دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Khamosh Shehzada | خاموش شہزادہ

Ek Sahabi Ke Jannati Hone Ka Raaz

book_icon
خاموش شہزادہ

ایک صَحابی کے جنَّتی ہونے کا راز

ہمارے میٹھے میٹھے آقا،   مکّی مَدَنی مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  اللہ عَزَّوَجَلَّ  کی عطاسے لوگوں کو دیکھ کر ہی پہچان لیتے تھے کہ یہ جنَّتی ہے یا جہنَّمی بلکہ آنے والے کی پہلے ہی سے خبر ہوجاتی کہ وہ جنَّتی ہے یا دَوزَخی،  چُنانچِہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحبوب ،   دانائے غُیُوب  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا:  ’’  جو شخص سب سے پہلے اس دروازے سے داخِل ہو گاوہ  جنَّتی  ہو گا۔ ‘‘ اِتنے میں حضرتِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن سلام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ دروازے سے داخِل ہوئے،   لوگوں نے ان کو مبارَکباد دیتے ہوئے دریافت کیا کہ آخِر کس عمل کے سبب آپ کو یہ سعادت ملی ؟ سیِّدُنا  عبداللّٰہ بن سلام  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:  میرا عمل بَہُت ہی تھوڑا ہے اور جس کی میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے امّید رکھتا ہوں وہ میرے  سینے کی سلامتی اور بے مقصد باتوں کو چھوڑنا ہے ۔  (اَلصَّمْت لِابْنِ اَبِی الدُّنْیاج۷ص۸۶رقم ۱۱۱)  
اس حدیثِ پاک کے الفاظ’’ سَلامَۃُ الصَّدْر ‘‘ یعنی  ’’  سینے کی سلامَتی‘‘  سے مُراد دل کا لَغْوِیّات  (یعنی بے ہودہ )  اورحَسَد وغیرہ اَمراضِ باطِنِیَّہ سے پاک ہونا اور دل میں ایمان کا مضبوطُ و مُسَتحکَم ہونا ہے ۔ 
رفتار کا گُفتار کا کردار کا  دے دے
          ہر عُضو کا دے مجھ کو خدا  قفلِ مدینہ (وسائلِ بخشِش ص۶۶) 
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

فُضُول باتوں کی مِثالیں

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  ’’  فُضُول باتیں ‘‘   اگر چِہ گناہ نہیں تاہم اِس میں کوئی بھلائی بھی نہیں ۔    سُبْحٰنَ اللہ ! حضرتِ سیِّدُنا عبدُاللّٰہ بن سلام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو زَبانِ رسالت سے دُنیا ہی میں جنَّت کی بِشارت  عنایت ہوگئی!  آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ میں ایک خوبی یہ بھی تھی کہ کبھی  فُضُول باتوں میں نہیں پڑتے تھے ،    جس کام سے واسِطہ نہ ہوتا اُس کے بارے میں پوچھتے تک نہیں تھے،   لیکن افسوس ! ہمارا جن مُعامَلات سے دُور کا بھی تعلُّق نہیں ہوتا  پھر بھی اُس کی مُتَعَلِّق بے جا سُوالات کرتے ہی رہتے ہیں ۔  مَثَلاً٭ یہ کتنے میں لیا؟  وہ کِتنے میں مِلا؟  فُلاں جگہ پلاٹ کا کیا بھاؤچل رہا ہے؟ ٭کسی کے مکان میں گئے یا کسی نے نیا مکان لیا تو سُوال ہوتا ہے : کتنے کا لیا؟  کتنے کمرے ہیں ؟  کِرایہ کتنا ہے ؟ مکان  مالک کیسا ہے ؟  (یہ سُوال اکثر مَعاذَاللّٰہ غیبت و تہمت کا دروازہ کھولنے کا سبب بن جاتا ہے کیونکہ اس کا جواب عموماً بِلااجازتِ شَرْعی کچھ اس طرح گناہوں بھرا ملتا ہے:  ہمارا مکان مالک بَہُت سخت مزاج   /   بے رحم   /   ٹیڑھا   /    کھوچڑا   /    خردماغ   /   وائڑا   /    کنجوس ہے)  وغیرہ وغیرہ ٭اِسی طرح جب کوئی نئی دکان ،    کار ،    یا اسکوٹر وغیرہ خریدے توبلاوجہ خریدنے والے سے اس کا بھاؤ،   پائیداری ،   نقد،   ادھار،    قسطوں وغیرہ سے متعلِّق سُوالات کئے جاتے ہیں ٭بے چارہ مریض جس سے بولا تک نہیں جاتا ہے اُس سے بھی بعض عِیادت کرنے والے نادان انسان جیسے     ’’  ڈاکٹروں کے بھی ڈاکٹر ‘‘  ہوں یوں پورا پوراحِساب لیتے اور سب تفصیلات معلوم کرتے ہیں یہاں تک کہ ایکسرے اور لیبارٹری کی کارکردَگی بھی وُصول کرتے ہیں اور اگر آپریشن ہوا ہو تو بِلا وجہ سُوالات کے ذَرِیعے ٹانکوں کی تعدادتک پوچھ لیتے ہیں ،  حتّٰی کہ’’  شرم کی جگہ ‘‘  کا مسئلہ ہو تب بھی بعض بے شَرْم اُس کا تفصیلی اِحتِساب کرتے ہوئے نہیں شرماتے۔  اِس طرح کی فُضُولیات میں عورَتیں بھی مردوں سے کسی طرح پیچھے نہیں رہتیں ٭گرمی یا سردی کے موسِم میں اِس کی کمی زیادَتی کے موقع پر بِلا حاجت باتیں ہوتی ہیں مَثَلاً گرمی کے موسِم میں بعض ابوالفضول  ’’ اُف! اُف‘‘   کرتے ہوئے کہیں گے:  ایک تو آج کل سخت گرمی ہے اوراُوپر سے بجلی بھی بار بار چلی جاتی ہے ٭اسی طرح سردیوں میں اداکاری کے ساتھ دانت بجاتے ہوئے کہیں گے:  آج تو بَہُت کڑاکے کی سردی ہی٭ اگر بارِش کا موسِم ہے تو بِلاضَرورت اس پربھی تبصرہ (تَب۔ صِ۔ رَہ)  کیاجاتاہے مَثَلاًآج کل توبارِشیں بَہُت  ہورہی ہیں ،   ہر طرف پانی کھڑا ہوگیا ہے ،    اِنتِظامیہ کیچڑ صاف کروانے کا کوئی خیال نہیں کرتی وغیرہ وغیرہ٭ اِسی طرح ملکی اورسیاسی حالات پر بِلانیّتِ اِصلاح بے جا تبصرے ،   مختلف سیاسی پارٹیوں پر بِلا وجہ تنقیدیں ٭ کسی شہر یا ملک کا سفر کِیا ہے تو وہاں کے پہاڑوں اور سبزہ زاروں کی غیر ضَروری منظر کشی ،  مکانوں اور سڑکوں کی تفصیلات کا بِلاضَرورت بیان وغیرہ وغیرہ یہ سب فُضول گوئی نہیں تو اورکیا ہے؟ البتّہ یہ یاد رہے کہ مذکورہ بالا اُمور کے بارے میں اگر ہم کسی کو باتیں کرتا ہوا پائیں تو اپنے آپ کو بدگُمانی سے بچائیں کیونکہ بعض اوقات ظاہِری دُ نیوی باتیں بھی اچّھی نیّت کے باعث کارِ ثواب ہو جاتی ہیں یا کم ازکم فُضُولیات میں نہیں رہتیں ۔  

فُضُول گو کا جھوٹے مُبالَغے کے گناہ سے بچنا دشوار ہو تا ہے

یہ ذِہن میں رہے کہ فضول بولناگناہ نہیں مگر فُضُول گوئی صرف اُس وقت ہے جبکہ بِلا کم و کاسْتْ اور صحیح صحیح بیان کرے،   اگر جھوٹے مُبالَغے کئے تو گناہوں کی کھائی میں  جا گرا!  تشویش کی بات یہ ہے کہ اِس طرح کی گفتگو کو ناپ تول کر دُرُست بیان کرنا کہ    ’’  فُضُول گوئی‘‘   کی حد سے آگے نہ بڑھے یہ بَہُت مشکل اَمْرہوتاہے،  اکثر جھوٹے مُبالَغے ہوہی جاتے ہیں ،   فُضُول گو بار ہا غیبتوں ،    تہمتوں ،    عیب دریوں اور دل آزاریوں وغیرہ کے دَلدَل میں بھی جا پڑتا ہے۔  لہٰذا عافیَّت چُپ رہنے ہی میں ہے کہ ایک چُپ سو سُکھ۔  

کاش! بولنے سے قبل ذرا ٹھہر کر تولنے کی سعادت مل جائے

  واقِعی اگر کوئی انسان بولنے سے قبل  ’’تولنے‘‘   یعنی غور کرنے کی عادت ڈالے تو  اُسے اپنی بے شمار فُضُول باتیں خودہی محسوس ہونی شُروع ہوجائیں ! صِرْف’’  فُضُول باتیں ‘‘  ہوں تو اگر چِہ گناہ نہیں مگر کئی طرح کے نقصانات ان میں موجود ہیں مَثَلاً ان باتوں میں زَبان چلانے کی زَحْمت ہوتی اور قیمتی وَقْت برباد ہوتا ہے اگر اُتنی دیر ذِکرُ اللّٰہ یا دینی مُطالَعَہ کر لیا جائے ،  یا کوئی سنَّت بیان کر دی جائے تو ثواب کا اَنبار (اَمْ۔  بار)  لگ جائے۔   

دَہشت گردیوں کے فُضُول تذکِرے

اِسی طرح معاذَاللّٰہ کہیں دہشت گردی کی وارِدات ہو گئی تو بس لوگوں کو فُضُول بلکہ بعض صورَتوں میں گناہوں بھری بحث کیلئے ایک موضوع ہی ہاتھ آ گیا!  ہر جگہ اُسی کا تذکِرہ ،    بے سَروپا قِیاس آرائیاں ،    بے تُکے تبصرے ،   اٹکل سے کسی بھی پارٹی یا لیڈر وغیرہ پر تہمت لگا دینا وغیرہ ۔    اکثر یہ گفتگو  ’’ فضول ‘‘  ہی نہیں ،    لوگوں میں خوف و ہِراس پھیلنے کا باعِث ،    اَفواہیں گرم ہونے کا سبب اور ہنگامے برپا ہونے کی ’’  وجہ‘‘ بھی بنتی ہیں ،    دھماکوں اور دہشت گردیوں کی وارِداتیں سننے سنانے میں نفس کو بے انتِہا دلچسپی ہوتی ہے،    بسا اوقات لب پر دعا ئیہ الفاظ ہوتے ہیں مگر قلب کی گہرائیوں میں سنسنی خیز خبریں سننے سنانے کے ذَرِیعے حَظّ (یعنی مزے)  اُٹھانے اور لطف اندوز ہونے کا جذبہ چُھپا ہوتا ہے،   کاش !  نفس کی اس شرارت کو پہنچانتے ہوئے ہم دہشت گردیوں اور دھماکوں کے تذکروں میں دلچسپی لینے سے باز آ جائیں ۔    ہاں مظلومانہ شہادت پانے والوں ،    زخمیوں اور مُتأَثِّرہ مسلمانوں کی ہمدردیوں ،    خدمتوں اور امن و سلامتی کی دعاؤں سے گُریز نہ کیا جائے کہ یہ ثواب کے کام  ہیں ۔  بس جب بھی اِس طرح کی گفتگو کرنے سننے کی صورت پیدا ہو تو اپنے دل پر غور کر لینا چاہئے کہ نیَّت کیا ہے ؟ اگر اچّھی نیّت پائیں تو عمدہ اور بَہُت عمدہ ہے مگر اکثر اس قسم کی گفتگو کا حاصِل  ’’سنسنی‘‘  سے لطف اندوزی ہی پا یا جاتا ہے۔  

صدِّیقِ اکبر منہ میں پتّھر رکھ لیتے

یادرکھئے! زَبان بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عظیم نعمت ہے،   اِس کے بارے میں بھی قِیامت کے روزسُوال ہونا ہے،   لہٰذا اس کا ہرگزبے جا استعِمال نہ کیا جائے۔  سیِّدُنا صِدّیقِ اکبررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  قَطْعی جنَّتی ہونے کے باوُجُود زَبان کی آفتوں سے بے حد مُحتاط رہا کرتے تھے چُنانچِہ’’  اِحیاءُ الْعُلُوم‘‘ میں ہے:  حضرتِ سیِّدُنا ابو بکرصِدّیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے مبارَک منہ میں پتّھر رکھ لیا کرتے تھے تاکہ بات کرنے کا موقع ہی نہ رہے۔   (اِحیاءُ الْعُلوم ج۳ ص۱۳۷)  
رکھ لیتے تھے پتَّھر سُن ابوبکر دَہَن میں
اے بھائی!  زَباں پر تُو لگا قفلِ مدینہ (وسائلِ بخشِش ص۶۶) 
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

40برس تک خاموشی کی مَشق

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اگرآپ واقِعی خاموشی کی عادت بنانا چاہتے ہیں تو اِس پر سنجیدَگی سے غور کرنا ہو گا،   اور خوب مشق کرنی پڑیگی ورنہ سرسری کوشش سے زَبان پر  قفلِ مدینہ لگنا دشوار ہے۔  زَبان کے بے جا استعمال کی تباہ کاریوں سے خود کو ڈراتے ہوئے خاموشی کی عادت بنانے کی بھر پور سعی فرمایئے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔  مگر کوشِش استِقامت کے ساتھ ہونی چاہئے۔  آئیے !  ایک کوشش کرنے والے کی استقامت کی حکایت سنتے ہیں ،  حضرت سیِّدُنا اَرطاہ بن مُنذِر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ایک شخص چالیس سال تک خاموش رہنے کی اس طرح  ’’ مَشق‘‘   کرتا رہا کہ اپنے منہ میں پتّھر رکھتا،  یہاں تک کہ کھانے یا پینے یا سونے کے علاوہ وہ پتّھر منہ سے نہ نکالتا۔  (اَلصَّمْت لِابْنِ اَبِی الدُّنْیاج۷ص۲۵۶رقم۴۳۸)   یاد رہے!  پتّھر اتنا چھوٹا نہ ہو کہ حَلْق سے نیچے اُتر کر کسی بڑی مشکل میں ڈالدے نیز روزے کی حالت میں منہ میں پتّھر نہ رکھا جائے کہ اِس کی مِٹّی وغیرہ حَلْق میں جا سکتی ہے۔ 

گفتگو لکھ کر مُحاسَبہ کرنے والے تابِعی بُزُرگ

حضرت ِ سیِّدنارَبِیع بن خُثَیْم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ الکَرِیم یبیس سال تک دُنیاوی بات زَبان سے نہیں کی،   جب صُبْح ہوتی تو قلم دَوات اور کاغذ لے لیتے اور دن بھر جو بولتے اُسے لکھ لیتے اور شام کو  (اُس لکھے ہوئے کے مطابق) اپنا مُحاسَبہ فرماتے۔  (اِحیاءُ الْعُلوم ج ۳ص۱۳۷)  

بات چیت کے مُحاسبے کا طریقہ

اپنا ’’ محاسَبہ‘‘   کرنے سے مُراد یہاں یہ ہے کہ اپنی ہر ہر بات پر غور کر کے اپنے آپ سے بازپُرس کرنا مَثَلاً فُلاں بات کیوں کی؟  اُس مقام پر بولنے کی کیا حاجت تھی؟   فُلاں گفتگو  (گُفت۔ گُو)  اتنے الفاظ میں بھی نمٹائی جا سکتی تھی مگر اس میں فُلاں فُلاں لفط زائد کیوں بولے؟  فُلاں سے جو جملہ تم نے کہا وہ شَرعی اجازت سے نہ تھا بلکہ دل آزار طنز تھا،    اُس کا دل دُکھا ہو گا اب چلو توبہ بھی کرو اور اُس اسلامی بھائی سے مُعافی بھی مانگو،   اُس بیٹھک میں کیوں گئے جب کہ معلوم ہے کہ وہاں فُضُول باتیں بھی ہوتی ہیں اور فُلاں فُلاں بات میں تم نے ہاں میں ہاں کیوں ملائی تھی؟ وہاں تمہیں غیبت بھی سننی پڑ گئی تھی بلکہ تم نے غیبت سننے میں دلچسپی بھی لی تھی چلو پکّی توبہ اور ایسی بیٹھکوں سے دُور رہنے کا بھی عہد کرو۔   اِس طرح سمجھدار آدمی اپنی گفتگو بلکہ روز مرّہ کے جملہ مُعامَلات کا مُحاسَبہ کر سکتا ہے۔   یوں گناہ،    بے اِحتیاطیاں ،   اپنی بَہُت ساری کمزوریاں اور خامیاں سامنے آ سکتیں اور اِصلاح کا سامان ہو سکتا ہے۔   دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول میں محاسبے کو فکرِ مدینہ کہتے ہیں اور دعوتِ اسلامی میں روزانہ کم ازکم 12مِنَٹ فکرِ مدینہ کرنے اور اِس دوران مَدَنی اِنعامات کا رسالہ پُر کر نے کا ذِہْن دیا جاتا ہے۔  
ذِکر و دُرُود ہر گھڑی وِردِ زَباں رہے
میری فُضُول گوئی کی عادت نکال دو  (وسائلِ بخشِش ص۱۶۴) 
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

عُمَر بن عبدالعزیز پھوٹ پھوٹ کر روئے

حضرتِ سیِّدُنا ابو عبدُاللّٰہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے ہیں کہ میں نے سنا کہ ایک  عالِم صا حِب حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے سامنے کہنے لگے :  ’’ خاموش عالِم‘‘  بھی بولنے والے عالم ہی کی طرح ہوتا ہے۔ فرمایا:  میں سمجھتا ہوں کہ بولنے والاقِیامت کے دن چُپ رہنے والے عالِم سے افضل ہو گا اِس لئے کہ بولنے والے کا نَفْع لوگوں کو پہنچتاہے جبکہ چُپ رہنے والے کوصِرف ذاتی فائدہ ملتا ہے۔  وہ عالم صاحِب بولے:  ’’ یَاامیرَالْمُؤمِنِین !   کیا آپ بولنے کے فتنوں سے ناواقِف ہیں ؟ ‘‘   حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدُالعزیز رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ یہ سن کر شدید (یعنی پھوٹ پھوٹ کر)  روئے۔  (اَلصَّمْت لِابْنِ اَبِی الدُّنْیا ج۷ص۳۴۵رقم۶۴۸)  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔   اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

حِکایت کی وَضاحت

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  ہمارے بُزُرگوں کی احتیاطیں اور جذبۂ خوفِ خدا مرحبا!  البتَّہ اِس بات میں کوئی شک نہیں کہ مُحتاط عُلمائے دین کا وعظ و نصیحت فرمانا ،    شَرعی اَحکام بتانا،    مُبلِّغین کا سنّتوں بھرا بیان کرنا،    نیکی کی دعوت دینا ،   خاموشی کے مقابلے میں افضل ترین عمل ہے۔  مگر اُن عالم صاحِب کا سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بارگاہ میں بطورِ تَنبِیہ یہ عَرْض کرنا کہ ’’ کیا آپ بولنے کے فتنوں سے ناواقِف ہیں ؟ ‘‘  اپنی جگہ دُرُست تھا اور امیرُ المؤمنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا خوفِ خدا سے زارو قِطار رونا بھی اُن عالِمِ رَبّانی کے اِس فِقرے کی تہ تک پہنچنے کی وجہ سے تھا۔   واقِعی اچّھا بولنا اگر چِہ مخلوق کیلئے نَفْعْ  بخش ہے لیکن خود بولنے والے کے لئے اِس میں کئی فَسادات کے خطرات بھی موجود ہیں مَثَلاً اگر اچّھامُبلِغ ہے تو اپنی فَصاحت وبَلاغت اور گفتگو کی رَوانی پر دوسروں کی طرف سے ملنے والی داد وتَحسین کے سبب یا صِرْف اپنی صَلاحِیّت پر گَھمَنڈ کے باعِث یا اپنے آپ کو     ’’ کچھ‘‘  سمجھنے اور دوسروں کو حقیر جاننے یا صِرْف نفسانیَّت کی وجہ سے دوسروں پر دھاک بٹھانے اور اپنی واہ واہ کروانے کی خاطر خوب مُحاوَرات و عُمدہ فِقرات وغیرہ کی ترکیبیں کرتے رہنے نیز اِس کیلئے اَدَق یعنی مشکل یا خوبصورت الفاظ بولنے وغیرہ وغیرہ کے فتنوں میں پڑ سکتا ہے۔   اگر عَرَبی بول چال پر عُبور ہُوا تو بات و بیانات میں اپنی عَرَبی دانی کا سکہ جمانے کی خاطر خوب عَرَبی مَقُولوں وغیرہ کے استِعمال کے فتنے میں مبتَلاہو سکتا ہے،    اِسی طرح جس کی آواز اچّھی ہو وہ بھی خطروں میں گِھرا رہتا ہے ،    چُونکہ لوگ اکثر ایسوں کی تعریف کرتے ہیں جس پر  ’’  پُھول‘‘   کر اُس کے مَغرور ہوجانے،    اچّھی آواز کو عَطِیَّۂ خداوندی (یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عَطا)  سمجھنے کے بجائے اپناکمال سمجھ بیٹھنے وغیرہ غلطیوں کا خَدشہ رہتا ہے۔   تو اُن عالمِ ربّانی کی  ’’ بولنے ‘‘  کی مُتَعلِّق تَنبِیہ بجا ہے اور واقِعی جومبلِّغ مذکورہ مَذمُوم صِفات رکھتا ہو اُس کا بولنا اُس کے اپنے حق میں بَہُت بڑا فِتنہ اور بربادیٔ آخِرت کا سامان ہے اگر چِہ مخلوق کو اُس سے نَفْع پہنچتا ہو۔  

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن