30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ اس ضمن میں ایک عبرت اَنگیز واقعہ پڑھئے:
مال کی فکر میں ایک تاجر کی موت
پاکستان میں ایک عجیب واقعہ ہوا کہ ایک مالدار شخص کو ٹیکس ڈپارٹمنٹ کی طرف سے ایک کروڑ روپے ٹیکس ادا کرنے کا آفیشلی نوٹس بھیجا گیا۔اس نے آفیسرز سے رِشوت کی بارگیننگ شروع کر دی تاکہ کم سے کم میں جان چھوٹ جائے۔ اسے کہا گیا کہ اگرآپ آفیشلی طور پر ٹیکس ادا کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو پورے ایک کروڑ روپے اَدا کرنا ہوں گے اور اگر پچھلے دروازے سے دینا چاہتے ہیں(یعنی رِشوت کا لَین دَین کر کے) تو آدھوں میں کام ہو جائے گا۔ وہ مالدارشخص شاید 30 لاکھ رشوت دینے پر رِضا مند تھا، الغرض بات نہیں بَن پائی اور آفیسرز چلے گئے۔دیکھیے! ایک طرف مسلمانوں کی یہ حالت ہے کہ رشوت کا لین دین کر رہے ہیں جبکہ دوسری طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ عبرت نشان ہے: اَلرَّاشِیْ وَالْمُرْتَشِیْ فِی النَّار یعنی رشوت لینے والا اور دینے والا جہنَّمی ہیں۔
(معجم اوسط،1 / 550 ،حديث:2026) لیکن افسوس!آج کے مسلمانوں کو اس طرح کی وَعیدوں سے کہاں ڈر لگتاہے! بہرحال اس مالدارشخص کو رات بھر یہ فکر کھائے جا رہی تھی کہ اس سے بطورِ رشوت 50 لاکھ روپے مانگے جا رہے ہیں، بالآخر اسی سوچ وبچار میں بظاہر اسے نیند نے آ لیا۔جب صبح ہوئی تو گھر والوں نے اُسے جگانے کی خوب کوشش کی لیکن پتا چلا کے 50 لاکھ کی فکر میں اس کا ہارٹ فیل ہوگیا ہے اور اب وہ ہمیشہ کی نیند سوچکا ہے۔
پیار ے پیارے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے دولت اس مالدار شخص کے کیا کام آئی؟ یاد رکھیے! دولت کسی کو موت سے نہیں بچا سکتی، اگر دولت کسی کو بچا سکتی تو قارون جیسی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع