30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بےکَسی چھائی ہو گی! غور کیجئے! جب ایک دن ہمیں بھی ہمارے ناز اُٹھانے والے اپنے کندھوں پر اُٹھائے قبرستان لے جا رہے ہوں گے اور آج ہمیں مِسٹر کہنے والے کل مرحوم کہہ کر بُلا رہے ہوں گے تو ہم پر کیسی بےکَسی چھائی ہو گی؟ اگر اس وقت مَعاذَ اللہ ہمارے پاس نمازیں نہ ہوئیں، رمضانُ المبارک کے روزے نہ ہوئے،اعمال نامہ قَدم قَدم پر کیے جانے والے گناہوں سے پُر ہوا ، اللہ پاک ناراض ہوااور اس کے پیارے حَبیب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم روٹھ گئےتو ایسی صورت میں قبر ہمارے ساتھ کس طرح کا سلوک کرے گی؟ اسے ذرا غور سے پڑھئے!چنانچہ
نماز میں سُستی کرنے والوں کی سزا
ایک روایت میں ہے: نماز میں سُستی کرنے والوں کو قبر ایسے دَبائے گی کہ اُن کی پَسلیاں ٹوٹ پھوٹ کر ایک دوسرے میں پیوست ہو جائیں گی۔
(قرۃ العیون مع روض الفائق،ص 383)
پیارے پیارے اسلامی بھائیو!یاد رکھئے! عذابِ قبر سے نہ کَراٹے کا فن بچا سکے گا اور نہ پَہلوانی کے داؤ پیج، نہ باکسِنگ کے پنچ قبر کی گرفت سے بچا پائیں گے اور نہ کسی قسم کا اسلحہ۔ آہ!جب قبر دبائے گی تو پسلیاں ٹُوٹ پُھوٹ کر ایک دوسرے میں گُھس جائیں گی۔یاد رہے! ٹوٹی ہوئی ہڈیاں جوڑنے کے لیے قبر میں نہ کوئی بُون اسپیشلسٹ آئے گا اور نہ ہی کوئی میڈیکل سَرْجَن یا حکیم وغیرہ بلکہ وہاں تو سانپ بِچّھولَپک َلپک کر آ رہے ہوں گے اور آگ بھی بڑھتی چلی جارہی ہوگی اور یہ سب رَبّ کریم کی ناراضی کی صورت میں ہو گا۔ دیکھیے! ہم نے دنیا کی گرمی سے بچنے کے لیے تو گھر میں پنکھا اور ایئرکنڈیشنر لگا لیا لیکن قبر کی گرمی سے بچنے کے لیے نماز کا کوئی اہتمام نہ کیا، یونہی حُسنِ اخلاق،سچّائی، اَمانتداری، دِیانتداری اور دیگر نیک کام جو ہمارے لئے قبر میں رَاحت کا سامان ہو سکتے تھے ان کا کوئی اہتمام نہ کیا۔ ہم نے صرف اپنے مکانات کو فرنیچر سے سجایا تاکہ آرام مِلے، مکان میں روشن دان بنایا تاکہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع