30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سہمے ہوئے تھے کہ اَچانک اُس نیک ہستی کی نظرِ فیض اَثر اُس بادشاہ پر پڑی ، وہ بادشا ہ ایک دَم کانپنے لگا اورلرزتے ہوئے زمین پر گرا اوربیہوش ہوگیا ۔ اللہ پاک کے اُس نیک بندے نے پانی منگوا کر اُس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے تو تھوڑی ہی دیر میں اُسے ہوش آگیا ، ہوش میں آتے ہی وہ نہایت عاجزی و انکساری کے ساتھ اپنی کوتاہی کی معافی مانگنے لگا اور پھر اپنے تمام خادموں سمیت اُس اللہ پاک کے نیک بندے کے ہاتھوں پر توبہ کرکے اُن کی غلامی میں داخل ہوگیا۔ (ہند کے راجہ ، ص۷۴)
اے عاشقانِ اولیاء!کیا آپ جانتے ہیں یہ نیک بخت ، بارُعب ، تلاوت ِ قرآن کرنے والی نیک صفت ہستی کون تھی؟یہ سِلسلہ ْعالیہ چِشتیہ کےعظیم پیشوا خواجہ ٔخواجگاں ، سُلطانُ الہند حضرتِ خواجہ غریب نواز حَسن سَنْجَری رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ تھے جو آگے چل کر ہندوستان کے بے تاج بادشاہ بنے۔ جب خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ مدینۃُ الہنداَ جمیر شریف تشریف لائےتو آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی کوششوں سےلوگ جُوق دَر جُوق (یعنی لگاتار) اِسلام قبول کرنے لگےچنانچہ دِہلی سےاَجمیرشریف تک کےسفرمیں تقریباً نَوّے(90) لاکھ اَفراد مُسلمان ہوئے۔ (معین الارواح ، ص ۱۸۸بتغیر)
خواجۂ ہند وہ دَربار ہے اَعلیٰ تیرا کبھی محروم نہیں مانگنے والا تیرا
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ علٰی محمَّد
اے عاشقا نِ خواجہ غریب نواز!ہمارے آقا ، خواجہ غریب نوازکا مبارک نام’’حسن “ ہے ، جبکہ القابات ’’معینُ الدّین ‘‘ ، ’’عطائے رَسول‘‘ ، ’’سُلطانُ الہند ‘‘ہیں۔ خواجہ فارسی زبان کا لفظ ہے اور اِس کا مطلب ہے ’’سردار‘‘ ، ’’آقا‘‘۔ (فیروزاللغات ، ص633)آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی وِلادت باسعادت14رَجَبُ الْمُرَجَّب537ھبمطابق1142ءمیں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع