30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رہنا ، صبح دن چڑھے تک سوئے رہنا، نمازیں قضا کر ڈالنا، فلمیں ڈرامے دیکھنا، کھیل کود میں اپنا قیمتی وقت برباد کرنا میرے روز مرہ کے معمولات کا حصہ تھا۔ دین سے دوری اور نماز میں سستی کایہ عالم تھا کہ کبھی کبھار تو جمعہ کی نماز بھی قضا کر دیا کرتا۔ فلمیں ڈرامے دیکھنے کے لئے گھر میں کیبل لگوا رکھی تھی ۔ رمضان المبارک کا مقدس مہینہ تشریف لایا تو اپنے گناہوں کا سلسلہ ترک کر کے دیگر مسلمانوں کی طرح میں بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت میں مصروف ہو گیا۔ گھر میں مدنی چینل بھی چلانا شروع کر دیا، یوں مدنی چینل کے مختلف سلسلے دیکھ کر علمِ دین سے مستفیض ہونے لگا۔ مدنی چینل کی برکت سے مجھ میں دن بدن مثبت تبدیلیاں رونما ہونے لگیں۔ اَ لْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ میں نے نمازِ پنج گانہ باجماعت ادا کرنا شروع کر دی، علاقے کے دیگر اسلامی بھائیوں کے ساتھ اپنے شہر میں ہونے والے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں بھی شرکت کی سعادت پانے لگا۔ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی برکت سے رفتہ رفتہ گناہوں سے دور اور دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول کے قریب ہوتا گیا۔ کچھ ہی عرصے میں اَ لْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ گناہوں بھری زندگی سے تائب ہو کر نیکیوں کی شاہراہ پر گامزن ہو گیا۔ امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ سے بیعت ہو کر سلسلہ عالیہ قادریہ عطاریہ میں شامل ہوا اور دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے مدنی ماحول کا ہو کر رہ گیا۔ اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کے جذبے کے تحت علاقے میں مدنی کاموں کی ترقی و عروج کے لئے کوششیں کرنے لگا۔ میرے مدنی کاموں کے جذبے کو دیکھتے ہوئے مجھے مختلف تنظیمی ذمہ داریاں سونپی گئیں اور اَ لْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ تادمِ تحریر علاقائی مشاورت کے ذمہ دار کی حیثیت سے دینِ متین کی خدمت کر رہا ہوں۔
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب! صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! گزشتہ مدنی بہار میں دیگر برائیوں کے ساتھ ساتھ نمازیں قضا کر ڈالنے کا بھی ذکر ہے یاد رکھئے! جان بوجھ کر ایک نماز بھی ترک کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے چنانچہ شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علاّمہ مولاناابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری رَضَوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنے رسالہ ’’کفن چوروں کے انکشافات‘‘ صفحہ 23 پرفتاویٰ رضویہ کے حوالے سے نقل فرماتے ہیں :
میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت، مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰن نماز ترک کرنے کے عذاب اور بے نمازی کی صحبت میں بیٹھنے کی ممانعت کرتے ہوئے فتاویٰ رضویہ جلد 9 صفحہ 158 تا 159 پر فرماتے ہیں : جس نے قصداً ایک وقت کی (نماز) چھوڑی ہزاروں برس جہنَّم میں رہنے کا مستحق ہوا، جب تک توبہ نہ کرے اور اس کی قضا نہ کر لے ، مسلمان اگر اُس کی زندگی میں اُسے (یعنی اس بے نمازی کو) یک لخت (بالکل) چھوڑ دیں اُس سے بات نہ کریں ، اُس کے پاس نہ بیٹھیں ، تو ضرور وہ (بے نمازی )اِس (بائیکاٹ) کا سزاوار (یعنی لائق) ہے۔ (بے نمازی چونکہ ظالم ہے اس لئے اس کی صحبت سے بچنے کی تاکید مزید کرتے ہوئے سیِّدی اعلیٰ حضرت نے قراٰنی آیت پیش کی ہے چُنانچِہ لکھتے ہیں کہ)اللہ تعالیٰ فرماتا
ہے :
وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ(۶۸)
ترجمہ کنزالایمان : اور جو کہیں تجھے شیطان بُھلاوے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔(پ ۷، الانعام : ۶۸)
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب! صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
(9)لَڑاکو کی توبہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع