30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شعبہ امیرِ اَہلسنّت (مد ظلہ العالی) مجلسِ اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیّہ (دعوتِ اسلامی)
۳۰ شعبان المُعظَّم ۱۴۳۰ھ، 22اگست 2009ء
(3)قابل رشک وفات
دیپالپور(پنجاب ، پاکستان) کے ایک مقیم اسلامی بھائی کے بیان کالُبِ لُباب ہے کہ ہمارے علاقے میں ایک عمر رسیدہ بزرگ رہاکرتے تھے، ہم نے انہیں کبھی نمازکے لئے مسجدمیں آتے نہ دیکھاحتّٰی کہ رمضان شریف کے مبارک مہینے میں بھی وہ مسجد میں نظرنہ آتے ۔ بالآخران پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فضل وکرم کی بارش اس طرح برسی کہ ایک روز ہمارے علاقے کے ایک مبلّغِ دعوت اسلامی سے ان کی ملاقات ہوگئی ۔اس اسلامی بھائی نے انہیں دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے تربیتی اجتماعی اعتکاف میں شرکت کی دعوت پیش کی جسے انہوں نے بڑی فراخ دِلی سے قبول کیااوراِعتکاف میں بیٹھ گئے۔ تربیتی اعتکاف میں ہونے والے مبلغین کے سنتوں بھرے بیانات نے ان کی زندگی میں مدنی اِنقلاب بَرپا کر دیا ، اب تو نماز کی پابندی کے حوالے سے ان کاجذبہ قابلِ ستائش تھا، نہ صرف فرض نمازبلکہ تہجد، اِشراق، چاشت اور اَوّابین کی بھی ذوق وشوق سے پابندی فرماتے ۔ الغرض تربیتی اعتکاف کے دوران مُیسَّرآنے والی اسلامی بھائیوں کی صحبت نے ان پرسنّتوں کے ایسے گہرے نقوش چھوڑے تھے کہ محرم الحرام کے مہینے تک نمازپنجگانہ کے علاوہ نفل نمازاورروزوں کی پابندی کرتے رہے ۔ ایک دن اچانک گھروالوں سے ایک اسلامی بھائی کانام لے کرانہیں بُلانے کوکہا مگر گھر والے کسی وجہ سے نہ بُلاپائے۔ کچھ ہی دیر بعد انہوں نے دوبارہ دریافت کیا کہ کیا کوئی بُلانے گیا ہے؟جب جواب نفی میں ملا توسب گھر والوں کو جمع کرکے کچھ اس طرح فرمانے لگے : ’’ ان مبلغِ دعوت اسلامی سے کہنا کہ تمہارا اسلامی بھائی دنیا سے جارہا ہے، دِل چاہتاتھاکہ اپنے محسن کی آخری بارزیارت کرلوں ‘‘ ان بُزُرگ اسلامی بھائی نے یہ کہنے کے بعداپنے گھر والوں سے فرمایا : ’’سب پڑھو الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَارَسُوْل اللہ اور خود بھی دُرُودِ پاک کا وِرد کرنے لگے ۔ابھی تھوڑی ہی دیرگزری تھی کہ فرمایاپڑھو ’’ لَآاِلٰہ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ‘‘اورخودبھی پڑھنے لگے ، اسی طرح بآوازِ بلند کلمہ طیبہ پڑھتے پڑھتے ان کی روح قفسِ عُنصری سے پرواز کرگئی۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ان پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
(4)وفات سے قبل توبہ نصیب ہوگئی
با ب المدینہ (کراچی ) کے مقیم ایک اسلامی بھائی کاکچھ اس طرح بیان ہے کہ ہمارے علاقہ کی جامع مسجدمیں کچھ مسائل کی وجہ سے فیضانِ سنّت کادرس دینے کی اجازت نہ تھی، اسی وجہ سے مسجد کے باہرعشاء کی نمازکے بعد چوک درس ہوتا تھا جس میں بَہُت سے اسلامی بھائی شرکت کرتے ، ایک دن حسبِ معمول بعدِ عشاء چوک درس کے لیے مبلّغ اسلامی بھائی تشریف لائے توقرب وجوارمیں موجود لوگوں کودرس میں شرکت کی دعوت پیش کی ، ایک اسلامی بھائی نے آگے بڑھ کر قریب ہی رکشا اسٹینڈ پرموجودچوکیدار راجو بھائی کو بھی درس میں شرکت کی دعوت پیش کی، اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ ’’راجو بھائی‘‘ دعوت قبول کرتے ہوئے درسِ فیضا نِ سنّت میں شریک ہوگئے ۔درس کے بعدمبلغِ دعوتِ اسلامی نے رِقّت انگیز دُعا سے قبل شرکائے درس کوسابقہ گناہوں سے توبہ کروائی ۔ اور دورانِ دُعا حاضرین کی مغفرت کے لیے بھی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع