دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Ameer Ahl e Sunnat Say Jinnat Kay Baray Main Sawal Jawab | امیر اہل سنت سے جنات کے بارے میں سوال جواب

Musalman Jinnat Ko Esal e Sawab Karna

book_icon
امیر اہل سنت سے جنات کے بارے میں سوال جواب

سوال:کیا مسلمان جنات کو اِیصالِ ثواب کر سکتے ہیں ؟

جواب: جی ہاں!مسلمان جنات کو اِىصالِ ثواب کر سکتے ہىں ۔(ملفوظاتِ امیراہل سنّت ،2/428)

جنات قابو کرنے کے بجائے نفس کو قابو کرنا کمال ہے

سوال: کیا آپ جنات کو قابو کرنے کا وَظیفہ پڑھنے کے لیے دیتے ہیں؟
جواب : جنات کو قابو کرنے کا وَظیفہ ابھی تک میں نے بھی نہیں کیا اور نہ ہی میں نے کبھی جن کو قید کیا ہے ۔ اگر میرا نفس میری قید میں آجائے تو مجھ جیسا ماہر اور بہادر کوئی نہیں ہو گا ۔
نِہنگ و اژدہا مارا اگرچِہ شیرِ نر مارا                                                                             بڑے مُوزی کو مارا نفسِ اَمّارہ کو گر مارا
نِہنگ معنیٰ مگر مچھ یعنی تونے مگر مچھ اور شیر کو مار دیا تو کوئی کمال نہیں کیا، کمال تو یہ ہے کہ تو اپنے نفس کو مارنے میں کامیاب ہو جائے ۔
جنات قابو کرنا ہماری لائن نہیں ہے۔مُؤکِّل اورجنات کو قابو کرنے کے لیے بعض لوگ باباجی کے پاس جاتے ہیں تو یہ خود ہی باباجی کے قبضے میں آکر نہ اِدھر کے رہتے ہیں نہ اُدھر کے ۔ اعلیٰ حضرت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہِ علیہ نے فتاویٰ رضویہ شریف میں حضرتِ شیخ مُحْیُ الدِّین ابنِ عَربی رحمۃُ اللہِ علیہ کا قول نقل فرمایا ہے کہ اگر کسی کے قابو میں ”جِن“ آ جائے تو کم از کم وہ مُتَکَبِّر اور مَغرور ہو جاتا ہے۔( فتاویٰ رضویہ، 21 /606 ماخوذا) یہ آپ رحمۃُ اللہِ علیہ نے اکثریت کے اِعتبار سے فرمایا ہو گا، کیونکہ آج کل تو اگر کسی کی SHO یا تھانے دار سے دوستی ہو جائے تو اس کے پاؤں زمین پر نہیں لگتے اور وہ خوب اَکڑ کر چلتا ہے کہ میریSHO سے دوستی ہے۔ غور کیجیے کہ جب SHOسے دوستی پر یہ حال ہے کہ پاؤں زمین پر نہیں لگ رہے ہوتے تو جنات کو قابو کرنے پر کیا حال ہو گا ۔ 
(ملفوظات امیراہل سنّت ،2/40)
سوال: کچھ لوگوں کا نظرىہ ہے کہ دن یا رات میں جب 12 بجیں ،اس وقت کچھ لکھنا، پڑھنا یا مسجد میں جانا نہیں چاہیے، ورنہ جنات پٹخ دیتے ہیں۔ کیا یہ بات دُرُست ہے؟ 
جواب: رَمَضان شریف میں مُعْتَکِفین دن رات مسجد میں پڑے رہتے ہیں اور روزانہ دو مرتبہ 12 بجے کا وقت آتا ہے، ابھی تک تو کسی مُعْتِکف کو جنات نے نہیں پَٹْخا اور نہ ہی کوئی جن پَٹَخ سکتا ہے۔اِن شاءَ اللہ ۔ یہ سب ڈھکوسلے ہیں اور لوگوں کی چلائی ہوئی باتیں ہیں۔ جس کو جو سمجھ آتا ہے بول رہا ہوتا ہے۔ علمائے کرام سے پوچھ کر راہ نُمائی لینی چاہیے ۔
 (ملفوظات امیراہل سنت ،جلد10،قسط :243)
سوال : اگر کسى گھر مىں بِلّیاں روتی اور چىخىں مارتى ہوں تو لوگ کہتے ہیں کہ اس گھر مىں جادو یا جنات ہىں ، کىا اس کی کوئی حقىقت ہے ؟ 
جواب : اِن باتوں کى کوئى حقىقت نہىں ہے ۔ چونکہ بِلّیوں مىں بھى اِحساس ہوتا ہے ، ان کا بھی کچھ نہ کچھ حافظہ ہوتا ہے، جبھى تو ىہ مانوس ہوتى ہىں ۔ کسى کے گھرجاتى ہىں تو اسى کے دَروازے میں داخل ہوتى ہىں، دوسرے کے دَروازے میں داخل نہیں ہوتیں، اِس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں ىاد رہتا ہے ۔ بِلّی کے رونے کا سبب یہ ہوسکتا ہے کہ کسى جانور نے اس کے سامنے اس کا بچہ کھا لىا ہو، جس کا صَدمہ اس کے جگر مىں بىٹھ گىا ہو، جب اس کی یاد آتی ہوتو اس وجہ سے چىختى اور روتى ہو ۔ بہرحال بِلّی کے رونے کی ایسی کوئی بھی وجہ ہو سکتی ہے لہٰذا بِلّی کے رونے کا ىہ مطلب نہیں لىنا چاہیے کہ ىہاں جنات ہىں ۔ 

جنات عموماً ہر جگہ ہوتے ہیں

جنات تو عام طور پر ہر جگہ ہوتے ہىں ،کىونکہ ان کی تعداد اِنسانوں کے مقابلے میں نو گنا زىادہ ہے ۔یعنی اىک اِنسان ہے تو نو(9) جِن ہىں ۔ اِس کو یُوں سمجھیے کہ اگر دُنىا مىں اىک کروڑ اِنسان رہتے ہىں تو نو کروڑ جِن رہتے ہىں ۔ یاد رہے کہ ہر جِن ستاتا نہىں ہے جیسے ہزاروں اسلامى بھائى مختلف جگہوں میں جمع ہوکر مَدَنی مذاکرے میں شریک ہوتے ہىں، کوئى کسى کو تنگ نہیں کرتا، سب پُرسکون بىٹھے ہوتے ہىں تو اِسی طرح جنات بھى پُرسکون ہوتے ہىں ۔ البتہ بعض جنات شرىر بھی ہوتے ہىں جو اِنسانوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ (جنات ہی نہیں) نقصان پہنچانے والے تو بعض اِنسان بھی ہوتے ہیں جو مَجْمع میں اس تاک میں ہوتے ہیں کہ کسی کی جیب کاٹ لیں یا کسی کی چپل اُٹھالیں ۔ (ملفوظات امیراہل سنّت ،2/138)
سوال: آج سے چندسال پہلے عورتوں کے ساتھ جنات کے مُعاملات اتنے زیادہ نظر نہیں آتے تھے جبکہ آج کل یہ مُعاملات زیادہ نظر آتے ہیں ، اِس حوالے سے آپ ہماری راہ نمائی فرما دیجیے ۔ 
جواب:عورتوں کے ساتھ جنات کے مُعاملات چند سال سے نہیں بلکہ میں بچپن سے دیکھتا  سُنتا آ رہا ہوں البتہ سب کے ساتھ نہیں ہوتے ۔ عورتوں کو مزارات پر جنات کی حاضری آتی ہے ،جس کی وجہ سے یہ بال کھول کر اُچھل کود کر رہی ہوتی ہیں، ان میں سے بعض کے ساتھ واقعی جِن کا اثر ہونا اور اس کی طرف سے ستایا جانا ہو سکتا ہے جبکہ بعض ڈرامے کرتی ہوں گی تو یوں مِکْس صورتِ حال ہوتی ہو گی لہٰذا جنات کے اثر کا بالکل ہی اِنکار کر دینے کی کوئی وجہ نہیں ہے ۔ بعض لوگ جنات کے اثر کا اِنکار کرتے ہیں مگر جب ان کے اپنے سر پر پڑتی ہو گی تو انہیں سمجھ آ جاتی ہو گی اور اگر اب بھی نہ آئے تو پھر وہ سر پَچھاڑ پَچھاڑ کر مَر جاتے ہوں گے ۔ یاد رَکھیے ! ہر عورت پر جنات کے اَثرات ہوں یہ ضَروری نہیں، نفسیاتی اَثر بھی ہوتا ہے اور بعض اوقات ایسے اَمراض بھی لاحِق ہو جاتے ہیں جس میں آدمی یہ سمجھتا ہے کہ جن کا اَثر ہو گیا ہے مثلاً کسی کے ہاتھ پاؤں مُڑ جائیں تو لوگ یہی سمجھیں گے کہ جن کا اَثر ہو گیا ہے حالانکہ مَرض کی وجہ سے بھی ایسا ہوتا ہے ۔ عام طور پر اس طرح کے مُعاملات بابا جی لوگوں کے رَحْم و کَرَم پر ہوتے ہیں کہ اگر یہ جن کا اَثر کہہ دیں تو لوگ جن کا اَثر سمجھتے ہیں، جنات کے پورے خاندان کا اَثر کہہ دیں تو پورے خاندان کا اَثر سمجھتے ہیں اور جو بھی وجہ یہ بتا دیں تو لوگ وہی وجہ اپنے دِل پر لے لیتے ہیں ۔ بابا جی لوگوں کو چاہیے کہ بِلا وجہ لوگوں کو نہ ڈرائیں البتہ ان کے حساب یا اِستخارے وغیرہ میں اگر کوئی ایسی وجہ سامنے آتی ہے تو اُسے بتانے میں حرج نہیں ۔(ملفوظاتِ امیراہل سنّت ،3/111)
سوال: مغرب کے بعد عِطْر لگاناکیسا؟ نیز کیا چار سے پانچ سال کی عُمر کے بچّوں کو عطر لگا سکتے ہیں؟
جواب: مغرب کے بعد عِطْر لگایا جاسکتا ہے۔ دِن رات میں کوئی ایسا وقت نہیں جس میں عطر لگانا منع ہو۔ چار پانچ سال کی عمر کے بچّوں، بلکہ چار پانچ دن کے بچّوں، یہاں تک کہ ایک دن کے بچّے کو بھی عطر لگا سکتے ہیں۔ یہ غلَط، غلَط اور غلَط اَفواہ ہے کہ مغرب کے بعد خوشبو لگانے سے یا بچّے کو خوشبو لگانے سے جنات پکڑ لیتے ہیں یا لِپٹ جاتے ہیں، ایسا کچھ نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو جنات خوشبو کی ساری دُکانیں لوٹ لیتے۔ معلوم نہیں اُن کو خوشبو پسند بھی ہے یا نہیں؟ ”فرشتوں کو تو خوشبو پسند ہے۔“(فردوس الاخبار ،2/32،حدیث:3660)
(امیرِ اہلِ سُنَّت دامت بَرَکاتُہمُ العالیہ کے قریب بیٹھے ہوئے مُفتی صاحب نے فرمایا:) خلیفۂ مفتیٔ اعظم ہِند (مولانا اَحمد مُقَدَّم رَضَوی نُوری صاحِب) کا بیان ہے کہ حُضُور مفتیٔ اعظم ہِند رحمۃُ اللہِ علیہ فرمایا کرتے تھے: بُری اور بدبو دار چیزوں کی وجہ سے جنات چمٹتے ہیں، خوشبو وغیرہ کی وجہ سے نہیں چمٹتے۔ مغرب کے بعد کچھ دیر کے لئے بچّوں اور عَورَتوں کو باہر نکلنے سے روکنے( ) 
کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اُنہیں یا تو وہ دُعائیں یاد نہیں ہوتیں جو انہیں ایسی مخلوق سے بچائیں، دوسرا اُن کے اندر پاکی کا اِتنا اِہتما م نہیں ہوتا جس کی وجہ سے جنات وغیرہ چمٹ جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔(ملفوظاتِ امیراہل سنّت ،4/289)
سوال: کیا فریج یا گھر میں لیموں رکھنے کا کوئی فائدہ ہے؟
جواب: بُزرگوں کا قول ہے کہ گھر میں لیموں ہوں تو شریر جنات نہیں آتے۔ 
(لقط المرجان فی أحکام الجانّ ، ص103) (ملفوظاتِ امیراہل سنّت ،4/80)
سوال: بعض اَوقات نئے گھروں میں آسیب اور جنات کا مُعامَلہ ہوتا ہے ، اِس کا کیا حل ہے؟
جواب: جس گھر میں نَمازیں پڑھی جائیں ، تِلاوتیں اور ذِکر و اَذکار ہوں تو وہ گھر بہت ساری بَلاؤں اور آفتوں سے بچا  رہتا ہے۔ جبکہ جس گھر میں گانے ، باجے ، فلمیں ، ڈرامے ، گالی گلوچ اور لڑائی جھگڑے نیز شراب پینے جیسے گناہ ہوں اُس میں بَلاؤں کا زیادہ آنا جانا رہتا ہے۔ اِس لئے اپنے گھر کو پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی سُنّتوں سے سجائیں ، نعت شریف اور تِلاوت کی آوازیں آئیں ، اِن شاءَ اللہ شیطان بھاگ جائیں گے۔ 
(اِس موقع پر جانشینِ امیرِ اَہلِ سُنّت نے فرمایا : ) اگر جُمعہ کے دِن 100بار ’’دُرُودِ تاج‘‘ پڑھ کر گھر کے کونوں پر دَم کرلیں تو بھی آسیب وغیرہ دُور ہوجائے گا۔ 
(امیرِ اہلِ سُنَّت دامت بَرَکاتُہمُ العالیہ نے فرمایا : ) ” اَصحابِ کَہْف“ کے نام اگر لکھ کر لگا دئیے جائیں تو شریر جنات گھر میں نہیں آتے اور اگر ہوں تو بھاگ جاتے ہیں۔( شفاء العلیل مع القول الجمیل ، ص162)اِس کے کئی اور بھی علاج ہیں۔(ملفوظات امیراہل سنّت ،4/352)
سوال:میرے بچّوں کی امّی پر ” جِن “ کے اَ ثرات ہیں ، کافی عِلاج کروایا ہے مگر طبیعت بہتر نہیں ہورہی ، کوئی وظیفہ اِ رشاد فرمادیجئے۔ 
جواب: جنات سے چھٹکارا پانے کے کئی عِلاج ہیں۔ ایک عِلاج یہ ہے کہ جس پر جِن چڑھ جائے اُس کے کان میں اَذان دینے سے جِن چلا جائے گا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ، 15 / 355 ، حدیث : 30360) یہ بھی عِلاج ہے کہ اٹھارھویں پارے میں موجود سورۂ مُؤمِنُون کی آخری چار آیتیں (مصنف ابن ابی شیبہ ، 15 / 355 ، حدیث : 30360) بلند آواز سے پڑھی جائیں تو جِن بھاگ جائے گا (فتاویٰ رضویہ ،1 /1115) اِن شاءَ اللہ ۔ اِسی طرح” آيةُ الکُرْسی “بھی جنات کا بہترین عِلاج ہے۔ (مدنی پنج سورہ ، ص15) اللہ پاک آپ کے بچّوں کی امّی کو مُو ذِی جِن سے نَجات بخشے۔ (ملفوظات امیراہل سنّت ،4/142)
سوال : کیا جنا ت کو ان کی اصلی صورت میں دیکھنا ممکن ہے؟
جواب: جنات کو ان کی اَصلی صُورَت میں دیکھنے یا نہ دیکھنے کے بارے میں عُلما ئے کِرام کے مختلف اقوال ہىں۔ایک قول یہ بھی ہے کہ جنات کو ان کی اصلی صورت میں کوئی نہیں دیکھ سکتا(تفسیر قرطبی، پ8،الاعراف،تحت الآیۃ:27، 4/134) لہٰذا جنات کو دىکھنے کا شوق نہىں ہونا چاہىے۔ بعض لوگ جنات کی تصاویر بنادیتے ہیں،پھر تصاویر کے سینگ اور بڑے بڑے دانت بھی بنادیتے ہیں، یہ سب فرضی تصاویر ہوتی ہیں،ان تصاویر کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں 
ہوتا۔ (ملفوظات امیراہل سنّت ،7/419)

 … فرمانِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم : جب رات کا شروع حصّہ ہوجائے یا تم شام پاؤ تو اپنے بچّوں کو روک لو ، کیونکہ اس وقت شیطان پھیلتے ہیں۔ پھر جب رات کی ایک گھڑی گزر جائے تو بچّوں کو چھوڑ دو اور دروا زے بندکردو اور اللہ کا نام لو ، کیونکہ شیطان بند دروازے کو نہیں کھولتا۔ (بخاری ،2 /399 ، حدیث : 3280) حکیم الاُمّت حضرت مُفتی اَحمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں : شیطان سے مراد مُوذی جنات اور موذی اِنسان دونوں ہیں۔ شام کے وقت ہی بچّوں کو اغوا کرنے والے زیادہ پھرتے ہیں۔ مزید فرماتے ہیں : معلوم ہوا جنات و شیاطین کا اثر بچّوں پر زیادہ ہوتا ہے ،اس لیے بچّوں کو نکلنے سے روکا گیا ہے۔ (مراٰۃ المناجیح ، 6 / 85)

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن