30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
داڑھی چھوٹی کر ڈالنا کسی کے نزدیک حلال نہیں
میرے آقا اعلیٰ حضرت امام اَحمد رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فتاوٰی رضویہ جلد 22 صَفْحَہ652 پر’’دُرِّمختار‘‘، ’’فتح القدیر‘‘، ’’البحرالرّائق‘‘ وغیرہ معتبر کتبِ فِقہ کے حوالے سے نَقل فرماتے ہیں کہ ’’جب تک داڑھی ایک مُٹّھی سے کم ہے اس میں سے کچھ لینا جس طرح کہ بعض مغرِبی مُخَنَّث کرتے ہیں یہ کسی کے نزدیک حلال نہیں ۔ اورسب لے لینا (یعنی بالکل ہی مُنڈوادینا) آتَش پرستوں ، یہودیوں ، ہندوؤں اور بعض فرنگیوں (یعنی انگریزوں ) کا فعل ہے ۔ ‘‘ (غنیۃ ذوی الاحکام الجز الاول ص۲۰۸ باب المدینہ کراچی، البحر الرائق ج۲ ص۴۹۰ م کوئٹہ، فتح القدیر ج۲ ص۲۷۰ کوئٹہ)
داڑھی کو چھوٹی کروا دینے والے بلکہ صاف کروا دینے والے لوگ فُقَہائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السلام کے مذکورہ ارشاد سے عبرت حاصل کریں ۔ بلکہ عبرت بالائے عبرت تو یہ ہے ، جیسا کہمیرے آقا اعلیٰحضرت، اِمامِ اَہلسنّت، ولیٔ نِعمت، عظیمُ البَرَکت، عظیمُ المَرْتَبت، پروانۂِ شمعِ رِسالت، مُجَدِّدِ دین ومِلَّت، حامیِٔ سنّت ، ماحِیِٔ بِدعت، عالِمِ شَرِیْعَت ، پیرِ طریقت، باعثِ خَیْر وبَرَکت، حضرتِ علّامہ مولیٰنا الحاج الحافِظ القاری الشّاہ امام اَحمد رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُالرَّحْمٰن نے رسالہ، ’’ لَمعَۃُ الضُّحیٰ‘ ‘میں حضرتِ سیِّدُنا کعب اَحبار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہوغیرہ کا قول نقل کیا ہے : ’’آخِر زمانہ میں کچھ لوگ ہوں گے کہ داڑِھیاں کتریں گے ، وہ نِرے بے نصیب ہیں ۔ یعنی ان کے لئے دین میں حصّہ نہیں ، آخِرت میں بَہرہ (یعنی حصہ) نہیں ۔ ‘‘ (فتاویٰ رضویہ ج۲۲ ص۶۵۱)دیکھا آپ نے ؟ گویا داڑھی کو کتروا کر ایک مُٹّھی سے کم کر دینے والے دین و دنیا اور آخِرت میں بدنصیب ہیں ۔
سرکار کا عاشق بھی کیا داڑھی مُنڈاتا ہے !
کیوں عشق کا چہرے سے اظہار نہیں ہوتا
اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّوَجَلَّ علٰی اِحْسَانِہٖ ! جن کو توفیق ملی، اُنہوں نے اپنا چہرہ دشمنانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نُحُوست سے پاک کرکے سنّت سجالی ۔ اب انہیں چاہئے کہ چونکہ آج تک داڑھی مُنڈاتے رہے ہیں لہٰذااس کی توبہ بھی کرلیں اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کوشِش کریں کہ اپنے سر کے بال انگریزی وَضع کے نہ رکھیں ، بلکہ سنّت کے مطابق زلفیں بڑھائیں ۔ سر پرہر وقت عمامہ شریف کا تاج سجا ئیں کہ ہمیشہ حضورِ انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے سرِ مُنوّرپر ٹوپی شریف کے اوپر عمامۂ پاک سجائیں رکھا ۔ عِمامہ شریف سنّتِ لازِمہ دائمہ مُتَواتِرہ ہے ۔ مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں : ’’عمامہ باندھو تمہارا حِلْم بڑھے گا ۔ ‘‘ ( یعنی قوّتِ بُردباری میں اضافہ ہوگا) ( اَلْمُستَدرَک لِلْحاکِمج ۵ ص ۲۷۲ حدیث ۷۴۸۸ دارا لمعرفۃ بیروت )ایک اور جگہ ارشاد فرمایا : رَکْعَتَانِ بِعِمَامَۃٍ خَیْرٌ مِّنْ سَبْعِیْنَ رَکْعَۃًَ بِلَا عِمَامَۃٍ’’ یعنی عمامہ کے ساتھ دو رَکعت نَماز بے عمامہ کی ستّر َرکعتوں سے اَفضل ہیں ۔ ‘‘(اَلْجامِعُ الصَّغِیر لِلسُّیُوطیص ۲۷۳ حدیث ۴۴۶۸ دار الکتب العلمیۃ بیروت) نیز لباس بھی سفید اور ہر قسم کی فینسی تراش خراش سے مُنَزَّہ اور بالکل سادہ زیبِ تن فرمائیے اور اِنگریزی لباس سے پرہیز کیجئے ۔ روزانہ پانچوں نمازیں تکبیرِاُولیٰ کے ساتھ باجماعت ادا کیجئے ۔ بے جا ہنسی مذاق اور فُضول گوئی کی عادت ترک کر دیجئے ۔ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ باوقار مسلمان بن کر مُعاشَرے میں اُبھریں گے ۔ جہاں کہیں ’’دعوتِ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع