30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فَرُدَّ عَلَيْهِ شَرْقَهَا» قَالَتْ أَسْمَاءُ فَطَلَعَتِ الشَّمْسُ حَتَّى وَقَعَتْ عَلَى الْجِبَالِ وَعَلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ قَامَ عَلِيٌّ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ غَابَتْ وَذَلِكَ فِي الصَّهْبَاءِ فِي غَزْوَةِ خَيْبَرَ« ترجمہ: نبی پاک صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ظہر کی نماز ادا کر لی، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کسی کام کے لیے بھیجا ، وہ جب لوٹ کر آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نماز عصر ادا فرما چکے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم حضرت علی کے گود میں سر رکھ کر آرام کرنے لگے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بالکل حرکت بھی نہ کی، حتی کہ سورج ڈوب گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم جب بیدار ہوئے،(معاملہ دیکھا تو) دعا کی :اے اللہ ! تیرابندہ علی نے تیرے نبی کی اطاعت میں اپنے آپ کو روکے رکھا تو اس کے لیے سورج واپس لوٹا دے۔ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ سورج طلوع ہو گیا ، زمین اور پہاڑوں پر اس کی روشنی پڑنے لگی، حضرت علی رضی اللہ عنہ اٹھے وضو کیا، نماز عصر ادا کی، پھر سورج ڈوب گیا ، یہ واقعہ مقام صہبا غزوہ خیبر کے موقع پر ہوا۔ [1]
بہرحال جن جن محدثین نے اس حدیث کو اپنی اپنی کتابوں میں لکھا ہے ان کی ایک مختصر فہرست یہ ہے:
(۱) حضرت امام ابوجعفرطحاوی رحمۃ اللہ علیہ نے مشکل الآثارمیں
(۲) حضرت امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ نے مستدرک میں
(۳) حضرت امام طبرانی رحمۃ اللہ علیہ نے معجم کبیرمیں
(۴) حضرت حافظ ابن مردویہ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی مرویات میں
(۵) حضرت حافظ ابوالبشر رحمۃ اللہ علیہ نے الذریۃ الطاہرہ میں
[1] ... شرح مشكل الآثار، ٣/٩٤، حديث:١٠٦٨
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع