دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Karamat e Hazrat Maroof Karkhi | کرامات حضرت معروف کرخی رحمۃ اللہ تعالی علیہ

Hazrat Maroof Karkhi Ke Farameen Aur Ap Ke Wazaif o Dua

book_icon
کرامات حضرت معروف کرخی رحمۃ اللہ تعالی علیہ
            

فرامینِ حضرت معروف کرخی رحمۃُ اللہ علیہ

اے عاشقانِ اولیائے کرام!حضرتِ معروف کرخی رحمۃُ اللہ علیہ نے جہاں اپنی سیرت وکردار کے ذریعے لوگوں کی اصلاح فرمائی وہیں اپنے پاکیزہ فرامین سے بھی لوگوں کی زندگیوں میں انقلاب پیدا فرمایا ،چنانچہ آپ فرماتے ہیں : *”دُنیاچار چیزوں کا نام ہے: (1) مال (2) کلام (3) سونا اور (4) کھانا ۔ کیونکہ مال سرکشی(نافرمانی) کا سبب ہے، کلام لہو و لعب(یعنی کھیل کود) میں مبتلا کر دیتا ہے،نیند غافل کر دیتی ہے اور کھانا دل کی سختی کا باعث ہے۔“ (طبقاتِ اولیاء،ص 285) * ربِّ کریم کی نافرمانی کرتے ہوئے رحمت کی امید لگانا جہالت اور حَماقت ہے۔ ( حلیۃ الاولیاء ،8/411،رقم:12718ملتقطاً) *اے مسکین!تو کب روئے گا اور کب سمجھداربنے گا؟ مخلص بن اور چھٹکارا حاصل کر۔ ( حلیۃ الاولیاء ،8/411،رقم:12718ملتقطاً) *مشکل گھڑی میں جس چیز کی حاجت ہواسے ایثار کردینا سخاوت ہے۔ ( حلیۃ الاولیاء، 8/411، رقم:12718ملتقطاً) *صرف ایک خراب لقمہ بعض اوقات دل کی کیفیت کو اس قدر تباہ کردیتا ہے کہ پھر ساری عمر دل راہِ راست (یعنی سیدھے راستے)پر نہیں آتا۔ *بعض اوقات وہی خراب لقمہ سال بھر تک تہجد کی نعمت سے آدمی کو محروم کردیتا ہے ۔ *بعض اوقات ایک بار بدنگاہی کرنے والا عرصہ تک تلاوتِ قرآنِ کریم کی سعادت سے محروم کردیا جاتا ہے۔(منہاج العابدین،ص97ملتقطاً) *بندے کا بےفائدہ کلام کرنا اللہ پاک کی مددسے محرومی کی علامت ہے۔ ( حلیۃ الاولیاء ،8/405، رقم:12691) *اللہ پاک فرماتا ہے: میرے بندوں میں مجھے سب سے زیادہ محبوب وہ مساکین ہیں جنہوں نے میرا فرمان سنا اور میراحکم مانا اورمیرے ذمے ان کا اعزاز یہ ہے کہ میں انہیں دنیا نہ عطا کروں تاکہ وہ (دنیا سے بےرغبت رہ کر)میری عبادت کی طرف متوجہ رہیں۔ (تہذیب الآثار للطبری، 2/301، رقم: 510) *حضرت معروف کرخی رحمۃُ اللہ علیہ سے پوچھا گیا:دنیا کو دل سے کیسے نکالا جائے؟ ارشاد فرمایا: خالص محبت اور اچھے مُعاملے کے ذریعےاورخالص محبت کی تین علامتیں ہیں : (1) وفا بغیر کسی خوف وخطر کے ہو (2) عطا بغیر سُوال کے ہو (3) تعریف بغیر جود وسخاوت کے ہو اور اولیا کی تین علامتیں ہیں:(1) ان کے ارادے اور اَفکار اللہ پاک کے لیے ہوتے ہیں (2) ان کی مصروفیت اللہ پاک کے لیے ہوتی ہے اور (3) وہ ہرچیز سے دامن چھڑا کر اللہ پاک کی طرف دوڑتے ہیں۔ (حلیۃ الاولیاء ،8/411،رقم:12718ملتقطاً) *جس نے اللہ پاک پر بھروسہ کیا تووہ اسے نفع دے گا اور جس نے اس کے لئے عاجزی کی تو وہ اُسے بلند رتبہ عطا فرمائے گا۔(سیر اعلام النبلاء،8/218،رقم:1425) *جب اللہ پاک کسی بندے کے ساتھ بھلائی کاارادہ فرماتا ہے تو اس کے لیے عمل کا دروازہ کھول دیتا ہے اور جب اللہ پاک کسی بندےکے ساتھ بُرائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لیے عمل کا دروازہ بند کردیتا ہے ۔(سیر اعلام النبلاء،8/217،رقم:1425) *لمبی امید نیک اور اچھے کام سے روک دیتی ہے۔ (حلیۃ الاولیاء،8/408، حدیث:12703 ) صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب! صَلَّی اللهُ علٰی مُحَمَّد

معروف کرخی رحمۃُ اللہ علیہ کی دعائیں

حضرت معروف کرخی رحمۃُ اللہ علیہ کی دعاؤں میں یہ دُعا بھی تھی:(اے اللہ پاک!) ہمیں ان لوگوں میں سے بنادے جوتجھ سے ملاقات پر ایمان رکھتے ہیں،تیرے فیصلے پر راضی رہتے ہیں،تیرے دیئے ہوئے پر خوش رہتے ہیں اور تجھ سے ایسے ڈرتے ہیں جیسے ڈرنے کا حق ہے۔ (حلیۃ الاولیاء،8/405، حدیث:12687 ) حضرت معروف کرخی رحمۃُ اللہ علیہ اس طرح دعا کیا کرتے تھے: ”اَللّٰھمَّ یَا مَنْ وَفَّقَ اَھْلَ الْخَیْرِ لِلْخَیْرِ وَاَعَانَھُمْ عَلَیْهِ وَفِّقْنَا لِلْخَیْرِ وَاَعِنَّا عَلَیْهِ یعنی اے اللہ پاک !اے وہ ذات جس نے نیک بندوں کو نیک کاموں کی توفیق دی اور اس پر ان کی مدد بھی فرمائی! ہمیں بھی بھلائی کی توفیق عطا فرما اور اس پر ہماری مدد بھی فرما۔“(الروض الفائق،ص185)

معروف کرخی کے ا َورا دووظائف

اے عاشقانِ اولیائے کرام!ہمارے بزرگانِ دین کا یہ دستور رہا ہے کہ وہ اپنے مریدین ومتعلقین کو مصائب وامراض سے نجات،رزق میں برکت اور دیگر اہم امور سے متعلق اَوْراد وو ظائف عطا فرماتے ہیں ۔حضرت معروف کرخی رحمۃُ اللہ علیہ نے بھی وقتاً فوقتاً اپنے مریدین کو اوراد و و ظائف عطافرمائےہیں ،چنانچہ

ابدالوں کی فضیلت حاصل کرنے کا وظیفہ

حضرت معروف کرخی رحمۃُ اللہ علیہ نے فرمایا کہ جو شخص روزانہ 10 مرتبہ یہ کلمات ’’اَللّٰهُمَّ اَصْلِحْ اُمَّةَ مُحَمَّدٍ اَللّٰهُمَّ فَرِّجْ عَنْ اُمَّةِ مُحَمَّدٍ اَللّٰهُمَّ ارْحَمْ اُمَّةَ مُحَمَّدٍیعنی اے اللہ! اُمّتِ محمدیہ کی اصلاح فرما،ان کی تکلیفیں دور کردے اوران پر رحم فرما۔‘‘کہے گا۔اسے ابدالوں میں لکھ دیا جائے گا۔ (حلیۃ الاولیاء،8/410، حدیث:12716 ) حضرت معروف کرخی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:ایک شخص نے بَیْتُ اللہ شریف سے رخصت ہوتے ہوئے کہا:اَللّٰهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَدَدَ عَفْوِكَ عَنْ خَلْقِكَیعنی اے اللہ!تیرے لیے اتنی تعداد میں حمد ہو جتنی تعداد میں تو اپنی مخلوق کو معاف کرتا ہے۔پھر جب آئندہ سال وہ شخص دوبارہ آیا اوریہی کلمات کہے تو اس نے ایک آواز سنی کہ پچھلے سال جب سے تم نے یہ کلمہ کہا تھااس وقت سے ہم اس (کے ثواب) کو نہیں گن سکے۔ (حلیۃ الاولیاء،8/410، حدیث:12717)

حاجت پوری کرنے والے کلمات

حضرت عبداللہ بن محمد انصاری رحمۃُ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت معروف کرخی رحمۃُ اللہ علیہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص اپنے بستر سے علیحدہ ہوتے وقت یہ کلمات کہے:”سُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلهِ وَلَآ اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَاَسْتَغْفِرُ اللهَ اَللّٰهُمَّ اِنِّي اَسْاَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ وَرَحْمَتِكَ فَاِنَّهُمَا بِيَدِكَ لَا يَمْلِكُهُمَا اَحَدٌ سِوَاكَ یعنی اللہ پاک ہےاور تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں،اللہ کےسوا کوئی معبودنہیں اور میں اللہ سے مغفرت مانگتا ہوں۔ اےاللہ! میں تجھ سے تیرے فضل اورتیری رحمت کا سُوال کرتا ہوں یہ دونوں تیرے قبضہ میں ہیں، تیرے سوا کوئی ان کا مالک نہیں۔“تو اللہ کریم بندوں کی حاجتیں پوری کرنے پر مقرر فرشتے یعنی حضرت جبریل امین علیہ السّلام سےارشاد فرماتا ہے : اے جبریل!میرے بندے کی حاجت پوری کردو۔(حلیۃ الاولیاء،8/410، حدیث:12718 ) حضرت یعقوب بن عبدالرحمن رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت محمد بن حسان رحمۃُ اللہ علیہ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ مجھے حضرت معروف کرخی رحمۃُ اللہ علیہ نےارشاد فرمایا: ” کیا میں تمہیں دس ایسے کلمات نہ سکھاؤں کہ جن میں سے پانچ دنیا اور پانچ آخرت کے لئے ہیں ، جو بھی ان کلمات سے اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا کرتا ہے انعاماتِ باری تعالیٰ پاتا ہے۔ “ میں نے عرض کی کہ انہیں تحریر فرما دیں تو انہوں نے ارشاد فرمایا: ”نہیں ! میں تحریر نہیں کروں گا بلکہ میں بھی اسی طرح بار بار تمہیں پڑھ کر سناؤں گا جیسا کہ حضرت بکر بن حُبَیْش رحمۃُ اللہ علیہ نے مجھے سنائے تھے۔“ وہ کلمات یہ ہیں : *حَسْبِیَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالٰی لِدِیْنِیْ ، حَسْبِیَ اللهُ عَزَّوَجَلَّ لِدُنْیایَ، حَسْبِیَ اللهُ الْكَرِیْمُ لِمَا اَھَمَّنِیْ ،حَسْبِیَ اللهُ الْحَكِیْمُ الْقَوِیُّ لِمَنْ بَغٰی عَلَیَّ ، حَسْبِیَ اللهُ الشَّدِیْدُ لِمَنْ كَادَنِیْ بِسُوْٓءٍ ، حَسْبِیَ اللهُ الرَّحِیْمُ عِنْدَ الْمَوْتِ،حَسْبِیَ اللهُ الرَّؤُوْفُ عِنْدَ الْمَسْئَلَةِ فِی الْقَبْرِ ،حَسْبِیَ اللهُ الْكَرِیْمُ عِنْدَ الْحِسَابِ ،حَسْبِیَ اللهُ اللَّطِیْفُ عِنْدَ الْمِیْزَانِ،حَسْبِیَ اللهُ الْقَدِیْرُ عِنْدَ الصِّرَاطِ ،حَسْبِیَ اللهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ ھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ ترجمہ : مجھے میرے دین کے معاملے میں اللہ پاک ہی کا فی ہے، مجھے میری دنیا کے معاملات میں بھی اللہ پاک ہی کا فی ہے، جن باتوں نے مجھے غم زَدَہ کر دیا ہے ان میں بھی مجھے کریم اللہ ہی کا فی ہے، مجھ پر سرکشی اختیار کرنے والے کے معاملہ میں بھی مجھے حکمت و قوت والا اللہ پاک ہی کا فی ہے، جو مجھے دھوکا و فریب دینا چاہے اس کے معاملہ میں بھی مجھے شدت و طاقت والا اللہ پاک ہی کا فی ہے، موت کے وقت بھی مجھے رحم فرمانے والا اللہ پاک ہی کا فی ہے، قبر میں سوال جواب کے وقت بھی مجھے اللہ پاک ہی کا فی ہے جو کہ رَءوف ہے، حساب کے وقت بھی مجھے کرم فرمانے والا اللہ پاک ہی کا فی ہے، میزان کے پاس بھی مجھے لطف و کرم فرمانے والا اللہ پاک ہی کا فی ہے، پل صراط سے گزرتے وقت بھی مجھے قدرت والا اللہ پاک ہی کا فی ہے، مجھے اللہ پاک ہی کا فی ہے، جس کے سوا کوئی معبود(عبادت کے لائق) نہیں ، اسی پر میں نے بھروسا کیا ہے اور وہی عرشِ عظیم کا مالک ہے۔

اور اس کے بعد یوں دعا کرے

اَللّٰهُمَّ یا ھَاِدیَ الْمُضِلِّیْنَ وَ رَاحِمَ الْمُذْنِبِیْنَ وَمُقِیْلَ عَثَرَاتِ الْعَاثِرِیْنَ اِرْحَمْ عَبْدَكَ ذَا الْخَطَرِ الْعَظِیْمِ الْمُسْلِمِیْنَ كُلِّهِمْ اَجْمَعِیْنَ وَاجْعَلْنَا مِنَ الْاَحْیآءِ الْمَرْزُوْقِیْنَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیِّیْنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّهَدَآءِ وَالصَّالِحِیْنَ اٰمِیْنَ۔ یا رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ! ترجمہ : اے اللہ پاک! اے گمراہوں کو ہدایت دینے والے! اور اے گناہگاروں پر رحم فرمانے والے! اے خطاکا روں کی خطائیں معاف فرمانے والے! اے عظیم قدرو منزلت کے مالک! اپنے (اس) بندے اور تمام مسلمانوں پر رحم فرما اور ہمیں ان رزق دیئے گئے زندوں میں سے بنا دے جن پر تونے انعام فرمایا یعنی نبیوں ، صدیقوں ، شہیدوں اور نیک لوگوں میں سے ۔ آمین ! یا ربَّ الْعَالَمِیْن! منقول ہے کہ حضرت عتبہ غلام رحمۃُ اللہ علیہ کو خواب میں دیکھا گیا تو انہوں نے (دخولِ جنت کا سبب پوچھنے پر) بتایا کہ میں انہی دعاؤں کی برکت سے جنت میں داخل ہوا ہوں ۔

مذکورہ دعا کے بعد یہ دعا مانگے

اَللّٰهُمَّ عَالِمَ الْخَفِیّاتِ، رَفِیْعَ الدَّرَجَاتِ، ذَا الْعَرْشِ، تُلْقَی الرُّوْ حُ مِنْ اَمْرِكَ عَلٰی مَنْ تَشَآءُ مِنْ عِبَادِكَ، غَافِرَ الذَّنْبِ وَقَابِلَ التَّوْبِ، شَدِیْدَ الْعِقَابِ، ذَا الطَّوْلِ، لَآ اِلٰـهَ اِلَّآ اَنْتَ، اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ ترجمہ :اے اللہ پاک ! اے مخفی و پوشیدہ اشیاء کو جاننے والے! اے درجات کو بلند کرنے والے! اے عرش کے مالک! روح تیرے حکم سے تیری منشا و مرضی کے مطابق تیرے بندوں میں ڈالی جاتی ہے، اے گناہ معاف کرنے والے! اور اے توبہ قبول فرمانے والی ذاتِ بابرکا ت! اے سخت عذاب کے مالک! تیرے سوا کوئی معبود نہیں ، تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔ حضرت ابراہیم صائغ رحمۃُ اللہ علیہ کو کسی نے خواب میں دیکھ کر پوچھا: آپ کو کس شے کے سبب نجات ملی؟ تو آپ رحمۃُ اللہ علیہ نے بتایا کہ یہی مذکورہ دعائیں میری نجات کا سبب ہیں ۔(قوت القلوب،1/24)

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن