30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جواب: بِلا وجہ کسی کی دِل آزاری کرنا گُناہ اور خلافِ شرع کام ہے۔ ([1]) جس نے کسی کی دِل آزاری کی اُس میں یہ عیب آگیا ، اب بِلا ضرورت کسی سے اِس عیب کا ذِکر کرنا غیبت کہلائے گا۔ ([2]) اگر آپ دِل آزاری کرنے والے کو خُود نہیں سمجھا سکتے ، اِس لئے آپ نے اُس کے والِد یا اُستاذ وغیرہ کو یہ بات بتائی ، تاکہ وہ اُس کی اِصلاح کریں تو اِس میں حَرَج نہیں ہے۔ ([3]) اِسی طرح آپ نے کسی پر Case (مُقَدَّمہ) کیا تو تھانے میں جاکر آپ کو بتانا پڑے گا کہ اِس نے ایسا ایسا کیا تھا تو یہاں بتانے میں بھی حَرَج نہیں ہے ، کیونکہ یہ وہ گُناہوں بھری غیبت نہیں ہے جو ہمارے ہاں اپنی بھڑاس نکالنے اور دوسرے کی بُرائی کرنے کےلئے کی جاتی ہے۔
ٹینک صاف کرنے کے لئے پانی ضائع مت کیجئے
سُوال: میں ٹنکی کا کام کرتا ہوں ، اکثر لوگ کہتے ہیں کہ ہمارا ٹینک صاف کردیں ، اور ٹینک میں کافی پانی ہوتا ہے جو ضائع کرنا پڑتا ہے ، اگر اُن کو کہیں کہ کل ٹینک صاف کروالیجئے گا تو کہتے ہیں کہ ’’پانی ضائع کرکے ٹینک صاف کردیں۔ ‘‘ کیا ہمیں وہ پانی ضائع کرنا چاہیے؟
جواب: مَا شَآءَ اللہ! یہ خوفِ خُدا والے معلوم ہوتے ہیں ، ورنہ لوگ پانی بہت ضائع کرتے ہیں ، خاص طور پر سردِیوں میں اگر صرف ہاتھ ہی دھونا ہو تب بھی پائپ کا سارا پانی بہاکر گَرَم پانی سے ہاتھ دھوتے ہیں۔ اگر ٹینک میں پانی ہو اور صاف ستھرا ، پاک اور قابلِ اِستِعمال ہو تو صفائی سے پہلے اُسے پھینکنے کے بجائے کسی چیز میں نِکال لیا جائے یا پہلے سارا پانی اِستِعمال کرکے ختم کیا جائے اور پھر صفائی کروائی جائے۔ پانی بالکل ضائع نہیں کرنا چاہیے۔
کیا عَورَتیں دعوتِ اِسلامی کو جوائن کرسکتی ہیں؟
سُوال: کیا عَورَتیں دعوتِ اِسلامی کو جوائن کرسکتی ہیں؟ (Facebook کے ذریعے سُوال)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع