خاموشی جو کہ شیطان کو مار بھگانے کا    ’’  مَدَنی ہتھیار‘‘  ہے اِس سے یہ بد نصیب محروم ہے۔  حضرتِ سیِّدُنا ابو ذَرغِفاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو وصیَّت کرتے ہوئے تاجدارِ رِسالت،   مصطَفٰے جانِ رَحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا:  ’’خاموشی کی کثرت کو لازِم کر لو کہ اس سے شیطان دَفْع ہو گا اور تمہیں دین کے کاموں میں مدد ملے گی۔ ‘‘  (شُعَبُ الْاِیمان ج۴ ص۲۴۲حدیث۴۹۴۲) 
اللہ اِس سے پہلے ایماں پہ موت دے دے
               نقصاں مِرے سبب سے ہوسنّتِ نبی  کا (وسائلِ بخشِش ص۱۰۸) 
 صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

{3} گھر میں مَدَنی ماحول بنانے میں خاموشی کا کردار

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بے ضَرورت بات ،   ہنسی مذاق،   اورتُوتَڑاق کی عادات نکال دینے سے گھر میں بھی آپ کا وقاربُلند ہوگااور جب گھر کے افراد آپ کے سنجیدہ پن سے مُتأَثِّر (مُ۔ تَ۔ اَث۔ ثِر) ہوں گے توان پر آپ کی ‘’ نیکی کی دعوت’‘ بَہُت جلد اثر کرے گی اور گھر میں مَدَنی ماحول نہ ہوا تو بنانے میں آسانی ہوجائے گی ۔   چُنانچِہ ’’دعوتِ اسلامی‘‘  کے سنّتوں بھرے اجتِماع میں خاموشی کی اَھَمِّیَّت پر کیا ہوا ایک سنّتوں بھرا بیان سُن کر ایک اسلامی بھائی نے جو تحریر دی اُس کاخُلاصہ ہے:  سنّتوں بھرے بیان میں دی گئی ہدایت کے مطابِق اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  مجھ باتُونی آدَمی نے خاموشی کی عادت ڈالنی شروع کردی ہے،   سُبْحٰنَ اللہ! اس کا مجھے بے حدفائدہ پہنچ رہا ہے،   میرے ابوالفضول ہونے کی وجہ سے گھر کے افراد مجھ سے بدظن تھے مگر جب سے چُپ رَہنا شروع کیا ہے،   گھر میں میری  ’’پوزیشن‘‘ بن گئی ہے اورخُصُوصاً میری پیاری پیاری ماں جو کہ مجھ سے خوب بیزار رہا کرتی تھیں اب بے حد خوش ہوگئی ہیں ،  چُونکہ پہلے میں بَہُت ‘’  بکّی’‘  تھا لہٰذا میری اچّھی باتیں بھی بے اثر ہو جاتی تھیں مگر اب میں امّی جان کو جب کوئی سنَّت وغیرہ بتاتاہوں تو وہ نہ صِرْف دلچسپی سے سنتی ہیں بلکہ عمل کرنے کی بھی کوشِش کرتی ہیں ۔  
 بڑھتا ہے خَموشی سے وقار اے مرے پیارے
اے بھائی!  زَباں پر تُو لگا قفلِ مدینہ (وسائلِ بخشِش ص۶۶) 
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

’’ یا ربِّ کریم ! ہمیں متّقی بنا ‘‘ کے اُنّیس حُرُوف کی نسبت سے گھر میں ’’مَدَنی ماحول‘‘ بنانے کے 19مَدَنی پھول

 {1}   گھر میں آتے جاتے بلند آواز سے سلام کیجئے۔  
 {2} والِدہ یا والِدصاحِب کو آتے دیکھ کرتعظیماً کھڑے ہو جایئے ۔  
 {3}   دن میں کم از کم ایک بار اسلامی بھائی والِدصاحِب کے اور اسلامی بہنیں ماں کے ہاتھ اور پاؤں چوما کریں ۔  
 {4}   والِدَین کے سامنے آواز دھیمی رکھئے،  ان سے آنکھیں ہرگز نہ ملائیے،   نیچی نگاہیں رکھ کر ہی بات چیت کیجئے۔  
 {5} ان کا سونپا ہوا ہر وہ کام جو خِلافِ شَرع نہ ہو فورا ًکر ڈالئے ۔  
 {6} سنجیدگی اپنایئے۔  گھر میں تُو تُکار،   اَبے تَبے اور مذاق مسخری کرنے،   بات بات پر غصّے ہو جانے،   کھانے میں عیب نکالنے ،   چھوٹے بھائی بہنوں کو جھاڑنے ،   مارنے ،   گھرکے بڑوں سے اُلجھنے ،   بحثیں کرتے رہنے کی اگر آپ کی عادَتیں ہوں تو اپنا رَوَیّہ یکسر تبدیل کر دیجئے ،  ہر ایک سے مُعافی تَلافی کر لیجئے ۔   
 {7} گھر میں اور باہر ہر جگہ آپ سنجیدہ ہو جائیں گے تو اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ گھر کے اندر بھی ضَرور اِس کی بَرَکتیں ظاہِر ہوں گی۔  
 {8} ماں بلکہ بچّوں کی امّی ہو تو اُسے نیز گھر  (اور باہَر) کے ایک دن کے بچّے کو بھی    ‘’  آپ ‘‘ کہہ کر ہی مخاطِب ہوں ۔  
 {9}  اپنے مَحَلّے کی مسجِدمیں عشاء کی جماعَت کے وَقت سے لے کر دوگھنٹے کے اندر اندر سو جایئے ۔   کاش ! تہجُّد میں آنکھ کُھل جائے ورنہ کم از کم نَماز ِفجر تو بآسانی  (مسجِد کی پہلی صَف میں باجماعت ) مُیَسَّر آئے اور پھر کا م کاج میں بھی سُستی نہ ہو ۔  
 {10}  گھرکے افراد میں اگر نَمازوں کی سُستی ،  بے پردَگی ،  فلموں ڈِراموں اور گانے باجوں کا سلسلہ ہو اور آپ اگر سرپرست نہیں ہیں ،  نیز ظنِّ غالب ہے کہ آپ کی نہیں سُنی جا ئے گی تو بار بار ٹَوکاٹَوک کے بجائے،  سب کو نَرمی کے ساتھ مکتبۃُ المدینہ سے جاری شُدہ سنّتوں بھر ے بیانا ت کی آڈیوکیسٹیں ،  آڈیو /  وِڈیوسی ڈیز سنایئے دکھائیے،   مَدَنی چینل دکھایئے۔  اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ’’ مَدَنی نتا ئج’‘  برآمد ہوں گے۔  
 {11} گھر میں کتنی ہی ڈانٹ بلکہ ما ر بھی پڑے ،  صَبرصَبراور صَبر کیجئے۔ اگر آپ زَبان چلائیں گے تو  ’’ مَدَنی ماحول ‘‘  بننے کی کوئی اُمّید نہیں بلکہ مزید بِگاڑ پیدا ہو سکتا ہے کہ بے جا سختی کرنے سے بسا اوقات شیطان لوگو ں کوضِدّی بنا دیتا ہے۔  
 {12} مَدَنی ماحول بنانے کا ایک بہترین ذَرِیعہ یہ بھی ہے کہ گھر میں روزانہ فیضا نِ سنَّت کا دَرس ضَرورضَرورضَرور دیجئے یا سنئے۔  
  {13} اپنے گھر والوں کی دنیا و آخِرت کی بہتری کے لئے دل سوزی کے ساتھ دعا بھی  کر تے رہئے کہ فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہے:  اَلدُّعاءُسِلَاحُ المُؤْ مِنِ یعنی دُعا مؤمِن کا ہتھیار ہے۔  (اَلْمُستَدرَک لِلْحاکِم ج۲ ص ۱۶۲ حدیث۱۸۵۵) 
 {14} سُسرال میں رہنے والیا ں جہاں گھر کا ذِکر ہے وہاں سُسرال اور جہاں والِدَین کاذِکر ہے وہاں ساس اورسُسَر کے ساتھ وُہی حُسنِ سُلو ک بجا لائیں جبکہ کوئی مانِعِ شَرعی نہ ہو۔  ہاں یہ احتیاط ضروری ہے کہ بہو سسر کے ہاتھ پاؤں نہ چومے ،  یونہی داماد ساس کے۔  
 {15} مسائلُ القُر اٰن صَفحَہ290پر ہے : ہر نَماز کے بعد یہ دُعا اوّل وآخِر دُرود شریف کے ساتھ ایک بار پڑھ لیجئے،   اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ بال بچے سنّتوں کے پابند بنیں گے اور گھر میں مَدَنی ماحول قائم ہو گا ۔  (دعا یہ ہے: )  (اَللّٰھُمَّرَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّةَ اَعْیُنٍ وَّ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا (۷۴)       ( ’’ اَللّٰھُمَّ ‘‘    آیتِ قراٰنی کا حصّہ نہیں )  
 {16} نافرمان بچّہ یا بڑا جب سویا ہوتو 11یا21دن تک اُس کے سِرہانے کھڑے ہو کر یہ آیاتِ مبارکہ صرف ایک بار اتنی آواز سے پڑھئے کہ اُس کی آنکھ نہ کُھلے : 
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ط  فِیْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ۠ (۲۲)   
       (اوّل،  آخِر،  ایک مرتبہ دُرُود شریف) یاد رہے!  بڑا نافرمان ہو تو سوتے سوتے سرہانے وظیفہ پڑھنے میں اس کے جاگنے کا اندیشہ ہے خصوصاً جب کہ اس کی نیند گہری نہ ہو ،  یہ پتا چلنا مشکل ہے کہ صرف آنکھیں بندہیں یا سور ہا ہے لہٰذا جہاں فتنے کا خوف ہو وہاں یہ عمل نہ کیا جائے خاص کر بیوی اپنے شوہر پر یہ عمل نہ کرے ۔   
 {17}  نیز نافرمان اولاد کو فرماں بردار بنانے کے لیے تاحُصُولِ مُرادنَمازِ فَجر کے بعد آسمان کی طرف رُخ کر کے  ’’ یَاشَھِیْدُ‘‘  21بار پڑھئے۔   (اوّل وآخِر،   ایک بار دُرُود شریف) 
 {18} مَدَنی اِنعامات کے مطابِق عمل کی عادت بنایئے اورگھر کے جن افراد کے اندرنَرم گوشہ پائیں اُن میں اور آپ اگر باپ ہیں تو اَولاد میں نرمی اور حکمتِ عملی کے ساتھ مَدَنی اِنعامات کا نِفاذ کیجئے،   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رَحمت سے گھر میں مَدَنی انقِلاب برپا ہو جا ئے گا۔  
 {19} پابندی سے ہر ماہ کم از کم تین دن کے مَدَنی قافِلے میں عاشِقانِ رسول کے ساتھ سنّتوں بھرا سفر کر کے گھر والوں کیلئے بھی دعا کیجئے ۔   مَدَنی قافِلے میں سفر کی بَرَکت سے بھی گھروں میں مَدَنی ماحول بننے کی ’’ مَدَنی بہاریں ‘‘  سننے کو ملتی ہیں ۔  
    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بیان کواختتام کی طرف لاتے ہوئے سنت کی فضیلت اور چند سنتیں  اور آداب بیان کرنے کی سعادَت حاصِل کرتا ہوں ۔   تاجدارِ رسالت،   شَہَنشاہِ  نُبُوَّت،   مصطَفٰے جانِ رَحمت،  شَمعِ بزمِ ہدایت ،  نَوشَۂ بز م جنت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ جنت نشان ہے:  جس نے میری سنت سے  مَحَبَّت کی اُس نے مجھ سے مَحَبَّت کی ا و ر  جس نے مجھ سےمَحَبَّت کی وہ  جنت  میں میرے ساتھ ہو گا ۔         (اِبنِ عَساکِر ج۹ص۳۴۳) 
سینہ تری سنّت کا مدینہ بنے آقا
جنت میں پڑوسی مجھے تم اپنا بنانا
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

’’ مسواک کرنا سنّت مبارکہ ہے ‘‘ کے بیس حُرُوف کی نسبت سے مِسواک کے 20 مَدَنی پھول

پہلے دو فَرامینِ مصطَفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ملاحظہ ہوں :  ٭دو رَکعت مِسواک کر کے پڑھنا غیرمِسواک کی 70 رَکعتوں سے اَفضل ہے (اَلتَّرغِیب وَالتَّرہِیب  ج۱ ص۱۰۲ حدیث۱۸) ٭مِسواک کا اِستعمال اپنے لئے لازِم کر لو کیونکہ اِس میں منہ کی صفائی اور رب تعالیٰ کی رِضا کا سبب ہے  (مُسندِ اِمام احمد بن حنبل ج۲ ص۴۳۸حدیث ۵۸۶۹) ٭ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ  بہارِ شریعت  جلد اوّل صَفْحَہ 288پرصدرُ الشَّریعہ ،  بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی لکھتے ہیں ،  مَشایخ کِرا م فرماتے ہیں :  جو شخص مِسواک کا عادی ہو مرتے وَقت اُسے کلِمہ پڑھنا نصیب ہوگا  اور جو اَفیون کھاتا ہو مرتے وَقت اسے کلِمہ نصیب  نہ ہوگا٭حضرتِ سیِّدُنا ابنِ عبّاس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ مِسواک میں دس خوبیاں ہیں : منہ صاف کرتی ،   مَسُوڑھے کو مضبوط بناتی ہے،   بینائی بڑھاتی ،   بلغم دُور کرتی ہے ،   منہ کی بدبو ختم کرتی ،   سنّت کے مُوافِق ہے ،  فرشتے خوش ہوتے ہیں ،   رب راضی ہوتا ہے،   نیکی بڑھاتی اور معدہ دُرُست کرتی ہے  (جَمْعُ الْجَوامِع لِلسُّیُوطی ج۵ ص۲۴۹حدیث ۱۴۸۶۷) ٭ حضرتِ سیِّدُنا عبدا لوہّاب شَعرانی قُدِّسَ سرُّہُ النُّورانی نقل کرتے ہیں :  ایک بار حضرت ِسیِّدنا ابو بکر شبلی بغدادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی کو وضو کے وَقت مِسواک کی ضَرورت ہوئی،   تلاش کی مگر نہ ملی،  لہٰذا ایک دینار  (یعنی ایک سونے کی اشرفی)  میں مِسواک خرید کر استعمال فرمائی۔  بعض لوگوں نے  کہا :  یہ تو آپ نے بَہُت زیادہ خرچ کر ڈالا!  کہیں اتنی مہنگی بھی مِسواک لی جاتی ہے؟ فرمایا : بیشک یہ دنیا اور اس کی تمام چیزیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک مچھّر کے پر برابر بھی حیثیَّت نہیں رکھتیں ،  اگر بروزِ قِیامت اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مجھ سے یہ پوچھ لیا تو کیا جواب  دوں گا کہ :  ’’  تو نے میرے پیارے حبیب کی سنّت  (مِسواک)  کیوں ترک کی؟ جو مال و دولت میں نے تجھے دیاتھااُس کی حقیقت تو (میرے نزدیک)   مچھر کے پر برابر بھی نہیں تھی ،  تو آخر ایسی حقیر دولت اِس عظیم سنّت  ( مِسواک)  کو حاصل کرنے پر کیوں خرچ نہیں کی؟ ‘‘  (مُلَخَّص ازلواقح الانوار ص ۳۸) ٭سیِّدنا امام شافِعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں : چار چیزیں عقل بڑھاتی ہیں :  فضول باتوں سے پرہیز،  مِسواک کا استِعمال،  صُلَحا یعنی نیک لوگوں کی صحبت اور اپنے علم پر عمل کرنا (حیاۃُ الحیوان ج ۲ص۱۶۶) ٭ مِسوا ک  پیلو یا زیتون یا نیم وغیرہ کڑوی لکڑی کی ہو٭مِسواک کی موٹائی چھنگلیا یعنی چھوٹی اُنگلی کے برابر ہو٭ مِسوا ک ایک بالِشت سے زیادہ لمبی نہ ہو ورنہ اُس پر شیطان بیٹھتا ہی٭ اِس کے رَیشے نرم ہوں کہ سخت رَیشے دانتوں اور مَسُوڑھوں کے درمیان خَلا  (GAP)  کا باعث بنتے ہیں ٭ مِسواک تازہ ہوتوخوب (یعنی بہتر)  ورنہ کچھ دیر پانی کے گلاس میں بِھگَو کر نرم کرلیجئے٭ مناسب ہے کہ اِس کے رَیشے روزانہ کاٹتے رہئے کہ رَیشے اُس وقت تک کارآمد رہتے ہیں جب تک ان میں تَلخی باقی رہے ٭ دانتوں کی چَوڑائی میں مِسواک کیجئی٭ جب بھی مِسواک کرنی ہو کم از کم تین بار کیجئے ٭ ہر بار دھو لیجئے٭مِسواک سیدھے ہاتھ میں اِس طرح لیجئے کہ چھنگلیا یعنی چھوٹی اُنگلی اس کے نیچے اور بیچ کی تین اُنگلیاں اُوپر اور انگوٹھا سِرے پر ہو٭پہلے سیدھی طرف کے اوپر کے دانتوں پر پھر اُلٹی طرف کے اوپر کے دانتوں پر پھر سیدھی طرف نیچے پھر اُلٹی طرف نیچے مِسواک کیجئے ٭ مٹھی باندھ کرمِسواک کرنے سے بواسیر ہوجانے کا اندیشہ ہے ٭ مِسواک وضو کی سنَّتِ قَبلیہ ہے البتّہ سنَّتِ مُؤَکَّدَہ اُ سی وقت ہے جبکہ منہ میں بدبو ہو  ( ما خوذ از فتاویٰ رضویہ ج۱ ص ۶۲۳ )  
٭ مِسواک جب ناقابلِ اِستعمال ہوجائے تو پھینک مت دیجئے کہ یہ آلۂ ادائے سنّت ہے،   کسی جگہ اِحتیاط سے رکھ دیجئے یا دَفن کردیجئے یا پتھروغیرہ وزن باندھ کر سمندر میں ڈبود یجئے۔    
     ( تفصیلی معلومات کیلئے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ بہارِ شریعت جلد اوّل صفحہ294تا295کا مطالعہ فرما لیجئے ) 
     ہزاروں سنتیں  سیکھنے کے لئے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ دو کتب  (۱)  312 صفحات پر مشتمل کتاب ’’بہارِ شریعت‘‘ حصّہ16 اور (۲)  120صفحات کی کتاب ’’سنتیں  اور آد ا ب‘‘ ہد یَّۃً حاصل کیجئے اور پڑھئے۔  سنتوں کی تربیّت کا ایک بہترین ذَرِیعہ دعوت اسلامی کے مَدَنی قافلوں میں عاشِقانِ رسول کے ساتھ سنتوں بھرا سفر بھی ہے۔  
لوٹنے رَحمتیں قافلے میں چلو سیکھنے سنتیں  قافلے میں چلو
ہوں گی حل مشکلیں قافلے میں چلو ختم ہوں شامتیں قافِلے میں چلو
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ایک چپ سو سکھ
غمِ مدینہ و بقیع و مغفرت و
بے حساب  جنّت الفردوس  میں آقا کے پڑوس کا طالب
         
یکم محرم الحرم ۱۴۳۳ھ

یہ رسالہ پڑھ کر دوسرے کو دے دیجئے

شادی غمی کی تقریبات،  اجتماعات،  اعراس اور جلوسِ میلاد و غیرہ میں مکتبۃ المدینہ کے شائع کردہ رسائل اور مدنی پھولوں پر مشتمل پمفلٹ تقسیم کرکے ثواب کمائیے ،   گاہکوں کو بہ نیتِ ثواب تحفے میں دینے کیلئے اپنی دکانوں پر بھی رسائل رکھنے کا معمول بنائیے ،   اخبار فروشوں یا بچوں کے ذریعے اپنے محلے کے گھر گھر میں ماہانہ کم از کم ایک عدد سنتوں بھرا رسالہ یا مدنی پھولوں کا پمفلٹ پہنچاکر نیکی کی دعوت کی دھومیں مچائیے اور خوب ثواب کمائیے۔ 

ماخذ ومراجع

کتاب مطبوعہ کتاب مطبوعہ
قراٰن پاک مکتبۃالمدینہ باب المدینہ کراچی مراٰۃ المناجیح ضیاء القراٰن پبلی کیشنز مرکز الاولیاء لاہور
 ترجمۂ کنزالایمان مکتبۃالمدینہ باب المدینہ کراچی اتحاف السادۃ دار الکتب العلمیۃ بیروت
صحیح بخاری دار الکتب العلمیۃ بیروت احیاء العلوم دارصادر بیروت
سنن ترمذی دار الفکر بیروت  مستطرف دار الفکر بیروت
مسند امام احمد دار الفکر بیروت  القول البدیع مؤسسۃ الریان بیروت
السنن الکبری  دار الکتب العلمیۃ بیروت تنبیہ الغافلین دار الکتاب العربی بیروت
المستدرک دار المعرفۃ بیروت منہاج العابدین دار الکتب العلمیۃ بیروت
شعب الایمان دار الکتب العلمیۃ بیروت تاریخ بغداد دار الکتب العلمیۃ بیروت
الفردوس بماثور الخطاب دار الکتب العلمیۃ بیروت تاریخ دمشق دار الفکر بیروت
جمع الجوامع دار الکتب العلمیۃ بیروت کشف المحجوب نوائے وقت پرنٹر ز مرکز الاولیاء لاہور
الصمت مع موسوعۃابن ابی الدنیا المکتبۃ العصریۃ بیروت المنبہات پشاور
شرح السنۃ دار الکتب العلمیۃ بیروت لواقح الانوار داراحیاء التراث العربی بیروت
حصن حصین المکتبۃ العصریۃ بیروت فتاوٰی رضویہ رضا فاؤنڈیشن مرکز الاولیاء لاہور
مناقب احمد بن حنبل دار ابن خلدون بیروت بہارِ شریعت مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی
مرقاۃ المفاتیح دار الفکر بیروت  وسائل بخشش مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن