30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سب اِنْ شَآء اللہ عَزَّوَجَلَّ آئندہ جمعرات اجتماع میں ضرور جائیں گے، اوّلاً دوستوں نے میرا مذاق اُڑایا مگر مجھے سنجیدہ دیکھ کر راضی ہو گئے۔ جمعرات کے دن جب میں اپنے دوستوں کے ساتھ اجتماع میں شرکت کے لئے پہنچا تو وہاں ایسا روح پرور منظر تھا کہ میں دیکھتا ہی رہ گیا۔ چاروں طرف سبز سبز عمامہ پہنے ہوئے اسلامی بھائی نظر آ رہے تھے میرے دل کو بہت سکون ملا۔ میں ایک جگہ بیٹھ کر توجہ سے بیان سننے لگا میرے دوست آپس میں ہنسی مذاق کرتے رہے۔ بیان کے بعد جب بلند آواز سے ذکر شروع ہوا تو پہلے میں چونکا کیونکہ یہ میرے لئے بالکل ہی نئی بات تھی مگر پھر میں بھی ذکر میں شامل ہو گیا۔ ذکر کے بعد دعا کے لئے اعلان کیا گیا میں نے بھی دعا کے لئے اپنے ہاتھ اٹھا دیئے ، مبلغِ دعوتِ اسلامی نے دعا سے پہلے یہ اشعارپڑھے
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے یہ عبرت کی جا ہے تماشہ نہیں ہے
ان اشعار نے میرے دل کی دنیا کو زیروزبر کر کے رکھ دیا دُعا شروع ہوئی تو میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور میں بے اختیار بلند آواز سے رونے لگا گناہوں سے تائب ہو کر پختہ ارادہ کر لیا کہ اب کچھ بھی ہو جائے میں اجتماع کا کبھی ناغہ نہیں کروں گا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ میں نے پابندی کے ساتھ اجتماع میں شرکت شروع کر دی۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ اس کی برکت سے آہستہ آہستہ مجھے تمام برائیوں سے چھٹکارا مل گیا اور میں دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہو گیا۔ تادمِ تحریراپنے علاقے میں مدنی انعامات کے ذمہ دار کی حیثیت سے مدنی کاموں کی دھومیں مچا رہا ہوں۔
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب! صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
{۱۰} بے جا لاڈ پیار کا نتیجہ
جھنگ (پنجاب، پاکستان) کے علاقے جلال آباد کی کچی آبادی میں رہنے والے اسلامی بھائی کے مکتوب کا لُبِّ لُباب ہے: میں معاشرے کا انتہائی بگڑا ہوا شخص تھا، آئے دن نہ صرف لوگوں سے لڑائیاں مول لیتا بلکہ گھر والوں سے بھی یہی رویہ تھا۔ انہی حرکتوں کی بنا پر جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھی جانا پڑا۔ بڑے بھائی کی سفارش سے جیل سے رِہا توہو گیا مگر پھر بھی مجھے عقل نہ آئی اور اپنے گندے کرتوتوں سے باز نہ آیا۔ جوانی کے نشے میں کچھ ایسا مست تھا کہ اپنے سامنے ہر ایک کو حقیر سمجھتا، بداخلاقی سے پیش آنا میری عادت بن چکی تھا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے کرم سے میری ملاقات ایک باعمامہ اسلامی بھائی سے ہو گئی ۔ انہوں نے کچھ ایسے شفقت بھرے انداز میں نیکی کی دعوت پیش کرتے ہوئے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی دعوت دی کہ میں انکار نہ کر سکا۔ جب جمعرات کا دن آیا تو اسلامی بھائیوں کے ہمراہ اجتماع میں حاضر ہو گیا وہاں کا مدنی ماحول دیکھ کر میں بہت متأثرہوا، دل میں عجیب سکون محسوس ہونے لگا۔ اجتماع میں ہونے والی رِقّت انگیز دُعا نے مجھے بہت رُلایا ، میں نے اپنے گناہوں سے توبہ کی اور دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہونے کی نیت کرلی اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ اس کے بعد ہفتہ واراجتماع میں شرکت کرنا میرا معمول بن گیا آہستہ آہستہ میرے اندر تبدیلی آنے لگی سر عمامے شریف سے اور چہرہ داڑھی سے سج گیا۔ بُری صحبت سے جان چھوٹ گئی اور بداخلاقی کی جگہ حسنِ اخلاق نے لے لی۔ کل تک جو نفرت کی نظر سے دیکھتے تھے آج سلام و مصافحہ کر کے خوش ہوتے ہیں۔ یہ سب دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول کی برکتیں ہیں۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ استقامت عطا فرمائے۔ اٰمِین بِجَاہِ النَّبِی الْاَمِیْن
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب! صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع