30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نوافل پڑھنے کے لیے خِراماں خِراماں مسجد نہیں جا رہے تھے بلکہ پنجرے جیسی ڈولی میں بند اور لوگوں کے کندھوں پر سوار ہو کرقبرستان کی طرف جا رہے تھے ، پہلے شادیوں کے موقع پر جن رشتہ داروں اور دوست و اَحباب کے لَبوں سے ہنسی کے فُوارے اُبل رہے تھے آج اُن کی آنکھوں سے آنسوؤں کے دَھارے چل رہے ہیں۔ اس ضِمن میں ایک نوجوان کا عبرتناک واقعہ پڑھئے، چنانچہ
شادی کی پہلی رات گُردے فیل ہو گئے
(امیرِ اہلِ سنّت، مولانا محمد الیاس عطّار قادری دَامَتْ بَرَکاتُہمُ الْعَالِیَہ اِرشاد فرماتے ہیں:) ہماری برادری کے ایک نوجوان کی بھرپور جُوش و خَروش کے ساتھ ماڈرن اَنداز میں شادی ہوئی،ابھی اس کی شادی کی پہلی رات ہی تھی کہ اس بے چارے کے دونوں گُردے فیل ہو گئے۔میں عیادت کے لیے ہاسپٹل پہنچا اور اسے دیکھ کر سوچنے لگا کہ اگر یہ زندہ بچ گیا تو شاید نمازی بن جائے اور اپنی آخرت سنوارنے کے لیے تیار ہو جائے لیکن وہ جانبر (یعنی صحت یاب ) نہ
ہو سکا۔
پیارے پیارے اسلامی بھائیو!غور کیجئے! وہ نوجوان جس نے چند روز پہلے ہار پہنے تھے اور نوافل پڑھنے کے لیے پیدل چل کر مسجد میں گیا تھا بے چارے کے گُردے فیل ہو گئے اور پھر کچھ ہی دنوں بعد اُسے کاندھوں پر سوار کر کے اندھیری قبر میں اُتار دیا گیا۔
اے جوانی پر اِترانے والو! اے جوانی پر پُھول کر خدا کو بھول جانے والو! یاد رکھو!
ڈَھل جائے گی یہ جوانی جس پر تُجھ کو ناز ہے
تو بجا لے چاہے جتنا چار دن کا ساز ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع