دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Jinnaat Ko Bura Bhala Kehna Kaisa | جِِنّات کوبُرابھلا کہنا کیسا؟

book_icon
جِِنّات کوبُرابھلا کہنا کیسا؟

اَذان کا سحری سے کوئی تعلق نہیں

سُوال : کىا جب تک  سارى مَساجد سے اذانوں کی  آواز آنا  بند نہ ہو جائے تب تک سحرى کر سکتے ہیں ؟

جواب : اذان  کا سحری  سےکوئی تعلق نہىں ہے۔  جىسے ہى صبحِ صادق ہوتی ہے  سحرى کا وقت ختم ہو جاتا ہے اور روزہ شروع ہو جاتا ہے۔ اس میں اىک سىکنڈ کى بھى گنجائش نہىں ہوتی ۔  

 “ تم نماز تو پڑھتے نہیں روزہ کیوں رکھتے ہو “ کہنا کیسا ؟

سُوال : نماز نہ پڑھنے والوں کو یہ کہنا کیسا ہے کہ تم  نماز تو  پڑھتےنہیں روزہ کیوں رکھتے ہو؟

جواب : اىسا نہىں کہنا چاہىے۔ کیا جوا کھیلنے والے سے یہ  بولا جائے گا  کہ  تم چوری بھی کرو ، ڈاکا بھی ڈالو اور  شراب بھی پیو۔  جو ایک گناہ کر رہا ہے اور دوسروں گناہوں سے بچ رہا ہے تو اس میں کسی  حَد تک عافیت ہے ۔ یاد رَکھیے!جو نماز نہىں پڑھتا اور روزہ رکھتا ہے اس کو روزہ رکھنے سے روکنا گناہ ہے۔ بھلائی سے روکنا تو وَلىد بِن مغىرہ کا کام تھا جس کے بارے میں قرآنِ کرىم میں فرمایا گیا : (مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ) (پ۲۹،القلم:۱۲) ترجمۂ کنزالایمان :بھلائی سے بڑا روکنے والا۔ “ آج کل نادان لوگ یہ کہتے دِکھائی دیتے  ہیں کہ نماز تو پڑھتا نہىں روزہ رکھنے کا  کىا فائدہ؟ نماز تو پڑھتا نہیں نىاز کرنے سے کىا فائدہ ؟نماز تو پڑھتا نہیں  نعت شرىف پڑھنے سے کىا فائدہ؟تو اىسا نہىں بولنا چاہىے۔ بے شک نىا زبھى کرنى چاہىے ، نعت شرىف پڑھنى اور سننی چاہىے اور روزہ بھی رکھنا چاہیے مگران کے ساتھ ساتھ  نماز بھى نہىں چھوڑنى چاہىے ۔

ٹائم پاس کرنے کے لیے فلمیں ڈرامے   دیکھنا اور گیمیں کھیلنا کیسا ؟

سُوال : بعض لوگ  روزے مىں ٹائم پاس کرنے کے لىے فلمىں ڈرامے   دىکھتے اور اُلٹى سىدھى گىمیں  کھىلتے ہىں تو آپ اِس حوالے سے کیا اِرشاد فرماتے ہیں ؟

جواب : ظاہر ہے فلمىں ڈرامے دیکھنا ویسے بھی  گناہ کا کام ہے اور مَعَاذَ اللّٰہ روزوں مىں اىسا کرنا اس کى تباہ کارى کو اور زیادہ  بڑھائے گا۔ فلمیں ڈرامے دیکھنے سے ٹائم پاس  نہیں ہوتا بلکہاللہ پاک کے ذِکر سے ٹائم پاس ہوتا ہے ۔ فلمیں ڈرامے دیکھنے  کے بجائے بندہ سو کر  ٹائم پاس کر لے  اگر چہ ىہ بھى مطلوب نہىں ہے لىکن بُرائى میں وقت گزارنے کے مُقابلے میں نیند میں گزارنا بہتر ہے کہ اس صورت میں بندہ  مَرْفُوْعُ الْقَلَم رہے گا یعنی قلم اُٹھا رہے گا اور اس کے گناہ نہىں لکھے جائىں گے۔

نیا چاند دیکھنے کی دُعا

سُوال : نیا چاند دیکھنے کی دُعا بتا دیجیے۔ (Youtube کے ذَریعے سُوال)

جواب : پیارے آقاصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم جب ہلال دیکھتے تو یہ دُعا پڑھتے : اَللّٰھُمَّ اَھِلَّہٗ عَلَیْنَا بِالْاَمْنِ وَالْاِیْمَانِ ،  وَالسَّلَامَۃ   ِ وَالْاِسْلَامِ ،  رَبِّیْ  وَرَبُّکَ اللہُ۔ ([1])نیا چاند دیکھنا بھی چاہیے کہ رَمَضَانُ الْمُبارَک کا چاند تلاش کرنا واجبِ کفایہ ہے ([2])یعنی اگر کچھ لوگوں نے تلاش کر لیا تو سب کا واجب ادا ہو گیا اور اگر کسی نے بھی تلاش نہ کیا تو سب ترکِ واجب کے مُرتکب ہونے کے سبب  گناہ گار ہوئے ۔ قمرى مہىنے( ىعنى چاند کے مہىنے) کى پہلى دوسرى اور تیسری رات کے چاند کو  ہلال کہتے ہىں ، اس کے بعد کی راتوں کے چاند کو قمر کہتے  ہىں۔ ىہ دُعا پہلى ، دوسرى اور تىسرى رات تک  پڑھ سکتے ہیں۔ قمری مہینے کی پہلی تین راتوں میں جب بھی چاند دیکھ کر دُعا پڑھیں گے اِنْ شَآءَ اللّٰہ چاند دیکھ کر دُعا پڑھنے کا ثواب مل جائے گا۔ یاد رہے!نیا چاند دیکھ کر جو دُعا پڑھی جاتی ہے اسے پڑھنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ چاند دىکھ کر چاند کو پىٹھ کر کے پڑھی جائے نہ کہ  چاند کى طرف مُنہ کر کے۔ ىہ طریقہ  اعلىٰ حضرت امام احمد رضا خانرَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ نے فتاوىٰ رضوىہ شریف میں نقل فرمایا ہے ۔ ([3])ہو سکتا ہےکہ یہ  ایک  نئى چىز ہو  کیونکہ عام طور پر چاند کى طرف دىکھ کر ہی دُعا  پڑھنے کا رُجحان ہوتا ہے۔

چار رَکعتوں کے بعد کتنى دیر بیٹھنا چاہیے؟

سُوال : تَراوىح کی  چار رَکعتوں کے بعد کتنى دىر بىٹھنا چاہىے؟

جواب : جتنى دىر مىں چار رَکعتىں پڑھىں اتنى ہى دىر بىٹھنا چاہیے اور یہ بیٹھنا تَرْوِیْحَہ کہلاتا ہےمگر  میں نے یہ کہىں بھى رائج دىکھا نہىں ہے۔ جو امام اىسا کرنے پر تل جائے اس کا مصلا چلا جائے گا  بلکہ آج کل تو صورتِ حال یہ ہے کہ  اگر  امام بے چارہ جلدى جلدی تَراویح  پڑھائے گا تو ہى لوگ اس کے پیچھے تَراویح پڑھىں گے اور اگر تجوىد کے ساتھ اور  ٹھہر ٹھہر کر ترتىل کے ساتھ تَراویح  پڑھائے گا تو بے چارے کا مصلا بچنا  مشکل ہے ۔ اگر “ اَلَمْ تَرَ “ سے  شروع کر دیا جائے تو عوام کی  دھمال ہو جائے گى ۔ آج کل  لوگوں کاتیز تیز  قرآنِ پاک سننے کا  رُجحان ہے لہٰذا اگر کوئی ایسا حافظ تَراویح پڑھانے کے لیے لایا جائے کہ جو بالکل ناک کى سىدھ مىں جا رہا ہو اور کىا پڑھ رہا ہے کچھ پلے نہ پڑے بس  یَعْلَمُوْنَ تَعْلَمُوْنَ پڑھتا جائے تو عوام کی  بھىڑ لگ جائے گی اور رَسمِ تَراوىح ادا ہو جائے  گى ، اللہ پاک ہم سب کو صحیح معنوں میں  تَراوىح پڑھنے کى سعادت بخشے۔  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم   

مِسواک کا ریشہ حلق میں چلا جائے تو کیا حکم ہے؟

سُوال : جب مِسواک کرتے ہیں تو اس سے ایک ذائقہ مُنہ میں پیدا ہوتا ہے اِس کے حوالے سے مَدَنی پھول عطا فرما دیجیے ، نیز بعض اوقات کچی مِسواک آجاتی ہے جس کے ریشے ٹوٹتے ہیں اگر اس کا کوئی ریشہ ٹوٹ کر حلق  میں چلا جائے تو روزے کا کیا حکم ہوگا؟ (نگرانِ شُوریٰ کا سُوال)

جواب : بہتر تو یہی ہے کہ ایسی مِسواک لی جائے جس کے ریشے نہ ٹوٹتے ہوں۔ روزہ یاد ہونے کی صورت میں مِسواک کا کوئی ریشہ حلق میں چلا گیا تو اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔ ([4])

 



[1]    مستدرک حاکم ، کتاب الأدب ، الدعاء عند رؤیة الهلال ، ۵ / ۴۰۵ ، حدیث : ۷۸۳۷  دار المعرفة بیروت-نیا چاند دیکھنےکی دُعا مَکْتَبَۃُ الْمَدِیْنَہ کے رسالے “ چڑیا اور اندھا سانپ “ کے بیک  ٹائٹل پر موجود ہے ۔

[2]    فتاویٰ رضویہ ، ۱۰ / ۴۴۹

[3]    فتاویٰ رضویہ ، ۱۰ / ۴۵۸تا۴۵۹

[4]    فتاویٰ اہلسنَّت(قسط9) صفحہ14پر ہے : روزہ کی حالت میں ہر قسم کی مسواک کر سکتے ہیں اس کے کرنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا بلکہ جس طرح عام دِنوں میں مسواک کرنا سنَّت ہے اِسی طرح روزہ کی حالت میں بھی سنَّت ہے۔ ہاں البتہ یہ بات یاد رہے کہ اگر روزہ دار ہونا یاد ہو اور چبانے سے ریشے ٹوٹے یا ذائقہ محسوس ہو تو چبانے سےبچنا چاہئے ۔ فتاویٰ عالمگیری میں ہے : روزہ کی حالت میں مسواک کرنے میں کوئی حرج نہیں خواہ مسواک خشک ہو یا تر اورخواہ صبح کی جائے یاشام کو۔ (فتاویٰ ھندیة ، کتاب الصوم ، الباب الثالث فیما یکرہ للصائم وما لا یکرہ ، ۱ / ۱۹۹)یونہی صَدْرُ الشَّرِیْعَہ مفتی محمد امجد علی اعظمی صاحبرَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِفرماتے ہیں : روزہ میں مسواک خشک ہو یا تر اگرچہ پانی سے تَر کی ہو زوال سے پہلے کرے یا بعد کسی وقت مکروہ نہیں ۔ اکثر لوگوں میں مشہور ہے کہ دوپہر بعد روزہ دار کیلئے مسواک کرنا مکروہ ہے یہ ہمارے مذہب کے خلاف ہے۔ (بہارِ شریعت ، ۱ / ۹۹۷ ، حصہ : ۵) سیدی اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنّت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ اِرشاد فرماتے ہیں : مسواک کرنا سنَّت ہے ہروقت کرسکتا ہے اگرچہ تیسرے پہر یاعصر کو ، چبانے سے لکڑی کے ریزے چھوٹیں یا مزہ محسوس ہو تو نہ چاہئے۔ (فتاویٰ رضویہ ، ۱۰ / ۵۱۱)

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن