30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دوم : حضر ت موسیٰ علیہ الصلو ۃ والسلام کی بیوی حضرت صفوراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰیعَنْہَا کہ انہوں نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامکے روشن مستقبل کو اپنی فراست سے بھانپ لیا اوراپنے والد حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامسے عرض کیا کہ آپ اس جوان کو بطور اجیر کے اپنے گھر پر رکھ لیں۔ جبکہ انتہائی کسمپرسی کے عالم میں فرعون کے ظلم سے بچنے کے لیے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَاماکیلے ہجرت کر کے مصر سے ’’مدین‘‘پہنچ گئے تھے۔ چنانچہ حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامنے ان کو اپنے گھر پر رکھ لیا اوران کی خوبیوں کو دیکھ کر اور ان کے کمالات سے متأثر ہوکر اپنی صاحبزادی حضرت بی بی صفوراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰیعَنْہَا کا ان سے نکاح کردیا اوراس کے بعد خداوند قدوس نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامکو نبوت ورسالت کے شرف سے سرفراز فرمادیا۔
سوم : عزیز مصر کہ انہوں نے اپنی بیوی حضرت زلیخا کو حکم دیا کہ اگرچہ حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامہمارے زرخرید غلام بن کر ہمارے گھر میں آئے ہیں مگر خبردار ! تم ان کے اعزازواکرام کا خاص طو رپر اہتمام وانتظام رکھنا کیونکہ عزیز مصر نے اپنی نگاہِ فراست سے حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامکے شاندارمستقبل کو سمجھ لیا تھا کہ گویا آج غلام ہیں مگر یہ ایک دن مصرکے بادشاہ ہوں گے ۔([1]) (تاریخ الخلفاء ، ص۵۷وازالۃ الخفاء مقصد۲، ص۳۳)
امیرالمؤمنین حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اپنے دورخلافت میں قیصر روم سے جنگ کے لیے مجاہدین اسلام کی ایک فوج روانہ فرمائی اورحضرت ابو عبید ہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو اس فوج کا سپہ سالارمقرر فرمایا ۔ یہ اسلامی فوج قیصرروم کی لشکر ی طاقت کے مقابلہ میں صفر کے برابر تھی مگر جب اس فوج نے رومی قلعہ کا محاصرہ کیا اورلَااِلٰہَ اِلَّا اللہ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہکا نعرہ ماراتو کلمہ طیبہ کی آواز سے قیصر روم کے قلعہ میں ایسا زلزلہ آگیا کہ پورا قلعہ مسمار ہوکر اس کی اینٹ سے اینٹ بج گئی اور دم زدن میں قلعہ فتح ہوگیا ۔ بلا شبہ یہ امیر المؤمنین حضرت ابو بکرصدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی بہت ہی شاندار کرامت ہے کیونکہ آپ نے اپنے دستِ مبارک سے جھنڈا باندھ کر اورفتح کی بشارت دے کر اس فوج کو جہاد کے لیے روانہ فرمایا تھا۔ ([2])(ازالۃ الخفاء، مقصد ۲، ص۴۰)
ایک شخص نے امیرالمؤمنین حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے عرض کیا کہ اے امیرالمؤمنین! رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمیں نے یہ خواب دیکھا ہے کہ میں خون میں پیشاب کر رہا ہوں ۔آپ نے انتہائی غیظ وغضب اورجلا ل میں تڑپ کر فرمایا کہ تو اپنی بیوی سے حیض کی حالت میں صحبت کرتاہے لہٰذا اس گناہ سے توبہ کر اورخبردار!آئندہ ہرگز ہرگزکبھی بھی ایسا مت کرنا ۔ وہ شخص اس اپنے چھپے ہوئے گناہ پر ناد م وشرمندہ ہوکر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے تائب ہوگیا۔([3])(تاریخ الخلفاء، ص۷۲)
جب حضرت امیرالمؤمنین ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکا مقدس جنازہ لے کر لوگ حجرہ منورہ کے پاس پہنچے تو لوگوں نے عرض کیا کہ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللہ ھٰذَا اَ بُوْ بَکْرٍ یہ عرض کرتے ہی روضہ منورہ کا بنددروازہ یک دم خود بخود کھل گیا اور تمام حاضرین نے قبر انور سے یہ غیبی آواز سنی : اَدْخِلُوا الْحَبِیْبَ اِلَی الْحَبِیْبِ(یعنی حبیب کو حبیب کے دربار میں داخل کردو) ([4])
(تفسیر کبیر، ج۵، ص۴۷۸)
حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنی وفات اقدس سے صرف چند دن پہلے رومیوں سے جنگ کے لئے ایک لشکر کی روانگی کا حکم فرمایا اوراپنی علالت ہی کے دوران اپنے دست مبارک سے جنگ کا جھنڈا باندھااورحضرت اسامہ بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰیعَنْہَاکے ہاتھ میں یہ نشان اسلام دے کر انہیں اس لشکر کا سپہ سالار بنایا۔ ابھی یہ لشکر مقام ’’جرف ‘‘میں خیمہ زن تھااورعساکراسلامیہ کااجتماع ہوہی رہاتھاکہ وصال کی خبر پھیل گئی اوریہ لشکرمقام ’’جرف‘‘ سے مدینہ منورہ واپس آگیا۔وصال کے بعد ہی بہت سے قبائل عرب مرتد اوراسلام سے منحرف ہوکر کافر ہوگئے نیز مسیلمۃ الکذاب نے اپنی نبوت کا دعویٰ کر کے قبائل عرب میں ارتداد کی آگ بھڑکادی اوربہت سے قبائل مرتد ہوگئے۔
اس انتشار کے دور میں امیر المؤمنین ابوبکرصدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے تخت خلافت پر قدم رکھتے ہی سب سے پہلے یہ حکم فرمایا کہ ’’جیش اسامہ ‘‘یعنی اسلام کا وہ لشکر جس کو حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرت اسامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی زیر قیادت روانہ فرمایا اوروہ واپس آگیا ہے دوبارہ اس کو جہاد کے لیے روانہ کیا جائے ۔ حضرات صحابہ کرام بارگاہ خلافت کے اس اعلان سے انتہائی متوحش ہوگئے اورکسی طرح بھی یہ معاملہ ان کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ ایسی خطرناک صورتحال میں جبکہ بہت سے قبائل اسلام سے منحرف ہوکر مدینہ منورہ پر حملوں کی تیاریاں کر رہے ہیں اور جھوٹے مدعیان نبوت نے جزیرۃ العرب میں لوٹ ماراوربغاوت کی آگ بھڑکا رکھی ہے۔ اتنی بڑی اسلامی فوج کا جس میں بڑے بڑے نامور اورجنگ آزما صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم موجود ہیں ملک سے باہر بھیج دینا اورمدینہ منورہ کو بالکل عساکر اسلامیہ سے خالی چھوڑکر خطرات مول لینا کسی طرح بھی عقل سلیم کے نزدیک قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کی ایک منتخب جماعت جس کے ایک فرد حضرت عمر بن الخطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُبھی ہیں ، بارگاہ خلافت میں حاضر ہوئی اورعرض کیا کہ اے جانشین پیغمبر!ایسے مخدوش اورپر خطر ماحول میں جبکہ مدینہ منورہ کے چاروں طرف مرتدین نے شورش پھیلا رکھی ہے یہاں تک کہ مدینہ منورہ پر حملہ کے خطرات درپیش ہیں ۔ آپ حضرت اسامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے لشکر کو روانگی سے روک دیں تاکہ اس فوج کی مدد سے مرتدین کا مقابلہ کیا جائے اوران کا قلع قمع کردیا جائے ۔
یہ سن کر آپ نے جوش غضب میں تڑپ کر فرمایا کہ خدا کی قسم ! مجھے پرندے اچک لے جائیں یہ مجھے گوارا ہے لیکن میں اس فوج کو روانگی سے روک دوں جس کو اپنے دست مبارک سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع