دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Jinnaat Ko Bura Bhala Kehna Kaisa | جِِنّات کوبُرابھلا کہنا کیسا؟

book_icon
جِِنّات کوبُرابھلا کہنا کیسا؟

سُوال : کیا اسلامی بہنیں بھی “ روزہ رکھواؤ تحریک “ میں حصہ لے سکتی ہیں؟(اسلامی بہنوں کی طرف سے سُوال)

جواب : اسلامی بہنوں کو بھی “ روزہ رکھواؤ تحریک “ میں بھر پور حصہ لینا چاہیے ، جہاں تک شریعت نے اِجازت دی ہے وہاں تک اس تحریک میں بھرپور حصہ لیں روزے رکھوائیں ، اگر آپ کے محارم روزہ نہیں رکھتے تو ان کو بھی روزہ رکھوائیں۔

قبر پر دَرخت کا سایہ ہونا کیا مُردے کے نیک ہونے کی علامت ہے؟

سُوال : قبرستان میں کافی ہریالی ہوتی ہے اور دَرختوں کی وجہ سے کافی چھاؤں بھی ہوتی ہے تو کیا اس سے یہ حُسنِ ظن کیا جا سکتا ہے کہ یہاں کوئی اللہ پاک کا ولی مَدفون ہے جس کی بَرکتیں دِیگر دَفن ہونے والوں کو بھی مل رہی ہیں یا اس میں کوئی اور حکمت ہے؟ (مَدَنی اسلامی بھائی کا قبرستان کے مختلف مناظر دِکھا کر سُوال)

جواب : قبر پر دَرخت کی چھاؤں آتی ہواس کی کوئی فضیلت تو مجھے معلوم نہیں البتہ قبر پر تر گھاس رکھنا یا تر شاخ رکھنا سرکار صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  سے ثابت ہے۔ ([1])تو کسی قبر پر تر گھاس اُگ آئی یا اُگادی گئی تو یہ ایک اچھی چیز ہے۔ دَرخت عموماً ہریالی زمین پر اُگتے ہیں بنجر زمین پر نہیں اُگتے لہٰذا ان چیزوں کو ہی کسی نیک بندے کے موجود ہونے کی علامت قرار دینا دُرُست نہیں کیونکہ سرکار صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کے روضۂ انور پر تو کجا دور دور تک کوئی دَرخت نہیں ہے۔ لہٰذا  یہ کہنا کہ اس جگہ ہریالی بہت ہے یقیناً کوئی نیک بندہ مدفون ہو گا اپنا گمان ہی ہے۔ ہاں! جو بھی مسلمان کی قبر ہو اس کے بارے میں اچھا گمان ہی کرنا چاہیے ، صِرف دَرختوں کا اُگنا ہی اچھائی کی علامت ہے یہ کہیں پڑھا یا عُلَماسے سنا نہیں ہے۔

       اس طرح تو جَنَّتُ الْبَقِیْع میں بھی ظاہری ہریالی نہیں ہے حالانکہ وہاں دس ہزار(10000) صحابۂ کِرام رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُم آرام فرما ہیں اور صحابیٔ رَسُول کا مقام و مرتبہ اتنا بلند ہوتا ہے کہ بڑے سے بڑا ولی بھی اس تک نہیں پہنچ سکتا۔ ہمارے غوثُ الاعظم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی بھی کتنی بلند شان ہے لیکن  صحابیٔ رَسُول آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ سےبھی افضل دَرجے پر ہیں۔ نیز  جَنَّتُ الْمَعْلٰی میں ہریالی نظر نہیں آتی۔ افریقہ ، سی لنکا اور پنجاب میں ہریالی بہت ہے بابُ الاسلام میں ہریالی کم ہے۔

سحری میں کون سی غِذا اِستعمال کی جائے کہ بھوک پیاس کم لگے؟

سُوال : جس کو  روزے میں پیاس اور بھوک زیادہ لگتی ہو و ہ سحری میں کون سا سالن اِستعمال کرے کہ جس سے اسے  بھوک اور پیاس کم لگے؟ (جَامِعَۃُ الْمَدِیْنَہ فیضانِ مہر علی اسلام آباد کے ایک طالب علم کا سُوال)

جواب : ہمارے یہاں سحری میں قورمہ روٹی ، پھینیاں ، کھجلے اور نہ جانے کیا کیا ثقیل اور وزن دار غِذائیں کھائی جاتی ہیں سحری کے Item میں تلا ہوا انڈہ اس کے ساتھ پراٹھا لازمی ہے پھر ٹھنڈی ٹھنڈی بوتلیں پینا بھی ضَروری ہے چاہے وہ انسولین کے انجکشن لےرہے ہوں ، جب یہ چیزیں کھائی جائیں گی تو ظاہر ہے پیاس تو لگے گی بلکہ پیٹ بھی اِحتجاج کرسکتا ہے ، اس کے باوجود سحری تگڑی ہی کریں گے۔ مَکْتَبَۃُ الْمَدِیْنَہ کے رِسالے “ گرمی سے حفاظت کے مَدَنی پھول “ صفحہ نمبر 8 پر ہے : سحری میں دَرمیانی سائز کی تن دوری روٹی آدھی ( اگر گھریلو چھوٹی چپاتی ہو تو حَسبِ ضَرورت ایک یا دو عدد) اور دہی کے اندر کم مقدار میں چینی اور بہتر ہے کہ براؤن شوگر شامل کر کے اِستعمال کر لیجئے ، اگرموافق ہو تو بے شک آدھ کلو دہی کھالیجئے۔ اِفطار میں کم از کم تین کھجوریں اور کچھ پھل ، مغرب و عشا کے دَرمیان سادہ سالن کے ساتھ روٹی (سحری والی مقدار میں ) کھایئے۔ اِنْ شَآءَ اللّٰہ سارا ماہِ رَمَضَانُ الْمُبَارَک صحت مند رہیں گے اور نمازِ تَراویح ، تلاوت و عبادت میں دِل لگے گا۔

رَمَضان کی مُبارَکباد کب دینی چاہیے؟

سُوال : رَمَضَانُ الْمُبَارَک کی مُبارکباد چاند نظر آنے سے پہلے دینی چاہیے یا بعد میں؟ نیز یہ مُبارکباد دینے اور اس پر خوش ہونے کی فضیلت کیا ہے؟

جواب : ایڈوانس میں مُبارکباد  دینا بھی جائز ہے اس کی کوئی ممانعت نہیں ہے ، چاند نظر آنے کے بعد بھی  مُبارک باد دے سکتے ہیں۔ حدیث شریف میں ہےکہ سرکار صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : تمہارے پاس مُبارَک یعنی بَرکت والا مہینا تشریف لایا۔ ([2]) اِس حدیثِ پاک سے مشہور مُفَسّر ، حَکِیْمُ الْاُمَّت حضرتِ مفتی احمد یار خان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے اِستدلال کیا ہے کہ رَمَضَانُ الْمُبَارَک کی آمد پر خوش ہونا اور ایک دوسرے کو مُبارکباد دینا سنَّت  ہے اور جس کی آمد پر خوش ہوا جائے اس کے جانے پر غم بھی ہونا چاہیے۔ دیکھو نکاح ختم ہونے پر عورت کو شرعاً غم لازم ہے اسی لیے اکثر مسلمان جمعۃ الوداع کو مغموم اور چشم پُر نم ہوتے ہیں یعنی غمگین اور رو  رہے ہوتے ہیں اور خطبا یعنی خطیب صاحبان اس دِن دُعائیہ کلمات کہتے ہیں یعنی الوداع ماہِ رَمَضان سے متعلق کچھ جملے کہتے ہیں تاکہ مسلمان بقیہ گھڑیوں کو غنیمت جان کر نیکیوں میں زیادہ کوشش کریں۔ ([3])  



[1]     بخاری ، کتاب الجنائز  ، باب الجرید علی القبر ، ۱ / ۴۵۹ ،  حدیث : ۱۳۶۱ 

[2]    نسائی ، کتاب  الصیام ، ذکر الاختلاف علی معمر فیه ، ص۳۵۵ ، حدیث : ۲۱۰۳  دار الکتب العلمیة بیروت

[3]    مراٰۃ المناجیح ، ۳ / ۱۳۷

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن