30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
گئے اوروہیں ۸۶ھ میں اکانوے برس کی عمر میں وفات پائی ۔ بعض مؤرخین نے ان کا سال وفات ۸۱ھ تحریر کیا ہے ۔ یہ اپنی داڑھی میں زردرنگ کاخضاب کرتے تھے ۔([1])
(اکمال ، ص۵۸۶واسدالغابہ، ج۳، ص۱۶)
ان کی ایک کرامت یہ ہے کہ جس کو وہ خود بیان فرمایا کرتے تھے کہ رسول اللہ عَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ان کو بھیجا کہ تم اپنی قوم میں جاکر اسلام کی تبلیغ کرو چنانچہ حکم نبوی کی تعمیل کرتے ہوئے یہ اپنے قبیلہ میں پہنچے اور اسلام کا پیغام پہنچایا مگر ان کی قوم نے ان کے ساتھ بہت برا سلوک کیا، کھانا کھلانا تو بڑی بات ہے پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں دیا بلکہ ان کا مذاق اڑاتے ہوئے اوربرابھلا کہتے ہوئے ان کو بستی سے باہر نکال دیا۔ یہ بھوک پیاس سے انتہائی بے تاب اورنڈھال ہوچکے تھے لاچار ہوکر کھلے میدان ہی میں ایک جگہ سوگئے تو خواب میں دیکھا کہ ایک آنے والا (فرشتہ)آیا اور ان کو دودھ سے بھرا ہوا ایک برتن دیا۔ یہ اس دودھ کو پی کر خوب جی بھر کر سیراب ہوگئے ۔ خدا کی شان دیکھئے کہ جب نیند سے بیدار ہوئے تو نہ بھوک تھی نہ پیاس۔
اس کے بعد گاؤں کے کچھ خیر پسند اورسلجھے ہوئے لوگوں نے گاؤں والوں کو ملامت کی کہ اپنے ہی قبیلہ کا ایک معزز آدمی گاؤں میں آیا اورتم لوگوں نے اس کے ساتھ شرمناک قسم کی بدسلوکی کرڈالی جو ہمارے قبیلہ والوں کی پیشانی پر ہمیشہ کے لیے کلنک کا ٹیکہ بن جائے گی ۔ یہ سن کر گاؤں والوں کو ندامت ہوئی اوروہ لوگ کھانا پانی وغیرہ لے کر میدان میں ان کے پا س پہنچے تو انہوں نے فرمایا کہ مجھے تمہارے کھانے پانی کی اب کوئی ضرورت نہیں ہے مجھ کوتو میرے رب نے کھلا پلاکر سیراب کردیاہے اور پھر اپنے خوا ب کا قصہ بیان کیا۔ گاؤں والوں نے جب یہ دیکھ لیا کہ واقعی یہ کھا پی کر سیراب ہوچکے ہیں اوران کے چہرے پر بھوک وپیاس کا کوئی اثر ونشان نہیں حالانکہ اس سنسان جنگل اور بیابان میں کھانا پانی کہیں سے ملنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تو گاؤں والے آپ کی اس کرامت سے بے حد متأثر ہوئے یہاں تک کہ پوری بستی کے لوگوں نے اسلام قبول کرلیا۔ ([2]) (حجۃ اللہ ، ج۲، ص۸۷۳بحوالہ بیہقی وکنزالعمال، ج۱۶، ص۲۲۲ومستدرک حاکم ، ج۳، ص۶۴۲)
حضرت ابو امامہ باہلی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی باندی کا بیان ہے کہ یہ بہت ہی سخی اورفیاض آدمی تھے ۔ کسی سائل کو بھی اپنے دروازے سے نامراد نہیں لوٹاتے تھے ۔ ایک دن ان کے پاس صرف تین ہی اشرفیاں تھیں اور یہ اس دن روزہ سے تھے اتفاق سے اس دن تین سائل دروازہ پر آئے اورآپ نے تینوں کو ایک ایک اشرفی دے دی ۔ پھر سورہے ۔ باندی کہتی ہیں کہ میں نے نماز کے لیے انہیں بیدارکیا اوروہ وضو کر کے مسجدمیں چلے گئے ۔ مجھے ان کے حال پر بڑا ترس آیا کہ گھر میں نہ ایک پیسہ ہے نہ اناج کا ایک دانہ ، بھلا یہ روزہ کس چیز سے افطارکریں گے ؟ میں نے ایک شخص سے قرض لے کر رات کا کھانا تیار کیا اورچراغ جلایا۔ پھر میں جب ان کے بستر کو درست کرنے کے لیے گئی تو کیا دیکھتی ہوں تین سو اشرفیاں بستر پر پڑی ہوئی ہیں ۔ میں نے ان کو گن کر رکھ دیا وہ نماز عشاء کے بعد جب گھرآئے اورچراغ جلتا ہوا اور بچھا ہوا دسترخوان دیکھاتو مسکرا ئے اورفرمایا کہ آج تو ماشاء اللہ میرے گھر میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے خیر ہی خیر ہے ۔ پھر میں نے انہیں کھانا کھلایا اورعرض کیا کہ اللہ تَعَالٰی آپ پر رحم فرمائے آپ ان اشرفیوں کو یونہی لاپرواہی کے ساتھ بستر پر چھوڑ کر چلے گئے اور مجھ سے کہہ کر بھی نہیں گئے کہ میں ان کو اٹھا لیتی آپ نے حیران ہوکر پوچھا کہ کیسی اشرفیاں ؟میں تو گھر میں ایک پیسہ بھی چھوڑ کر نہیں گیا تھا۔ یہ سن کر میں نے ان کا بستراٹھاکر جب انہیں دکھایا کہ یہ دیکھ لیجئے اشرفیاں پڑی ہوئی ہیں تو وہ بہت خوش ہوئے لیکن انہیں بھی اس پر بڑا تعجب ہوا۔ پھر سوچ کر کہنے لگے کہ یہ اللہ تَعَالٰی کی طرف سے میری امدادغیبی ہے میں اس کے بارے میں اس کے سوا اورکیا کہہ سکتاہوں۔ ([3]) (حلیۃ الاولیاء، ج۱۰، ص۱۲۹ وشواہد النبوۃ، ص۲۱۸)
(۳۸)حضرت دحیہ بن خلیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
یہ بہت ہی بلند مرتبہ صحابی ہیں ۔ جنگ احد اور اس کے بعدکے تمام اسلامی معرکوں میں کفارسے لڑتے رہے ۔ ۶ھ حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ان کو روم کے بادشاہ قیصر کے دربار میں اپنا مبارک خط دے کر بھیجا اور قیصر روم حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام کا نامۂ مبارک پڑھ کر ایمان لے آیا مگر اس کی سلطنت کے ارکان نے اسلام قبول کرنے سے انکار کردیا۔
انہوں نے حضوراکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں چمڑے کا موزہ بطور نذرانہ پیش کیا اورحضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس کو قبول فرمایا۔ یہ مدینہ منورہ سے شام میں آکر مقیم ہوگئے تھے اورحضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے زمانے تک زندہ رہے ۔([4]) (اکمال ، ص۵۹۴)
حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلامان کی صورت میں
ان کی مشہور کرامت یہ ہے کہ حضرت جبرائیل عَلَیْہِ السَّلامان کی صورت میں زمین پر نازل ہواکرتے تھے ۔([5]) (اکمال ، ص۵۹۴واسدالغابہ، ج۲، ص۱۳۰)
(۳۹)حضرت سائب بن یزید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
ان کی کنیت ابو یزید ہے بنو کندہ میں سے تھے ۔ ہجرت کے دوسرے سال پیدا ہوئے اورحجۃ الوداع میں اپنے والد کے ساتھ حج کیا ۔ امام زہری ان کے شاگردوں میں بہت ہی مشہورہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع