30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اوکاڑہ (پنجاب، پاکستان) کے مقیم اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے کہ مدنی ماحول ملنے سے پہلے میں فلموں ، ڈراموں اور کھیل کود کا شیدائی، اوباش نوجوان تھا، البتہ محلے میں ہونے والی نعت خوانی اور دیگر دینی اجتماعات میں شرکت کا شوق تھا اور یہ جذبہ مجھے گھروالوں کی طرف سے ملا تھا۔ ایک روز میرے ایک دوست جو دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ تھے انہوں نے مجھے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع کی دعوت پیش کی۔ ربیع النُّور کا مبارک مہینہ تھا۔ میں نے ٹالم ٹول سے کام لیا تو انہوں نے میرے والد صاحب سے ملاقات کر کے مدنی ماحول کی برکتیں بتا کر ان کا ذہن بنایا۔ میرے گھروالے میری حرکات سے ویسے ہی پریشان تھے غالباًیہ سوچ کر اجازت دے دی کہ اس کے جانے سے گھر میں بھی سکون رہے گا اور ہو سکتا ہے کہ یہ سدھر بھی جائے۔ میں جب اجتماع میں شریک ہوا اور ذکر کے دوران لائٹیں بند ہوئیں تو میں حیرت سے ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ دعا مانگنے سے پہلے مُبلّغِ دعوتِ اسلامی نے دعا کے آداب بتا کر دعا میں یکسوئی کا ذہن دیا۔ میں نے اپنے ہاتھ اُٹھا لئے اور سرجھکا کر دُعامانگنے لگا۔ رِقّت انگیز دُعا نے میرے دل کی سختی دور کر دی، مجھے اپنا ماضی یاد آنے اور ڈرانے لگا میں اپنے گناہوں کو یاد کر کے اتنا رویا کہ زندگی میں کبھی نہ رویاتھا میں نے تمام گناہوں سے توبہ کی اور پابندی سے اجتماع میں شرکت کرنے لگا اس کی برکت سے میری زندگی بدلنے لگی اور میں کچھ ہی عرصے میں دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہو گیا۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب! صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
{۷} گناہوں سے دل اُچاٹ ہو گیا
باب المدینہ (کراچی) کے علاقے لانڈھی کے مقیم ایک اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے ’’ تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے اوائل کی بات ہے کہ مَیں کبھی کبھی اپنے والد کے ساتھ مسجد میں نماز پڑھنے چلا جاتا۔ نماز کے بعد مسجد میں مبلغِ دعوتِ اسلامی فیضانِ سنّت سے درس دیا کرتے تھے۔ میں بھی والد صاحب کے ہمراہ درس میں شرکت کی سعادت حاصل کرتا۔ درس کے بعد دعوتِ اسلامی کے اولین مدنی مرکز جامِع مسجِد گلزارِ حبیب (واقِع گلستانِ اوکاڑوی بابُ المدینہ کراچی) میں ہونے والے سنّتوں بھرے ہفتہ وار اجتماع میں شرکت کی دعوت دی جاتی تو دل میں شوق اٹھتا کہ میں بھی کسی دن اس اجتماع میں شرکت کروں۔ آخر ایک دن میری قسمت کا ستارہ بھی چمک اٹھا اور مجھے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی سعادت مل گئی۔ اجتماع میں شیخ طریقت، امیرِ اہلسنّت دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا خوفِ خدا اور موت سے متعلق بیان اور رقت انگیز دعا سن کر دل پر ایسی چوٹ لگی کہ گناہوں کی لذّت سے دل اُچاٹ ہو گیا۔ اجتماع کی پابندی شروع ہو گئی ، گناہوں سے توبہ کی اور آہستہ آہستہ دعوتِ اسلامی کے مہکے مہکے مدنی ماحول کو مکمل اپنانے کی سعادت نصیب ہو گئی۔ اب اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ حلقہ مشاورت کے خادم (نگران) کی حیثیت سے مدنی کاموں کی دھومیں مچانے کی کوشش میں مصروف ہوں۔
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب! صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
{۸} سنیما کے مالک کی توبہ
باب الاسلام (سندھ) کے مشہور شہر حیدرآباد کے مقیم اسلامی بھائی نے بتایا کہ غالباً یہ 1991ء کی بات ہے میری ملاقات ایک سنیما کے مالک سے ہوئی جو شراب و شباب کا رَسیا تھا اور صحبت بھی ایسے ہی لوگوں سے تھی۔ میں نے اُنہیں دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے اجتماع کی دعوت پیش کی تو انہوں نے ٹال دیا مگر میں نے کوشش جاری رکھی۔ آخر ایک روز وہ میرے ہمراہ چل پڑے۔ اجتماع میں وہ میرے ساتھ ہی بیٹھے تھے۔ سنّتوں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع