30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
چہرے مت بناؤ۔ (یعنی ان جیسے چہرے مت بناؤ)۔
(بخاری، 4/75،حدیث:5892 ملخصا ً)
آج اگر کوئی زُلفیں رکھے اور چہرے پر سُنّت کے مطابق ایک مُٹّھی داڑھی سجائے تو خود کو مسلمان کہلانے والے بَدقسمتی سے اُسے حقارت کی نظر سے دیکھتےاور” مُلّا“ کہہ کر اس کا مذاق اُڑاتے ہیں، ایسا حُلیہ اپنانے پر ماں کُڑھتی ہےاور باپ اس پر بِگڑتا ہے ، ارے نادان باپ! تجھے تو خوشی سے جُھومنا چاہیےکہ تونے جس کا کلمہ پڑھا تیرے لاڈلے نے اس کی سُنّت کو ادا کیا ہے ۔
یاد رکھیے ! اچّھوں کی نقل بہر حال اچھی ہی ہوتی ہے۔ اس ضمن میں دو ایمان اَفروز واقعات پڑھئے:
(1) اچّھوں کی نقل کی بدولت نجات مل گئی
اللہ پاک نے جب فرعون اور اس کی قوم کو دریا میں غرق کیا تو ان میں سے وہ شخص زندہ بچ گیا جو لباس اور بول چال میں حضرتِ سَیِّدُنا موسیٰ کلیمُ اللہ علیہ السّلام کی نقل کیا کرتا تھا اور فرعون اور اس کی قوم اس کی ان حرکتوں کی وجہ سے ہنسا کرتے تھے۔حضرتِ سَیِّدُنا موسیٰ کلیمُ اللہ علیہ السّلام کو اس کے بچ جانے پر بڑا تَعجُّب ہوا اور بارگاہِ الٰہی میں عرض کی:یہ تو دوسرے فرعونیوں کے مقابلے میں مجھے زیادہ تکلیف پہنچاتا تھا ! اللہ پاک نے اِرشاد فرمایا: اے موسیٰ! ہم نے اسے اس لیے غرق نہیں کیا کہ اس نے تمہارے جیسا لباس پہنا ہوا تھا اور ہم تو اپنے محبوب بندوں کی سی صورت اختیار کرنے والے کو بھی عذاب نہیں دیتے۔
(مرقاۃ المفاتیح، 8/155،تحت الحدیث:4347)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع