30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مَحَبَّتِ رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا دم بھرنے والو! اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عالیشان بار بار پڑھئے :
’’مونچھیں خوب پست (یعنی چھوٹی) کرو اور داڑھیوں کو مُعافی دو (یعنی بڑھاؤ) یہودیوں کی سی صورت نہ بناؤ ۔ ‘‘( شرح معانی الآثار للطّحاوی ج۴ ص۲۸دار الکتب العلمیۃ بیروت)
مرنے کے بعد کی ہوشرُبا منظر کشی
اے غافِل اسلامی بھائی! ذرا ہوش کر!! مرنے کے بعد تیری ایک نہ چلے گی، تیرے ناز اٹھانے والے تیرے کپڑے بھی اتارلیں گے ۔ تو کتنا ہی بڑا سرمایہ دار سہی، تجھے وُہی کورے لٹّھے کا کفن پہنائیں گے جوفُٹ پاتھ پر دم توڑ دینے والے لاوارِث کو پہنایا جاتا ہے ۔ تیری کار ہے تو وہ بھی گیرج میں کھڑی رہ جائے گی ۔ تیرے بیش قیمت لباس صندوق میں دھرے رہ جائیں گے ۔ تیرا مال و متاع اور خون پسینے کی کمائی پر وُرَثاء قابِض ہوجائیں گے ۔ ’’اپنے ‘‘ اشک بہا رہے ہوں گے ۔ ’’بیگانے ‘‘ خوشیاں منا رہے ہوں گے ۔ تیرے ناز اٹھانے والے تجھے اپنے کندھوں پر لاد کر چل دیں گے اور ایک ایسے ویرانے میں لے آئیں گے کہ تو کبھی اس ہولناک سنّاٹے میں خُصُوصاً رات کے وقت ایک گھڑی بھی تنہا نہ آیا تھا، نہ آسکتا تھا بلکہ اس کے تصوُّر سے ہی کانپ جایا کرتا تھا ۔ اب گڑھا کھود کر تجھے منوں مِٹّی تلے دَفن کرکے تیرے سارے عزیز چلے جائیں گے ۔ تیرے پاس ایک رات کُجاایک گھنٹہ بھی ٹھہرنے کے لئے کوئی راضی نہ ہوگا ۔ خواہ تیرا چہیتا بیٹا ہی کیوں نہ ہو، وہ بھی بھاگ کھڑا ہوگا ۔ اب اس تنگ و تاریک قَبْر میں نہ جانے کتنے ہزار سال تیرا قیام ہوگا ۔ تو حیران و پریشان ہوگا، افسردگی چھائی ہوگی، قَبْر بھینچ رہی ہوگی، توچِلّارہا ہوگا، حسرت بھری نگاہوں سے عزیزوں کو نگاہوں سے اَوجھل ہوتا ہوا دیکھ رہا ہوگا، دل ڈوبتا جارہا ہوگا ۔ اتنے میں قَبْر کی دیواریں ہلنا شروع ہوں گی اور دیکھتے ہی دیکھتے دو خوف ناک شکلوں والے فِرِشے (منکَر و نکیر) اپنے لمبے لمبے دانتوں سے قَبْرکی دیوار کو چیرتے ہوئے تیرے سامنے آ موجود ہوں گے ، ان کی آنکھوں سے آگ کے شعلے نکل رہے ہوں گے ، کالے کالے مُہِیب(یعنی ہیبت ناک) بال سر سے پاؤں تک لٹک رہے ہوں گے ، تجھے جِھڑک کر بٹھائیں گے ۔ کَرَخت (یعنی نہایت ہی سخت) لہجے میں اس طرح سُوالات کریں گے : ’’مَنْ رَّبُّکَ؟‘‘ (یعنی تیرا رب عَزَّوَجَلَّکون ہے ؟ ) ’’مَا دِیْنُکَ؟‘‘ (یعنی تیرا دین کیا ہے ؟) اِتنے میں تیرے اور مدینے کے درمِیان جتنے پردے حائل ہوں گے ، سب اُٹھادیئے جائیں گے کسی کی موہنی، دلرُبا اور پیاری پیاری صورت سامنے آجائے گی ۔ یاوہ عظیم اور پیاری ہستی خود تشریف لے آئے گی ۔ کیا عجب! تیری آنکھیں شرم سے جُھک جائیں ۔ ہوسکتا ہے کہ تُو سوچ میں پڑجائے کہ نِگاہیں اُٹھاؤں تو کیسے اُٹھاؤں ! اپنی بگڑی ہوئی صورت دِکھاؤں تو کیسے دکھاؤں ! یہ وُہی تو میرے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہیں جن کا میں کلمہ پڑھا کرتا تھا ۔ اپنے آپ کو ان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا غلام بھی کہتا تھا ۔ لیکن میں نے یہ کیا کیا! میٹھے میٹھے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے تو یہ فرمایا : ’’داڑھی بڑھاؤ، مونچھیں خوب پست کرواور داڑھیوں کو مُعافی دو یہودیوں جیسی صورت مت بناؤ ۔ ‘‘ لیکن ہائے میری بدبختی! میں چند روزہ دنیا کی زینت میں کھو گیا ۔ فیشن نے میرا ستیاناس(سَتْ ۔ تِیا ۔ ناس) کردیا ۔ آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سختی سے منع کرنے کے باوُجود میں نے چِہرہ یہودیوں یعنی مدنی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع