جواب : جی ہاں! جنات اللہ پاک کی عبادت بھی کرتے ہیں۔ چنانچہ قرآن پاک میں ہے: ہم نے جنوں اور انسانوں کو اپنى عبادت کے لىے پىدا کىا۔(پ27، الذٰریٰت:56۔نزہۃ القاری، 4/351) جنات میں نا صرف مسلمان ہوتے ہیں بلکہ جنات میں صحابہ بھی ہوئے ہیں۔ مکۂ مکرمہ میں” جَنّتُ المَعْلٰي “کی طرف ” مسجدِ جن “ کے نام سے ایک مسجد بھی ہے، جہاں جنات نے سرکار صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی مبارک زبان سے قرآنِ کریم سنا تو وہ ایمان لے آئے تھے۔(ملفوظات امیراہل سنّت ،8/346)
سوال : جنات سے حفاظت کا روحانى علاج ارشاد فرمادىجئے۔
جواب : سوتے وقت پابندى کے ساتھ حِصار کرلىا کرىں کہ پىارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم بھى حِصار فرماتے تھے۔ اس کا طرىقہ یہ ہے کہ دعا کى طرح ہاتھ پھىلا لىں پھر بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ کے ساتھ سورۂ اخلاص ، سورۂ فلق اور سورۂ ناس شرىف پڑھ کر اپنى ہتھىلىوں پر دم کرىں اور سارے اگلے حصے پر ہاتھ پھىرىں، پھر دائىں بائیں، جہاں جہاں ہاتھ پہنچتا ہے وہاں ہاتھ پھیریں۔(ملفوظات اعلیٰ حضرت، ص338ملخصا) اس طرح کرىں گے تو ىہ حِصار ہوجائے گا ، پھر جن جادو وغىرہ کوئى بھی چىز اِن شاءَ اللہ اثر انداز نہىں ہو گى۔ مگر ىہ عمل مستقل یعنی بِلا ناغہ روزانہ کریں، تلفظ کی ادائیگی اور مخارج بھی درست ہونے چاہئیں۔نماز میں بھی جتنا پڑھنا فرض ،ہے اتنا سیکھنا فرض ، جتنا پڑھنا واجب ہے، اتنا سیکھنا واجب،نیز نماز میں ہم جو سورت یا آیتیں پڑھیں، ان کا زبانى ىاد ہونا بھى ضروری ہے۔ (ملفوظات امیراہل سنّت ،8/90)
(مزید ایک مقام پر فرمایا : ) ىہ حِصار سنّت سےثابت ہے یعنی خود سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم یہ عمل فرماتے تھے۔( بخاری، 3/ 407، حدیث: 5017۔معجم کبیر، 7/152، حدیث:6666) ىہ عمل سنّتِ مبارکہ کى نىت سے کیجئے اِن شاءَ اللہ نہ کوئی جن ستائے گا اور نہ ہی کوئی جادو اثر کرے گا۔ (ملفوظاتِ امیراہل سنّت ،8/80)
سوال: اگر کوئى مکان کئی مہىنوں تک خالى پڑا رہے تو کىا اس پر جنات قبضہ کرلیتے ہیں؟
جواب:اللہ پاک بہتر جانے، وىسے ىہ ایک محاورہ ہے: ” خانۂ خالى رَا دىو مِى ْگِىْرَدْ “ یعنی جو خالى گھر ہوتا ہے، اس مىں بھوت بسىرا کرلىتا ہے۔ لیکن یہ صرف محاورہ ہے، کوئی شرعی دلیل نہیں ہے۔ جنات وىسے بھى گھروں کی چھت پر ہوتے ہىں ۔ (لقط المرجان فی احکام الجان ،ص44۔ نزہۃ القاری، 4 /351 ماخوذا ) یہ نظر نہیں آتے ۔نیز ان کو خالی گھر پر قبضہ کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہوتی، ان میں سے ہر جن تنگ نہیں کرتا بلکہ کوئی شریرجن ہو تو وہ ستاتا ہے۔
اللہ پاک ان شرىرجنات سے محفوظ فرمائے، یہ شریر جنات کسی جگہ حاوى ہوجائیں تو بہت پرىشان کرتے ہىں ، کىونکہ یہ نظر ہى نہىں آتے، آدمى ان سے کس طرح پیچھا چُھڑائے، اىسے جنات بھى جہنم کے حق دار ہىں۔ نیز جو جنات کافر ہوں گے ،وہ ہمىشہ جہنم مىں رہىں گے اور گناہ گار مسلمان جنات ہمیشہ جہنم میں نہیں رہیں گے بلکہ اپنے گناہوں کی سزا بھُگتنے کے لیے جہنم میں ڈالے جائیں گے۔(نزہۃ القاری، 4/351 ماخوذا) (ملفوظاتِ امیراہل سنّت ،8/333)
سوال: حدیثِ پاک کا خُلاصہ ہے کہ بِغىر ” بِسْمِ اللہْ “پڑھے کھانا کھانے سے شىطان اس کھانے میں شرىک ہوجاتا ہے جبکہ علمائے کرام نے لکھا ہے کہ جنات کی خوراک ہڈى اور گوبر ہوتى ہے تو شىطان جب جن ہے تو پھر یہ ہمارے کھانے مىں کس طرح شرىک ہوجاتا ہے؟
جواب : یہ کہاں لکھا ہے کہ شیطان ہمارا کھانا نہىں کھاسکتا؟ حدىثِ پاک مىں ہے کہ شیطان کھانے میں شرىک ہوجاتا ہے، جیساکہ اىک بار ایسا ہوا بھی کہ کوئی شخص کھانا کھا رہا تھا اور اس نے ” بِسْمِ اللہْ“نہىں پڑھى تھی اور کھانے کے دوران اس کو ”بِسْمِ اللہْ “ یاد آئی تو اس نے کہا ”بِسْمِ اللہِ اَوَّلَهٗ وَاٰخِرَہٗ“ ،سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم یہ دیکھ کر مسکرائے اور فرماىا کہ شىطان نے جو کھاىا تھا اس کی اُلٹى کردى ! (ابوداود، 3 /488، حدیث: 3728 ملتقطا) اس کا مطلب یہ ہے کہ شىطان ہمارا کھانا کھاسکتا ہے۔ (ملفوظاتِ امیراہل سنّت ،8/86)
سوال: مدینے کے پاس جو وادیٔ جِن ہے اس کی کیا حقیقت ہے؟
جواب:(امیرِ اہلِ سُنَّت دامت بَرَکاتُہمُ العالیہ کے قریب بیٹھے ہوئے مفتی صاحب نے فرمایا:) وادیٔ جِن چونکہ مدینۂ منورہ کے قُرْب میں ہے اِس وجہ سے وہ مُقَدَّس مقام ہےلیکن اِس وادی میں ڈھال کے باوجود چیزوں کا خود بخود اوپر کی طرف جانا یا مدینے کی طرف بڑھنا کسی سائنسی وجہ سے ہے۔ دُنیا میں ایسے اور بھی مقامات ہیں جن میں کَشِشْ کی وجہ سے ڈھال کے باوجود چیزیں اوپر کی طرف بڑھتی ہیں۔ اِس بستی کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ یہاں جنات ہیں جو چیزوں کو مدینے کی طرف دھکیلتے ہیں لیکن اِس کی کوئی حقیقت نہ کہیں پڑھی ہے اور نہ ہی کسی معتبر ذَریعے سے سُنی ہے۔
(امیرِ اہلِ سُنَّت دامت بَرَکاتُہمُ العالیہ نے فرمایا:) Magnet یعنی مقناطیس قُطْب تارے کی طرف جاتا ہے، اس کے بارے میں اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہِ علیہ نے ”فتاویٰ رضویہ شریف “میں لکھا ہے کہ آج تک سائنس اس راز کو دَریافت نہیں کرسکی کہ اس کی حقیقت کیا ہے اور مقناطیس قطب تارے کی طرف کیوں جاتا ہے؟ (فتاویٰ رضویہ ،29/296)اب کیا یہ کہہ دیا جائے کہ قطب تارے پر بھی کوئی بہت بڑا جن بیٹھا ہوگا جو مقناطیس کو کھینچ لیتا ہو گا! بہرحال اِس طرح کی چیزیں جو سمجھ نہیں آتیں یا عقل سے وَرَا ہوتی ہیں، لوگ ان کو جنات کی طرف منسوب کر دیتے ہیں کہ وہ ایسا کر رہے ہیں۔ جنات کے وجود کا اِنکار نہیں ہے، یہ واقعی موجود ہیں حتّی کہ مکۂ مکرمہ میں مسجدِجن بھی ہے، کیونکہ اس جگہ پر سرکار صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے مُبارَک ہاتھ پر کچھ جنات اِیمان لائے تھے،اسی کی یادگار کے طور پر مسجدِ جن ابھی تک قائم ہے جو ”جنَّتُ المَعْلیٰ“ کے قریب میں واقع ہے۔ (اخبار مکۃ للازرقی،2/201۔ عاشقان رسول کی 130 حکایات، ص 229)بہرحال جنات کا وجود یقینی ہے لیکن اِس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ جو بھی خلافِ عقل کام ہوگا وہ جنات ہی کررہے ہوں گے بلکہ اس کی اور وجوہات بھی ہوسکتی ہیں۔(ملفوظاتِ امیراہل سنّت ،4/101)
سوال: لوگ کہتے ہیں کہ ”جنات سے جو دُعا کروائی جائے قُبول ہوتی ہے“ کیا یہ دُرُست ہے؟
جواب: اگر کسی نیک جن سے رابطہ ہے تو اُسے دُعا کا کہنے میں حَرَ ج نہیں ہے، جنات کی دُعا بھی قُبول ہوتی ہے۔ جنات سے دُعا کروانا تو دُور کی بات ہے، بہت سے نیک اِنسان نظر آتے ہیں، اُنہی سے دُعا کروالیجئے۔ دُعا تو گُناہ گار شخص کی بھی قُبول ہوتی ہے۔ حکیمُ الاُمّت مُفتی اَحمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہِ علیہ نے لکھا ہے کہ ” مظلوم کافر اور مظلوم جانور کی بد دُعا بھی قُبول ہوتی ہے۔“ (مراٰ ۃ المناجیح، 3/300)اِسی طرح جانور کی دُعا بھی قُبول ہوتی ہے۔
(ملفوظاتِ امیراہل سنّت ،4/302)
سوال: بَلا سے کیا مُراد ہے،کیا جنات بھی بَلا میں داخل ہیں ؟
جواب:ہر آفت ومصیبت اور پریشانی کو بَلا کہہ سکتے ہیں۔ جو جنات تنگ کریں،مال چُرا لیں یا ستائیں تو انہیں بھی بَلا کہنا دُرُست ہے اگرچہ وہ مسلمان ہوں یا کافر البتہ جو نیک مسلمان جنات بالکل بھی نہیں ستاتے تو انہیں بَلا نہیں کہہ سکتے۔ عاملوں کی اِصطلاح میں ناپاک جن اُسے بولتے ہىں جو کافر ہو اور پاک جن اسے کہتے ہىں جو مسلمان ہو اگرچہ وہ ستاتا اور لوٹ مار کرتا ہو لیکن مسلمان ہونے کے سبب اسے پاک جِن ہی بولتے ہیں۔اِنسانوں میں بھی ڈکیتی چوری یا دِیگر گناہ کرنے والے مسلمان عقیدے کے لحاظ سے پاک ہی کہلائیں گے اگرچہ اَعمال کے اِعتبار سے پاک نہ ہوں ۔ (ملفوظاتِ امیراہل سنّت ،6/16)
سُوال:کہا جاتا ہے کہ سفید مُرغ گھر میں رکھنا چاہیے اِس سے بَلائیں ٹلتی ہیں،لیکن اگر وہ مُرغ کاٹتا ہو تو کیا کریں؟
جواب:ضَروری نہیں کہ بَلائیں صِرف سفید مُرغ سے ہی ٹلیں،اگر وہ کاٹتا ہے تو چُھری اسے کاٹ دے گی۔البتہ حدیثِ پاک میں سفید مُرغ گھر میں رکھنے کی تَرغیب اِس طرح ہےکہ جِن اور بَلائیں وغیرہ اِس سے بھاگتے ہیں۔ (معجمِ اوسط،1/201،حديث:677) ایسے مَضامین اَحادیثِ مُبارَکہ میں موجود ہیں۔ فیضانِ سنّت جلد اول کے باب ”آدابِ طعام“ میں سفید مُرغ کے بارے میں رِوایات ذِکر کی گئی ہیں ۔( ) (ملفوظاتِ امیراہل سنّت ،1/456)
سوال :جب بچّے بات نہیں مانتے تو عام طور پر اُنہیں جنات سے ڈرایا جاتا ہے ، مثلاً کسی کمرے میں کوئی سائیکل یا کھلونا رکھا ہے اور بچّہ بار بار وہاں جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ وہاں نہیں جانا، جنّ آجائے گا۔ اِس طرح بچّوں کو ڈرانا کیسا؟
جواب:اگر اِس طرح ڈراتے ہیں تو یہ بہت بُری بات ہے، جھوٹ، دھوکا اور بہت ساری خرابیوں کا مجموعہ بھی ہے۔ اِس سے بچّے کے دل میں جنات کا خوف بیٹھ جائے گا اور بچّے کا Character (کِردار) تباہ ہوگا۔ بچّوں کو ہرگز اِس طرح نہ ڈرائیں، بلکہ اُن کا دل بڑا رکھیں اور انہیں بہادُر بنائیں۔(ملفوظاتِ امیرِ اہلِ سنت، 3/417)
سُوال:مىرے کزن کا موبائل گُم ہوگىا تھا، اِستخارہ کرواىا تو جواب آىا کہ ىہ جنات کی شرارت ہے، یہ اِرشاد فرمائیے کہ کیا جنات بھى اىسى شرارتیں کرسکتے ہىں؟
جواب:ایسا ہونا ممکن تو ہے ، لىکن ضرورى نہىں کہ ہم ہر بار چوری کا الزام جنات پر لگادیں۔ دو ٹانگ والے جنات( یعنی چور، ڈکیت ) بھی تو گھوم رہے ہوتے ہىں ىہ بھى کسی سے کم نہىں ہوتے۔یادرکھیے! اِستخارہ 100 فیصد یقینی نہىں ہوتا بلکہ ظَنّى ہوتا ہے،لہٰذا موبائل کی چوری کو جنات کی شرارت سمجھ کر ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہ بىٹھیے بلکہ موبائل تلاش کیجیےکیونکہ بعض اوقات بندہ اِدھر اُدھر رکھ کر بھی بھول جاتا ہے۔
(ملفوظاتِ امیرِ اہلِ سنت، 6/274)
… دو فرامین مصطَفٰے صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم : (1)سفید مرغ رکھا کرو، اس لئے کہ جس گھر میں سفید مرغ ہوگا تو شیطان اور جادو گر اُس گھر اور کے اِرد گِرد والے گھروں کے قریب نہ ہوں گے ۔ (معجم اوسط ، 1/201، حدیث: 677 )
(2) سفید مرغ کو برا بھلا مت کہو، اس لئے کہ یہ میرا دوست ہے اور میں اس کا دوست ہوں اور اس کا دشمن میرا دشمن ،ہے، جہاں تک اس کی آواز پہنچتی ہے یہ جِنّات کو دَفع کرتا ہے۔ ( لقط المرجان فی احکام الجان ص165)