30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کے تاجدار صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم تھے اور ہمارے سردار بھی مدینے کے تاجدار صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ہیں لیکن وہ اِ طاعت شِعار تھے جبکہ ہم نافرمان ہیں، وہ اِطاعت شعار ہونے کی وجہ سے مُعَزَّز ٹھہرے جبکہ ہم نافرمان ہونے کے باعث رُسوا ہوئے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے:
وہ مُعَزَّز تھے زمانے میں مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر
اے مسلمانو! یاد رکھو! تم اُس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتے جب تک پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی پسند کو اپنی پسند پر ترجیح نہیں دو گے۔دیکھو! اللہ پاک کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو نماز پسند ہے جبکہ غافل مسلمان کو نیند پسند ہے، مؤذِّن پُکار پُکار کر اِعلان کرتا ہے:” اَلصَّلوٰۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْم “ یعنی نمازنیند سے بہتر ہے مگر آج کا مسلمان چادر تانے سویا رہتا ہے۔پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اِرشاد فرمایا: ” جُعِلَتْ قُرَّۃُ عَیْنِیْ فِی الصَّلوٰۃ “ یعنی میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں بنائی گئی ہے۔ (نسائی،ص644،حدیث:3946) لیکن اَفسوس! آج کے غافل مسلمان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی مُبارک آنکھوں کی ٹھنڈک سے کوئی سروکار نہیں ،آہ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے مگر غافل مسلمان کی آنکھوں کی ٹھنڈک فلمیں ڈرامہ دیکھنے اور بدنگاہی کرنے میں ہے۔
افسوس !ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی پسند کو عملی طور پراپنی پسند نہیں بنایا، دیکھو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو داڑھی زلفیں عمامے کا تاج پسند ہے، لیکن تمہاری پسند؟ میں اپنے پا س سے نہیں کہتا بلکہ اللہ کے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا ارشادہے :داڑھی بڑھاؤ، مونچھیں پَست کرو اور آتش پرستوں کی مخالفت کرویعنی ان جیسے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع