30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بند ہو گی جو بدبو نہیں آ رہی ورنہ اس کی بدبو اتنی آسانی سےنہیں جاتی ، اس کو نکالنے میں تھوڑی مشقت اُٹھانا پڑتی ہے۔
میمنوں اور گجراتیوں کے یہاں سردیوں کے موسم میں ایک ڈِش بنتی ہے جس کا نام ہی لہسن ہوتا ہے یہ باجرے کی روٹی کے ساتھ کھائی جاتی ہے یہ منہ کی بدبو کے حوالےسے بہت خطرناک ہے کیونکہ اس میں کچا لہسن شامل کرنا ضَروری ہوتا ہے ، یہ کھا کر مسجد میں جائیں گے تو منہ سے بہت بدبو آئےگی۔ یوں ہی ہمارے یہاں سردیوں میں گاجر کا اَچار بنایا جاتا ہے اس میں بھی کچا لہسن پیس کر ڈالا جاتا ہے۔ میں ان چیزوں کا کھانا ناجائز نہیں کہہ رہا اور نہ ہی منہ میں ان کی بدبو ہوتے ہوئے نماز پڑھنا ناجائز ہے البتہ اِس حالت میں نماز پڑھنا مکروہ ہے۔ ([1]) کیونکہ فرشتے نمازی کے منہ پر اپنا منہ لگاتے ہیں اور اس کی تلاوت سنتے ہیں ([2]) اگر کھانے وغیرہ کا کوئی جز مُنہ میں ہو گا تو فرشتوں کو اِیذا ہو گی۔
سُوال : اِفطاری پانی سے کی جائے یا کھجور سے؟([3])
جواب : بہتر یہ ہے کہ اِفطار کے وقت بندہ صِرف پانی پی لے ورنہ تو رَمَضَانُ الْمُبارَککی مغرب کی نماز میں اکثر کے منہ غِذائی ذَرَّات سے بھرے ہوتے ہوں گے۔ یہ بات تو سب کو معلوم ہوتی ہے کہ کھجور سے اِفطار کرنا سُنَّت ہے ([4] ) مگر یہ بھی پتا ہونا چاہیے کہ کھجور یا اس کی مٹھا س منہ میں رکھ کر نماز پڑھنا سنَّت نہیں ہے۔ نماز پڑھتے وقت کھجور کا اثر یا غذا کا کوئی ذَرّہ منہ میں نہیں ہونا چاہیے کہ اعلیٰ حضرت مولانا شاہ امام احمد رضا خانرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے فتاویٰ رضویہ جلد 1صفحہ 839 پر حدیث شریف نقل کی ہے : نمازی کے منہ میں کھانے وغیرہ کا کوئی ذَرّہ ہو تو فرشتوں کو اس سے اتنی اِیذا ہوتی ہے کہ کسی دوسری چیز سے اتنی اِیذ انہیں ہوتی۔ ([5])عالمی مَدَنی مَرکز فیضانِ مدینہ میں پانی اور کیلے اِفطاری کے لیے دیئے جاتے ہیں مگر کیلے کے ذَرّات بھی مُنہ میں پھنس جاتے ہوں گے اِسی وجہ سے میں اس وقت کیلا بھی نہیں کھاتا تاکہ کوئی ذَرّہ منہ میں نہ رہ جائے ۔ روزہ کھولنے کے لیے سب سے بہترین چیز پانی ہے کیونکہ پانی مُنہ میں پھنستا نہیں ہے ۔
منہ میں نمک یا چینی کا ذائقہ ہو تو نماز کا شرعی حکم
سُوال : بعض حفاظِ کِرام اپنے گلے کو صاف رکھنے کے لیے نمک یا چینی چاٹتے ہیں تو اگر منہ میں نمک یا چینی کا ذائقہ ہو تو کیا نماز پر کوئی اثر پڑے گا؟
جواب : بہارِ شریعت جلد 1 صفحہ 611 پر ہے : نماز سے پىشتر ىعنى پہلے کوئى چىز مىٹھى کھائى تھى ، اس کے اَجزا نگل لىے تھے صرف لعاب ِ دہن مىں کچھ مٹھاس کا اثر رہ گىا ، اس کے نگلنے سے نماز فاسِد نہ ہوگى ، منہ مىں شکر وغىرہ ہو کہ گھل کر حلق مىں پہنچتى ہے ، نماز فاسِد ہو گئى۔ گوند منہ میں ہے اگر چبایا اور بعض اَجزا حلق سے اُتر گئے ، نماز جاتی رہی۔ ([6]) یعنی کھجور کھائی تھی اور اچھی طرح نگل لی اب اس کے ذَرات منہ میں نہیں ہیں صرف مٹھاس باقی ہے یہ اگر دَورانِ نماز حلق میں جاتی ہے تو اس سے نماز نہیں ٹوٹے گی۔ یہ نماز کا مسئلہ بیان کیا گیا ہے روزے میں ایسا نہیں ہوسکتا کیونکہ روزےمیں کوئی بھی کھجور اپنے منہ میں نہیں ڈالتا۔
روزے کی حالت میں انجکشن لگوانے کا شرعی حکم
سُوال : روزے کی حالت میں انجکشن لگانے سے متعلق آپ کیافرماتے ہیں؟
جواب : روزےمیں انجکشن لگوانا جائز ہے ، گوشت میں بھی لگوا سکتے ہیں اور نس میں بھی۔ ([7])
کیا آنکھ میں Drops ڈالنے سے روزہ ٹوٹ جائے گا؟
سُوال : روزے کی حالت میں آنکھوں میں Drops ڈالنے کاکیا حکم ہے ، کیا اس میں عُلَما کا اِختلاف بھی ہے؟
جواب : جدید تحقیق یہ ہے کہ آنکھ میں منفذ یعنی سوراخ ہے جو حلق تک جاتا ہے لہٰذا آنکھ میں Drops ڈالنے سے روزہ ٹوٹ جائےگا۔ پہلے تحقیق یہ تھی کہ آنکھ میں منفذ یعنی سوراخ نہیں ہے اوراب تحقیق یہ ہے کہ آنکھ میں منفذ ہے۔ بہرحال اب تحقیق یہی ہے کہ روزہ ٹوٹ جائےگا۔
کیا کان میں Drops ڈالنے سے روزہ ٹوٹ جائے گا؟
سُوال : روزے کی حالت میں کان میں Drops ڈالنے کا کیا حکم ہے؟
جواب : جدید تحقیق یہی ہے کہ کان میں سوراخ نہیں ہے لہٰذا Drops ڈالنے سے روزہ نہیں ٹوٹے گا۔
روزے کی نورانیت ختم کرنے والے اَعمال
سُوال : کیا غیبت ، جھوٹ اور چغلی سے روزے پر کوئی اَثر پڑتا ہے ؟
جواب : اِن اَفعال کے اِرتکاب سے روزے کی نورانیت چلی جاتی ہے۔ یہ اَفعال از خود حرام اور جہنم میں لے جانے والے کام ہیں ، روزے کے علاوہ بھی ان سے بچا جائے اور روزے کی حالت میں یہ خطرناک حَد تک بُرے ہیں۔
[1] فتاویٰ رضویہ ، ۷ / ۳۸۴
[2] کنز العمال ، کتاب الاذکار ، باب فی القرآن ، فصل فی فضائل القرآن مطلقا ، الجزء : ۲ ، ۱ / ۱۲۴ ، حدیث : ۴۰۱۶ دار الکتب العلمیة بیروت
[3] یہ سُوال شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیر اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ ہی ہے ۔ (شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ)
[4] مراٰۃ المناجیح ، ۳ / ۱۵۵ ماخوذاً ضیاء القرآن پبلی کیشنز مرکز الاولیا لاہور
[5] شعب الایمان ، باب فی تعظیم القراٰن ، فصل فی السواک لقراة القراٰن ، ۲ / ۳۸۱ ، حدیث : ۲۱۱۷ دار الكتب العلمية بيروت
[6] بہارِ شریعت ، ۱ / ۶۱۱ ، حصہ : ۳
[7] فتاویٰ فیض الرسول ، ۱ / ۵۱۶ ماخوذاً شبیر برادرز مرکز الاولیا لاہور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع