دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Karamat e Hazrat Maroof Karkhi | کرامات حضرت معروف کرخی رحمۃ اللہ تعالی علیہ

Karamat e Hazrat Maroof Karkhi aur Baghdad ke Bare Alim

book_icon
کرامات حضرت معروف کرخی رحمۃ اللہ تعالی علیہ
            
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

کراماتِ حضرتِ معروف کرخی رحمۃُ اللہ علیہ

دُعائے عطار!
یارب المصطفے !جوکوئی 17صفحات کا رسالہ’’ کراماتِ حضرت معروف کرخی ‘‘پڑھ یاسُن لے اُسےسلسلۂ قادریہ کے بزرگان دین کے فیضان سے مالا مال فرمااور اس کی بے حساب بخشش کردے۔ اٰمِین بِجاہِ خَاتَمِ النَّبِیّین صَلَّی اللہ علیهِ واٰله وسلَّم

دُرُود شریف کی فضیلت

اللہ پاک کے آخری نبی ،مکی مدنی،محمدِ عربی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشادفرمایا ہے : جو شخص مجھ پر سو مرتبہ دُرُودِپاک پڑھے گااللہ پاک اُس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لکھ دے گا کہ یہ شخص نِفاق اور جہنَّم کی آگ سے آزاد ہے اور اُسےقیامت کے دن شُہدا کے ساتھ رکھے گا ۔ (معجم اوسط،5/252،حدیث:7235) صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب! صَلَّی اللهُ علٰی مُحَمَّد

گلہ پیسوں سے بھرگیا

ایک بزرگ رحمۃُ اللہ علیہ اپنے بھائی کی آٹے کی دکان پر گئے اور بھائی کو سلام کر کے وہیں بیٹھ گئے۔ سلام کا جواب دینے کےبعد ان کے بھائی نے کہا: بھائی جان!آپ یہاں بیٹھئے اور میری دکان کا خیال رکھئے گا ،میں ایک ضروری کام سے فارغ ہوکر آتاہوں۔ وہ بزرگ رحمۃُ اللہ علیہ دکان پر بیٹھے تھے کہ انہوں نے بازار میں کچھ غریب لوگوں کو دیکھا ۔ بزرگ نے انہیں بلایااورآٹا بانٹنا شروع کردیا یہاں تک کہ دکان میں موجود سارا آٹاان میں تقسیم کر دیا۔ جب ان کے بھائی آئے اور یہ صورتِ حال دیکھی تو پوچھا:آٹاکہاں گیا؟بزرگ نے فرمایا: وہ تومیں نے غریبوں میں تقسیم کردیا۔یہ سن کروہ کہنے لگا: بھائی جان! آپ نے تو مجھے کنگال کردیا ہے۔ بھائی کی یہ بات سن کروہ بزرگ رحمۃُ اللہ علیہ اُٹھے اور مسجد میں جاکرعبادتِ الٰہی میں مشغول ہوگئے۔ بھائی نے جب گَلَّہ (پیسے رکھنے کا بکس)کھول کر دیکھا تو حیران رہ گیا کہ وہ تو درہموں سے بھرا ہوا ہے۔ حساب لگایا تو پتہ چلاکہ ایک درہم کے بدلے ستر درہم کانفع ہوگیا ۔وہ دل میں کہنے لگا : یہ سب میرے بھائی کی برکت سے ہوا ہے ۔ چند دن بعدوہ بھائی بزرگ رحمۃُ اللہ علیہ کے پاس آیا اور سلام کیا۔سلام کا جواب دینے کے بعد پوچھا:بھائی کیسے آنا ہوا؟اس نے کہا : بھائی جان ! کل آپ میری دکان پر کچھ دیر کے لئے تشریف لائیں تو یہ میرے لئے سعادت کی بات ہوگی ۔ بزرگ نے فرمایا: تم یہ بات اس لئے کہہ رہے ہو کہ اُس دن تمہیں بہت زیادہ نفع ہواتھا۔ اب میں تمہاری دکان پر نہیں آؤں گا اور ہر مرتبہ ایسے معاملات نہیں ہوتے،……. اس میں میرا کوئی کمال نہیں۔(عیون الحکایات ،ص198) اللہ ربُ الْعِزَّت کی ان پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔ اٰمِین بِجاہِ خَاتَمِ النَّبِیّین صَلَّی اللہ علیهِ واٰله وسلَّم صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب! صَلَّی اللهُ علٰی مُحَمَّد اے عاشقانِ اولیاء! آپ کو معلوم ہے وہ بزرگ جنہوں نے اپنے بھائی کی دکان کا سارا آٹا غریبوں میں تقسیم کردیا اور ان کی برکت اور کرامت سے دکان کا گلہ پیسوں سے بھر گیا وہ کون تھے؟وہ عظیم ہستی مشہور بزرگ حضرتِ معروف کرخی رحمۃُ اللہ علیہ تھے ۔ آپ رحمۃُ اللہ علیہ کا مبارک نام ’’معروف بن فیروز کرخی‘‘ ہے ، آپ کی دعائیں اکثر قبول ہوا کرتی تھیں ، آپ مشہور صوفی اور بڑے پرہیزگار بزرگ ہیں ۔حضرت سری سقطی رحمۃُ اللہ علیہ آپ کے شاگردوں میں سے ہیں،آپ رحمۃُ اللہ علیہ نے 200ھ میں وفات فرمائی ، آپ کا مزار” بغداد شریف “ میں دریائے دِجلہ کے بائیں کنارے اپنی برکتیں لٹا رہا ہے، آپ رحمۃُ اللہ علیہ کی قبرِ انور کےوسیلے سے لوگ (بیماریوں سے )شفاحاصل کرتے ہیں، اہلِ بغداد کہا کرتے تھے: آپ کا مزارِ اقدس (حصولِ شفا اور قبولیتِ دعا کا)مرکز ہے۔ (رسالہ قشیریہ، ص 26۔الاعلام للزرکلی، 7/269۔وفیات الاعیان، 4/445-446) آپ رحمۃُ اللہ علیہ کی عزت و عظمت اور شان وشوکت کا اندازہ آپ کے ان واقعات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے، چنانچہ

بغداد کے بڑے عالم:

حضرت قاری اسماعیل بن شداد رحمۃُ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں:حضرت سفیان بن عُیَیْنَہ رحمۃُ اللہ علیہ نے ہم سے پوچھا:آپ لوگوں کا تعلق کہاں سے ہے؟ہم نے کہا: بغداد سے۔ پھر پوچھا: اس حِبْر (یعنی بڑے عالِم)کا کیا ہوا؟ہم نے پوچھا:کون؟ارشاد فرمایا: معروف کرخی۔ پھر فرمایا: جب تک وہ آپ لوگوں میں موجود ہیں آپ لوگ ہمیشہ خیر کے ساتھ رہیں گے۔ (حلیۃ الاولیاء،8/410، رقم:12714)

زمین وآسمان میں شہرت:

حضرت عُبید رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:ایک شخص ملکِ شام سے حضرت معروف کرخی رحمۃُ اللہ علیہ کو سلام کرنے کے لیے حاضر ہوا،لوگوں نے اس سے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے بتایا : میں نے خواب میں دیکھا کہ مجھ سے کہا جارہا ہے: معروف کے پاس جاؤ اور انہیں سلام کرو کیونکہ وہ زمین والوں میں بھی معروف ہیں اور آسمان والوں میں بھی معروف ہیں۔ (یعنی ان کا ولی ہونا زمین والوں اور آسمانوں کے فرشتوں میں مشہور ہے۔ ) (حلیۃ الاولیاء،8/409، رقم:12708)

محبت الٰہی سے سرشار

حضرت عَبْدُاللہ انصاری رحمۃُ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں:میں نے حضرت معروف کرخی رحمۃُ اللہ علیہ کو خواب میں دیکھا، گویا آپ عرش کے سائے میں ہیں اور اللہ پاک فرشتوں سے فرمارہا ہے:اے میرے فرشتو!یہ کون ہے؟فرشتوں نے عرض کی:تو زیادہ جانتا ہے۔ یہ حضرت معروف کرخی رحمۃُ اللہ علیہ ہیں اور انہیں تیری محبت کا ایسا نشہ چڑھ چکا ہے جو تیری ملاقات ہی پر ختم ہوگا۔(حلیۃ الاولیاء،8/410، رقم:12715) ایسا گما دے ان کی وِلا میں خدا ہمیں ڈھونڈا کرے پر اپنی خبر کو خبر نہ ہو (حدائقِ بخشش، ص 130) صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب! صَلَّی اللهُ علٰی مُحَمَّد حضرت ِمعروف کرخی رحمۃُ اللہ علیہ صاحبِ کرامت بزرگ تھے ،آپ سے بہت سی کرامات ظاہر ہوئیں۔آئیے !آپ کی چند کرامات )1(پڑھتے ہیں:

(1)کھویا ہوا بیٹا مل گیا

حضرتِ ابو محمد ضریر رحمۃُ اللہ علیہ کا بیان ہے کہ میرےپڑوسی حضرت مَرْدَوَیہ رحمۃُ اللہ علیہ نے مجھے اپنے پاس آنے کا پیغام بھیجا ،میں آیا تو آپ نے بتایا کہ کئی دنوں سے میرا بیٹا لاپتا ہے اورعورتوں کے رونے دھونے کی وجہ سے میں بڑا پریشان ہوں،آپ صبح مجھےحضرتِ معروف کرخی رحمۃُ اللہ علیہ کے پاس لے جائیں۔چنانچہ میں اور وہ صبح کے وقت مسجد میں حضرتِ معروف کرخی رحمۃُ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، سلام دُعا کے بعد حضرتِ معروف کرخی رحمۃُ اللہ علیہ نے پوچھا: اے ابو بکر!کیسے آنا ہوا؟حضرتِ مردویہ رحمۃُ اللہ علیہ نے عرض کی:حضور! میرا بیٹا کئی دنوں سے غائب ہے اورعورتوں کے رونے کی وجہ سے میں بہت پریشان ہوں۔حضرت ِمعروف کرخی رحمۃُ اللہ علیہ نےتین مرتبہ یہ دعا کی:يَا عَالِمًا بِكُلِّ شَيْءٍ وَيَا مَنْ لَا يَخْفَى عَلَيْهِ شَيْءٌ وَيَا مَنْ عِلْمُهُ مُحِيطٌ بِكُلِّ شَيْءٍ اَوْضِحْ لَنَا اَمْرَ ذَا الْغُلَامِیعنی اے ہر شے کا علم رکھنے والے! اے وہ ذات جس سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں! اے وہ ہستی جس کا علم ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے! ہم پر اس لڑکے کا معاملہ ظاہر کردے۔ پھر ہم آپ کے پاس سے آگئے۔ حضرتِ ابو محمد ضریر رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اگلے دن صبح فجر کی نماز سے پہلے حضرتِ مَرْدَوَیہ رحمۃُ اللہ علیہ کاقاصد (پیغام پہنچانے والا)مجھے بلانے کے لیے آیا،میں نے اس سے پوچھا:کیا خبر ہے؟ اس نے بتایا کہ لڑکا آچکا ہے، جب میں پہنچا تو میں نے دیکھا کہ بچہ حضرتِ مردویہ رحمۃُ اللہ علیہ کے سامنے بیٹھا ہے۔ حضرت مردویہ رحمۃُ اللہ علیہ نے مجھ سے کہا کہ ایک تعجب خیز بات سنو،اس بچے نے بتایا : میں کوفے میں چل رہا تھا کہ دو شخص میرے پاس آئے اور میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے کوفےسے باہر لے آئے اور مجھ سے کہا: اپنے گھر کی طرف چلو، میں راستے میں نہ کہیں بیٹھا ہوں،نہ میں نے کچھ کھایا پیا ہے حالانکہ میں 9کنوؤں یا90 کنوؤں کے قریب سے گزرا ہوں،مجھے کھانا دو، آپ لوگوں کے پاس پہنچنے تک میں نے کچھ نہیں کھایا ہے۔(حلیۃ الاولیاء،8/406،رقم:12696)اللہ ربّ الْعِزَّت کی ان پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔ اٰمِین بِجاہِ خَاتَمِ النَّبِیّین صَلَّی اللہ علیهِ واٰله وسلَّم

(2)اونٹ کی بیماری دور ہوگئی

ایک مرتبہ حضرتِ معروف کرخی رحمۃُ اللہ علیہ کے پاس ایک شخص آیا،اس کے ساتھ ایک اونٹ بھی تھا۔وہ آپ رحمۃُ اللہ علیہ سے کہنے لگا:یہ میرا اونٹ ہے، میرے گھر کے افراد کافی ہیں اور اسی کے ذریعے ہمارا گزر بسر ہوتا ہے۔میں اس پر محنت مزدوری کرتا ہوں اور اسی پر سوار ہوکر اپنے گھروالوں کے پاس آتا ہوں اوریہ تین دن سے بیمار ہے ،آپ رحمۃُ اللہ علیہ نے اس سے فرمایا:تم کیا چاہتے ہو؟اس نے عرض کی:میں چاہتا ہوں کہ آپ اللہ پاک سے میرے لئے دعا کریں۔آپ رحمۃُ اللہ علیہ نے لوگوں سے فرمایا:اپنے بھائی کے لئے اللہ پاک سےدعا کروکہ اللہ اس سے مصیبت دور کردے۔آپ نے ہاتھ اٹھائے پھر آپ نے دُعا کی۔ دیکھتے ہی دیکھتے اونٹ کی بیماری دور ہوگئی۔(مناقب معروف الکرخی،ص160،بتغیر قلیل) اللہ ربُ الْعِزَّت کی ان پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔ اٰمِین بِجاہِ خَاتَمِ النَّبِیّین صَلَّی اللہ علیهِ واٰله وسلَّم

(3)شرابیوں کی توبہ

حضرت ابراہیم اَطْرُوْش رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:ہم بغداد شریف میں دریائے دِجلہ کے کنارےحضرت معروف کرخی رحمۃُ اللہ علیہ کے ہمراہ بیٹھے ہوئے تھےکہ کچھ نوجوان دَف بجاتے، شراب پیتے اور کھیل کود کرتے ہوئے ایک چھوٹی کشتی میں ہمارے پاس سے گزرے ۔ لوگوں نے حضرت معروف کرخی رحمۃُ اللہ علیہ سے عرض کی:کیا آپ انہیں دیکھ رہےہیں کہ کس طرحکھلے عام اللہ پاک کی نافرمانی کررہے ہیں؟آپ ان کےلئےبددعا کیجئے۔ آپ نے ہاتھ اٹھائے اور دعا کی کہ اے اللہ پاک! جس طرح تو نے انہیں دنیا میں خوشی بخشی ہے اسی طرح آخرت میں بھی خوش کرنا ۔لوگوں نے عرض کی:ہم نے تو آپ سے بد دعا کرنے کا کہا تھا۔ آپ نے ارشاد فرمایا: اللہ پاک انہیں آخرت کی خوشیاں عطا فرمائے گا تو (مرنے سے پہلے) انہیں توبہ کی توفیق دےدے گا۔تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ وہ نوجوان شراب و رَباب پھینک کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوگئے اور آپ کے ہاتھ پر بیعت کرکے بُرے کاموں سے توبہ کرلی ۔ اس کے بعد آپ نے اپنے ساتھیوں سے مخاطب ہوکر فرمايا : تم نے دیکھا کہ کسی کے غرق ہوئے اور تکلیف پہنچے بغیر ہی ہمیں ہماری مراد حاصل ہوگئی۔ (احیاء العلوم، 4/190۔ تذکرۃ الاولیاء، 1/242ملخصاً) اللہ ربُ الْعِزَّت کی ان پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔ اٰمِین بِجاہِ خَاتَمِ النَّبِیّین صَلَّی اللہ علیهِ واٰله وسلَّم کرم ہو واسطہ کل اولیا کا مرا ایماں پہ مولی خاتمہ ہو (وسائل بخشش،ص316) صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب! صَلَّی اللهُ علٰی مُحَمَّد اے عاشقانِ اولیائےکرام! حضرتِ معروف کرخی رحمۃُ اللہ علیہ کے اس واقعے سے ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ نفرت گناہ سے ہونی چاہئے نہ کہ گنہگار سے ۔اگر آپ رحمۃُ اللہ علیہ ان کیلئے بد دعا فرمادیتے تو وہ ہلاک ہوجاتے اور ان کی آخرت برباد ہوجاتی، لیکن آپ رحمۃُ اللہ علیہ نے ان کیلئے ہدایت کی دعا فرمائی اور آپ کی دعائے خیر کی برکت سے وہ گناہوں سے توبہ کرکے سیدھے راستےپر آگئے۔ہمیں بھی چاہیے کہ کسی کیلئے ہرگز ہرگز بددعا نہ کریں کہ حدیثِ پاک میں اس سے منع کیا گیاہے،چنانچہ اللہ پاک کےآخری نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم نہ اپنے آپ کو بددُعا دو ، نہ اپنی اولاد کو بد دُعا دو اور نہ اپنے اَموال کو بددُعا دو ، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ وہ گھڑی ہو جس میں اللہ پاک سے جس عطا کابھی سوال کیا جائے تو وہ دُعا قبول ہوتی ہو۔ (مسلم، ص1226، حدیث: 7515) صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب! صَلَّی اللهُ علٰی مُحَمَّد

(4)مشکل حل ہوگئی

حضرت قاری ابوالحجاج رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:میرے یہاں بچے کی ولادت ہوئی، میرے پاس کچھ بھی نہیں تھا، میں نے اس بارے میں حضرتِ معروف کرخی رحمۃُ اللہ علیہ سے عرض کی تو آپ نےفرمایا:اے بھائی!اللہ پاک سے دعا کرو،چنانچہ وہ دعا کرتے جاتے اور میں آمین کہتا جاتا اور جب میں دعا کرتا تو وہ آمین کہتے،جب دعا کا سلسلہ طویل ہوا تو میں اٹھا اورچپکےسے باہر آگیا،اچانک میں نے دیکھا کہ ایک سُوار مجھے پیچھے سے آواز دے رہا ہے،اس کے پاس پیسوں کی ایک تھیلی تھی۔اس نے مجھ سے کہا:حضرتِ معروف کرخی رحمۃُ اللہ علیہ نے آپ سے کہا ہے کہ اس تھیلی کواس کام میں خرچ کرو جس کا آپ نے ان سے ذکر کیا تھااوراس تھیلی میں سو دینار یا اس کے قریب قریب تھے۔ (حلیۃ الاولیاء،8/407، رقم:12698) اللہ ربُ الْعِزَّت کی ان پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔ اٰمِین بِجاہِ خَاتَمِ النَّبِیّین صَلَّی اللہ علیهِ واٰله وسلَّم صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب! صَلَّی اللهُ علٰی مُحَمَّد

رب کریم کی رضا میں راضی

حضرتِ معروف کرخی رحمۃُ اللہ علیہ کے ایک دینی بھائی نے ایک بارآپ کی دعوت کی۔ آ پ نے ایک نیک شخص کا ہاتھ پکڑا اور اسے دعوت میں لے آئے۔ جب اس نیک شخص نے انواع و اقسام کی چیزیں دیکھیں تواسے بُرا لگا اور اس نے کہا:اے ابومحفوظ! کیا آپ یہاں نہیں دیکھ رہے؟ آپ نے فرمایا:میں نے ان لوگوں کو ان چیزوں کے خریدنے کا حکم نہیں دیا۔جب اس نے حلوہ دیکھا تو کہا: سبحانَ اللہ !اے ابو محفوظ! کیا آپ یہاں نہیں دیکھ رہے؟ آپ نے فرمایا:میں نے ان کو اس کے بنانے کا حکم نہیں دیا۔ پھر جب اس نے مختلف قسم کی مٹھائیاں دیکھیں تو کہا:کیاآپ یہاں نہیں دیکھ رہے؟آپ نے فرمایا:تم نے مجھ سے بہت سارے سُوالات کرلیے،میں تو ایک سمجھدار غلام ہوں، میرا آقا جومجھے کھلاتاہے میں کھا لیتا ہوں،جہاں مجھے میری مہمانی کے لیے ٹھہراتا ہے وہاں ٹھہر جاتا ہوں۔ (حلیۃ الاولیاء،8/407، رقم:12699)

لمبی امید نیک عمل میں رُکاوٹ

ایک دن حضرت معروف کرخی رحمۃُ اللہ علیہ نے نماز کے لئے اقامت کہی۔پھر حضرتِ محمد بن ابی توبہ رحمۃُ اللہ علیہ سے ارشاد فرمایا:آگے بڑھ کر ہمیں نماز پڑھائیے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ رحمۃُ اللہ علیہ امامت نہیں کراتے تھے ، بلکہ صرف اذان و اقامت کہتے تھے جبکہ امامت کوئی اور کرتا تھا۔حضرت محمد بن ابی توبہ رحمۃُ اللہ علیہ نے عرض کی: اگر میں آپ کو یہ نماز پڑھاؤں تو دوسری نماز کی امامت نہیں کروں گا۔یہ سن کرآپ رحمۃُ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا: کیا تم دوسری نماز کی اُمید کرتے ہو؟ ہم لمبی اُمیدوں سے اللہ کریم کی پناہ طلب کرتے ہیں کیونکہ یہ بہترین عمل سے روک دیتی ہیں۔(حلیۃ الاولیاء،8/405، حدیث:12688)

اللہ پاک پر بھروسا کرو

حضرتِ محمد بن مَسْلَمہ یامی رحمۃُ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں:حضرت معروف کرخی رحمۃُ اللہ علیہ نے ایک شخص سے فرمایا:اللہ پاک پر بھروسا کرو یہاں تک کہ وہی تمہارا مُعلِّم (سکھانے والا)، وہی تمہارا اَنیس (محبت کرنے والا)اورتمہاری عرضیاں اُسی کی بارگاہ میں پیش ہوں اور موت کی یاد تمہارے ساتھ ایسے ہوکہ تم سے کبھی جدا نہ ہو ۔جان لو کہ جو بھی آزمائش و مصیبت تم پر نازل ہو اس سے چھٹکارا اس کو چھپا ئے رکھنے میں ہے کیونکہ لوگ تمہیں نہ فائدہ دے سکتے ہیں،نہ نقصان پہنچاسکتے ہیں،نہ تم سے کچھ روک سکتے ہیں اور نہ ہی تمہیں کچھ دے سکتے ہیں۔(حلیۃ الاولیاء،8/404، حدیث:12683)

تجارت کی ترغیب:

حضرتِ معروف کرخی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:میں نے حضرتِ بکر بن خُنَیْس رحمۃُ اللہ علیہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ خریدو اور بیچو اگرچہ قیمتِ خرید ہی پر ہو کیونکہ اس مال میں بھی ایسے ہی بَرَکت ہوتی ہے جیسے زراعت میں نَشْو ونَما ہوتی ہے۔ (حلیۃ الاولیاء،8/408، حدیث:12704)

اللہ کی معرفت کافی ہے

کسی شخص نے حضرتِ سیِّدُنا معروف کرخی رحمۃُ اللہ علیہ سےعرض کی: ”اے ابومحفوظ! مجھے بتائیے کہ آپ کوکس چیز نےمخلوق سے علیحدگی اور عبادتِ الٰہی پر اُبھارا؟“آپ رحمۃُ اللہ علیہ خاموش رہے تو اس نے خود ہی کہا: موت کی یاد نے؟ آپ رحمۃُ اللہ علیہ نے فرمایا: ”موت کیا چیز ہے؟“ اس نے کہا: قبر اور برزخ کی یاد نے؟ آپ رحمۃُ اللہ علیہ نے فرمایا:”قبر کیاشے ہے ؟“ پھر اس نے کہا:جہنّم کے خوف اور جنّت کی امید نے؟ تو آپ رحمۃُ اللہ علیہ نے فرمایا: ”یہ کیا چیز ہے؟ بے شک یہ تمام چیزیں ایک بادشاہ کے قبضے میں ہیں اگر تو اس سے محبت کرے تو وہ تجھے سب کچھ بُھلا دے اور اگر تیرے اور اس کے درمیان جان پہچان ہوجائے تو وہ تجھےان تمام کے مقابلے میں کافی ہوجائے۔“(احیاء العلوم،5/22) صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب! صَلَّی اللهُ علٰی مُحَمَّد
---1کرامت کی تعریف : اللہ پاک کے ولی سے جو خلافِ عادت بات صادر ہو ۔( بہار شریعت ،1/58 ، حصہ:1بتغیرقلیل) خلافِ عادت بات سے مُراد وہ کام ہے جو عام طور پر ہر کسی انسان سے ظاہر نہ ہوتا ہو مثلاً ہوا میں اُڑنا، پانی پر چلنا وغیرہ اَفعال کہ عام طور پر آدمی نہ تو ہوا میں اُڑ سکتا ہے اور نہ ہی پانی پر چل سکتا ہے۔یاد رکھئے! کرامت کا مُنکِر(یعنی اِنکار کرنے والا) گمراہ ہے۔( بہار شریعت،1/269 ،حصہ:1)

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن