30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نکالتا ہے کہ بس! اور سُبْحٰنَ اللہ کی صدائیں لگنا شروع ہوگئیں تو پھر نعت خواں اُڑنا شروع کردیتا ہے۔ لیکن اگر کوئی داد دینے والا یا لِفٹ کروانے والا نہ ہو تو نعت خواں جلدی مائیک (Mike) چھوڑ دیتا ہے۔ اگر کوئی نعت خواں پیسوں کا شوقین ہو تو اُس کی آواز پیسوں کے حساب سے Up down ہوتی ہے۔ ’’ اپنا اپنا نصیب۔ ‘‘ یہ سب مُشاہَدہ ہے۔ اب اِسے حُبِّ جاہ ([1]) کہا جائے یا نفسیاتی اَثَر کہا جائے یا کچھ اور کہا جائے!! ہر ایک کو اپنے دِل پر غور کرلینا چاہئے۔ جس نعت خواں کی نظر ثواب پر ہوگی وہ آنکھیں بند کرکے پڑھتا رہے گا کہ ’’جن مصطفےٰ کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو ہم سُنارہے ہیں بس وہ ہمیں سُن لیں۔ ‘‘ اب ایسا جذبہ کہاں سے لائیں! اللہ ورَسول کی رِضا کے لئے پڑھنے والے نعت خواں اب مَزاروں میں چلے گئے ہیں ، ختم نہیں ہوئے لیکن بہت کم ہوگئے ہیں ، نظر نہیں آتے۔ اگر نعت خواں اپنی آنکھ بند رکّھے تو اِس میں فائدہ ہے ، مدینے کا یا سبز گنبد کا تصوُّر کرکے آنکھ بند کرے اور پڑھنا شروع کردے۔ آنکھیں کھلی رکھے گا تو نظر پڑے گی کہ 10 کا نوٹ آیا ہے یا 100 کا آیا ہے یا 500 کا آیا ہے ، پھر اُسی حساب سے آواز کا اُتار چڑھاؤ ہوگا۔ ’’دیکھنا ہے تو مدینہ دیکھئے ، نوٹوں کا نَظّارہ کچھ نہیں۔ ‘‘ میں ایسا سب کو نہیں کہہ رہا لیکن جسے یہ باتیں سُن کر غُصّہ آرہا ہو وہ سمجھ لے کہ وہ پکڑا گیا ہے ، ہمارا اِس طرح کا بولنا بھی بعض لوگوں کو اِمتِحان میں ڈال دیتا ہے ، حالانکہ ہم تو اِصلاح کے لئے بول رہے ہوتے ہیں۔ جو ایسا نہیں کرتا وہ ہماری باتیں سُن کر کہتا ہے کہ ’’ہاں! صحیح بول رہا ہے۔ ‘‘ اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو اُسے نہیں کرنا چاہئے ، اللہ پاک کے اَجر پر نظر رکھیں ، بیڑا پار ہے۔ جنّت سے بڑھ کر کیا دولت ہے! اگر نعت پڑھنے سے جنّت ملتی ہے تو لاکھوں کروڑوں روپے ، آخ تھو ، کسی کام کے نہیں ہیں۔ اگر اللہ پاک راضی ہوتا ہے ، پیارے محبوب صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی خُوشی ملتی ہے تو پھر دولت کا کیا کرنا! دولت اپنے قدموں میں لوٹے گی۔ جس کا عَمَل ہو بے غرض اُس کی جزا کچھ اور ہے۔ اللہ پاک اِخلاص نصیب فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم
دِل آزاری کرنے والے کے بارے میں کسی کو بتانا کیسا؟
سُوال: اگر ایک شخص نے دوسرے کی دِل آزاری کی ہو تو کیا دوسرا یہ بات کسی کو بتاسکتا ہے؟
[1] شہرت وعزّت کی خواہش کرنا حُبِّ جاہ کہلاتاہے۔ (إحیاء العلوم ، کتاب ذم الجاہ والریاء ، ۳ / ۳۳۹ ماخوذاً – احیاء العلوم(مترجم) ، ۳ / ۸۲۲)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع