شارِحِ بخاری مُفتی شریفُ الحق اَمجدی رَ حمۃُ اللہِ علیہ لکھتے ہیں :کُفّار کی بُرائی بیان کرنی جائز ہے اگر چِہ وہ مرگئے ہوں البتّہ اگر مرنے والے کفّار کے اہل و عیال مسلمان ہوں اور ان کے کافِر ماں باپ ،اُصول (یعنی دادا وغیرہ)کی بُرائی کرنے سے انہیں اِیذا پہنچے تو اس سے بچناضَروری ہے کہ اب یہ اِیذا ئے مُسلِم ہے اور مسلمان کو ایذا دینا جائز نہیں۔ (نزہۃ القاری،2/886)
شہا منڈلا رہی ہے موت سر پر پھر بھی میرا نفس
گناہوں کی طرف ہر دم ہے مائل یارسول اللہ
ہمارے پیارے پیارے آقا،مدینے والے مصطفےصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے صَحابۂ کرام علیہمُ الرّضوان سے دریافت فرمایا:کیا تم جانتے ہو کہ اللہ پاک کے نزدیک سُود سے بڑا گناہ کون سا ہے؟صَحابۂ کرام علیہمُ الرّضوان نے عرض کی: اَللہُ وَرَسُوْلُہ ٗ اَعلَمُ یعنی اللہ پاک اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا:بے شک اللہ پاک کے نزدیک سُود سے بڑھ کر گناہ ہے مسلمان کی عزّت کو حلال سمجھنا۔ پھر رسولِ اکرم نورِ مجسم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے یہ آیت کریمہ تِلاوت فرمائی:
وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠(۵۸) (پ22،الاحزاب:58)
ترجَمۂ کنز الایمان : اور جو ایمان والے مردوں اور عورَتوں کو بے کئے ستاتے ہیں اُنہوں نے بہتان اور کھلاگناہ اپنے سر لیا۔
(شعب الایمان ،5/298،حدیث:6711 )
اے عاشقانِ رسول !یقیناً مسلمان کی عزّت پر ہاتھ ڈالنا سُود جیسے گناہِ بد سے بھی بدترین ہے۔ اس ضِمْن میں مزید تین فرامینِ مصطَفٰے صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم مُلاحَظہ فرمایئے :
(1)آدَمی کو ملنے والا سود کا ایک درہم اللہ کریم کے نزدیک چھتیس (36)بار زِنا کرنے سے زیادہ بُرا ہے اور بے شک سُود سے بڑھ کر گناہ کسی مسلمان کی بے عِزّتی کرنا ہے۔ (ذم الغیبۃ، ص80،حدیث:36)
(2)سُود بَہَتَّر (72)گناہوں کامجموعہ ہے اور ان میں سے اد نیٰ ترین اپنی ماں سے زنا کرنے کی طرح ہے اور بے شک سُود سے بڑھ کر گناہ کسی مسلمان کی بے عزّتی کرنا ہے ۔ (معجم اوسط ،5/227،حدیث:7151)
(3)بدترین سُود مسلمان کی آبرو میں ناحَق دست درازی ہے ۔ ( ابوداود،4/353 ،حدیث:4876)
حدیث پاک نمبر3 کے تَحْت مُفَسّرِ شَہیرحکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں :یعنی سُود خواری بد ترین گناہ ہے جیسے ماں کے ساتھ کعبۂ معظّمہ میں زِنا کرنا،سود خوار کو اللہ رسول سے جنگ کرنے کا الٹی میٹم دیا گیا ہے ،یہ تو مالی سُود کا حال ہے ، مسلمان کی آبرو چُونکہ مال سے زیادہ عزیز اور قیمتی ہے اسی لئے مسلمان کی آبروریزی (غیبت وغیرہ کر کے)، اسے ذلیل کرنا بدترین سُود قرار دیا گیا۔ (مراٰۃ المناجیح ،6/618)
بالیقین ایسے مسلماں ہیں بڑے ہی ناداں اہلِ اسلام کی غیبت جو کیا کرتے ہیں
جو ہیں سلطانِ مدینہ کے حقیقی عاشق غیبت و چُغلی وتہمت سے بچا کرتے ہیں
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب صَلَّی اللهُ علٰی مُحَمَّد
تُوبُوا اِلَی اللہ! اَسْتَغْفِرُاللہ
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب صَلَّی اللهُ علٰی مُحَمَّد
اےعاشقانِ رسول! آپ کے سامنے جب بھی کوئی آدَمی کسی اسلامی بھائی کی خطا یا اُس کے عیب کا تذکِرہ اُس کی موجودَگی میں یا پسِ پُشت (یعنی پیٹھ پیچھے)شروع کرے تو سننے میں اگر کوئی مصلَحتِ شَرْعی نہ ہو تو فوراً احتِرامِ مسلم کا لحاظ کرتے ہوئے ثوابِ آخِرت کمانے کی نیّت سے اپنے اسلامی بھائی کی عزّت کی حفاظت کیجئے۔ سرکارِدوجہاں شَہَنشاہِ کون و مکاں صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ عافیَت نشان ہے:جو اپنے (مسلمان )بھائی کی پیٹھ پیچھے اُس کی عزّت کا تَحفُّظ کرے تو اللہ پاک کے ذمَّۂ کرم پر ہے کہ وہ اُسے جہنّم سے آزاد کردے۔ (مسند امام احمد ،10/445،حدیث:27680)
حضرتِ سیِّدنا اَنَس رضی اللہُ عنہ سے مروی ہے کہ حُضُور نبیِ کریم، رء ُوفٌ رَّحیم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:جس نے دُنیا میں اپنے بھائی کی عزَّت کی حفاظت کی، اللہ پاک قیامت کے دن ایک فِرِشتہ بھیجے گا جو جہنّم سے اس کی حفاظت فرمائے گا۔ (ذم الغیبۃ، ص131، حدیث:105)
مسلمان کی غیبت کرنے والے کو روکنے کی قُدْرت ہونے کی صورت میں روک دینا واجِب ہے، روکنا ثوابِ عظیم اور نہ روکنا باعِث عذابِ الیم (یعنی درد ناک عذاب کا باعث) ہے اس ضِمْن میں چار فَرامِینِ مصطَفٰے صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم مُلاحَظہ فرمایئے :
(1)جس کے سامنے اس کے مسلمان بھائی کی غیبت کی جائے اور وہ اس کی مدد پر قادِر ہو اور مدد کرے، اﷲ پاک دنیا اور آخِرت میں اس کی مدد کرے گا اور اگر باوُجُودِ قدرت اس کی مدد نہیں کی تو اﷲ پاک دنیا اورآخِرت میں اسے پکڑے گا۔ (مصنف عبدا لرزاق،10/188،رقم:20426)
(2)جو شخص اپنے بھائی کے گوشْت سے اس کی غیبت (عدم موجودگی)میں روکے(یعنی مسلمان کی غیبت کی جارہی تھی اس نے روکا )تو اللہ پاک پر حق ہے کہ اُسے جہنّم سے آزاد کر دے ۔ (مشکاۃ المصابیح،3/70،حدیث:4981)
(3)جو مسلمان اپنے بھائی کی آبرو سے روکے( یعنی کسی مسلم کی آبرو ریزی ہوتی تھی اس نے منع کیا) تواللہ پاک پر حق ہے کہ قیامت کے دن اس کو جہنّم کی آگ سے بچائے۔ اس کے بعد اس آیت کی تلاوت فرمائی: (وَ كَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ(۴۷))”ترجَمۂ کنز الایمان :اور ہمارے ذِمّۂ کرم پر ہے مسلمانوں کی مدد فرمانا۔“ (پ21 ،الروم:47)
(شرح السنّۃ،6/494، حدیث:3422)
(4)جہاں مردِ مسلم کی ہَتْکِ حُرْمت(یعنی بے عزَّتی)کی جاتی ہو اور اس کی آبروریزی کی جاتی ہو ایسی جگہ جس نے اُس کی مدد نہ کی(یعنی یہ خاموش سنتا رہا اور اُن کومَنع نہ کیا)تو اﷲپاک اس کی مدد نہیں کرے گا جہاں اِسے پسند ہو کہ مدد کی جائے اور جو شخص مردِ مسلم کی مدد کرے گا ایسے موقع پر جہاں اُس کی ہتکِ حُرْمت (یعنی بے عزّتی)اور آبرو ریزی کی جارہی ہو، اﷲپاک اُس کی مدد فرمائے گا ایسے موقع پر جہاں اسے محبوب (یعنی پسند)ہے کہ مدد کی جائے۔ (ابوداو،4/355،حدیث:4884)
ہمارے اَسلاف رحمۃُ اللہِ علیہم کسی سے مسلمان کی غیبت سنتے تو اُسے فوراً ٹوکتے اور ان کاانداز بھی کتنا حَسین ہوتا ! چُنانچِہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مبارَک رحمۃُ اللہِ علیہ کی مجلس میں ایک شخص نے سیِّدُناامام اعظم ابو حنیفہ رحمۃُ اللہِ علیہ کی غیبت کی تو آپ رحمۃُ اللہِ علیہ نے ارشاد فرمایا:اے شخص !تُو امام کے عیب کیوں بیان کرتا ہے!ان کی شان تویہ تھی کہ پینتالیس (45) سال تک ایک وُضو سے پانچوں وَقْت کی نَماز ادا کرتے رہے۔
(الخیرات الحسان، ص117،ردالمحتار،1/150)
اے عاشقانِ اَولیا! ہمارے بُزُرگانِ دین رحمۃُ اللہِ علیہم کا گناہوں بھری غیبت سننے سے بچنے کاجذبہ مرحبا!کاش!صدکروڑ کاش! ہمارا یہ ذِہن بن جائے کہ جُوں ہی کسی مسلمان کا مَنفی(NEGATIVE)تذکِرہ نکلے فوراً خبردار ہو جائیے اور غور کیجئے،اگر وہ تذکِرہ غیبت پر مبنی یا غیبت کی طرف لے جانے والاہو تو فوراً اِس سے باز آجایئے ،اگرکوئی اورآدَمی یہ گُفتگو کرنے لگا ہو تو اُس کو مناسِب طریقے پر روک دیجئے، اگر وہ باز نہ آئے تو وہاں سے اُٹھ جایئے ، اگر اُسے روکنا یا اپنا وہاں سے ہٹنا ممکن نہ ہو تو دل میں بُرا جانیئے، ترکیب سے بات بدل دیجئے اُس گُفتگو میں دلچسپی مت لیجئے،مَثَلاً اِدھر اُدھر دیکھنے لگ جایئے ، منہ پر بیزاری کے آثار لایئے،بار بار گھڑی دیکھ کر اُکتاہَٹ کا اِظہار فرمایئے، ممکن ہوتو استِنجا خانے کا کہہ کرہی اٹھ جایئے اور پھرآپ کا کہا جھوٹ نہ ہو جائے اس لئے اِستِنجا بھی کرلیجئے۔”غیبت گاہ“میں حاضِر رہنے کے بجائے مجبوراً استِنجا خانے میں وقت گُزارنا بَہُت مناسِب عمل ہے اِن شاءَ اللہ اس پر بھی ثواب ملے گا۔
اَخلاق ہوں اچّھے مِرا کردار ہو ستھرا محبوب کے صدقے میں مجھے نیک بنادے
(وسائلِ بخشش،ص115)