30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عادی بن گئے۔اِسی اَثنا میں انہوں نے شیخِ طریقت، امیر اہلسنّت دامت بَرَکاتُہُم العَالیہکے ذریعے سرکارِبغدادحضورغوثِ پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی غلامی کا پٹہ اپنے گلے میں ڈال لیا۔ امیرِاہلسنّتدامت بَرَکاتُہُم العَالیہ سے مریدہوتے ہی ان کی زندگی میں مدنی اِنقلاب برپا ہوناشروع ہوگیا، دیکھتے ہی دیکھتے چہرے پر سنّت کے مطابق داڑھی شریف سج گئی ۔چندہی روزمیں اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وہ مکمل طور پر دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوکر نیکی کی دعوت کی دھومیں مچانے لگے۔ دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول نے ان کی تقدیربدل کررکھ دی، درزی بننے والے شخص کو دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول نے امامت کا مصلّٰی عطا فرما کر لوگوں کی اِصلاح کرنے والابنادیا۔ فیض دین عطاریتقریباً14سال تک غوثیہ مسجد (شہداد پور) میں امامت کافریضہ سرانجام دیتے رہے ۔وہ اپنے پیرو مرشِد امیر اہلسنّت دامت بَرَکاتُہُم العَالیہ سے بے اِنتہا محبت کرتے تھے ، ان کے اِرشادات پر حتَّی الامکان عمل کرنے کی کوشش فرماتے، یہی وجہ تھی کہ ان کے حُسنِ اَخلاق اورنیکی کی دعوت سے متأثر ہو کر بڑی تعدادمیں لوگ دعوت ِاسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہونے لگے۔ ایک مرتبہ عید الفطر کے روز فیض دین عطاری نمازِ عشاء باجماعت ادا کرکے جونہی فارغ ہوئے، اچانک ان کی طبیعت خراب ہوگئی ، چکراکر گرپڑے اور قے ہوگئی ۔اس وقت موجودنمازیوں اور مؤذن صاحب نے آگے بڑھ کرانہیں اُٹھایا اورفوراً ہسپتال پہنچایا۔ مؤذن صاحب کا کہنا ہے کہ جب مَیں نے فیض دین عطاری سے آنکھیں کھولنے کوکہاتو انہوں نے جواب دیا کہ’’ اب یہ آنکھیں نہیں کھلیں گی‘‘ پھر بلند آواز سے یہ شعر پڑھنے لگے :
میں وہ سُنّی ہوں جمیلِ قادری مرنے کے بعد
میرا لاشہ بھی کہے گا الصلوٰۃ والسلام
ڈاکٹروں نے ہاتھوں ہاتھ لیامگرطبیعت زیادہ بگڑتی دیکھ کر انہوں نے حیدرآباد لے جانے کا مشورہ دیا، حیدرآباد سول ہسپتال میں انہیں داخل کرادیا گیا، مؤذن صاحب کا کہنا ہے کہ فیض دین عطاری وہاں بھی اس شعر کی تکرار کررہے تھے :
میں وہ سُنّی ہوں جمیلِ قادری مرنے کے بعد
میرا لاشہ بھی کہے گا الصلوٰۃ والسلام
اچانک فرمانے لگے : ’’میرے پیرو مرشد امیر اہلسنّت دامت بَرَکاتُہُم العَالیہ کے مکتوبات و تبرکات میری قبر میں رکھ دینا‘‘ پھر بلند آواز سیکلمہ طیبہ پڑھنے لگے اوربالآخرکلمہ طیبہ لَآاِلٰہ اِلَّا اللہ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ ( صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ و ا ٰلہٖ وسلَّم) پڑھتے پڑھتے ان کاطائرِروح قفسِ عُنصری سے پرواز کر گیا۔عید کے دوسرے روز نمازِ عشاء کے بعدمدینہ مسجد ناگے شاہ روڈ پرفیض دین عطاری کی میت جب نمازِ جنازہ کے لیے لائی گئی تواس قدرہجوم تھاکہ روڈپر تِل دھرنے کی جگہ نہ تھی ۔ہر طرف سبزسبز عماموں کی بہاریں تھیں ، بڑا ہی روح پرور منظر تھا، جونہی کسی جانب سے’’ اُذْکُرُوْا اللہ‘‘کی صدابلندہوتی تو ہزاروں لوگ مل کر اللہ، اللہ کا ذِکر شروع کردیتے ، کبھی’’ صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب‘‘کی صدا پر دُرُود و سلام کے نعروں سے فضا گونجنے لگتی۔ نمازِجنازہ میں شریک اسلامی بھائیوں کا بیان ہے کہ ہم نے شہدادپورکی تاریخ میں اتناجمِ غفیر کسی جنازے میں نہیں دیکھا۔ جب فیض دین عطاری علیہ رحمۃ اللہ الباری کاآخری دِیدارکرایاگیاتو لوگ پروانہ وار ٹوٹ پڑے۔ جنازے میں شریک ہرآنکھ ان کی جدائی پراشکبارتھی۔ فیض دین عطاری علیہ رحمۃ اللہ الباری کے ماتھے پر’’داغِ سجدہ‘‘ جگمگارہاتھانیز چہرے پر مسکراہٹ ایسے کھیل رہی تھی گویاابھی اُٹھ کربیٹھ جائیں گے۔ بالآخر مرحوم کو ان کی وصیت کے مطابق سبز عمامہ شریف سجا کرناگے شاہ بخاری قبرستان میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع