دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Janwaron Ka Ehsas | جانوروں کا احساس

Doran e Safar Auqat e Namaz Ka Khayal Kese Rakha Jaye

book_icon
جانوروں کا احساس

دورانِ سفر اوقاتِ نماز کا خیال کیسے رکھا جائے؟

سُوال: ٹرین، بس یا کسی بھی سواری کا ٹکٹ کروانے میں نمازوں کے اوقات کا خیال رکھنے کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟(ابوالبنتین حاجی حسان عطاری کا سُوال)
جواب: ہم لوگ سفر کے دوران کلینڈر وغیرہ رکھا کرتے تھے جس سے آنے والے ہر شہر کی نمازوں کے اوقات کا علم ہوجاتا تھا، کیونکہ ٹرین میں اذان کی آوازتو آنے سے رہی! عموماً ٹرینیں جنکشن (Junction) پر زیادہ دیر رُکتی ہیں کیونکہ جنکشن سے پانی وغیرہ بھرتی  ہیں اور اتنا وقت مِل جاتا ہے کہ نماز پڑھی جاسکتی ہے، لہٰذا نمازوں کے معاملے میں احتیاط کرنا بہت ضروری ہے۔ لوکل ٹرین میں نمازوں کے اوقات کاخیال رکھا جاسکتا ہے لیکن  بارہ سے پندرہ گھنٹے کا لمبا سفر ہو تو اس میں نمازیں لازمی آئیں گی۔ کم سفر میں نمازوں کے اوقات کا خیال رکھ سکتے ہیں کیونکہ اس میں نمازیں کم آئیں گی ورنہ ٹرین میں وضو کرنا اور نماز پڑھنا نہایت دشوار امر ہے، اسی طرح ہوائی جہاز میں بھی وضو کرنا آسان نہیں ہوتا کیونکہ وضو کرنے کے لئے ایک چھوٹی سی ڈبیا ہوتی ہے اور واش روم بھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان پھنس کر رہ جائے، جس نے سفر کیا ہوگا اسے معلوم ہوگا کہ جہاز میں وضو کرنا بہت بڑا کارنامہ ہے۔ اس لئے ہماری کوشش یہی ہوتی ہے کہ بھلے ٹکٹ کے پیسے زیادہ لگ جائیں لیکن جہاز کے سفر میں نمازوں کے اوقات نہ آئیں، پھر بھی اگر کبھی نماز کا وقت ہوجاتا ہے تو وضو بھی کیا ہے اور نمازیں بھی پڑھی ہیں۔ سفر میں نمازوں کے اوقات کاخیال تو وہی رکھے گا جس کا نماز پڑھنے کا ذہن ہوگاحتی کہ فلائٹ میں نمازی بھی بیٹھے ہوتے ہیں، حج کے لئے جاتے ہوئے نمازوں کا جذبہ ہوتا ہے لیکن واپسی میں نماز پڑھنے کا ذوق ہی نہیں ہوتا۔اللہ خیر کرے ! حج کریں یا نہ کریں رمضان ہو یا کوئی عام دن پانچ وقت کی نماز ہرحال میں عاقل بالغ پر  فرض ہے۔

مچھلی کھانے کے بعد دودھ پینا کیسا؟

 سُوال: کیا مچھلی کھانے کے بعد دودھ پی سکتے ہیں؟ (Facebook کے ذریعے سُوال)
جواب:بزرگوں کا مقولہ ہے کہ ”دودھ کے ساتھ مچھلی نہ کھاؤ۔“ ( ) غالباً اس طرح کھانے سے جلد کے امراض ہوسکتے ہیں، البتہ شرعاً جائز ہے۔ اَطبا کے کہنے کی وجہ سے بیماری کا خطرہ ہے تو اس سے بچنا بہتر ہے۔

کیا بزرگ حضرات بعدِ انتقال مدد فرماتے ہیں؟

سُوال:  کیا کوئی بزرگ انتقال کے بعد مدد کرسکتے ہیں؟ (Facebook کے ذریعے سُوال)
جواب:جی ہاں! بالکل کرسکتے ہیں۔اس کا جواب سمجھ دار کے لئے کافی ہوگا۔ مسلم شریف کی ایک طویل حدیث کا کچھ حصّہ بیان کرتا ہوں: پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم کا فرمان عالی شان ہے: ” پھر مجھ پر پچاس نمازیں ہر دن و رات میں فرض فرمائیں   پھر میں موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام تک اتر کر پہنچا تو آپ نے فرمایا کہ آپ کے رب نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا؟ میں نے کہا کہ ہر دن و رات میں پچاس نمازیں انہوں نے کہا اپنے رب کی طرف لوٹیے اس سے ہلکا کرنے کی درخواست کیجئے کیونکہ آپ کی امت یہ طاقت نہیں رکھتی، میں تو بنی اسرائیل کو آزما چکا ہوں ان پر تجربہ کرلیا ہے۔ فرمایا: پھر میں اپنے رب کی طرف لوٹا میں نے عرض کیا: یارب! میری امت پر تخفیف فرما، تو اس نے پانچ نمازیں کم کردیں۔ پھر میں جناب موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی طرف لوٹا، میں نے کہا کہ مجھ سے پانچ کم کردیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ کی امت اس کی بھی طاقت نہیں رکھتی، آپ اپنے رب کی طرف واپس جائیں اس سے کمی کا سوال کریں۔ فرماتے ہیں کہ میں اپنے رب اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کے درمیان دورہ کرتا رہا حتی کہ فرمایا: اے محمد صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم! یہ ہر دن و رات میں پانچ نمازیں ہیں ہر نماز کا دس گُنا ثواب تو یہ پچاس نمازیں ہی ہوئیں۔ جوکوئی کسی نیکی کا ارادہ کرے پھر وہ کرے نہیں تو اس کے لئے ایک نیکی لکھ دی جاوے گی پھر اگر وہ یہ کر بھی لے تو اس کے لئے دس لکھوں گا اور جو گناہ کا ارادہ کرے پھر کرے نہیں تو اس کے لئے کچھ نہیں لکھوں گا پھر اگر وہ کرلے تو اس کے لئے ایک ہی گناہ لکھا جاوے گا۔ فرماتے ہیں کہ پھر میں موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی طرف اترا میں نے انہیں یہ خبر دی تو انہوں نے کہا کہ اپنے رب کی طرف واپس ہوجائیے اس سے کمی کا سوال کیجئے۔ تب رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا کہ میں اپنے رب کی طرف اتنا لوٹ چکا کہ اب میں اس سے شرم کرتا ہوں ۔“( ) یوں حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام جن کو انتقال کئے ہوئے ہزاروں سال گزر چکے تھے انہوں نے امت کی مدد فرمائی اور جو پچاس نمازیں فرض ہوئی  تھیں وہ پانچ کروائیںاور اللہ پاک نے بھی پانچ نمازوں کا ثواب پچاس کے برابر ہی رکھا۔ اب اگر کسی کو بزرگوں کی مدد سمجھ نہیں آتی تو وہ پچاس نمازیں پڑھا کرے۔ ہمیں بزرگوں کی مدد کے بارے میں کوئی وسوسے نہیں آتے ہم پانچ نمازیں پڑھیں گے۔ بزرگوں سے مددمانگنے کے اور بھی بے شمار دلائل ہیں۔ مکتبۃ المدینہ کے رسالے ”کرامات شیر خدا“ میں حضرت علی کے فضائل بھی ہیں اور آخر میں مدد مانگنے کے بارے میں سوال و جواب بھی موجود ہیں  جن میں قرآن و حدیث کے ذریعے سمجھایا گیا ہے کہ اللہ پاک کی عطا سے اللہ کے نیک بندے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد بھی مدد کرتے ہیں۔

ولایت عطیۂ خداوندی ہے

سُوال: کیا محنت اور عبادت سے ولایت حاصل کی جاسکتی ہے؟ نیز اگر اپنی اولاد کو ولی بنانا ہوتو  کس طرح تربیت کی جائے؟ (Facebook کے ذریعے سُوال)
جواب:ولایت  وہبی  یعنی عطائی ہے۔( ) اگر کوئی یہ کہے کہ میں عبادت اس لئےکرتا ہوں تاکہ ولی بن جاؤں تو ایسا نہیں ہوسکتا ۔ ولایت تو اللہ پاک کی دَین ہے۔بعض اولیا تو مادرزاد ولی ہوئے ہیں،جیسے حضور غوث پاک رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ مادرزاد ولی تھے، آپ کے بارے میں حکایت موجود ہے کہ آپ نے پیدا ہوتے ہی روزہ رکھ لیا تھا۔( ) اسی طرح حضور مفتی اعظم ہند مولانا مصطفی رضا خان نوری رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ جو  کہ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے شہزادے ہیں، ان کے بارے میں بھی ایک قول ہے کہ یہ پیدائشی ولی تھے۔ اعلیٰ حضرت نے انہیں چھ ماہ کی عمر میں اپنے پیر بھائی حضرت قبلہ نوری میاں سے مرید کروایا تھا، آپ نے انہیں مرید کرتے ہی خلافت بھی عطا کردی تھی۔( ) اسی طرح اور بھی بہت سے اولیا ئے کرام کے بارےمیں مادرزاد ولی ہونے کے اقوال  ملتے ہیں۔ ولایت اپنی کوشش سے نہیں ملتی البتہ عبادت کی کثرت کریں تاکہ اللہ پاک کی رضاحاصل ہو اور اللہ چاہے تو اپنا دوست بنالے کیونکہ اس کے خزانے میں کوئی کمی نہیں ہے۔اپنے بچے کو ولی بنانے کی ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے، لیکن اس کے لئے اچھی تربیت کرنی ہوگی اور تربیت کے بارے میں تو قرآن پاک نے بھی حکم دیا ہے، اللہ پاک فرماتا ہے: (یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا)( ) (ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو! اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو اس آ گ سے بچاؤ)۔ آیت مبارکہ میں بھی گھر والوں کو آگ سے بچانے کا حکم دیا گیا اور گھر والوں میں بچے بھی داخل ہیں، اس لئے انہیں بھی جہنم کی آگ سے بچانا ہے اور اس کے لئے انہیں عقیدہ، نماز اور ادب سکھانا اور ان کی اچھی تربیت کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔

درد کے سبب ایک رکعت کے بعد باقی نماز بیٹھ کر ادا کرنا کیسا؟

سُوال: اگر کوئی کھڑے ہوکر نماز شروع کرتا ہے لیکن ایک رکعت پڑھنے کے بعد وہ کھڑا نہیں ہوسکتا تو کیا اب وہ اپنی بقیہ نماز بیٹھ کر پڑھ سکتا ہے؟ (Facebook کے ذریعے سُوال)
جواب:اگر کسی کے گھٹنے میں شدید درد ہے اور وہ ایک رکعت پڑھنے کے بعد دوبارہ کھڑے ہوکر نماز نہیں پڑھ سکتا تو یہ اس کا عذر ہوگیا کیونکہ وہ کھڑا نہیں ہوسکتا، اس لئے وہ اپنی بقیہ نماز بیٹھ کر ادا کرے گا۔( )

بجلی کیوں کڑکتی ہے؟

سُوال: بجلی کیوں کڑکتی ہے؟ (SMS کے ذریعے سُوال)
جواب:اللہ پاک کے ایک فرشتے کا نام ”رَعْد“ہے جس کے ذمے بادلوں کو ہانکنے کا کام ہے۔ جب یہ بادلوں کو ہانکنے کے لئے کوڑے مارتا ہے تو کوڑے کی چوٹ سے بجلی چمکتی ہے۔( ) قرآن پاک کی ایک سورت کا نام بھی ” رَعْد“ ہے۔

ہڈیوں کے درد کا روحانی علاج

سُوال: ہڈیوں کے درد کا روحانی علاج بیان فرمادیجئے۔(SMS کے ذریعے سُوال)
جواب:ہڈیوں کے درد کے لئے اٹھتے بیٹھتے بکثرت ”یَاغَنِیُّ“ پڑھتے رہیں۔ ”یَامُغْنِیُ“ تین مرتبہ پڑھ کر اپنے جسم پر دم کریں اور اپنی ہتھیلی پر دم کرکے درد کی جگہ پر پھیرلیں۔ اس سے اِنْ شَآءَ اللّٰہ  درد میں افاقہ ہوگا۔( )

اجرت طے کئے بغیر قلی کا سامان اٹھانا کیسا؟

سُوال: رىلوے اسٹىشن پر کام کرنے والے قُلی کو مسافر مزدوری طے کئے بغیر کہتے ہیں کہ ”ہمارا سامان اٹھاؤ“ اور سامان اٹھانے  کے بعد سو، دو سوروپے دے دیتے ہیں، یہ ارشاد فرمائیں کہ کیا اس طرح کرنا درست ہے؟
جواب: جہاں اجرت کا پتا ہو کہ اجرت دىنى ہے یا لىنى ہے، تو وہاں اجرت طے کرنا لازم ہے( ) کہ ”میں اتنی اجرت لوں گا“ بعد میں بھلے کم کروانا چاہتا ہے تو کروائے۔ مثلاً قُلی نے کہا: میں سامان اٹھانے کے پانچ سو روپے لوں گا۔ سامنے والا کہے: میں تین سو روپے دوں گا۔ پھر بات چیت کر کے چار سو میں طے ہوا تو اب چار سو روپے دینے ہی پڑیں گے۔ اگر وہ چار سو نہىں دىتا تو وہ  ظالم ہوگا، قُلى کا اس مىں کوئى قصور نہىں ہے اور اگر طے کئے بغیر سامان اٹھایا تو دونوں گناہ گار ہوں گے۔ البتہ اگرپہلے طے نہیں کیا، لیکن پتا ہے کہ مزدوری ملے گی تو عام طور پر اس وقت جو سامان اٹھانے کی مزدوری بنتی ہے وہ لازم ہوگی۔( )  جبکہ بعض قُلى  اس طرح کرتے ہیں کہ سامان پہنچانے کے بعد کہتے ہیں: ”صاحب! میں تو سمجھا تھا کہ سامان کم ہوگا، مجھے تو پسىنہ آگىا، بہت محنت لگی، اور کچھ چائے پانى دے دو“ تو اس طرح کرنا جائز نہیں ہے، جو طے ہوگىا ہو اس سے زىادہ نہىں مانگ سکتے، اب چاہے پسىنہ نکلے ىا خون۔ ہاں اگر 500 طے ہوئے اور کسی نے اپنے شوق سے  ہزار یا  پندرہ سو دے دئیے تو وہ لىنے مىں حرج نہىں ہے۔

دُولہا سے اِتنا کہہ دو پیارے سُواری روکو

سُوال: 
دُولہا سے اِتنا کہہ دو پیارے سُواری روکو
مشکل میں ہیں براتی پُرخار بادیے ہیں (حدائقِ  بخشش)
اس شعر مىں کون سے دولہے کى بات ہورہى ہے اور کون سے براتى مراد ہىں؟
جواب: ممکن ہے کہ شبِ معراج کے دولہا جن کے سر پرشفاعت کا سہرا  سجا ہے ان کی بات ہو رہی ہو اور براتی سے مراد ہم مسلمان ہوں کہ قیامت میں جب سرکار صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم کی سواری  گزرے گی تو آپ کے غلام عرض کریں گے:  ”پىارے سوارى روکو، مشکل مىں ہىں براتى“ یعنی  آپ کے غلام مشکل مىں ہىں اور آپ ہمارى شفاعت کرکے نجات دلوائىے۔ ”پُر خار بادیے ہیں“یعنی وىران راستہ ہے، کانٹوں سے بھرا ہوا ہے، جگہ جگہ جھاڑیاں ہیں۔

کہے بغیر لوگوں کا مقدس مقامات پر سلام عرض کرنا کیسا؟

 سُوال: مقدس مقامات پر جاکر لوگوں کا سلام عرض کرنا کیسا؟ جبکہ لوگوں نے سلام عرض کرنے کا نہ کہا ہو۔ ( )
جواب: اگر کوئی مدینے شریف جارہا ہو اور کوئی اسے کہے کہ ”میرا سلام عرض کردینا“ تو وہ سلام عرض کیا جائے، ورنہ اگر کسی نے نہیں کہا اور یہ جاکر عرض کرے کہ”یارسولَ اللہ! فلاں نے آپ کو سلام عرض کیا ہے“ تو آپ خود ہی دیکھ لیں کہ یہ سچ ہے یا جھوٹ؟ ىہ بہت بارىک چىز ہے، عام طور پر لوگ بولتے رہتے ہىں: ”ہم فلاں مزار پر گئے تھے تو آپ کا سلام کہاتھا “ حالانکہ سلام عرض کرنے کا نہیں کہا ہوتا۔

ماخَذ ومَراجع

قرآنِ مجید کلامِ الٰہی ****
کتاب کا نام مصنف/مؤلف/متوفیٰ مطبوعات
تفسیر کبیر امام فخر الدین محمد بن عمر بن حسین رازی، متوفی۶۰۶ھ دار احیاء التراث العربی ۱۴۲۰ ھ
بخاری امام ابو عبد اللہ  محمد بن اسماعیل بخاری،متوفی۲۵۶ھ دارالکتب العلمیة بیروت ۱۴۱۹ھ
مسلم ابو الحسین مسلم بن الحجاج القشیری النیسابوری،متوفی۲۶۱ھ دار الکتاب العربی بیروت۱۴۲۷ھ
ابو داؤد امام ابو داود سلیمان بن الاشعث الازدی سجستانی، متوفی ۲۷۵ھ دار احیاء التراث العربی بیروت۱۴۲۱ھ
ترمذی امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی، متوفی۲۷۹ھ دار الفکربیروت۱۴۱۴ھ
فیض القدیر علامہ عبد الرؤوف مناوی، متوفی ۱۰۳۱ھ دارالکتب العلمیة بیروت ۱۴۲۲ھ
مراٰۃ المناجیح حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی، متوفی۱۳۹۱ھ ضیاء القرآن پبلی کیشنزلاہور
درمختار علاء الدین محمد بن علی حصکفی،متوفی۱۰۸۸ھ دارالمعرفة بیروت۱۴۲۰ھ
رد المحتار علامہ محمد امین ابن عابدین شامی،متوفی۱۲۵۲ھ دارالمعرفة بیروت۱۴۲۰ھ
فتاویٰ رضویہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان، متوفی۱۳۴۰ھ رضا فاؤنڈیشن لاہور۱۴۲۷ھ
بہارِشریعت مفتی محمد امجد علی اعظمی، متوفی۱۳۶۷ھ مکتبۃ المدینہ کراچی۱۴۲۹ھ
الرسالۃ القشیریۃ ابو القاسم عبد الکریم قشیری، متوفی ۴۶۵ھ دارالکتب العلمیة بیروت ۱۴۲۲ھ
بھجۃ الأسرار ابو الحسن علی بن یوسف بن جریر شطنوفی، متوفی ۷۱۳ھ دار الکتب العلمیة بیروت ۱۴۲۳ھ
حیاۃ الحیوان الکبری کمال الدین محمد بن موسی بن عیسی دمیری، متوفی ۸۰۸ھ دار الکتب العلمیة بیروت ۱۴۱۵ھ
تجلیات امام احمد رضا قاری امانت رسول قادری رضا اکیڈمی لاہور
جہان مفتی اعظم محمد احمد مصباحی، عبد المبین نعمانی  مصباحی ، مقبول احمد سالک مصباحی رضا اکیڈمی ممبئی
40 روحانی علاج مع طبی علاج امیر اہلسنت علامہ مولانا محمدالیاس عطارقادری رضوی مکتبۃ المدینہ کراچی

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن