30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کو دیکھا ہے کہ وہ ایک دوسرے کو سَر جھکا کر سَلام کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں غیر مسلموں کی دیکھا دیکھی Good morning (آپ کی صُبح اچّھی ہو) کہنے کا رَواج بھی بڑھتا جارہا ہے۔ اگر کسی کی صُبح اچّھی ہوجائے تو دوپَہَر کا کیا ہوگا! یعنی Good morning کہنے والا دَر اَصل یہ کہہ رہا ہے کہ تمہاری صُبح اچّھی ہو ، After noon (یعنی دوپَہَر) کا بھلے بیڑا غرق ہوجائے۔ ہمارا ’’سَلام‘‘ بہت پیارا ، عُمدہ اور جامِع ہے ، ’’اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ‘‘ یعنی تُم سَلامت رہو ، تمہاری دُنیا ، تمہارا مال ، تمہاری جان ، تمہارا اِیمان اور تمہاری آخرت سب سلامت رہیں۔ اِس لئے یہی سَلام کیا کیجئے اور اِسے چھوڑ کر کہیں مت جائیے۔ ہتھیلی وغیرہ کے اِشارے سے اگر کوئی سَلام کرتا ہے تو یہ ناجائز نہیں ہے ، لیکن ہمیں غیروں کی نقل سے بچنا چاہئے اور ہمارا ہر اَنداز مسلمانوں والا ہونا چاہیے۔
اِسلامی سَلام ہی سیکھنا اور کرنا چاہیے
سُوال: بعض لوگ کہتے ہیں کہ ’’اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ‘‘عَرَبی ہے اور ہماری برادری میں زیادہ اِنگلش کے الفاظ اور جُملے بولے جاتے ہیں ، اِس لئے ہم سَلام کے بجائے Good morning وغیرہ کہتے ہیں ، اِس بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ (رُکنِ شوریٰ کا سُوال)
جواب: پھر تو ایسوں کو چاہیے کہ نَماز بھی اِنگلش میں پڑھ لیا کریں ، پھر قیامت کے دِن دیکھیں گے کہ وہ کہاں ہوتے ہیں اور ہم کہاں ہوتے ہیں! ہمیں ایسا کام کرنا چاہیے جس میں ہماری آخرت کابھلا ہو۔ ’’اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ‘‘ ہمیں اَحادیثِ کریمہ میں سکھایا گیا ہے ، ([1]) اِسی طرح نَماز بھی عَرَبی میں سکھائی گئی ہے۔ بعض لوگ ہوشیاری کرتے ہوئے جُمُعہ کے عَرَبی خطبے پر بھی اِعتِراض کرتے ہیں کہ ’’یہ ہمیں سمجھ نہیں آتا ، اِس لئے اُردو میں یا ہماری زَبان میں ہونا چاہیے۔ ‘‘ ایسے لوگوں سےکوئی کہے کہ ’’یار! خطبے سے پہلے آدھے ایک گھنٹے کا مولانا جو وَعظ فرماتے ہیں وہی آکر سُن لیا کرو‘‘ لیکن نہیں! وہ سُننے نہیں آئیں گے اور عَرَبی خطبے میں ٹانگ اَڑائیں گے۔ حالانکہ جُمعہ کا خطبہ عَرَبی میں دینا سُنّتِ مُتَوارِثہ ہے۔ ([2]) ایسے لوگوں کو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع