دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Khamosh Shehzada | خاموش شہزادہ

Khamoshi Imaan Ki Salamti Ka Zariya Hai

book_icon
خاموش شہزادہ

خاموشی ایمان کی سلامَتی کا ذَرِیعہ ہے

جس بدنصیب کی زَبان قینچی کی طرح ہرکسی کی بات کاٹتی چلی جاتی ہو گی ،   وہ دوسرے کی بات اچّھی طرح سمجھنے سے محروم رہے گابلکہ باتونی شخص کے لیے یہ بھی خطرہ رہتاہے کہ بک بک کرتے ہوئے زَبان سے مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّ کُفْریات نکل جائیں ۔   چُنانچِہ حُجَّۃُ الْاِسلام حضرتِ سیِّدُنا امام ابوحامد محمد بن محمدبن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَلِی  ’’ اِحیاء ُالعلوم‘‘  میں بعض بُزُرگوں کا قول نَقْل کرتے ہوئے فرماتے ہیں :  خاموش رہنے والے شخص میں دو خوبیاں جمع ہوجاتی ہیں  {۱}  اُس کا دین سلامت رہتاہے اور  {۲}  دوسرے کی بات اچّھی طرح سمجھ لیتا ہے۔   (اِحیاءُ الْعُلوم ج۳ ص۱۳۷)  
حضرتِ سیِّدُناسُفْیان بن عُیَیْنہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:  اَلصَّمْتُ زَیْنٌ لِّلْعَالِمِ وَسِتْرٌ لِّلْجَاہِلِ خاموشی عالِم کا وقار اور جاہل کا پردہ ہے۔      (شُعَبُ الْاِیمان ج۷ ص ۸۶ حدیث۴۷۰۱) 

خاموشی عبادت کی چابی ہے

حضرتِ سیِّدُنا امام سفیان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنَّان سے مروی ہے: زیادہ خاموشی عبادت کی چابی ہے ۔  (اَلصَّمت مع موسوعۃ ابن اَبِی الدُّنْیا ج۷ص۲۵۵رقم۴۳۶) 

مال کی حفاظت آسان ہے مگرزَبان

حضرتِ سیِّدُنا محمدبن واسِع علیہ رَحمَۃُ اللّٰہِ النّافِع نے  حضرتِ سیِّدُنا مالِک بن دینار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارسے فرمایا: انسان کیلئے زَبان کی حفاظت مال کی حفاظت سے زیادہ دُشوار ہے ۔    (اِتحافُ السّادَۃ للزّبیدیج۹ص۱۴۴ ) 
افسوس! کہ اپنے مال کی حفاظت کے مُعامَلے (مُ۔ عَا۔ مَلے)  میں عُمُوماً ہر ایک ہوشیار ہوتا ہے ،   حالانکہ مال ضائِع ہوبھی گیا تو صِرف دنیا کا نقصا ن ہے۔  صد کروڑ افسوس!  زَبان کی حفاظت کی سوچ نہایت کم رَہ گئی ہے،   یقینا زَبان کی حفاظت نہ کرنے کے سبب دنیا کے نقصان کے ساتھ ساتھ آخِرت کی بربادی کا بھی پوراپورا امکان ہے۔ 
 بک بک کی یہ عادت نہ سرِ حشر پھنسا دے
اللہ   زَباں  کا  ہو  عطا  قُفلِ  مدینہ  (وسائلِ بخشِش ص۶۶) 
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

بولنے والا با رہا پچھتاتا ہے

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  یہ ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ خاموش رہنے میں نَدامت کا امکان بَہُت کم ہے جب کہ موقع بے موقع’’ بول پڑنے’‘ کی عادت سے بارہا SORRY کہنا پڑتااورمُعافی مانگنی پڑتی ہے یا پھر دل ہی دل میں پچھتاواہوتا ہے کہ میں یہاں نہ بولا ہوتا تو اچّھا تھا کیوں کہ میرے بولنے پرسامنے والے کی جِھجک اُڑ گئی،   کھری کھری سُننی پڑی،   فُلاں ناراض ہوگیا،  فُلاں کاچِہرہ اُترگیا ،   فُلاں کا دل دُکھ گیا ۔   اپنا وقار بھی مَجروح ہوا وغیرہ وغیرہ۔ حضرت سیِّدُنا  محمد بن نَضْر حارِثی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی سے مروی ہے:   زیادہ بولنے سے وَقار (دبدبہ)   جاتارہتا ہے۔     (اَلصَّمْت لِابْنِ اَبِی الدُّنْیا ج۷ص۶۰رقم۵۲) 

’’ بول کر‘‘ پچھتانے سے ’’ نہ بول کر‘‘ پچھتانا اچّھا

سچ ہے ،   ’’  بول کر‘‘   پچھتانے سے’’  نہ بو ل کر‘‘   پچھتانا اچّھا اور ’’  زیادہ کھا کر‘‘  پچھتانے سے’’  کم کھا کر ‘‘ پچھتانا اچّھا کہ جو بولتا رہتا ہے وہ مصیبتوں میں پھنستا رہتا ہے اور جوزیادہ کھانے کا عادی ہوتا ہے وہ اپنامِعْدہ تباہ کر بیٹھتا ،   اکثرمَوٹاپے کا شکار ہو جاتا اور طرح طرح کی بیماریوں کی زَد میں رہتا ہے،   اگر جوانی میں اَمراض سے قدرے بچت ہو بھی  گئی تو جوانی ڈھلنے کے بعد بسا اوقات ’’ سراپا مَرَض ‘‘  بن جاتا ہے ۔   زیادہ کھانے کے نقصانات اور موٹاپے کے علاج وغیرہ جاننے کیلئے فیضانِ سنَّت جلد اوّل کے باب  ’’پیٹ کا قفلِ مدینہ‘‘   کا مُطالَعَہ فرمایئے۔ 

گُونگا فائدے میں رَہتاہے

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا جائے تو نابِینافائدے میں رہتا ہے کہ غیر عورَتوں کو گھورنے،   اَمردوں پر لذّت بھری نگاہیں ڈالنے ،   فلمیں ڈِرامے دیکھنے،   کسی’’  ہاف پینٹ’‘  والے کے کُھلے گُھٹنے اور رانیں دیکھنے وغیرہ وغیرہ بدنِگاہیوں کے گناہوں سے بچا رَہتاہے۔   اِسی طرح گُونگا بھی زَبان کی بے شمار آفتوں سے محفوظ رَہتاہے ۔ امیرُالْمُؤمِنِین حضرتِ سیِّدُناابوبکر صِدِّیق فرماتے ہیں :  کاش میں گونگا ہوتا مگر ذِکراللّٰہ کی حد تک گویائی  (یعنی بولنے کی صلاحیّت)  حاصل ہوتی۔  (مِرْقاۃُ الْمَفاتِیح ج۱۰ ص۸۷ تحتَ الحدیث ۵۸۲۶  )  ’’اِحیاءُ العُلُوم‘‘  میں ہے: حضرتِ سیِّدُنا ابودَردا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک زَبان دراز عورت دیکھی تو فرمایا:  اگر یہ گونگی ہوتی تو اس کے حق میں بہتر تھا۔  (اِحیاءُ الْعُلوم  ج۳ ص ۱۴۲)  

گھر اَمن کا گہوارہ کیسے بنے

پیارے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے میٹھے میٹھے صَحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ارشاد سے خُصُوصاًہماری وہ اسلامی بہنیں درس حاصل کریں جو ہروَقت  ’’لگائی بجھائی‘‘  اور ’’تیری میری‘‘ میں مگن رہتیں اوراِدھر کی اُدھر اوراُدھر کی اِدھر لگانے سے فرصت  نہیں پاتیں ۔    اگر اسلامی بہنیں صحیح معنوں میں اپنی زَبان پر  ’’ قفلِ مدینہ‘‘ لگالیں تو ان کی گھر یلو پریشانیاں ،   رشتے داروں سے ناچاقیاں اورساس بہو کی لڑائیاں وغیرہ بَہُت سارے مسائل حل ہوجائیں اورسارے کاساراخاندان اَمْن کا گہوارہ بن جائے کیونکہ زیادہ ترگھریلو جھگڑے زَبان کے بے جاا ستِعمال ہی کے سبب ہوتے ہیں ۔ 

ساس بہو کا جھگڑا نمٹانے کا مَدَنی نُسخہ

         ساس  اگر ڈانٹ ڈَپَٹ کرتی ہو تو  ’’ بہو ‘‘  کو چاہیے کہ صِرف اورصِرف صَبْر کرے ،   اپنی ساس کو جواباًایک لفظ بھی نہ کہے اوراپنے شوہر کو بھی شکایت نہ کرے،   اپنے میکے میں بھی کچھ نہ بتائے بلکہ منہ بھی نہ چَڑھائے،  نیزاپنے بچّوں یا برتنوں وغیرہ پربھی غصّہ نہ نکالے۔  اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ کامیابی اس کے قدم چوم لے گی۔   کہاجاتاہے:  ’’ ایک چُپ سوکوہَرائے۔ ‘‘ اِسی طرح اگرکوئی بہواپنی ’’  ساس‘‘  سے جھگڑا کرتی ہوتوساس کوچاہیئے کہ بِالکل جوابی کاروائی نہ کرے،   صِرف خاموشی ہی اختیارکرے گھر کے کسی فرد حتّٰی کہ اپنے بیٹے کو بھی شکایت نہ کرے۔  اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کہاوت: ’’ ایک چُپ سو سکھ‘‘   کے مطابق سکھ چین پائے گی۔   جی ہاں اگرصحیح معنوں میں سگِ مدینہ عُفِیَ عَنْہُ  کے اس ’’ مَدَنی نسخے ‘‘ پر عمل کیا گیا تو  اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ جلد ہی ساس بہو کی لڑائی ختم ہوجائے گی اور گھر اَمن کا گہوارہ بن جائے گا۔ ساس بہو کے جھگڑوں کے علاج کیلئے حکمت بھرے مَدَنی پھولوں پر مشتمل V.C.D. ’’  گھر امن کا گہوارہ کیسے بنے!  ‘‘   مکتبۃُ المدینہ سے حاصِل کیجئے  یا دعوتِ اسلامی کی ویب سائٹ :  WWW.DAWATEISLAMI.NET پر مُلاحظہ فرمایئے۔  اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ اِس v.c.d.کی برکت سے کئی گھر امن کا گہوارہ بن چکے ہیں ! 
ہے دبدبہ خاموشی میں ہیبت بھی ہے پِنہاں
      اے بھائی!  زَباں پر تو لگا قفلِ مدینہ (وسائلِ بخشِش ص۶۶) 
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

زَبان کی خدمت میں درخواست

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  جب زَبان سیدھی رہے گی اور اس سے اچّھی اچّھی باتوں کا سلسلہ ہوگا تو اس کا فائدہ سارا ہی جسم اٹھائے گا اوراگر یہ ٹیڑھی چلی مَثَلاًکسی کو جِھڑکا ،   گالی دی ،   کسی کی بے عزّتی کردی،   غیبت وچغلی کی ،   جھوٹ بولا تو بسا اوقات دنیا میں بھی جسم کی پِٹائی ہوجاتی ہے۔ ہمارے میٹھے میٹھے پیارے پیارے اور سب سے اچّھے اورخوش اَخلاق  آقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ باصَفاہے:  ’’جب انسان صُبح کرتا ہے تو اُس کے اَعْضاجُھک کرزَبان سے کہتے ہیں :  ہمارے بارے میں اللہ  (عَزَّوَجَلَّ) سے ڈر کیونکہ ہم تجھ سے وابَستہ ہیں اگرتُو سیدھی رہے گی تو ہم بھی سیدھے رہیں گے اوراگرتُوٹیڑھی ہوگئی تو ہم بھی ٹیڑھے ہوجائیں گے۔ ‘‘   (سُنَنِ تِرمِذیج۴ ص۱۸۳حدیث ۲۴۱۵)  
یارب نہ ضَرورت کے سوا کچھ کبھی بولوں ! 
 اللہ  زَباں  کا  ہو  عطا  قُفلِ  مدینہ (وسائلِ بخشِش ص۶۶) 
 صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

اچّھی بات کرنے کی فضیلت

تاجدارِرسالت ،  مالِکِ کوثروجنَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ جنَّت نشان ہے:  جنَّت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کا باہَر اندرسے اور اندر باہَر سے دیکھا جاتاہے۔  ایک اَعرابی نے اُٹھ کرعَرْض کی:  یَارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ یہ کس کے لیے ہیں ؟آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا:  یہ اُس کے لیے ہیں جو اچّھی گفتگو کرے ،   کھانا کھلائے،  مُتَواتِرروزے رکھے ،  اور رات کو اُٹھ کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے نماز پڑھے جب  لوگ سوئے ہوئے ہوں ۔    (سُنَنِ تِرمِذیج۴ ص۲۳۷ حدیث۲۵۳۵) 

آقا طویل خاموشی والے تھے

  کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ طَوِیلَ الصَّمْت۔  یعنی حضور  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ طویل خاموشی والے تھے۔  (شرحُ السُّنَّۃ لِلبَغوی ج۷ ص۴۵ حدیث ۳۵۸۹ )  مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنَّان اِس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : خاموشی سے مراد ہے دنیاوی کلام سے خاموشی ورنہ حُضُورِ اقدس ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ )  کی زَبان شریف اللہ  (عَزَّ وَجَلَّ) کے ذِکر میں تر رہتی تھی،   لوگوں سے بِلاضَرورت کلام نہیں فرماتے تھے۔  یہ ذِکر ہے جائز کلام کا،   ناجائز کلام تو عمر بھر زَبان شریف پر آیا ہی نہیں ۔   جھوٹ ،   غیبت،   چغلی وغیرہ ساری عمر شریف میں ایک بار بھی زبان مبارک پر  نہ آئے۔  حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ)  سراپا حق ہیں پھر آپ تک باطِل کی رسائی کیسے ہو۔   (مِراٰۃُالمناجیح ج۸ص۸۱) 

بولنے اور چُپ رہنے کی دو قِسمیں

       فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہے: اِمْلاَء ُ الْخَیْرِخَیْرٌ مِّنَ السُّکُوْتِ وَالسُّکُوْتُ خَیْرٌ مِّنْ اِمْلَاءِ الشَّرِّ یعنی اچّھی بات کہنا خاموشی سے بہتر ہے اور خاموش رہنا بُری بات کہنے سے بہتر ہے۔  (شُعَبُ الْاِیمان ج۴ ص۲۵۶ حدیث۴۹۹۳) حضرتِ سیِّدُنا علی بن عثمان ہجویری المعروف داتا گنج بخش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ’’ کَشفُ المَحجُوب’‘  میں فرماتے  ہیں : کلام (یعنی بولنا)  دو طرح کا ہوتا ہے۔  ایک کلامِ حق اور دوسرا کلامِ باطل،   اِسی طرح خاموشی بھی دو طرح کی ہوتی ہے:   (۱) بامقصد (مَثَلاً فکرِ آخِرت یا شَرْعی اَحکام پر غور وخَوض وغیرہ کیلئے)  خاموشی (یعنی چُپ رہنا)   (۲) غفلت بھری (یا مَعاذَاللّٰہ گندے تصوّرات یا دنیا کے بے جاخیالات سے بھر پور) خاموشی۔  ہر شخص کوسُکوت  (یعنی خاموشی) کی حالت میں خوب اچّھی طرح غور کر لیناچاہئے کہ اگر اِس کا بولنا حق ہے تو بولنا اُس کی خاموشی سے بہتر ہے اور اگر اُس کا بولنا باطِل ہے تو اُس کی خاموشی اس کے بولنے سے بہتر ہے۔  حُضور داتا گنج بخش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ گفتگو کے حق یا باطِل ہونے کے متعلِّق سمجھانے کیلئے ایک حکایت نَقْل کرتے ہوئے فرماتے ہیں :  ایک مرتبہ حضرت ِسیِّدُنا ابو بکر شبلی بغدادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْھَادِی  بغدادشریف کے ایک مَحَلّے سے گزر تے ہوئے ایک شخص کو سنا وہ کہہ رہا تھا :   اَلسُّکُوْتُ  خَیْرٌ مِّنَ الْکَلَامِ  یعنی خاموشی بولنے سے بہتر ہے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اسے فرمایا :  ’’ تیر ے بولنے سے تیرا خاموش رہنا اچّھا ہے اور میرا بولنا خاموش رہنے سے بہتر ہے۔ ‘‘   (ماخوذ اَز کشف المحجوب ص۴۰۲)  

فُحش بات کی تعریف

کتنے خوش نصیب ہیں وہ اسلامی بھائی اوراسلامی بہنیں ! جو صِرف اچّھی گفتگوکیلئے ہی زَبان کو حَرَکت میں لاتے اورخوب خوب ‘’ نیکی کی دعوت’‘ لوگوں تک پہنچاتے ہیں ۔   افسوس!  آج کل لوگوں کی بَہُت ہی کم بیٹھکیں ایسی ہوتی ہوں گی جو فُحش باتوں سے پاک ہوں حتّٰی کہ مذہبی وَضْع قَطْع کے افراد بھی اس سے بچ نہیں پاتے ۔ شاید انہیں یِہی نہیں پتا ہوتا کہ فحش بات کسے کہتے ہیں !  تو سنئے:  فحش بات کی تعریف یہ ہے: اَلتَّعْبِیْرُ عَنِ الْاُ مُورِ الْمُسْتَقْبَحَۃِ بِالْعِبَارَاتِ الصَّرِیحَۃِ یعنی شرمناک اُمور  (مَثَلاً گندے اور بُرے معاملات)  کا کھلے الفاظ میں تذکرہ کرنا۔   (اِحیاءُ العلوم ج ۳ ص۱۵۱)   تو وہ نوجوان جو شہوت کی تسکین کی خاطر خواہ مخواہ شادیوں کی خلوتوں اور پردے میں رکھنے کی باتوں کے قصّے چھیڑتے ہیں ،   نیز فُحش یعنی بے حیائی کی باتیں کرنے والے بلکہ صرف سن کر دل بہلانے والے،   گندی گالیاں زَبان پر لانے والے،   بے شرمانہ اِشارے کرنے والے،  ان گندے اشاروں سے لطف اندوز ہونے والے اور  ’’ گندی لذّتوں ‘‘  کے حصول کی خاطر فلمیں ڈِرامے  (کہ ان میں عُمُوماًبے حیائی کی بھر مار ہوتی ہے)  دیکھنے والے ایک دل ہِلا  دینے والی روایت بار بار پڑھیں اور خوفِ خداوندی سے لرزیں چُنانچِہ

منہ سے خون اور پیپ بہ رہا ہو گا

منقول ہے:  چار طرح کے جہنَّمی کہ جوکھولتے پانی اور آگ کے مابَین (یعنی درمِیان)  بھاگتے پھرتے وَیل وثُبُور  (یعنی ہلاکت)  مانگتے ہونگے،   ان میں سے ایک وہ شخص کہ اس کے مُنہ سے خون،   پِیپ بہ رہا ہو گا،   جہنَّمی کہیں گے:  ’’ اِس بد بخت کو کیا ہوا کہ ہماری تکلیف میں اِضافہ کئے دیتا ہے؟ ‘‘   کہا جائے گا:  ’’ یہ بدبخت بُری اور خبیث (یعنی گندی) بات کی طرف مُتَوَجِّہ ہو کر اُس سے لذّت اُٹھاتا تھا جیسا کہ جِماع کی باتوں سے۔ ‘‘  ( اِتحافُ السّادَۃ للزّبیدی  ج۹ ص۱۸۷) غیر عورَتوں یا اَمْرَدوں کے بارے میں آ نے والے گندے وَسوسوں پر توجُّہ جمانے،   جان بوجھ کر بُرے خیالات میں خود کو گُمانے اور معاذَاللّٰہ ،   ’’ گندی حَرَکت ‘‘  کے تصوُّر کے ذَرِیعے لذّت اُٹھانے والوں کو بیان کردہ روایت سے عبرت حاصِل کرنی چاہئے۔  
نہ وَسوَسے آئیں نہ مجھے گندے خیالات
            دے ذِہن کا اور دل کا خدا!  قُفلِ مدینہ (وسائلِ بخشِش ص۶۶) 
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

کُتّے کی شَکل والا

حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم بن مَیْسَرہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :  ’’ فُحش کلامی   (یعنی بے حَیائی کی باتیں )  کرنے والا قِیامت کے دن کُتّے کی شَکل میں آئے گا۔  ‘‘  (اِتحافُ السّادَۃ للزّبیدی  ج۹ ص۱۹۰) 

جنّت حرام ہے

        حُضُور تاجدارِ مدینہ،   قرارِ قلب و سینہ،   صاحِبِ مُعطّر پسینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ باقرینہ ہے:  ’’ اُس شخص پر جنَّت حرام ہے جو فُحش گوئی  (یعنی بے حیائی کی بات)  سے کام لیتا ہے۔  ‘‘   (اَلصَّمْت لِابْنِ اَبِی الدُّنْیا ج۷ص۲۰۴حدیث۳۲۵) 

سات مَدَنی پھولوں کا’’ فاروقی گلدستہ‘‘

امیرُالْمُؤمِنِین،  امامُ العادِلین،  مُتَمِّمُ الْاَربَعِین حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ٭فُضُول گوئی سے بچنے والے کو حکمت و دانائی عطا کی جاتی ہے ٭ فُضُول نگاہی یعنی بِلاضَرورت اِدھر اُدھر دیکھنے سے بچنے والے کو خُشوعِ قلب   ( سُکونِ قلبی) ٭ فُضُول طَعام ( یعنی ڈٹ کر کھانا یا بِغیر کسی بھوک کے صِرْف لذّت کے لئے طرح طرح کی چیزیں کھانا)  چھوڑنے والے کو عِبادت میں لذّت دی جاتی ہی٭ فضول ہنسنے سے بچنے والے کو رُعب و دبدبہ عنایت ہوتا ہے ٭مذاق مسخری سے بچنے والے کو نورِ ایمان نصیب ہوتا ہی٭ دُنیا کیمَحَبَّت سے بچنے والے کو آخِرت کی مَحَبَّت دی جاتی ہی٭ دوسروں کے عیب ڈھونڈنے سے بچنے والے کو اپنے عیبوں کی اصلاح کی توفیق ملتی ہے۔    ( ماخوذاَز المنبہات ص۸۹)  

 اے کاش !  ایسا ہو جائے.....

     ہراسلامی بھائی اور اسلامی بہن ہر مَدَنی ماہ کے پہلے پیر شریف کو اِس رسالے کے مُطالَعے کا معمول بنا لے،   اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے قَلْب میں حیرت انگیز تبدیلی محسوس فرمائیں گے۔  مَدَنی اِنعام نمبر45اور46کے مطابِق عمل زَبان کی حفاظت کا بہترین ذَرِیعہ ہے لہٰذا فضول گوئی سے بچنے کی عادت ڈالنے کیلئے ضَروری گفتگو بھی کم لفظوں میں نمٹائے نیز کچھ نہ کچھ بات اشارے سے اور لکھ کر کرنے کی کوشِش کیجئے اور فضول بات منہ سے نکل جانے کی صورت میں فوراً ایک یا تین بار دُرُود شریف پڑھنے کا معمول بنا لیجئے۔  

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن