30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اپنی پسند پر ترجیح نہیں دیں گے اُس وقت تک ہم دنیا میں ناکام رہیں گے اور آخرت میں بھی کامیاب ہونے کی اُمّید بہت کم ہے۔ یقیناً اللہ پاک کی رحمت بہت بڑی ہے لیکن ذرا سوچئے! ہماری سَرکَشی کس حد تک پہنچ چکی ہے! ہم کس قدر بے راہ رَوی کا شِکار ہوچُکے ہیں !اگر پہلے بندہ گناہ کرتا تھا تو نادِم بھی ہوتا تھا مگر اب حال یہ ہے کہ گناہ کر کے خوش ہوتا ہے اور کوئی سمجھائے تو اُلٹا اس کا مذاق اُڑاتا ہے۔
مجھے آلاتِ مُوسیقی توڑنے کے لیے بھیجا گیا
پیارے پیارے اسلامی بھائیو!آج کل دیگر گناہوں کی طرح مُوسِیقی بھی بہت عام ہو چُکی ہے حالانکہ حدیثِ پاک میں اس کی مَذمّت بیان کی گئی ہےجیسا کہ سرکارِ مدینۂ منوّرہ، سردارِ مکۂ مکرَّمہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا اِرشادِ پاک ہے: مجھے آلاتِ مُوسیقی کو توڑنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔
(کنز العمال،جز:15، 8/99،حدیث:40682)
آہ!ایک طرف تو پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا یہ اِرشادِ پاک ہے جبکہ دوسری طرف ہم مسلمانوں کا کردار ہے کہ گھر گھر سے مُوسیقی کی دُھن سنائی دے رہی ہوتی ہے، کون سا گھر ایسا ہے جس میں گانے باجے نہیں بجتے؟ کون سا گھر ایسا ہے جس میں فلمیں ڈرامے نہیں دیکھے جاتے؟
جتنا سرمایہ زیادہ ہوتا ہے بندہ رب سے اتنا ہی غافل ہوجاتا ہے، دن رات اس کو مال کی فکر کھائے جاتی ہے پھر ڈاکو ؤں کا خطرہ الگ رہتا ہے، ٹیکسیشن ڈیپارٹ والے اس کے گھر کا چکر کاٹ رہے ہوتے ہیں ۔
بعض مالدار بے چارے اپنےمال کی فکر میں اِس قدر مُبتَلا ہوتے ہیں کہ اپنی جان سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع