30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ڈرامے دیکھتے، گانے باجے سُنتے، مِلاوٹ والا مال بیچتے، جُھوٹ بولتے، گالیاں بَکتے، نمازیں قَضا کرتے، داڑھیاں مُنڈاتے اور ماں باپ کو ستاتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ اپنی اولاد کی دین اور سنّت کے مطابق تربیَت نہیں کرتے بلکہ مَعاذَ اللہ ! بعض بدنصیبوں کو تو سُنّتوں سے چِڑ ہوتی ہے نہ جانے ایسوں کا کیا بنے گا؟دیکھیے! نہ ہم بارش برداشت کر سکتے ہیں نہ سیلاب ، پٹاخہ پُھوٹ جائے تو چونک پڑتے ہیں، اچانک بِلّی مِیاؤں کرے تو سَہْم جاتے ہیں، کتّا بھونکے تو ڈر جاتے ہیں،یاد رکھیے !اگر ہم قبر میں اس حال میں پہنچے کہ ہمارے پَلّے نہ نمازیں ہوئیں اور نہ رمضانُ المبارک کے روزے،دنیا میں داڑھی مُنڈاتے رہے ، انگلش لباس پہنتے رہے، سَر پر زُلْفیں رکھنے کے بجائے طرح طرح کی تَراش خَراش والے بال رکھتے رہے،سر پر عمامہ شریف سجانے کے بجائے نَنگے سر گُھومتے رہے،صرف وصرف ماڈرن اور جدید دور کے تقاضوں کے مطابق زندگی گزارتے رہے ، اگر ایسا ہوا تو قبر میں ہمارا کیا بنے گا اور ہمیں عذابِ قبر سے کون بچائے گا؟
افسوس! صدکروڑ افسوس! اگر کوئی اسلامی بھائی ہمیں سمجھانے کی کوشش کرے تو اس کے بارے میں ہمارے تأثرات کچھ اس طرح کے ہوتے ہیں:”یہ تو پُرانے زمانے کی باتیں لے کر بیٹھ گئے ہیں ، انسان چاند پر پہنچ گیاہے لیکن مولوی لوگ پتا نہیں کیا باتیں کر رہے ہیں وغیر وغیرہ۔“ دیکھیے! مولوی صاحب اس بزرگ ہستی کی باتیں بتاتےہیں جس نے زمین پر رہتے ہوئے انگلی کے اشارے سے چاند کے دو ٹکڑے کر دیئے تھے اور وہ شبِ معراج چاند سے وَراءُ الوریٰ (یعنی بہت دور )بلکہ عرشِ اعظم سے بھی وَرا تشریف لے گئے تھے۔
کہتے ہیں سطح پہ چاند کی انسان گیا
عرشِ اَعظم سے وَریٰ طیبہ کا سلطان گیا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع