30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بھی نہیں دیا تو انہوں نے اپنے مکان کو اس طرح گرایا کہ اس کا نام و نشان باقی نہ رہا۔رَسول ُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اِرشاد فرمایا: ہرتعمیر انسان پر وبال ہے سوائے اُس کے کہ جو سخت ضرورت اور مجبوری کی ہو۔
(ابوداؤد، 4/460،حدیث:5237ملخصاً)
پیارے پیارے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نےصحابۂ کرام رضی اللہ عنہم پیارے آقا، مَکِّی مَدَنی مصطفےٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے کس قدر محبّت کیا کرتے تھے کہ جو بات پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو ناگوار گزرتی صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اُسے بِالکل جَڑ ہی سے ختم کر دیا کرتے تھے جیسا کہ سَیِّدُنا عَمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ کی چادر سرکار صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو ناگوار گزری تو انہوں نے اپنی اس چادر کو آگ میں ڈال کر ختم کر دیا۔اسی طرح جب ایک اَنصاری کے مکان کو (قُبہ نما ہونے کی وجہ سے ) سرکار صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ناپسند فرمایا تو انہوں نے اپنے مکان کو بِالکل مَلْیامیٹ کر دیا۔ شریعت سرکار صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی پسند کی ہے، سرکار جو کہیں، جو چاہیں، جو فرمائیں، جو پسند کریں جو ناپسند کریں، شریعت کے احکامات اسی پرمرتب ہوتے ہیں۔
ہماری حالتِ زار
آپ نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا جذبۂ اِ طاعت اورعشق واُلفت مُلاحَظہ کیا ، اب ذرا اَپنا جذبہ بھی دیکھ لیجئے اور غور کیجئے کہ ایک طرف وہ بھی مسلمان تھے اور دوسری طرف ہم بھی مسلمان ہیں لیکن ہمارے اور ان کے درمیان کتنا واضح فرق ہے؟ اُنہوں نے ایسا وَلْوَلہ، جذبہ، عِزّت، ہمّت، جُرأت اور طاقت پائی تھی کہ جِدھر جاتے کامیابی آگے بڑھ کر انہیں گلے لگا تی اور مَنزِل چَل کر ان کے قدموں سے ِلپٹ جاتی جبکہ دوسری طرف ہم جیسے مسلمان ہیں کہ جِدھر جاتے ہیں مَنزل دُور ہوتی چلی جاتی ہے۔ دیکھیے! ان کے سردار بھی مدینے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع