30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الفورانہیں قریبی ہسپتال میں داخل کرادیاگیا، جہاں 4دن زیرِعلاج رہے، ساتھ رہنے والے اسلامی بھائیوں کابیان ہے کہ ان کی زبان پر مسلسل دُرُودِ پاک
’’ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَارَسُوْل اللہ وَعَلٰی اٰلِكَ وَ اَصْحٰبِكَ یَا حَبِیْبَ اللہ ‘‘جاری رہتا. جیسے ہی نماز کا وقت ہوتا وُضو کیلئے فرمانا شروع کردیتے ۔ بار بار اصرار کرتے کہ’’ مجھے باہر لے چلو میں علاقائی دورہ برائے نیکی کی دعوت میں شرکت کروں گا‘‘۔ چوتھے روز سیِّد نور عطاری نیبلند آواز سیکَلِمَۂ طَیِّبہ لَآاِلٰہ اِلَّا اللہ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ پڑھااور ان کی روح قفسِ عُنصری سے پرواز کرگئی۔جنازے میں ہزاروں اسلامی بھائی شریک ہوئے ، تدفین کے وقت ان کے سر پر سبزسبز عمامہ شریف سجانے کے ساتھ ساتھ چہرے پر خاکِ مدینہ مَل دی گئی اور آنکھوں پر مدینے شریف کی کھجوروں کی گٹھلیاں رکھی گئیں۔اور بعدِ تدفین قبر کے گرداسلامی بھائی حلقہ بناکرکافی دیر تک اجتماعِ ذکرونعت کرتے رہے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ان پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
دُ نیا سے زیا دہ وسیع اور اچھا رِزْق
حیدرآباد دکن(ہند) کے ایک اسلامی بھائی نے مرحوم کو خواب میں دیکھا کہ سَیِّد نور عطاری علیہ رحمۃ اللہ الباری کی قبر سے خوشبو کی لپٹیں آرہی ہیں اور قبر حدِ نگاہ تک وسیع ہے ، مرحوم مسکراتے ہوئے فرمارہے ہیں : اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ میں بہت چین سے ہوں اور مجھے یہاں دُنیاسے زیادہ وسیع اور اچھا رِزق مل رہا ہے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ان پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
(6)کمسِن مُبلّغ کی ایمان افروزوفات
صوبہ پنجاب کے شہر گلزارِ طیبہ(سرگودھا)کے مقیم ایک اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے کہ شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت دامت بَرَکاتُہُم العَالیہکے اعلیٰ کردار اورآپ کی ذاتِ مبارکہ سے صادِرہونے والی کرامات کاتذکرہ سن کراَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ مَیں شوال المکرم ۱۴۱۷ھ/ مارچ1997ء میں امیر اہلسنّت دامت بَرَکاتُہُم العَالیہ سے مرید ہوگیا، نہ صرف تنہا بلکہ تمام گھروالوں کو عطاری بنوادیا۔ ابھی چندروزہی گزرے تھے کہ میرے چھوٹے بھائی محمدعمرریاض عطاری (عمرتقریباً17سال)کی زندگی میں مدنی اِنقلاب برپاہوناشروع ہوگیا۔باجماعت نمازوں کااِہتمام، ہروقت نگاہیں جھکائے رکھنا اس کی فطرتِ ثانیہ بن چکی تھی۔دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں نہ صرف خودشریک ہوتے بلکہ انفرادی کوشش کر کے اپنے ہم عمر اسلامی بھائیوں کو بھی اجتماع میں لے جاتے۔اگرکبھی کوئی انہیں انفرادی کوشش پر جھڑک دیتا توسرجھکائے اس کی جلی کٹی باتیں سن کرصبر کرتے اورکوئی جواب نہ دیتے۔ والدین کااَدَب واحترام اوران کی قدم بوسی کرنا خاندان بھر میں ان کی پہچان بن چکا تھا۔ 31مئی 2006 ء کومیرامیٹرک کاپرچہ تھا، مجھے کہنے لگے : ’’مَیں بھی موٹرسائیکل پر آپ کے ساتھ جاؤں گا، آپ پیپردیجئے گا اور میں باہربیٹھ کرغوثِ پاک (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کی بارگاہ میں ایصالِ ثواب کاتحفہ پیش کرتا رہوں گا۔‘‘چُنانچِہ میں نے ان کی بات مان لی۔ الغرض جب گھرسے نکلنے لگے تو عمر بھائی نے والدہ کے قدم چُومے اور والدہ سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع