30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شعر یہ ہے : ’’میں ہوں سائل میں ہوں منگتا ، یاخواجہ مِری جھولی بھردو‘‘ہاتھ بڑھا کر ڈال دو ٹکڑا یاخواجہ مِری جھولی بھردو‘‘اَمیرِاہلِ سنت دربار ِ غریب نوازپر سنگ مَرمَر كى مبارک جاليوں کی طرف اَدباً کھڑے کھڑےغالباًاپنی چادرشریف کوجھولی کی صورت میں پھیلا کر منقبت پیش کررہے تھےکہ اِس جُملے’’یا خواجہ مِری جھولی بھردو ، یا خواجہ مِری جھولی بھر دو‘‘کی تکرار ہورہی تھی کہ کہیں سے ایک تاز ہ گُلاب کی پتی اَمیرِاہل ِ سنت دامت برکاتہم العالیہ کی جھولی میں آکر گِرگئی ، پھرخوشی کے عالَم میں یہ آواز بلند ہوئی’’ خواجہ نے مری جھولی بھر دی ، خواجہ نے مری جھولی بھردی‘‘اِتنے میں جانشینِ اَمیرِاہلِ سنت صاحبزادہ عطار حاجی عبید رضا عطاری مدنی مدظلہ العالی نے وہ پتّی اپنے پیارے پیارے ابوجان کی چادرشریف سے اُٹھا لی اور بعدِ مغرب افطارکے وقت اُسے کھالیا ۔ اللہربُّ الْعِزَّتکی اَمیرِ اہلِ سنت پر رَحمت ہو اور اِن کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔ اٰمِین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
منقبت کے چند اشعاریہ ہیں :
میں ہوں سائل میں ہوں منگتا یا خواجہ مِری جھولی بھر دو
ہاتھ بڑھا کر ڈال دو ٹکڑا یا خواجہ مِری جھولی بھر دو
جو بھی سائل آ جاتا ہے من کی مُرادیں پا جاتا ہے
میں نے بھی دامن ہے پَسارا یا خواجہ مِری جھولی بھر دو
مجھ کو عشقِ رسول عطا ہو خواجہ نَظرِ کرم سے بنا دو
شاہِ مدینہ کا دیوانہ یا خواجہ مِری جھولی بھر دو
دے دو تم عطارؔ کو خواجہ سنّت کی خدمت کا جذبہ
ہر سُو دیں کا بجا دے ڈنکا یا خواجہ مِری جھولی بھر دو
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ علٰی محمَّد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع