30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ترجَمۂ کنزالایمان : اورجو کہیں تجھے شیطان بُھلاوے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہمیشہ نمازِ با جماعت کا اِہتِمام کیجئے ہر گز کوتاہی نہ فرمایئے ۔ جن کے ذمّہ قضا نَمازیں ہیں سچّی توبہ کر کے ادا کرنے کی ترکیب کریں ۔ اس ضِمن میں ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت حصّہ اوّل صَفْحَہ 70 تا 71 سے عرض و ارشاد مُلا حَظہ فرمایئے : بعض حاضِرین نے عرض کیا کہ حضور دُنیوی مکروہات نے ایسا گھیرا ہے کہ روز ارادہ کرتا ہوں آج قضا نَمازیں ادا کرنا شروع کردوں گا مگر نہیں ہوتا !کیا یوں ادا کروں کہ پہلے تمام نَمازیں فجر کی ادا کر لوں پھر ظہر کی ۔ پھر اور اوقات کی ، تو کوئی حرج ہے ؟مجھے یہ بھی یاد نہیں کہ کتنی نَمازیں قضا ہوئی ہیں ۔ ایسی حالت میں کیا کرنا چاہئے؟ارشاد : قضا نمازیں جلد سے جلد ادا کرنا لازِم ہے، نہ معلوم کس وقت موت آ جائے ، کیا مشکِل ہے کہ ایک دن کی بیس رَکعتیں ہوتی ہیں ( یعنی فجر کی دو رکعت فرض اور ظہر کی چار فرض اور عصر کی چارفرض اور مغرب کی تین فرض اور عشاء کی سات رکعت یعنی چار فرض تین وِتر) ان نمازوں کوسوائے طلوع و غروب وزوال کے( کہ اس وقت سجدہ حرام ہے) ہر وقت ادا کر سکتا ہے اور اختیار ہے کہ پہلے فجر کی سب نمازیں ادا کر لے ، پھر ظہر ، پھر عصر ، پھر مغرب ، پھر عشاء کی یاسب نمازیں ساتھ ساتھ ادا کرتا جائے اور ان کا ایسا حساب لگائے کہ تخمینہ(یعنی اندازہ) میں باقی نہ رہ جائیں زیادہ ہو جائیں تو حَرَج نہیں اور وہ سب بقَدَرِ طاقت رفتہ رفتہ جلد ادا کرلے ، کاہِلی نہ کرے ۔ جب تک فرض ذمّہ پر باقی رہتا ہے کوئی نَفل قبول نہیں کیا جاتا ۔ نیّت ان نَمازوں کی اِس طرح ہو مَثَلاً سو بار کی فجر قضا ہے تو ہر بار یوں کہے کہ’’ سب سے پہلے جو فجر مجھ سے قضاء ہوئی ‘‘ہردفعہ یہی کہے ۔ یعنی جب ایک ادا ہوئی تو باقیوں میں جو سب سے پہلی ہے ۔ اسی طرح ظہر وغیرہ ہر نَماز میں نیت کرے ۔ جس پر بَہُت سی نَمازیں قضا ہوں اس کے لئے صورتِ تَخفیف(یعنی کمی کی صورت) اور جلد ادا ہونے کی یہ ہے کہ خالی رَکعتوں (یعنی ظہر ، عصر و عشاء کی آخری دو اور مغرب کے فرض کی تیسری رکعت )میں بجائے الحمد شریف کے تین بار سبحٰنَ اللّٰہ کہے، اگر ایک بار بھی کہہ لے گا تو فرض ادا ہو جائے گا نیز تسبیحات رکوع و سجود میں صرف ایک ایک بار سُبْحٰنَ رَبِّیَ الْعَظیم اور سبحٰن رَبِّی الْاَعلٰیپڑھ لینا کافی ہے ۔ تَشَہُّد(تَ ۔ شَہ ۔ ہُد) کے بعد دونوں دُرود شریف کے بجائے اللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحمَّدٍ وَّاٰلِہٖ ۔ وتروں میں بجائے دعائے قُنُوت کے رَبِّ اغْفِرْلِیْ کہنا کافی ہے ۔ طُلُوعِ آفتاب کے بیس مِنَٹ بعد اور غُرُوبِ آفتاب سے بیس مِنَٹ قبل نَماز ادا کر سکتا ہے ۔ اس سے پہلے یا اس سے بعد ناجائز ہے ۔ ہر ایساشخص جس کے ذمّہ نَمازیں باقی ہیں چُھپ کر پڑھے کہ گناہ کا اِعلان جائز نہیں ۔ (یعنی یہ ظاہر کرنا گناہ ہے کہ مجھ پر قضا نَمازیں ہیں یا میں قضا نمازیں پڑھ رہاہوں و غیرہ)
اسی سلسلہ میں (سیِّدی اعلیٰ حضرت نے مزید)ارشاد فرمایا : اگر کسی شخص کے ذمّہ تیس یا چالیس سال کی نَمازیں ہیں واجِبُ الَادا ، اس نے اپنے ان ضَروری کاموں کے علاوہ جن کے بِغیر گز ر نہیں کاروبار ترک کر کے پڑھنا شروع کیا اور پکا ارادہ کر لیا کہ کُل نَمازیں ادا کر کے( ہی) آرام لوں گا اور فرض کیجئے اسی حالت میں ایک مہینہ یا ایک دن ہی کے بعد اس کا اِنتقِال ہو جائے تو اللہ تعالٰی اپنی رَحمت کامِلہ سے اس کی سب نَمازیں ادا کر دے گا ۔ قالَ اللہ تعالٰی : (یعنی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے) :
وَ مَنْ یَّخْرُ جْ مِنْۢ بَیْتِهٖ مُهَاجِرًا اِلَى اللّٰهِ ( پ ۵ النساء ۱۰۰)
ترجَمۂ کنزالایمان : اور جو اپنے گھر سے نکلا اللہ (عَزَّوَجَل) ورسول کی طرف ہجرت کرتا پھر ُاسے موت نے آلیا تو اس کاثواب اللہ (عَزَّوَجَل) کے ذمہ پر ہو گیا ۔
بے نَمازی تیری شامت آئیگی قبرکی دیوار بس مل جائیگی
توڑ دیگی قبر تیری پسلیاں دونوں ہاتھوں کی ملیں جُوں اُنگلیاں
عمر میں چُھوٹی ہے گرکوئی نَماز جلد ادا کرلے تُو آ غفلت سے باز
کرلے توبہ رب کی رحمت ہے بڑی
قبر میں ورنہ سزا ہوگی کڑی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع