30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دولت آج کسی کے پاس نہیں۔ قارون اتنا مالدار تھا کہ اس کے خَزانے کی چابیاں ایک بہت بڑی جماعت اُٹھاتی تھی، کہا جاتا ہے کہ وہ جماعت چالیس اَفراد پر مُشتَمِل تھی۔ (تفسیر صاوی، پ20،القصص،تحت الآیۃ: 76، 4/1544ملخصاً) ذرا سوچئے! جس کے خَزانے کی چابیاں ایک جماعت اُٹھاتی ہو اس کا خزانہ کتنا ہو گا لیکن وہ خزانہ اس کے کام نہ آیا۔
قارون كا عبرتناک انجام
جب حضرت موسیٰ کلیمُ اللہ علیہ السّلام نے اللہ پاک کے حکم پر قارون سے زکوٰۃ کا مطالبہ کیا تو وہ اس کی ادائیگی کے لیے تیار نہ ہوا،حیلے بہانوں سے کام لینے لگا اور آخر کار زکوٰۃ کا اِنکار کرتے ہوئے کہنے لگا:واہ! جب مال میں نے کمایا ہے تو تمہیں کیسے دے دوں؟ پھر اس نے ایک عورت کو مال و دولت دے کر اس بات کے لئے تیار کیا کہ جب موسیٰ ( علیہ السّلام ) لوگوں کو جمع کر کے وَعْظ فرما رہے ہوں اس وقت وہ ان پر اپنے ساتھ بُرائی کرنے کا الزام لگائے اور یوں مَعاذَ اللہ ! عوام کے سامنے انہیں رُسوا کر دے۔ ایک دن جب حضرت موسیٰ علیہ السّلام لوگوں کو جمع کرکے وَعْظ و نصیحت فرما رہے تھے عَین اُسی وقت قارون نے آپ علیہ السّلام کو ٹوکا اور کہا کہ فُلاں عورت کے ساتھ آپ نے مَعاذَ اللہ ! بُرائی کی ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السّلام اس بات پر بہت رَنجیدہ ہوئے اور فرمایا: اس عورت کو میرے سامنے لاؤ۔ جب وہ عورت تصدیق کے لیے بلائی گئی تو حضرت موسیٰ علیہ السّلام نے جَلال بھرے اَنداز میں فرمایا: سچ سچ بتاؤ! حقیقت کیا ہے؟ وہ عورت کانپ اُٹھی اور اس نے سچ سچ بتادیا کہ مجھے قارون نے کثیر مال و دولت دے کر آپ پر بُہتان لگانے کے لیے تَیّار کیا ہے۔
اُس وقت حضرت ِ موسیٰ علیہ السّلام آبدیدہ ہوکر سجدے میں چلے گئے اور سجدے کی حالت میں آپ علیہ السّلام نے دُعا مانگی: اے اللہ ! قارون پر اپنا قَہر و غَضَب نازل فرما دے۔ اس کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع